شعیب اور ان کی اہلیہ کے پاس ایگزیکٹ کے صرف20روپے کے2شیئرز ہیں
ایگزیکٹ پرائیویٹ لمیٹڈ نےٹیکس ایئر2009 سے2013تک غلط انکم ٹیکس چھوٹ کےذریعے42 کروڑ روپے سےزائد کا ٹیکس چوری کیا، رپورٹ
ایگزیکٹ پاکستان نے2012میں دبئی سے15 کروڑ، 2013 میں 67 کروڑروپے وصول کیے،ڈی جی انٹیلی جنس ان لینڈریونیوکی رپورٹ . فوٹو : فائل
فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) نے ایگزیکٹ پرائیویٹ لمیٹڈ کی جانب سے برطانیہ، دبئی سمیت مختلف ممالک میں بنائے جانے والے اثاثوں، بینک اکاؤنٹس، کریڈٹ کارڈز کے ذریعے ہونے والی ٹرانزیکشن، اندرون و بیرون ملک کی جانیوالی انٹرنیٹ مارکیٹنگ کی تحقیقات کرنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ ایف بی آر کے ماتحت ادارے ڈائریکٹوریٹ جنرل انٹیلی جنس اینڈانویسٹی گیشن ان لینڈریوینیو نے ایگزیکٹ پرائیویٹ لمیٹڈکی جانب سے ٹیکس چوری کی تفصیلی رپورٹ ایف بی آرکوبھجوادی ہے۔
ڈی جی انٹیلی جنس اینڈانویسٹی گیشن ان لینڈریونیو کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیاہے کہ ایگزیکٹ پرائیویٹ لمیٹڈنے ٹیکس ایئر2009 سے 2013 تک غلط انکم ٹیکس چھوٹ کے ذریعے 42 کروڑ روپے سے زائد کا ٹیکس چوری کیا۔رپورٹ میں چشم کُشاانکشافات کیے گئے ہیں جن میں بتایا گیا ہے کہ ایگزیکٹ پاکستان پرائیویٹ لمیٹڈ کے پاس این ٹی این نمبر2692690-3 ہے اور اس کاپتہ 114-116-Cجامی کمرشل سٹریٹ نمبر تیرہ فیز VIIڈی ایچ اے کراچی ہے۔
ایگزیکٹ پاکستان پرائیویٹ لمیٹڈمیسرز ایگزیکٹ ایف زیڈ ایل ایل سی یو اے ای کی ذیلی کمپنی ہے اور میسز ایگزیکٹ ایف زیڈ ایل ایل سی یو اے ای کے سو فیصدشیئر کیپیٹل ہیں جبکہ ایگزیکٹ پاکستان پرائیویٹ لمیٹڈ کے2 ڈائریکٹرزہیں جو میاں بیوی ہیں۔کمپنی کے ڈائریکٹر شعیب احمد شیخ کے پاس این ٹی این 2123894-4 اوردوسری خاتون ڈائریکٹر عائشہ شعیب شیخ کے پاس این ٹی این 214853-5 ہے اوران دونوں ڈائریکٹرز کے پاس صرف ایک ایک شیئرہے اور ان کی مالیت10روپے فی شیئر ظاہر کی گئی ہے۔مذکورہ کمپنی نے 1997 میں کام شروع کیااور 2006 میں کمپنیز آرڈیننس1984کے تحت بطورپرائیویٹ لمیٹڈ کمپنی میں تبدیل ہوگئی اور اس وقت اس کمپنی کے ملازمین کی تعداد 5 ہزار 200 ہے اور 100سے زائدممالک میں اس کے کلائنٹس ہیں۔ دستاویز میں بتایا گیاہے کہ مذکورہ کمپنی اس وقت کراچی، اسلام آباد اور دبئی میں کام کررہی ہے اور اس کے8بزنس یونٹس اور پروڈکٹس ہیں جبکہ دنیا بھر میں اس کمپنی کے 83 لاکھ سے زائد کسٹمرزہیں۔
دستاویز میں مزید انکشاف کیا گیا ہے کہ ایگزیکٹ پرائیویٹ لمیٹڈ کی جانب سے ٹیکس ایئر 2009 سے ٹیکس ایئر 2012 تک کے تمام انکم ٹیکس گوشوارے 24جون 2013 کو جمع کرائے گئے ہیں جبکہ ٹیکس ایئر 2013 کے انکم ٹیکس گوشوارے 9 جنوری2014کو جمع کرائے گئے ہیں۔ بتایا گیاہے کہ ایگزیکٹ کے ٹیکس ایئر 2009 سے 2013 تک کی آڈٹ شُدہ فنانشل اسٹیٹمنٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ کمپنی صرف میسرز ایگزیکٹ ایف زیڈ ایل ایل سی یو اے ای کو سافٹ ویئر اور سروسز فراہم کررہی ہیں۔
ایگزیکٹ پاکستان پرائیویٹ لمیٹڈنے ٹیکس ایئر 2009 سے 2013 تک اپنی مجموعی آمدنی 43 کروڑ 63 لاکھ 63 ہزار 626 روپے ظاہر کی ہے جس میں سے42کروڑ29 لاکھ95 ہزار444 روپے ٹیکس سے مُستثنٰی جبکہ قابل ٹیکس آمدنی 1کروڑ33 لاکھ68 ہزار 182روپے ظاہر کی ہے۔ دستاویز میں بتایا گیاہے کہ ایگزیکٹ پاکستان پرائیویٹ لمیٹڈکی جانب سے مذکورہ عرصے کے دوران ظاہر کردہ آمدنی کا 97 فیصد حصہ ٹیکس سے مُستثنیٰ اور صرف3 فیصد قابل ٹیکس ظاہر کیا ہے جس پر 46 لاکھ78 ہزار594 روپے ٹیکس ہے۔ اس کے مقابلے میں ایگزیکٹ پاکستان پرائیویٹ لمیٹڈ نے مذکورہ عرصہ کے دوران 2 کروڑ79 لاکھ 71ہزار59 روپے کے ریفنڈ کلیم کیے ہیں۔ دستاویز میں انکشاف کیا گیا ہے کہ انکم ٹیکس آرڈیننس کی سیکشن 133 ٹیکس سے چھوٹ حاصل کرنے کے لیے مقرر کردہ معیار اور شرائط کو پورا کرنا ضروری ہے مگر میسرز ایگزیکٹ پرائیوٹ لمیٹڈنے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے سافٹ ویئر ایکسپورٹرز کے لیے مرتب کردہ فارن ایکسچینج مینیوئیل کے چیپٹر XII بارٹ 12 پر جزوی عملدرآمد کیا ہے۔
دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ مذکورہ کمپنی کی جانب سے پاکستان میں فروخت کی جانیوالی آئی ٹی مصنوعات کو یا تو چھپایا جارہاہے یا انھیں بطور ایکسپورٹ ظاہر کرنے کے لیے مس ڈکلیئر کیا گیا ہے۔ دستاویز کے مطابق میسرز ایگزیکٹ پاکستان کی بنیادی اوراہم کاروباری سرگرمیاں انٹرنیٹ۔آن لائن مارکیٹنگ،آسانی کے ساتھ ڈائون لوڈ ہونیوالی آئی ٹی مصنوعات کی فروخت ہے جوکہ سافٹ ویئرکی برآمد سے بالکل مختلف ہے۔دستاویز میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ ایگزیکٹ پاکستان پرائیویٹ لمیٹڈکی جانب سے ظاہر کردہ معلومات اس کی اصل کاروباری سرگرمیوں سے بہت زیادہ متضادہیں،ریکارڈ کی چھان بین سے ظاہر ہوتاہے کہ میسرز ایگزیکٹ پاکستان پرائیویٹ لمیٹڈاصل میں میسرز ایگریکٹ ایف زیڈایل ایل سی یو اے ای کا ذیلی ادارہ و کمپنی ہے اور میسرز ایگریکٹ ایف زیڈ ایل ایل سی یو اے ای 100فیصدشیئرز رکھتی ہے۔
ڈی جی انٹیلی جنس اینڈانویسٹی گیشن ان لینڈ ریونیو کی رپورٹ میں کہا گیاہے کہ ایگزیکٹ پاکستان کے ایک ڈائریکٹرشعیب احمدشیخ این ٹی این نمبر 4134669-6 کے حامل میسرز بول انٹرپرائزز پرائیویٹ لمیٹڈ کے 97فیصدشیئرز کا مالک ہے اور شعیب احمد شیخ کی جانب سے بول انٹر پرائزز میں6کروڑ 79لاکھ روپے کی سرمایہ کاری کی گئی ہے اور بول انٹرپرائزز نے ٹیکس ڈپارٹمنٹ سے19مارچ2013 کورجسٹریشن حاصل کی ہے جبکہ شعیب احمدشیخ کامیسرز ایگزیکٹ پاکستان لمیٹڈمیں صرف ایک شیئر ہے۔دستاویز میں یہ بھی انکشاف کیاگیاہے کہ کمپنی کی جانب سے ٹیکس ایئر 2009سے2013 کے دوران مارکیٹنگ،سیل اورپروموشن کی مدمیں مجموعی طور پر 49 کروڑ62 لاکھ53 ہزار759 روپے کے اخراجات کلیم کیے ہیں۔ کمپنی کے ڈائریکٹرزنے 2011اور 2012 کے لیے اپنے ٹیکس گوشوارے جمع نہیں کرائے۔کمپنی کے دونوں ڈائریکٹرز نے ٹیکس ایئر 2013 کے لیے نامکمل انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرائے۔دستاویز میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ میسرز ایگزیکٹ پاکستان پرائیویٹ لمیٹڈکے اسٹینڈرڈ چارٹرڈکے اکاؤنٹس سے کریڈٹ کارڈزکے ذریعے بھاری ادائیگیوں کابھی انکشاف ہواہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کریڈٹ کارڈز کے ذریعے ہونے والی ادائیگیوںکی تفصیلی تحقیقات کی جائے گی اوراس کاتجزیہ کرنے کی بھی ضرورت ہے کہ یہ ادائیگیاں کس کس کو اورکس مقصد کے لیے ہوئی ہیں۔ دستاویز میں کہا گیاہے کہ میسرز ایگزیکٹ پاکستان پرائیویٹ لمیٹڈپاکستان میں بڑے پیمانے پرمارکیٹنگ مہم کر رہی ہے اوراس کمپنی کی جانب سے ظاہر کی جانے والی پاکستان سے حاصل کردہ قابل ٹیکس آمدنی بہت کم ہے۔
دستاویز میں بتایاگیا ہے کہ بینک اکاؤنٹ اسٹیٹمنٹس کی ابتدائی چھان بین میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ترسیلات زر کے علاوہ بھی کمپنی نے ایگزیکٹ ایف زیڈ ایل ایل سی دبئی سے پاکستانی کرنسی میں بھی کروڑوں روپے وصول کیے ہیں۔ دستاویز میں بتایاگیا ہے کہ ٹیکس ایئر 2012میں ایگزیکٹ پاکستان کیجانب سے ایگزیکٹ ایف زیڈ ایل ایل سی دبئی سے 15 کروڑ66 لاکھ 74 ہزار روپے جبکہ ٹیکس ایئر2013 میں 67کروڑ22 لاکھ98 ہزار روپے وصول کیے ہیں۔ ایف بی آر نے ایف آئی اے سے ایگزیکٹ کے ریکارڈ کی تفصیلات مانگ لی ہیں جبکہ سندھ ریوینیوبورڈ نے بھی ایگزیکٹ سے مالی گوشواروں کی تفصیلات7روزمیں طلب کرلی ہیں۔
ڈی جی انٹیلی جنس اینڈانویسٹی گیشن ان لینڈریونیو کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیاہے کہ ایگزیکٹ پرائیویٹ لمیٹڈنے ٹیکس ایئر2009 سے 2013 تک غلط انکم ٹیکس چھوٹ کے ذریعے 42 کروڑ روپے سے زائد کا ٹیکس چوری کیا۔رپورٹ میں چشم کُشاانکشافات کیے گئے ہیں جن میں بتایا گیا ہے کہ ایگزیکٹ پاکستان پرائیویٹ لمیٹڈ کے پاس این ٹی این نمبر2692690-3 ہے اور اس کاپتہ 114-116-Cجامی کمرشل سٹریٹ نمبر تیرہ فیز VIIڈی ایچ اے کراچی ہے۔
ایگزیکٹ پاکستان پرائیویٹ لمیٹڈمیسرز ایگزیکٹ ایف زیڈ ایل ایل سی یو اے ای کی ذیلی کمپنی ہے اور میسز ایگزیکٹ ایف زیڈ ایل ایل سی یو اے ای کے سو فیصدشیئر کیپیٹل ہیں جبکہ ایگزیکٹ پاکستان پرائیویٹ لمیٹڈ کے2 ڈائریکٹرزہیں جو میاں بیوی ہیں۔کمپنی کے ڈائریکٹر شعیب احمد شیخ کے پاس این ٹی این 2123894-4 اوردوسری خاتون ڈائریکٹر عائشہ شعیب شیخ کے پاس این ٹی این 214853-5 ہے اوران دونوں ڈائریکٹرز کے پاس صرف ایک ایک شیئرہے اور ان کی مالیت10روپے فی شیئر ظاہر کی گئی ہے۔مذکورہ کمپنی نے 1997 میں کام شروع کیااور 2006 میں کمپنیز آرڈیننس1984کے تحت بطورپرائیویٹ لمیٹڈ کمپنی میں تبدیل ہوگئی اور اس وقت اس کمپنی کے ملازمین کی تعداد 5 ہزار 200 ہے اور 100سے زائدممالک میں اس کے کلائنٹس ہیں۔ دستاویز میں بتایا گیاہے کہ مذکورہ کمپنی اس وقت کراچی، اسلام آباد اور دبئی میں کام کررہی ہے اور اس کے8بزنس یونٹس اور پروڈکٹس ہیں جبکہ دنیا بھر میں اس کمپنی کے 83 لاکھ سے زائد کسٹمرزہیں۔
دستاویز میں مزید انکشاف کیا گیا ہے کہ ایگزیکٹ پرائیویٹ لمیٹڈ کی جانب سے ٹیکس ایئر 2009 سے ٹیکس ایئر 2012 تک کے تمام انکم ٹیکس گوشوارے 24جون 2013 کو جمع کرائے گئے ہیں جبکہ ٹیکس ایئر 2013 کے انکم ٹیکس گوشوارے 9 جنوری2014کو جمع کرائے گئے ہیں۔ بتایا گیاہے کہ ایگزیکٹ کے ٹیکس ایئر 2009 سے 2013 تک کی آڈٹ شُدہ فنانشل اسٹیٹمنٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ کمپنی صرف میسرز ایگزیکٹ ایف زیڈ ایل ایل سی یو اے ای کو سافٹ ویئر اور سروسز فراہم کررہی ہیں۔
ایگزیکٹ پاکستان پرائیویٹ لمیٹڈنے ٹیکس ایئر 2009 سے 2013 تک اپنی مجموعی آمدنی 43 کروڑ 63 لاکھ 63 ہزار 626 روپے ظاہر کی ہے جس میں سے42کروڑ29 لاکھ95 ہزار444 روپے ٹیکس سے مُستثنٰی جبکہ قابل ٹیکس آمدنی 1کروڑ33 لاکھ68 ہزار 182روپے ظاہر کی ہے۔ دستاویز میں بتایا گیاہے کہ ایگزیکٹ پاکستان پرائیویٹ لمیٹڈکی جانب سے مذکورہ عرصے کے دوران ظاہر کردہ آمدنی کا 97 فیصد حصہ ٹیکس سے مُستثنیٰ اور صرف3 فیصد قابل ٹیکس ظاہر کیا ہے جس پر 46 لاکھ78 ہزار594 روپے ٹیکس ہے۔ اس کے مقابلے میں ایگزیکٹ پاکستان پرائیویٹ لمیٹڈ نے مذکورہ عرصہ کے دوران 2 کروڑ79 لاکھ 71ہزار59 روپے کے ریفنڈ کلیم کیے ہیں۔ دستاویز میں انکشاف کیا گیا ہے کہ انکم ٹیکس آرڈیننس کی سیکشن 133 ٹیکس سے چھوٹ حاصل کرنے کے لیے مقرر کردہ معیار اور شرائط کو پورا کرنا ضروری ہے مگر میسرز ایگزیکٹ پرائیوٹ لمیٹڈنے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے سافٹ ویئر ایکسپورٹرز کے لیے مرتب کردہ فارن ایکسچینج مینیوئیل کے چیپٹر XII بارٹ 12 پر جزوی عملدرآمد کیا ہے۔
دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ مذکورہ کمپنی کی جانب سے پاکستان میں فروخت کی جانیوالی آئی ٹی مصنوعات کو یا تو چھپایا جارہاہے یا انھیں بطور ایکسپورٹ ظاہر کرنے کے لیے مس ڈکلیئر کیا گیا ہے۔ دستاویز کے مطابق میسرز ایگزیکٹ پاکستان کی بنیادی اوراہم کاروباری سرگرمیاں انٹرنیٹ۔آن لائن مارکیٹنگ،آسانی کے ساتھ ڈائون لوڈ ہونیوالی آئی ٹی مصنوعات کی فروخت ہے جوکہ سافٹ ویئرکی برآمد سے بالکل مختلف ہے۔دستاویز میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ ایگزیکٹ پاکستان پرائیویٹ لمیٹڈکی جانب سے ظاہر کردہ معلومات اس کی اصل کاروباری سرگرمیوں سے بہت زیادہ متضادہیں،ریکارڈ کی چھان بین سے ظاہر ہوتاہے کہ میسرز ایگزیکٹ پاکستان پرائیویٹ لمیٹڈاصل میں میسرز ایگریکٹ ایف زیڈایل ایل سی یو اے ای کا ذیلی ادارہ و کمپنی ہے اور میسرز ایگریکٹ ایف زیڈ ایل ایل سی یو اے ای 100فیصدشیئرز رکھتی ہے۔
ڈی جی انٹیلی جنس اینڈانویسٹی گیشن ان لینڈ ریونیو کی رپورٹ میں کہا گیاہے کہ ایگزیکٹ پاکستان کے ایک ڈائریکٹرشعیب احمدشیخ این ٹی این نمبر 4134669-6 کے حامل میسرز بول انٹرپرائزز پرائیویٹ لمیٹڈ کے 97فیصدشیئرز کا مالک ہے اور شعیب احمد شیخ کی جانب سے بول انٹر پرائزز میں6کروڑ 79لاکھ روپے کی سرمایہ کاری کی گئی ہے اور بول انٹرپرائزز نے ٹیکس ڈپارٹمنٹ سے19مارچ2013 کورجسٹریشن حاصل کی ہے جبکہ شعیب احمدشیخ کامیسرز ایگزیکٹ پاکستان لمیٹڈمیں صرف ایک شیئر ہے۔دستاویز میں یہ بھی انکشاف کیاگیاہے کہ کمپنی کی جانب سے ٹیکس ایئر 2009سے2013 کے دوران مارکیٹنگ،سیل اورپروموشن کی مدمیں مجموعی طور پر 49 کروڑ62 لاکھ53 ہزار759 روپے کے اخراجات کلیم کیے ہیں۔ کمپنی کے ڈائریکٹرزنے 2011اور 2012 کے لیے اپنے ٹیکس گوشوارے جمع نہیں کرائے۔کمپنی کے دونوں ڈائریکٹرز نے ٹیکس ایئر 2013 کے لیے نامکمل انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرائے۔دستاویز میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ میسرز ایگزیکٹ پاکستان پرائیویٹ لمیٹڈکے اسٹینڈرڈ چارٹرڈکے اکاؤنٹس سے کریڈٹ کارڈزکے ذریعے بھاری ادائیگیوں کابھی انکشاف ہواہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کریڈٹ کارڈز کے ذریعے ہونے والی ادائیگیوںکی تفصیلی تحقیقات کی جائے گی اوراس کاتجزیہ کرنے کی بھی ضرورت ہے کہ یہ ادائیگیاں کس کس کو اورکس مقصد کے لیے ہوئی ہیں۔ دستاویز میں کہا گیاہے کہ میسرز ایگزیکٹ پاکستان پرائیویٹ لمیٹڈپاکستان میں بڑے پیمانے پرمارکیٹنگ مہم کر رہی ہے اوراس کمپنی کی جانب سے ظاہر کی جانے والی پاکستان سے حاصل کردہ قابل ٹیکس آمدنی بہت کم ہے۔
دستاویز میں بتایاگیا ہے کہ بینک اکاؤنٹ اسٹیٹمنٹس کی ابتدائی چھان بین میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ترسیلات زر کے علاوہ بھی کمپنی نے ایگزیکٹ ایف زیڈ ایل ایل سی دبئی سے پاکستانی کرنسی میں بھی کروڑوں روپے وصول کیے ہیں۔ دستاویز میں بتایاگیا ہے کہ ٹیکس ایئر 2012میں ایگزیکٹ پاکستان کیجانب سے ایگزیکٹ ایف زیڈ ایل ایل سی دبئی سے 15 کروڑ66 لاکھ 74 ہزار روپے جبکہ ٹیکس ایئر2013 میں 67کروڑ22 لاکھ98 ہزار روپے وصول کیے ہیں۔ ایف بی آر نے ایف آئی اے سے ایگزیکٹ کے ریکارڈ کی تفصیلات مانگ لی ہیں جبکہ سندھ ریوینیوبورڈ نے بھی ایگزیکٹ سے مالی گوشواروں کی تفصیلات7روزمیں طلب کرلی ہیں۔