یونان کا اقتصادی بحران اور آئی ایم ایف

آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک نے اپنی پالیسیوں میں دہرا معیار اپنا رکھا ہے

آئی ایم ایف کی سربراہ کرسٹائن لا گارڈے نے یونان کے ساتھ گہری ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یونان کو اپنے بجٹ کو سنبھالنے کے لیے اضافی وقت دیا جانا چاہیے. فوٹو: رائٹرز

یورپی یونین کے اہم رکن یونان کو اس وقت شدید اقتصادی بحران کا سامنا ہے۔

یونان میں اقتصادی بحران سے بے روز گاری میں اضافہ ہوا۔ ایک رپورٹ کے مطابق یونان میں جولائی میں بے روز گاری کی شرح بڑھ کر 25.1 فیصد تک پہنچ گئی۔ بگڑتی معاشی صورتحال سے گھبرا کر بڑی بڑی کمپنیوں نے یونان سے اپنا سرمایہ سمیٹنے کے لیے غوروخوض شروع کیا تو یونانی معیشت کو ایک شدید دھچکا لگا جس سے روز گار کے مسائل میں اضافہ ہونے لگا۔ اب آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے کرتا دھرتا یونان کے معاشی بحران کو سنبھالا دینے کے لیے سر جوڑ کر بیٹھ گئے ہیں۔انھوں نے یونان کو اقتصادی طور پر سنبھلنے کے لیے اضافی دو سال کا وقت دینے کی سفارش کی ہے۔


آئی ایم ایف کی سربراہ کرسٹائن لا گارڈے نے یونان کے ساتھ گہری ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یونان کو اپنے بجٹ کو سنبھالنے کے لیے اضافی وقت دیا جانا چاہیے کیونکہ وہ بجٹ خسارے میں کمی اور معیشت کو بچانے کے لیے انتھک اقدامات کر رہاہے۔ آئی ایم ایف نے اٹلی میں پیدا ہونے والے اقتصادی بحران سے نمٹنے کے لیے بھی اس کی بھرپور مدد کی تھی جس سے وہ پھر سے سنبھل گیا۔ آئی ایم ایف کی سربراہ کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی ڈونرز و قرض دہندگان نے یونان کو 2014ء کی ڈیڈ لائن دی ہے تاہم آئی ایم ایف یونان کو 2016ء تک وقت دینے کے حق میں ہے۔

آئی ایم ایف پرتگال اور اسپین کو بھی اقتصادی بحران سے نکلنے کے لیے اسی قسم کی رعایتی مدت دینے کے لیے تیار ہے۔ مشاہدے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک نے اپنی پالیسیوں میں دہرا معیار اپنا رکھا ہے۔ یورپی یونین کے ممالک کے لیے اس کی پالیسیاں ہمدردانہ ہیں تو ایشیائی اور افریقی ممالک کے لیے وہ اس کے برعکس پالیسی اپنائے ہوئے ہے۔ ان عالمی مالیاتی اداروں کا طرز عمل بالخصوص مسلم ممالک کے ساتھ سوتیلی ماں کا سا ہے۔ سوڈان' افغانستان' عراق اور یمن کے حوالے سے آئی ایم ایف نے ایسی کوئی پالیسی وضع نہیں کی جس سے جنگ زدہ ان ممالک میں معاشی استحکام کی سبیل نکل سکے۔

آج کا جدید سرمایہ دارانہ نظام اسی وقت مستحکم ہو سکتا ہے جب عالمی مالیاتی ادارے اپنی پالیسیوں میں ترقی پذیر ممالک کو بھی ویسی ہی ترجیح دیں جیسی وہ یونان' اسپین اور پرتگال کو دے رہے ہیں۔ اگر انھوں نے ترقی پذیر ممالک کے ساتھ اپنا یہی رویہ برقرار رکھا تو ان ممالک کی زبوں حالی کا شکار معیشت کمزور سے کمزور تر ہوتی چلی جائے گی اور غربت' بھوک اور جہالت سے جنم لینے والی دہشت گردی کو مزید فروغ ملے گا۔
Load Next Story