دوٹوک عزم کی ضرورت
اجلاس میں مسلح افواج کی اعلیٰ قیادت نے دہشت گردی کی لعنت کے خلاف جنگ جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا
چکلالہ میں جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کا سہ ماہی اجلاس جنرل خالد شمیم وائیں کی زیر صدارت ہوا جس میں پاکستان کی سلامتی سے متعلق ایشوز اور خطے میں جیو اسٹرٹیجک صورتحال پر غور کیا گیا۔ فوٹو: اے پی پی/ فائل
مینگورہ میں ملالہ یوسف زئی اور ان کے ہمراہ دو بچیوں پر دہشت گردوں کے قاتلانہ حملے کے بعد جمعرات کو وفاقی دارلحکومت اسلام آباد اہم سرگرمیوں کا مرکز بنا رہا۔
ایوان صدر میں انتہائی اہم اجلاس ہوا۔ اس میں وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف، آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی سمیت دیگر اعلی حکام نے شرکت کی۔ اس اجلاس میں ملک کی داخلی سلامتی کی صورتحال اور دہشت گردوں کے خلاف جاری آپریشن سمیت دیگر امور پر غور کیا گیا۔ اخبارات نے ذمے دار ذرایع کے حوالے سے خبر شایع کی ہے کہ اجلاس میں پاک فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی نے اپنے حالیہ دورہ روس کے بارے میں صدر آصف علی زرداری اور وزیر اعظم کو تفصیلی طور پر آگاہ کیا جب کہ دہشت گردوں کے خلاف جاری کارروائیوں اور پاک فوج کی آپریشنل تیاریوں کے حوالے سے بھی بریفنگ دی۔
اجلاس میں ملالہ یوسفزئی پر ہونے والے حملے کی مذمت کی گئی جب کہ اس بات کا بھی فیصلہ کیا گیا کہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں گے۔ نئی حکمت عملی حکومت اور فوج مل کر مرتب کریں گے جس کے ذریعے شدت پسند قوتوں کے خاتمے کے لیے پالیسی تیار کی جائے گی۔ اس سے قبل اسی روز چکلالہ میں جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کا سہ ماہی اجلاس جنرل خالد شمیم وائیں کی زیر صدارت ہوا۔ اس میں بھی پاکستان کی سلامتی سے متعلق ایشوز اور خطے میں جیو اسٹرٹیجک صورتحال پر غور کیا گیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق اجلاس میں آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی، بحریہ کے سربراہ ایڈمرل آصف سندھیلہ، فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل طاہر رفیق بٹ، ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل ظہیر الاسلام، ڈی جی ایس پی ڈی، دفاع و دفاعی پیداوار کے سیکریٹری اور سینئر فوجی افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں مسلح افواج کی اعلیٰ قیادت نے دہشت گردی کی لعنت کے خلاف جنگ جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ مسلح افواج دہشت گردی کے خلاف اس جنگ میں ہر قسم کی قربانی دینے کو تیار ہیں۔ اسی روز وفاقی کابینہ کا اجلاس بھی ہوا۔
ان اعلیٰ سطحی سرگرمیوں کا بنیادی نقطہ یہی سامنے آیا ہے کہ پاکستان دہشت گردوں کا مقابلہ کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہے اور اس حوالے سے عسکری اور منتخب سول قیادت میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ ماضی کی صورتحال کو مد نظر رکھا جائے تو اعلیٰ سطح پر ایسی سرگرمیاں کم ہی دیکھنے میں آئی ہیں۔ پاکستان میں دہشت گردوں کا خطرہ جس سطح تک پہنچ گیا ہے' اس کا تقاضا یہی ہے کہ عسکری اور منتخب سول قیادت دہشت گردی کے حوالے سے کسی ابہام کا شکار نہ ہو۔ ملالہ یوسف زئی کا واقعہ محض دو تین بچیوں پر دہشت گردوں کا حملہ نہیں ہے۔
دہشت گردوں کے ماسٹر مائنڈز نے یہ بے رحمانہ واردات کر کے وادی سوات اور پاکستان کے لوگوں کو پیغام دے دیا ہے کہ وہ اپنی راہ میں حائل ہونے والی ہر آواز کو خاموش کردیں گے، یہ خواہ کسی معصوم بچی ہی کی آواز کیوں نہ ہو۔ سوات میں دہشت گردوں نے جس ظلم و بربریت کا بازار گرم کیے رکھا' وہ مقامی لوگوں کے ذہنوں میں ابھی تک تازہ ہے۔ ملالہ کے سانحے کے بعد ان کا مزید خوفزدہ ہونا قدرتی بات ہے۔ پاکستان کا یہ المیہ رہا ہے کہ یہاں اسٹیبلشمنٹ اور سیاسی قیادت دہشت گردوں یا طالبان کے خطرے کی شدت اور وسعت کا اندازہ کرنے میں ناکام رہی ہیں' پاکستان کی اسی پارلیمنٹ نے سوات میں مولوی فضل اللہ اور صوفی محمد کے مطالبات کو منظور کر کے شریعت بل منظور کیا، اس کے بعد جو کچھ ہوا، اسے بتانے کی ضرورت نہیں۔ پھر اسی پارلیمنٹ کو سوات میں آپریشن کی منظوری دینا پڑی۔
اس سے منتخب نمایندوں کی نظریاتی پختگی کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے۔ پاک فوج نے سوات کو دہشت گردوں سے صاف کیا اور پھر فوج نے جنوبی وزیرستان کو تحریک طالبان کے کنٹرول سے آزاد کرایا۔ لیکن دہشت گردوں کا خطرہ پھر بھی ٹلا نہیں، پاکستانی اسٹیبلشمنٹ اور سیاسی قیادت کی کمزور قوت ارادی کے باعث دہشت گردوں کا نیٹ ورک ٹوٹا نہیں۔ آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی کا دہشت گردوں کے بارے میں موقف کسی سے ڈھکا چھپا نہیں رہا۔ اب ملک کی بڑی سیاسی جماعتیں پیپلز پارٹی' مسلم لیگ ن' ایم کیو ایم' مسلم لیگ ق اور اے این پی سیاسی مصلحتوں سے بالاتر ہو کر دہشت گردی کے خلاف ڈٹ جائیں۔
الطاف حسین اس حوالے سے واضح اور دو ٹوک موقف کے ساتھ سامنے آئے ہیں' ان کی طرز سیاست سے اختلاف کیا جا سکتا لیکن یہ ماننا پڑے گا کہ وہ دہشت گردی کے خطرے کو پوری شدت سے سمجھتے ہیں اور اس عفریت کے خلاف لڑنے کا عزم بھی ظاہر کرتے ہیں۔ پیپلز پارٹی' مسلم لیگ ن' ق لیگ اور اے این پی کی قیادت کو بھی ایسا ہی غیر مبہم موقف اختیار کرنا چاہیے تا کہ پاک فوج کو پتہ ہو کہ قوم ان کے ساتھ ہے اور وہ دہشت گردوں کا ہمیشہ کے لیے صفایا کر دے۔ ڈرون حملوں کے حوالے سے بھی پاکستان اب تک دو عملی کا شکار ہے۔
اگلے روز بھی شمالی وزیرستان کی سرحد کے قریب واقع علاقہ بلند خیل میں حافظ گل بہادر گروپ کے مولوی شاکر اللہ کے مدرسے پر ڈرون طیاروں سے حملہ کیا گیا، اخباری اطلاعات کے مطابق اس حملے میں مولوی شاکر اللہ بھی مارا گیا۔ گزشتہ 24 گھنٹے کے دوران قبائلی علاقوں میں یہ دوسرا ڈرون حملہ ہے، بدھ کو شمالی وزیرستان میں کیے جانے والے ڈرون حملے میں 5 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اورکزئی ایجنسی میں یہ دوسرا ڈرون حملہ ہے، اس سے قبل اپریل 2009ء میں خادیزئی کے مقام پر کیے جانے والے حملے میں 13 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
بدھ اور جمعرات کو ہونے والے ڈروں حملوں پر بھی وزارت خارجہ نے امریکی سفارتخانے سے ایک بار پھر احتجاج کیا ہے، بیان کے مطابق سفارتخانے کے حکام کو بتایا گیا ہے کہ ڈرون حملے بین الاقوامی قوانین اور پاکستان کی خود مختاری کی صریحاً خلاف ورزی ہیں۔ یہ حملے پاکستان کے لیے قطعی ناقابل قبول ہیں۔ ماضی میں بھی پاکستان ان حملوں کی مذمت کرتا آیا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ڈرون حملوں کے حوالے سے بھی واضح موقف اختیار کیا جائے۔ ہم دہشت گردوں کے خلاف جنگ میں اس لیے نقصان اٹھا رہے ہیں کہ ہمارا موقف تضادات سے بھر پور ہوتا ہے' اب اچھے اور برے طالبان کے چکر سے باہر آنا ہو گا۔ اپنے ملک کو بچانا' ہماری اولین ترجیح ہونا چاہیے۔ اگر وقت گزر گیا تو پھر کچھ ہاتھ نہیں آئے گا۔
ایوان صدر میں انتہائی اہم اجلاس ہوا۔ اس میں وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف، آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی سمیت دیگر اعلی حکام نے شرکت کی۔ اس اجلاس میں ملک کی داخلی سلامتی کی صورتحال اور دہشت گردوں کے خلاف جاری آپریشن سمیت دیگر امور پر غور کیا گیا۔ اخبارات نے ذمے دار ذرایع کے حوالے سے خبر شایع کی ہے کہ اجلاس میں پاک فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی نے اپنے حالیہ دورہ روس کے بارے میں صدر آصف علی زرداری اور وزیر اعظم کو تفصیلی طور پر آگاہ کیا جب کہ دہشت گردوں کے خلاف جاری کارروائیوں اور پاک فوج کی آپریشنل تیاریوں کے حوالے سے بھی بریفنگ دی۔
اجلاس میں ملالہ یوسفزئی پر ہونے والے حملے کی مذمت کی گئی جب کہ اس بات کا بھی فیصلہ کیا گیا کہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں گے۔ نئی حکمت عملی حکومت اور فوج مل کر مرتب کریں گے جس کے ذریعے شدت پسند قوتوں کے خاتمے کے لیے پالیسی تیار کی جائے گی۔ اس سے قبل اسی روز چکلالہ میں جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کا سہ ماہی اجلاس جنرل خالد شمیم وائیں کی زیر صدارت ہوا۔ اس میں بھی پاکستان کی سلامتی سے متعلق ایشوز اور خطے میں جیو اسٹرٹیجک صورتحال پر غور کیا گیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق اجلاس میں آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی، بحریہ کے سربراہ ایڈمرل آصف سندھیلہ، فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل طاہر رفیق بٹ، ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل ظہیر الاسلام، ڈی جی ایس پی ڈی، دفاع و دفاعی پیداوار کے سیکریٹری اور سینئر فوجی افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں مسلح افواج کی اعلیٰ قیادت نے دہشت گردی کی لعنت کے خلاف جنگ جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ مسلح افواج دہشت گردی کے خلاف اس جنگ میں ہر قسم کی قربانی دینے کو تیار ہیں۔ اسی روز وفاقی کابینہ کا اجلاس بھی ہوا۔
ان اعلیٰ سطحی سرگرمیوں کا بنیادی نقطہ یہی سامنے آیا ہے کہ پاکستان دہشت گردوں کا مقابلہ کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہے اور اس حوالے سے عسکری اور منتخب سول قیادت میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ ماضی کی صورتحال کو مد نظر رکھا جائے تو اعلیٰ سطح پر ایسی سرگرمیاں کم ہی دیکھنے میں آئی ہیں۔ پاکستان میں دہشت گردوں کا خطرہ جس سطح تک پہنچ گیا ہے' اس کا تقاضا یہی ہے کہ عسکری اور منتخب سول قیادت دہشت گردی کے حوالے سے کسی ابہام کا شکار نہ ہو۔ ملالہ یوسف زئی کا واقعہ محض دو تین بچیوں پر دہشت گردوں کا حملہ نہیں ہے۔
دہشت گردوں کے ماسٹر مائنڈز نے یہ بے رحمانہ واردات کر کے وادی سوات اور پاکستان کے لوگوں کو پیغام دے دیا ہے کہ وہ اپنی راہ میں حائل ہونے والی ہر آواز کو خاموش کردیں گے، یہ خواہ کسی معصوم بچی ہی کی آواز کیوں نہ ہو۔ سوات میں دہشت گردوں نے جس ظلم و بربریت کا بازار گرم کیے رکھا' وہ مقامی لوگوں کے ذہنوں میں ابھی تک تازہ ہے۔ ملالہ کے سانحے کے بعد ان کا مزید خوفزدہ ہونا قدرتی بات ہے۔ پاکستان کا یہ المیہ رہا ہے کہ یہاں اسٹیبلشمنٹ اور سیاسی قیادت دہشت گردوں یا طالبان کے خطرے کی شدت اور وسعت کا اندازہ کرنے میں ناکام رہی ہیں' پاکستان کی اسی پارلیمنٹ نے سوات میں مولوی فضل اللہ اور صوفی محمد کے مطالبات کو منظور کر کے شریعت بل منظور کیا، اس کے بعد جو کچھ ہوا، اسے بتانے کی ضرورت نہیں۔ پھر اسی پارلیمنٹ کو سوات میں آپریشن کی منظوری دینا پڑی۔
اس سے منتخب نمایندوں کی نظریاتی پختگی کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے۔ پاک فوج نے سوات کو دہشت گردوں سے صاف کیا اور پھر فوج نے جنوبی وزیرستان کو تحریک طالبان کے کنٹرول سے آزاد کرایا۔ لیکن دہشت گردوں کا خطرہ پھر بھی ٹلا نہیں، پاکستانی اسٹیبلشمنٹ اور سیاسی قیادت کی کمزور قوت ارادی کے باعث دہشت گردوں کا نیٹ ورک ٹوٹا نہیں۔ آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی کا دہشت گردوں کے بارے میں موقف کسی سے ڈھکا چھپا نہیں رہا۔ اب ملک کی بڑی سیاسی جماعتیں پیپلز پارٹی' مسلم لیگ ن' ایم کیو ایم' مسلم لیگ ق اور اے این پی سیاسی مصلحتوں سے بالاتر ہو کر دہشت گردی کے خلاف ڈٹ جائیں۔
الطاف حسین اس حوالے سے واضح اور دو ٹوک موقف کے ساتھ سامنے آئے ہیں' ان کی طرز سیاست سے اختلاف کیا جا سکتا لیکن یہ ماننا پڑے گا کہ وہ دہشت گردی کے خطرے کو پوری شدت سے سمجھتے ہیں اور اس عفریت کے خلاف لڑنے کا عزم بھی ظاہر کرتے ہیں۔ پیپلز پارٹی' مسلم لیگ ن' ق لیگ اور اے این پی کی قیادت کو بھی ایسا ہی غیر مبہم موقف اختیار کرنا چاہیے تا کہ پاک فوج کو پتہ ہو کہ قوم ان کے ساتھ ہے اور وہ دہشت گردوں کا ہمیشہ کے لیے صفایا کر دے۔ ڈرون حملوں کے حوالے سے بھی پاکستان اب تک دو عملی کا شکار ہے۔
اگلے روز بھی شمالی وزیرستان کی سرحد کے قریب واقع علاقہ بلند خیل میں حافظ گل بہادر گروپ کے مولوی شاکر اللہ کے مدرسے پر ڈرون طیاروں سے حملہ کیا گیا، اخباری اطلاعات کے مطابق اس حملے میں مولوی شاکر اللہ بھی مارا گیا۔ گزشتہ 24 گھنٹے کے دوران قبائلی علاقوں میں یہ دوسرا ڈرون حملہ ہے، بدھ کو شمالی وزیرستان میں کیے جانے والے ڈرون حملے میں 5 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اورکزئی ایجنسی میں یہ دوسرا ڈرون حملہ ہے، اس سے قبل اپریل 2009ء میں خادیزئی کے مقام پر کیے جانے والے حملے میں 13 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
بدھ اور جمعرات کو ہونے والے ڈروں حملوں پر بھی وزارت خارجہ نے امریکی سفارتخانے سے ایک بار پھر احتجاج کیا ہے، بیان کے مطابق سفارتخانے کے حکام کو بتایا گیا ہے کہ ڈرون حملے بین الاقوامی قوانین اور پاکستان کی خود مختاری کی صریحاً خلاف ورزی ہیں۔ یہ حملے پاکستان کے لیے قطعی ناقابل قبول ہیں۔ ماضی میں بھی پاکستان ان حملوں کی مذمت کرتا آیا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ڈرون حملوں کے حوالے سے بھی واضح موقف اختیار کیا جائے۔ ہم دہشت گردوں کے خلاف جنگ میں اس لیے نقصان اٹھا رہے ہیں کہ ہمارا موقف تضادات سے بھر پور ہوتا ہے' اب اچھے اور برے طالبان کے چکر سے باہر آنا ہو گا۔ اپنے ملک کو بچانا' ہماری اولین ترجیح ہونا چاہیے۔ اگر وقت گزر گیا تو پھر کچھ ہاتھ نہیں آئے گا۔