کراچی کی صورتحال اور کچھ تلخ حقائق
دہشتگردی کے خلاف جنگ ٹی ٹوئنٹی یا پچاس اوورز کا میچ نہیں بلکہ طویل اور صبر آزما جنگ ہے
شہر قائد میں منشیات فروشوں سے لے کر القاعدہ تک نے ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں، فوٹو:فائل
KARACHI:
وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار نے کراچی میں قیام امن کے لیے اہم آپریشنل فیصلوں سے آگاہ کرتے ہوئے کئی پہلوؤں اور زاویوں سے معروضی حقائق پر گفتگو کی ۔ان کا کہنا تھا کہ سانحہ صفورا گوٹھ کی تین سمتوں میں تحقیقات کر رہے ہیں، اس میں بھارتی خفیہ ایجنسی ''را''یاغیرملکی ہاتھ ملوث ہونے کے بارے میں مکمل تحقیقات تک حتمی بیان دینا قبل از وقت ہو گا، آپریشن ضرب عضب کے بعد ملک بھر میں سیکیورٹی اداروں نے انٹیلی جنس بنیادوں پر 10 ہزار آپریشن کرکے 36 ہزار دہشتگردوں اور ملزمان کو گرفتار کیا ہے جب کہ قومی ایکشن پلان پر عملدرآمد کے بعد 3 ہزار آپریشن کیے گئے ہیں، پاکستان اور برطانیہ کے درمیان مجرمان کی تحویل کے لیے بات چیت ہو رہی ہے، ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس میں گرفتار ملزم معظم علی کی جے آئی ٹی کے بارے میں تفصیلات آیندہ دو سے تین روز میں جاری ہونگی ، گورنر سندھ عشرت العباد کے لیے حالات نارمل ہیں، دہشتگردی کے خلاف جنگ ٹی ٹوئنٹی یا پچاس اوورز کا میچ نہیں بلکہ طویل اور صبر آزما جنگ ہے۔
ان خیالات کا اظہار انھوں نے گزشتہ روز اپنے دورہ کراچی میں گورنر و وزیراعلیٰ سندھ اور رینجرز ہیڈکوارٹرز کے دورے کے بعد پریس کانفرنس میں کیا۔ قبل ازیں وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ کہہ چکے ہیں کہ سانحہ صفورا میں ''را'' ملوث ہے، ثبوت مل چکے ہیں ۔ سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا تھا کہ عسکری ونگز موجود ہیں مگر کسی سیاسی جماعت نے اعترافاً نہ ونگز ختم کیے اور نہ ''پراسرار سرپرستی'' کا طوق گلے سے اتارا گیا جب کہ یہی ''نامعلوم'' افراد قتل وغارتگری کے گھناؤنے سلسلے سے منسلک بتائے جاتے تھے مگر کوئی آہنی ہاتھ انھیں سرکشی کی سزا دینے پر تیار نہ تھا۔
کم وبیش تمام تجزیہ کار اور دانشور منی پاکستان میں سیاسی بحران ، سماجی انحطاط اور زوال پزیری کا حوالہ دیتے ہوئے 50ء اور 60ء کی دہائیوں کی نسبتاً بہتر سیاسی ،سماجی ، تعلیمی اور اقتصادی صورتحال کا جائزہ پیش کرتے ہیں،ان کے نزدیک ماضی کا کراچی بندہ پرور تھا جب کہ آج کا منی پاکستان ظلم و دہشت کی علامت یا بدامنی کا استعارہ ہے جب کہ سب جانتے ہیں کہ پچھلے حکمراں اور نوکر شاہی مشتری یا مریخ سیارے سے نہیں آئے تھے ،البتہ وہ سر تا پا کرپٹ نہیں تھے،انھیں قومی سلامتی،وطن سے محبت اور کراچی و ملک کے دیگر شہروں اور دیہات کی ترقی اور خوشحالی سے ایک خاص دلچسپی تھی ، کراچی میں سیاسی رواداری کی دولت فراواں تھی اور یہ سارے اہل وطن کے روزگار کا مرکز بن گیا۔یہاں صنعتی ترقی ہوئی۔
روزگار کے وسیع مواقعے ملے، جبھی تو مچھیروں کی بستی دیکھتے ہی دیکھتے دنیا کے ایک عالی شان میگا سٹی کا روپ دھارتا چلاگیا۔وزیر داخلہ نے در اصل ان اقدامات کا ذکر کیا جن پر عمل کرکے وہ کراچی کا وہی پر امن نقشہ واپس لانے کا عہد کررہے ہیںجن کو آنکھیں ترستی ہیں۔گزشتہ دنوں کور کمانڈرکراچی لیفٹیننٹ جنرل نوید مختار نے نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں ایک سیمینار سے خطاب کر کے سیاسی ، حکومتی اور میڈیا کے حلقوں میں ارتعاش پیدا کیا جو فطری، حقیقت پسندانہ اور چشم کشا تھا۔
انھوں نے کہا کہ شہر قائد میں منشیات فروشوں سے لے کر القاعدہ تک نے ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں ، تاہم ۔سیاسی اور انتظامی نا اہلی نے مسائل میں کئی گنا اضافہ کردیا ہے، انھوں نے کہاکہ کراچی کی بندرگاہوں سے ملک کی 80 فیصد تجارتی سرگرمیاں ہوتی ہیں ، ملک کو 65 فیصد ریونیو کراچی دیتا ہے جب کہ دہشت گردوں نے شہر کے امن کو نقصان پہنچایا ہے، تمام سیاسی اور مذہبی جماعتیں اپنے اندر سے عسکری ونگ اور جرائم پیشہ عناصر ختم کریں ۔ متوازی حکومتوں اور طاقت کے مراکز کا خاتمہ ناگزیر ہے۔
ان تلخ مگر منطقی معروضات سے اختلاف کی گنجائش کہاں ہے، اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ کراچی میں امن کی بحالی اور دہشت گردوں، بھتہ خوروں اور دیگر مجرمانہ سرگرمیوں کے مکمل خاتمے کے لیے سیاسی شراکت کار پوری سول سوسائٹی سمیت آگے آئیں۔ کراچی آپریشن ملکی سلامتی کی ایک تعمیری کوشش ہے جب کہ منی پاکستان کو مافیاؤں کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جاسکتا۔
وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار نے کراچی میں قیام امن کے لیے اہم آپریشنل فیصلوں سے آگاہ کرتے ہوئے کئی پہلوؤں اور زاویوں سے معروضی حقائق پر گفتگو کی ۔ان کا کہنا تھا کہ سانحہ صفورا گوٹھ کی تین سمتوں میں تحقیقات کر رہے ہیں، اس میں بھارتی خفیہ ایجنسی ''را''یاغیرملکی ہاتھ ملوث ہونے کے بارے میں مکمل تحقیقات تک حتمی بیان دینا قبل از وقت ہو گا، آپریشن ضرب عضب کے بعد ملک بھر میں سیکیورٹی اداروں نے انٹیلی جنس بنیادوں پر 10 ہزار آپریشن کرکے 36 ہزار دہشتگردوں اور ملزمان کو گرفتار کیا ہے جب کہ قومی ایکشن پلان پر عملدرآمد کے بعد 3 ہزار آپریشن کیے گئے ہیں، پاکستان اور برطانیہ کے درمیان مجرمان کی تحویل کے لیے بات چیت ہو رہی ہے، ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس میں گرفتار ملزم معظم علی کی جے آئی ٹی کے بارے میں تفصیلات آیندہ دو سے تین روز میں جاری ہونگی ، گورنر سندھ عشرت العباد کے لیے حالات نارمل ہیں، دہشتگردی کے خلاف جنگ ٹی ٹوئنٹی یا پچاس اوورز کا میچ نہیں بلکہ طویل اور صبر آزما جنگ ہے۔
ان خیالات کا اظہار انھوں نے گزشتہ روز اپنے دورہ کراچی میں گورنر و وزیراعلیٰ سندھ اور رینجرز ہیڈکوارٹرز کے دورے کے بعد پریس کانفرنس میں کیا۔ قبل ازیں وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ کہہ چکے ہیں کہ سانحہ صفورا میں ''را'' ملوث ہے، ثبوت مل چکے ہیں ۔ سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا تھا کہ عسکری ونگز موجود ہیں مگر کسی سیاسی جماعت نے اعترافاً نہ ونگز ختم کیے اور نہ ''پراسرار سرپرستی'' کا طوق گلے سے اتارا گیا جب کہ یہی ''نامعلوم'' افراد قتل وغارتگری کے گھناؤنے سلسلے سے منسلک بتائے جاتے تھے مگر کوئی آہنی ہاتھ انھیں سرکشی کی سزا دینے پر تیار نہ تھا۔
کم وبیش تمام تجزیہ کار اور دانشور منی پاکستان میں سیاسی بحران ، سماجی انحطاط اور زوال پزیری کا حوالہ دیتے ہوئے 50ء اور 60ء کی دہائیوں کی نسبتاً بہتر سیاسی ،سماجی ، تعلیمی اور اقتصادی صورتحال کا جائزہ پیش کرتے ہیں،ان کے نزدیک ماضی کا کراچی بندہ پرور تھا جب کہ آج کا منی پاکستان ظلم و دہشت کی علامت یا بدامنی کا استعارہ ہے جب کہ سب جانتے ہیں کہ پچھلے حکمراں اور نوکر شاہی مشتری یا مریخ سیارے سے نہیں آئے تھے ،البتہ وہ سر تا پا کرپٹ نہیں تھے،انھیں قومی سلامتی،وطن سے محبت اور کراچی و ملک کے دیگر شہروں اور دیہات کی ترقی اور خوشحالی سے ایک خاص دلچسپی تھی ، کراچی میں سیاسی رواداری کی دولت فراواں تھی اور یہ سارے اہل وطن کے روزگار کا مرکز بن گیا۔یہاں صنعتی ترقی ہوئی۔
روزگار کے وسیع مواقعے ملے، جبھی تو مچھیروں کی بستی دیکھتے ہی دیکھتے دنیا کے ایک عالی شان میگا سٹی کا روپ دھارتا چلاگیا۔وزیر داخلہ نے در اصل ان اقدامات کا ذکر کیا جن پر عمل کرکے وہ کراچی کا وہی پر امن نقشہ واپس لانے کا عہد کررہے ہیںجن کو آنکھیں ترستی ہیں۔گزشتہ دنوں کور کمانڈرکراچی لیفٹیننٹ جنرل نوید مختار نے نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں ایک سیمینار سے خطاب کر کے سیاسی ، حکومتی اور میڈیا کے حلقوں میں ارتعاش پیدا کیا جو فطری، حقیقت پسندانہ اور چشم کشا تھا۔
انھوں نے کہا کہ شہر قائد میں منشیات فروشوں سے لے کر القاعدہ تک نے ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں ، تاہم ۔سیاسی اور انتظامی نا اہلی نے مسائل میں کئی گنا اضافہ کردیا ہے، انھوں نے کہاکہ کراچی کی بندرگاہوں سے ملک کی 80 فیصد تجارتی سرگرمیاں ہوتی ہیں ، ملک کو 65 فیصد ریونیو کراچی دیتا ہے جب کہ دہشت گردوں نے شہر کے امن کو نقصان پہنچایا ہے، تمام سیاسی اور مذہبی جماعتیں اپنے اندر سے عسکری ونگ اور جرائم پیشہ عناصر ختم کریں ۔ متوازی حکومتوں اور طاقت کے مراکز کا خاتمہ ناگزیر ہے۔
ان تلخ مگر منطقی معروضات سے اختلاف کی گنجائش کہاں ہے، اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ کراچی میں امن کی بحالی اور دہشت گردوں، بھتہ خوروں اور دیگر مجرمانہ سرگرمیوں کے مکمل خاتمے کے لیے سیاسی شراکت کار پوری سول سوسائٹی سمیت آگے آئیں۔ کراچی آپریشن ملکی سلامتی کی ایک تعمیری کوشش ہے جب کہ منی پاکستان کو مافیاؤں کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جاسکتا۔