ملک میں 6 سال بعد انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی

پاکستان ایک مہمان نواز اور گریٹ کرکٹ کنٹری کی شہرت رکھنےوالاایشیائی ملک ہےاوراپنےمہمانوں کی حفاظت کرنا بخوبی جانتا ہے

بلاشبہ پاکستان میں ٹیلنٹ کی کمی نہیں ، یہ قوم ہر شعبہ زندگی میں خود کو منوا چکی ہے۔ فوٹو : فائل

کرکٹ بے شک پاکستان کا قومی کھیل نہیں لیکن یہ وہ واحد گیم ہے جس کے متوالوں میں جنس و عمر کی کوئی قید نہیں، کیا بچے، بوڑھے، جوان بلکہ خواتین بھی کرکٹ میں یکساں دلچسپی رکھتی ہیں اور جب بات پاکستانی کرکٹ ٹیم کی دیگر انٹرنیشنل ٹیموں سے مقابلے کی ہو تو یہ جوش و ولولہ دیدنی ہوتا ہے۔

گزشتہ 6 سال سے شائقین کرکٹ پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ ٹیموں کی آمد کے منتظر تھے، اور ''کفر ٹوٹا خدا خدا کرکے'' بالآخر جمعہ کو زمبابوے کی کرکٹ ٹیم کی آمد اور قذافی اسٹیڈیم میں پہلے ٹی 20 میچ کے انعقاد کے بعد پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی سے انتظار کی یہ گھڑیاں ختم ہوئیں۔

3 مارچ 2009ء میں سری لنکا کرکٹ ٹیم پر وحشیانہ حملے کے بعد جس طرح پاکستان کا امیج خراب کرنے اور انٹرنیشنل کرکٹ کی بندش کی سازش رچائی گئی اس کے 6 سال بعد زمبابوے کی جواں سال کرکٹ ٹیم کی آمد کو بہار کے پہلے جھونکے سے تشبیہہ دی جاسکتی ہے اور امید کی جا رہی ہے کہ مزید بین الاقوامی ٹیمیں پاکستان کا دورہ کرکے اس تاثر کو زائل کریں گی جو امن و امان کی کشیدہ صورتحال کے حوالے سے سازشی طور پر پاکستان پر راسخ کیا جارہا ہے۔

پاکستان ایک مہمان نواز اور گریٹ کرکٹ کنٹری کی شہرت رکھنے والا ایشیائی ملک ہے اور اپنے مہمانوں کی حفاظت کرنا بخوبی جانتا ہے، یہی سبب ہے کہ زمبابوے سے پہلے ٹی 20 میچ کے دوران سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے، واک تھرو گیٹ اور میٹل ڈیٹیکٹرز کے علاوہ سیکیورٹی چیکنگ کے مختلف مراحل سے گزر کر ہزاروں شائقین قذافی اسٹیڈیم پہنچے۔ کرکٹ دیکھنے کے خواہشمند افراد کی آمد دوپہر سے قبل ہی شروع ہوگئی تھی، جیسے جیسے میچ کا وقت قریب آتا گیا رش میں بھی اضافہ ہوتا گیا، پارکنگ دور ہونے کی وجہ سے شائقین کو طویل مسافت پیدل طے کرنا پڑی، میچ شروع ہونے سے قبل ہی اسٹیڈیم کھچا کھچ بھر چکا تھا، ان میں بڑی تعداد فیملیز کی تھی جنھوں نے سیکیورٹی چیکنگ کے مراحل بڑی خوش دلی سے طے کیے، خواتین کے لیے الگ چیکنگ پوائنٹس بنائے گئے تھے۔


ٹیموں کی آمد و رفت کی کڑی نگرانی کی گئی، میچ کے دوران بھی قذافی اسٹیڈیم کے چاروں طرف کی سڑکوں پر سیکیورٹی اداروں کی گاڑیوں کی لمبی قطار اہلکاروں سمیت موجود رہی۔ قومی ٹیم نے زمبابوے کے خلاف فتح حاصل کرکے شائقین کی خوشیاں دوبالا کردیں۔ فتح کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے شاہد آفریدی نے کہا کہ کرکٹ کی بحالی کے موقع پر بھرپور سپورٹ کرنے والے شائقین کا شکر گزار ہوں، ایک بہترین ماحول میں اچھے مقابلے سے دنیا کو پاکستان کے بارے میں مثبت پیغام گیا ہے، پی سی بی اور انتظامی اداروں نے اچھی کوشش کی ہے۔

مہمان کپتان ایلٹن چگمبرا نے بھی تماشائیوں کا شکریہ ادا کیا، انھوں نے کہا کہ تماشائی گرین شرٹس کے ساتھ ہمیں بھی سپورٹ کررہے تھے، انھوں نے ثابت کردیا کہ پاکستانی کرکٹ سے محبت کرنے والی قوم ہے، امید ہے ہمارے بعد بھی ٹیمیں میدان آباد کرنے کے لیے آئیں گی۔ پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی خوش آئند خبر ہے لیکن اس موقع پر ان خامیوں اور خرابیوں پر توجہ دینے کی بھی اشد ضرورت ہے جو عالمی طور پر پاکستانی کرکٹ کے زوال کا باعث بنی ہیں۔ بلاشبہ پاکستان میں ٹیلنٹ کی کمی نہیں ، یہ قوم ہر شعبہ زندگی میں خود کو منوا چکی ہے۔

کرکٹ کی دنیا میں پاکستان کے کھلاڑیوں نے حیران کردینے والے ریکارڈ قائم کیے ہیں لیکن پاکستان کے ٹیلنٹ سے خوفزدہ مافیاز نے نہ صرف عالمی سازشوں کے جال بنے بلکہ اندرون خانہ باہمی چپقلش اور سیاست نے بھی کرکٹ کو نقصان پہنچایا، نیز حکومت کی جانب سے بھی کھیل اور کھلاڑیوں کو سپورٹ حاصل نہیں رہی، میچ فکسنگ اور سٹے کے الزامات لگنے پر کھلاڑیوں کو تنہا و بے آسرا چھوڑ دیا گیا، نہ صرف حکومت بلکہ پی سی بی ان معاملات سے چشم پوشی اختیار کیے رہی، پاکستان کے بہترین ٹیلنٹ محمد عامر، آصف اور سلمان بٹ پر بے شک الزامات ثابت ہوئے اور وہ اپنی سزا بھی پوری کرچکے لیکن جس طرح اس معاملے کو ڈیل کیا گیا وہ مناسب نہ تھا، جب کہ دوسری جانب بھارتی کرکٹ بورڈ کے انتظامی رویے کو دیکھا جائے تو بھارت اپنے کھلاڑیوں کو مکمل طور پر سپورٹ کرتا ہے۔

وہاں نہ صرف پاکستان سے زیادہ کرپشن ہے بلکہ بھارت کے کئی ٹاپ کھلاڑی سٹے بازی ، میچ فکسنگ اور بدتہذیبی میں ملوث بھی پائے گئے لیکن ہر بار بھارتی حکومت آڑے آئی اور اپنے کھلاڑیوں کو ہر طرح سے مدد فراہم کی۔ اس ضمن میں کرکٹ کے معتبر عالمی جریدہ ''وزڈن'' نے برصغیر سمیت پورے آئی سی سی کرکٹ ڈھانچہ میں کرپشن، غربت کی کوکھ سے اٹھنے والے کرکٹرز کی ہوس زر ، میچ فکسنگ ، لائف اسٹائل اور کرکٹ بورڈز کی بد انتظامی کی تاریخ چھاپی ہے۔ اور اس مضمون کا عنوان ہی '' اے گیم ان شیم'' رکھا ہے۔

اس بات پر بھی دھیان دینے کی ضرورت ہے کہ پاکستان کے خلاف انٹرنیشنل مافیا سرگرم ہے، گزشتہ کچھ عرصے سے پاکستان کے مایہ ناز باؤلرز سعید اجمل کے باؤلنگ ایکشن کو لے کر لایعنی الزامات اور پابندیاں لگانے کی سازشیں کی گئیں جس سے ٹیم کا مورال گرا اور نتیجتاً کارکردگی پر برا اثر پڑا، اگر ایسے وقت پی سی بی اور حکومت پاکستان اپنے کھلاڑیوں کو سپورٹ کرتی تو انٹرنیشنل مافیا کے حوصلے پست ہوتے۔
Load Next Story