اعلیٰ تعلیمی کمیشن ایگزیٹ کے جعلی اسناد فراڈ پرایف آئی اے سے تعاون کریگا

ایف آئی اے کی جانب سے شواہدجمع کیے جانے کے بعد ایچ ای سی اپنے رائج میکانزم کے تحت ان اسنادکی حیثیت کاجائزہ لے گی

گزشتہ روزایف آئی اے حکام نے ایچ ای سی کے نمائندے سے رابطہ کیاہے جسکے بعدایچ ای سی نے اس سلسلے میں ایف آئی اے کی مکمل معاونت کافیصلہ کیا ہے،فوٹو فائل،فوٹو: ظفر اسلم راجہ/ایکسپریس/فائل

ISLAMABAD:
جعلی ڈگریوں فروخت کرکے کروڑوں ڈالرکی جعل سازی میں ملوث پاکستانی کمپنی ایگزیکٹ کے خلاف جامع تحقیقات کیلیے ایف آئی اے نے اعلیٰ تعلیمی کمیشن اسلام آباد کی خدمات حاصل کرلی ہیں اوراس سلسلے میں ایف آئی اے حکام نے ایچ ای سی سے باقاعدہ طورپررابطہ بھی کرلیا ہے جس کے بعد ایگزیکٹ کمپنی کی جانب سے جاری کی گئی اسناد کی تصدیق کیلیے ایچ ای سی کامیکانزم استعمال کیاجائے گا۔


اعلیٰ تعلیمی کمیشن کے چیئرمین ڈاکٹر مختار احمد نے ''ایکسپریس'' کو بتایا کہ ایگزیکٹ کی جانب سے آن لائن ڈگریوں کے کاروبار کا معاملہ سامنے آنے کے بعد گزشتہ روزایف آئی اے حکام نے ایچ ای سی کے نمائندے سے رابطہ کیاہے جسکے بعدایچ ای سی نے اس سلسلے میں ایف آئی اے کی مکمل معاونت کافیصلہ کیا ہے اور ایف آئی اے کی جانب سے شواہدجمع کیے جانے کے بعد ایچ ای سی اپنے رائج میکانزم کے تحت ان اسنادکی حیثیت کاجائزہ لیگی۔ڈاکٹرمختاراحمد کا کہنا تھا کہ اعلیٰ تعلیمی کمیشن جعلی اسنادکے معاملے پر پہلے ہی ایف آئی اے کیساتھ کام کر رہا ہے، مزید تعاون بھی کریں گے۔

 
Load Next Story