کیا ہم آنے والی تباہی سے بچ سکتے ہیں
ہماری اشرافیہ کی انتہائی خود غرضی اور اس کے علاوہ اور بہت کچھ ہم پر ایک قہر نہیں تو کیا ہے
Abdulqhasan@hotmail.com
ہمارے ایک دوست ہیں رائو صاحب، معمر ہیں مگر ذہن اور دل دونوں جوان ہیں۔
وہ ٹیلی فون پر ہر روز کئی نکات بھیجتے رہتے ہیں، ان کا تازہ ترین نکتہ یہ ہے کہ پہلے ایک دور تھا جسے پتھر کا دور کہتے تھے، اب وہ تو ماضی بعید میں کہیں گم ہو گیا مگر اب انسان پتھر کے ہیں۔ اب میں سوچتا ہوں کہ اپنے ارد گرد پتھر کے انسانوں کے ساتھ میں بھی ایک پتھر کیوں نہ ہو گیا۔ بات صرف ایک خوبصورت معصوم بچی ملالہ کی نہیں یہاں تو ہر اصول ہر اخلاق اور ہر نیکی کا مسلسل خون ہوتا رہتا ہے اور ایک مدت سے ہو رہا ہے۔ ان میں سب سے بڑا خون خود پاکستان کا تھا اور سب سے بڑا شہید خود پاکستان ہے۔
میں وہ بدنصیب پاکستانی ہوں جب پاکستان بنا تھا تو مجھے اتنا شعور تھا کہ اب ہم انگریز کے غلام نہیں رہے اور ایک پسندیدہ آزاد ملک کے شہری بن گئے ہیں۔ اس ملک کو ملک خدا داد کہا گیا اور اس کے وجود کو پورے عالم اسلام کے لیے ایک رحمت اور نعمت قرار دیا گیا اور یہ سب بالکل ٹھیک تھا لیکن آج غور کریں اور مراقبہ کریں، دل میں جھانکیں تو پتہ چلتا ہے کہ جب یہ ملک بن رہا تھا تو اس میں ایک ایسا با اثر طبقہ بھی آباد تھا جس کی نیتوں میں فتور تھا۔
یہ چالاک اور عیار لوگ رفتہ رفتہ اس ملک پر قابض ہو گئے اور اسے پورے انسانی طمع و حرص اور بے پایاں لالچ کا مرکز بنا دیا یہانتک کہ ہم گزشتہ چار برس اس بحث میں مصروف رہے کہ کرپشن کے باہر پڑے ہوئے مال کی واپسی کی کوشش کریں یا نہ کریں۔ ہماری پوری پارلیمنٹ جو اٹھارہ کروڑ پاکستانیوں کی نمایندگی کرتی ہے، اس ایک خط کے متن پر الجھی رہی کہ اسے کس الفاظ میں لکھیں اور اس بات پر کہ اسے بھیجیں یا نہ بھیجیں۔ آپ کی طرح میں بھی یہ سب دیکھتا رہا اور جلتا سڑتا رہا کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کی یہ توہین کس جرات اور ڈھٹائی کے ساتھ بر سرعام کی جا رہی ہے، پوری دنیا یہ لطیفہ سن رہی ہے۔ ہمارا حال دیکھ رہی ہے۔
یہ ایک واقعہ ہے کہ پاکستان کے پاس ایک خوشحال بلکہ امیر ملک بننے کے لیے سب کچھ تھا، وہ تمام وسائل میسر تھے جو کسی ملک کی معیشت کے لیے ضروری ہوتے ہیں۔ حکیم سعید شہید نے ایک مذاکرے میں سچ کہا تھا کہ اﷲ تبارک تعالیٰ نے سورہ رحمٰن میں جن نعمتوں کا ذکر کیا ہے پاکستان میں دو نعمتیں اس سے زیادہ ہیں۔ شروع میں تو ہماری اشرافیہ اقتدار کے لیے لڑتی بھڑتی رہی پھر موقع سے فائدہ اٹھا کر ایک فوجی آ گیا لیکن اس میں کچھ ملک کا درد بھی تھا چنانچہ اس نے جدید دور کے تقاضوں کے مطابق ملک میں صنعتوں کا آغاز کیا، اس کے ایک ساتھی گورنر نے زراعت پر توجہ دی اور یوں صنعت و زراعت دونوں میں ملک کی دوگونہ ترقی کا آغاز ہوا۔
یہ وہ زمانہ تھا جب پاکستان جنوبی ایشیا کا سب سے زیادہ خوشحال ملک تھا۔ حقائق بتاتے ہیں کہ دنیا کے پسماندہ ممالک ترقی کا ہنر سیکھنے کے لیے پاکستان آیا کرتے تھے۔ غیر مسلم دنیا اس مسلمان ملک کو تشویش کی نظروں سے دیکھ رہی تھی جس کا دعویٰ تھا کہ وہ اسلامی تہذیب و ثقافت اور روایات کی ترقی کے لیے وجود میں آیا ہے۔ کیا آپ کو یاد ہے کہ ہماری یونیورسٹیوں میں بیرونی طلبہ کی ایک بڑی تعداد ہوا کرتی تھی اور اس میں اضافہ ہو رہا تھا۔ یوں ہماری جدید خوشحالی اور ترقی پذیر زندگی قابل رشک تھی لیکن پھر اشرافیہ کا ایک لیڈر ذوالفقار علی بھٹو کے نام سے آیا جس نے آتے ہی صنعتوں کو قومیانہ شروع کر دیا، چھوٹے چھوٹے کارخانے بھی سرکاری تحویل میں چلے گئے، زراعت کو نئی تکنیک ملنی بند ہو گئی۔
میرے چھوٹے سے بارانی گائوں میں اس زمانے میں اسی ہزار روپے کی مالیت کے زرعی آلات تھے جن کو زراعت کے محکمے کے لوگ چلاتے تھے، وہ سب ختم ہو گیا۔ ہماری عوامی انقلابی حکومت نے ہماری ترقی کی پوری بساط ہی الٹ دی۔ ہمیں بہت جلد معلوم ہو گیا کہ ہم تو اس عوامی سوشلزم والے انقلاب میں اوندھے منہ زمین پر پڑے ہیں۔ ہمارا یہی انقلاب تھا۔ انقلاب کے لغوی معنی الٹ پلٹ کے ہیں۔ اس کے بعد ہم جتنی بلندی تک پہنچے تھے، ہم اس بلندی سے نیچے کی طرف لڑھکنے شروع ہو گئے اور آج ہماری حالت قابل رحم ہے۔
آپ بہت جلد بڑے ہی بھیانک نتائج سے دو چار ہوں گے۔ زمین کا قہر اور آسمان کا قہر دونوں بیک وقت ہم پر ٹوٹیں گے بلکہ بد امنی قتل و خونریزی بے پناہ اور ناقابل تصور حد تک رشوت ستانی اور ہماری اشرافیہ کی انتہائی خود غرضی اور اس کے علاوہ اور بہت کچھ ہم پر ایک قہر نہیں تو کیا ہے۔ نہ پانی نہ بجلی نہ ریل نہ جہاز۔ برسوں پہلے مدینہ منورہ میں مقیم صوفی باصفا نذیر صاحب نے ایک بار مجھ سے کہا تھا کہ کراچی میں جب میں جہاز سے اترتا ہوں تو مجھے خون کی بو آتی ہے۔ یہ امن اور عافیت کا زمانہ تھا لیکن اس کے کوئی ڈیڑھ دو برس بعد کراچی میں ایک گروہ نے قتل اور بھتہ گیری شروع کر دی اور پھر چل سو چل، آج کا کراچی دیکھ لیں۔ ایسے حالات میں ایک مسلمان سے استغفار کا کہا جاتا ہے لیکن اب صرف زبانی کلامی معافی کا وقت شاید گزر چکا ہے۔
اب قومی مجرموں کو کٹہرے میں لانے اور سولیوں پر لٹکانے کا وقت ہے اور اس وقت کو اب ٹالا نہیں جا سکتا۔ اصلاح احوال لازم ہے کیونکہ موجودہ حالت میں ملک آگے ایک قدم بھی نہیں چل سکتا۔ اس کے ٹوٹے ہوئے پائوں کو انقلاب کی بیساکھی کی ضرورت ہے۔ دعا کا وقت گزر چکا لیکن پھر بھی اپنے رب سے دعا کریں کہ وہ انقلاب میں کچھ توازن ہی پیدا کر دے اور انقلاب فرانس کے انقلابیوں کی طرح ہر اس ہاتھ کو مجرم نہ سمجھ لے جس کی ہتھیلی نرم ہو۔ کاش کہ میں انسان نہیں پتھر بن جائوں اور بے سدھ کہیں پڑا رہوں۔ یہ سب نہ دیکھ سکوں۔
وہ ٹیلی فون پر ہر روز کئی نکات بھیجتے رہتے ہیں، ان کا تازہ ترین نکتہ یہ ہے کہ پہلے ایک دور تھا جسے پتھر کا دور کہتے تھے، اب وہ تو ماضی بعید میں کہیں گم ہو گیا مگر اب انسان پتھر کے ہیں۔ اب میں سوچتا ہوں کہ اپنے ارد گرد پتھر کے انسانوں کے ساتھ میں بھی ایک پتھر کیوں نہ ہو گیا۔ بات صرف ایک خوبصورت معصوم بچی ملالہ کی نہیں یہاں تو ہر اصول ہر اخلاق اور ہر نیکی کا مسلسل خون ہوتا رہتا ہے اور ایک مدت سے ہو رہا ہے۔ ان میں سب سے بڑا خون خود پاکستان کا تھا اور سب سے بڑا شہید خود پاکستان ہے۔
میں وہ بدنصیب پاکستانی ہوں جب پاکستان بنا تھا تو مجھے اتنا شعور تھا کہ اب ہم انگریز کے غلام نہیں رہے اور ایک پسندیدہ آزاد ملک کے شہری بن گئے ہیں۔ اس ملک کو ملک خدا داد کہا گیا اور اس کے وجود کو پورے عالم اسلام کے لیے ایک رحمت اور نعمت قرار دیا گیا اور یہ سب بالکل ٹھیک تھا لیکن آج غور کریں اور مراقبہ کریں، دل میں جھانکیں تو پتہ چلتا ہے کہ جب یہ ملک بن رہا تھا تو اس میں ایک ایسا با اثر طبقہ بھی آباد تھا جس کی نیتوں میں فتور تھا۔
یہ چالاک اور عیار لوگ رفتہ رفتہ اس ملک پر قابض ہو گئے اور اسے پورے انسانی طمع و حرص اور بے پایاں لالچ کا مرکز بنا دیا یہانتک کہ ہم گزشتہ چار برس اس بحث میں مصروف رہے کہ کرپشن کے باہر پڑے ہوئے مال کی واپسی کی کوشش کریں یا نہ کریں۔ ہماری پوری پارلیمنٹ جو اٹھارہ کروڑ پاکستانیوں کی نمایندگی کرتی ہے، اس ایک خط کے متن پر الجھی رہی کہ اسے کس الفاظ میں لکھیں اور اس بات پر کہ اسے بھیجیں یا نہ بھیجیں۔ آپ کی طرح میں بھی یہ سب دیکھتا رہا اور جلتا سڑتا رہا کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کی یہ توہین کس جرات اور ڈھٹائی کے ساتھ بر سرعام کی جا رہی ہے، پوری دنیا یہ لطیفہ سن رہی ہے۔ ہمارا حال دیکھ رہی ہے۔
یہ ایک واقعہ ہے کہ پاکستان کے پاس ایک خوشحال بلکہ امیر ملک بننے کے لیے سب کچھ تھا، وہ تمام وسائل میسر تھے جو کسی ملک کی معیشت کے لیے ضروری ہوتے ہیں۔ حکیم سعید شہید نے ایک مذاکرے میں سچ کہا تھا کہ اﷲ تبارک تعالیٰ نے سورہ رحمٰن میں جن نعمتوں کا ذکر کیا ہے پاکستان میں دو نعمتیں اس سے زیادہ ہیں۔ شروع میں تو ہماری اشرافیہ اقتدار کے لیے لڑتی بھڑتی رہی پھر موقع سے فائدہ اٹھا کر ایک فوجی آ گیا لیکن اس میں کچھ ملک کا درد بھی تھا چنانچہ اس نے جدید دور کے تقاضوں کے مطابق ملک میں صنعتوں کا آغاز کیا، اس کے ایک ساتھی گورنر نے زراعت پر توجہ دی اور یوں صنعت و زراعت دونوں میں ملک کی دوگونہ ترقی کا آغاز ہوا۔
یہ وہ زمانہ تھا جب پاکستان جنوبی ایشیا کا سب سے زیادہ خوشحال ملک تھا۔ حقائق بتاتے ہیں کہ دنیا کے پسماندہ ممالک ترقی کا ہنر سیکھنے کے لیے پاکستان آیا کرتے تھے۔ غیر مسلم دنیا اس مسلمان ملک کو تشویش کی نظروں سے دیکھ رہی تھی جس کا دعویٰ تھا کہ وہ اسلامی تہذیب و ثقافت اور روایات کی ترقی کے لیے وجود میں آیا ہے۔ کیا آپ کو یاد ہے کہ ہماری یونیورسٹیوں میں بیرونی طلبہ کی ایک بڑی تعداد ہوا کرتی تھی اور اس میں اضافہ ہو رہا تھا۔ یوں ہماری جدید خوشحالی اور ترقی پذیر زندگی قابل رشک تھی لیکن پھر اشرافیہ کا ایک لیڈر ذوالفقار علی بھٹو کے نام سے آیا جس نے آتے ہی صنعتوں کو قومیانہ شروع کر دیا، چھوٹے چھوٹے کارخانے بھی سرکاری تحویل میں چلے گئے، زراعت کو نئی تکنیک ملنی بند ہو گئی۔
میرے چھوٹے سے بارانی گائوں میں اس زمانے میں اسی ہزار روپے کی مالیت کے زرعی آلات تھے جن کو زراعت کے محکمے کے لوگ چلاتے تھے، وہ سب ختم ہو گیا۔ ہماری عوامی انقلابی حکومت نے ہماری ترقی کی پوری بساط ہی الٹ دی۔ ہمیں بہت جلد معلوم ہو گیا کہ ہم تو اس عوامی سوشلزم والے انقلاب میں اوندھے منہ زمین پر پڑے ہیں۔ ہمارا یہی انقلاب تھا۔ انقلاب کے لغوی معنی الٹ پلٹ کے ہیں۔ اس کے بعد ہم جتنی بلندی تک پہنچے تھے، ہم اس بلندی سے نیچے کی طرف لڑھکنے شروع ہو گئے اور آج ہماری حالت قابل رحم ہے۔
آپ بہت جلد بڑے ہی بھیانک نتائج سے دو چار ہوں گے۔ زمین کا قہر اور آسمان کا قہر دونوں بیک وقت ہم پر ٹوٹیں گے بلکہ بد امنی قتل و خونریزی بے پناہ اور ناقابل تصور حد تک رشوت ستانی اور ہماری اشرافیہ کی انتہائی خود غرضی اور اس کے علاوہ اور بہت کچھ ہم پر ایک قہر نہیں تو کیا ہے۔ نہ پانی نہ بجلی نہ ریل نہ جہاز۔ برسوں پہلے مدینہ منورہ میں مقیم صوفی باصفا نذیر صاحب نے ایک بار مجھ سے کہا تھا کہ کراچی میں جب میں جہاز سے اترتا ہوں تو مجھے خون کی بو آتی ہے۔ یہ امن اور عافیت کا زمانہ تھا لیکن اس کے کوئی ڈیڑھ دو برس بعد کراچی میں ایک گروہ نے قتل اور بھتہ گیری شروع کر دی اور پھر چل سو چل، آج کا کراچی دیکھ لیں۔ ایسے حالات میں ایک مسلمان سے استغفار کا کہا جاتا ہے لیکن اب صرف زبانی کلامی معافی کا وقت شاید گزر چکا ہے۔
اب قومی مجرموں کو کٹہرے میں لانے اور سولیوں پر لٹکانے کا وقت ہے اور اس وقت کو اب ٹالا نہیں جا سکتا۔ اصلاح احوال لازم ہے کیونکہ موجودہ حالت میں ملک آگے ایک قدم بھی نہیں چل سکتا۔ اس کے ٹوٹے ہوئے پائوں کو انقلاب کی بیساکھی کی ضرورت ہے۔ دعا کا وقت گزر چکا لیکن پھر بھی اپنے رب سے دعا کریں کہ وہ انقلاب میں کچھ توازن ہی پیدا کر دے اور انقلاب فرانس کے انقلابیوں کی طرح ہر اس ہاتھ کو مجرم نہ سمجھ لے جس کی ہتھیلی نرم ہو۔ کاش کہ میں انسان نہیں پتھر بن جائوں اور بے سدھ کہیں پڑا رہوں۔ یہ سب نہ دیکھ سکوں۔