بجٹ اسٹرٹیجی اور عوامی توقعات
بجٹ عام لوگوں کی فلاح و بہبود پر مبنی ہونا چاہیے تا کہ بڑھتے ہوئے اقتصادی استحکام کے ثمرات کو مزید مضبوط بنایا جائے
ملک کے ایک ممتاز ماہر اقتصادیات کا کہنا بجا ہے کہ صوبوں کو خود بھی قومی مالیاتی کمیشن کو ضلعی سطح پر فعال بنانا چاہیے تا کہ آمدنی کا حصہ متعین کرتے ہوئے تمام اضلاع بھی ترقی کر سکیں۔ فوٹو : فائل
وفاقی کابینہ نے آیندہ مالی سال کے لیے بجٹ اسٹرٹیجی پیپرز کی منظوری دیدی جب کہ وزیر اعظم نے ہدایت کی ہے کہ آیندہ مالی سال کا بجٹ عام لوگوں کی فلاح و بہبود پر مبنی ہونا چاہیے تا کہ بڑھتے ہوئے اقتصادی استحکام کے ثمرات کو مزید مضبوط بنایا جائے اور عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دیا جائے۔
وزیر اعظم نواز شریف کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس منگل کو یہاں وزیر اعظم ہاؤس میں ہوا جس میں مالی سال 2015-16ء کے لیے بجٹ اسٹرٹیجی کا جائزہ لیا گیا جس کے تحت نئے مالی سال کے لیے اقتصادی ترقی کا ہدف 5.5 فیصد، بجٹ خسارہ 3.4فیصد اور مہنگائی کا ہدف 6 فیصد جب کہ ایف بی آر کی ٹیکس وصولیوں کا ہدف 3100ارب روپے اور وفاقی ترقیاتی بجٹ (پی ایس ڈی پی) کی مد میں580 ارب روپے مختص کیے جائیں گے۔
وزیر اعظم نے عوامی ریلیف کی بات کر کے درحقیقت بجٹ کے مرکزی نکتہ کی درست وضاحت کی ہے اور قوم کو باور کرانے کی کوشش کی ہے کہ حکومت ان کے دکھ درد سے چشم پوشی نہیں کرے گی اب ان کی معاشی ٹیم کا کام ہے کہ وہ ایسا بجٹ پیش کرے جو عوامی امنگوں کا آئینہ دار ہو اور ملک میں اقتصادی و سماجی تبدیلی ہر ایک کو نظر آئے، بلاشبہ آیندہ سال کا وفاقی بجٹ ایک چیلنج سے کم نہیں، کیونکہ ملک کو معاشی استحکام کی سخت ضرورت ہے، دہشت گردی، امن کی بحالی کے لیے غیر معمولی انتظامی، اقتصادی و سماجی اقدامات ناگزیر ہیں، جب کہ خارجی مسائل اور چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ملک کا اقتصادی اور معاشی محاذ ہر قسم کے دھچکوں اور سیٹ بیک سے محفوظ رہنا چاہیے۔
کسی نے سچ کہا ہے کہ بجٹ محض اعداد و شمار کا مجموعہ یا گورکھ دھندا نہیں ہوتا بلکہ یہ قومی اقدار اور عوامی امنگوں کا آئینہ دار ہوتا ہے۔ ایک اور ماہر معاشیات کا کہنا ہے کہ بجٹ سے خواہشات کے گھوڑے کو روکا نہیں جا سکتا مگر بجٹ کا اعلان ہوتے ہی اضطراب اور تذبذب میں پڑے شہریوں کو پتہ چل جاتا ہے کہ وہ کس کس چیز کے خریدنے کے متحمل نہیں ہو سکتے۔
یوں بجٹ قومی معمولات کے حوالے سے ایک جمہوری حکومت کے لیے ایسی اقتصادی مشعل ہے جس کی روشنی میں حکومت اپنے مینڈیٹ کے ذریعے شہریوں کو ضروریات زندگی کی فراہمی یقینی بنا سکتی ہے اور مختلف اہم منصوبوں کی تکمیل، قومی اداروں اور ملکی سلامتی و دفاع کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر اپنی معاشی قوت اور جمہوری اقدار پر قائم رہنے کا احساس دلاسکتی ہے۔
قومی میزانئے دنیا بھر میں بنتے ہیں، پاکستان میں پہلے بجٹ سے آج تک مختلف اعداد و شمار اور منصوبوں پر مبنی کبھی سرپلس، کبھی خسارہ اور عموماً متوازن بجٹ پیش کرنے کی روایت رہی ہے اور اس پورے معاشی اور مالیاتی عمل میں پاکستان کا غریب و ستم رسیدہ آدمی اسے اپنا ہی بجٹ سمجھتا رہا جو اس کی آرزوؤں کا محور رہا ہے، تاہم بندۂ مزدور کے اوقات ابھی تک تلخ ہیں، مہنگائی، بیروزگاری اور غربت کے مسائل سے نمٹنے کے لیے معاشی عدل لازمی ہے۔ پاکستان کو اقتصادی، صنعتی اور دفاعی شعبوں سمیت تعلیم و صحت اور افرادی قوت کے بہتر استعمال کو یقینی بنانے کے لیے موثر معاشی حکمت عملی وضع کرنی چاہیے۔
وزیر اعظم نے معیشت کے اہم اشاریوں میں نمایاں بہتری پر اظہار اطمینان کیا ہے، تاہم انھوں نے کہا کہ ٹیکسوں کی بنیاد کو وسیع کرنے اور محصولات میں اضافہ کے لیے ٹیکس تجاویز تیار کرتے وقت جامع اقدامات کیے جائیں، ایک ایسا نظام وضع کیا جائے جس کے نتیجہ میں بدعنوانی میں کمی ہو اور ٹیکس دہندگان رضاکارانہ طور پر ٹیکس ادا کریں۔ یہ اہم باتیں ہیں، حکومت کو کرپشن کی روک تھام کے لیے شفافیت اور احتسابی اداروں مثلاً نیب کو مزید اختیارات اور فری ہینڈ دینا چاہیے۔ وزیر اعظم نے ہدایت کی کہ بینکاری نظام کے ذریعے ترسیلات زر کے لیے سمندر پار پاکستانیوں کی مدد کی جائے۔
وزیر اعظم نے اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ بینک کی شرح سود کا ریٹ 8 فیصد سے کم کر کے 7فیصد کرنے سے سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی ہو گی، جب کہ کابینہ نے یہ بات محسوس کی کہ جاری بڑے منصوبوں کے فوائد آیندہ پانچ سے دس سال میں حاصل ہونا شروع ہو جائیں گے۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ جب ہم نے اقتدار سنبھالا تو اس وقت ملکی معیشت بڑی کمزور تھی، افراط زر کی شرح 12 فیصد سے زائد تھی، مالیاتی خسارہ 8.8 فیصد تھا تاہم حکومت کی اقتصادی پالیسیوں کے باعث معیشت نے ترقی کرنا شروع کر دی۔ ایک اطلاع کے مطابق وفاق اور صوبوں کے درمیان اگلے مالی سال 2015-16ء کے لیے ترقیاتی بجٹ پر اتفاق نہیں ہو سکا اور رابطہ کمیٹی کا اجلاس سندھ اور خیبر پختونخوا کی جانب سے شدید تحفظات کی نذر ہو گیا تاہم یہ خوش آیند بات ہے کہ وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے بلا تاخیر ناراض صوبوں کے تحفظات دور کرنیکی یقین دہانی کروائی ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ اتفاق رائے سے روزگار مہیا کرنے والا بجٹ پیش کیا جائے۔ ملک کے ایک ممتاز ماہر اقتصادیات کا کہنا بجا ہے کہ صوبوں کو خود بھی قومی مالیاتی کمیشن کو ضلعی سطح پر فعال بنانا چاہیے تا کہ آمدنی کا حصہ متعین کرتے ہوئے تمام اضلاع بھی ترقی کر سکیں۔ بجٹ میں عوام کو ٹریکل ڈاؤن ثمرات ہر حال میں ملنے چاہئیں۔
وزیر اعظم نواز شریف کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس منگل کو یہاں وزیر اعظم ہاؤس میں ہوا جس میں مالی سال 2015-16ء کے لیے بجٹ اسٹرٹیجی کا جائزہ لیا گیا جس کے تحت نئے مالی سال کے لیے اقتصادی ترقی کا ہدف 5.5 فیصد، بجٹ خسارہ 3.4فیصد اور مہنگائی کا ہدف 6 فیصد جب کہ ایف بی آر کی ٹیکس وصولیوں کا ہدف 3100ارب روپے اور وفاقی ترقیاتی بجٹ (پی ایس ڈی پی) کی مد میں580 ارب روپے مختص کیے جائیں گے۔
وزیر اعظم نے عوامی ریلیف کی بات کر کے درحقیقت بجٹ کے مرکزی نکتہ کی درست وضاحت کی ہے اور قوم کو باور کرانے کی کوشش کی ہے کہ حکومت ان کے دکھ درد سے چشم پوشی نہیں کرے گی اب ان کی معاشی ٹیم کا کام ہے کہ وہ ایسا بجٹ پیش کرے جو عوامی امنگوں کا آئینہ دار ہو اور ملک میں اقتصادی و سماجی تبدیلی ہر ایک کو نظر آئے، بلاشبہ آیندہ سال کا وفاقی بجٹ ایک چیلنج سے کم نہیں، کیونکہ ملک کو معاشی استحکام کی سخت ضرورت ہے، دہشت گردی، امن کی بحالی کے لیے غیر معمولی انتظامی، اقتصادی و سماجی اقدامات ناگزیر ہیں، جب کہ خارجی مسائل اور چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ملک کا اقتصادی اور معاشی محاذ ہر قسم کے دھچکوں اور سیٹ بیک سے محفوظ رہنا چاہیے۔
کسی نے سچ کہا ہے کہ بجٹ محض اعداد و شمار کا مجموعہ یا گورکھ دھندا نہیں ہوتا بلکہ یہ قومی اقدار اور عوامی امنگوں کا آئینہ دار ہوتا ہے۔ ایک اور ماہر معاشیات کا کہنا ہے کہ بجٹ سے خواہشات کے گھوڑے کو روکا نہیں جا سکتا مگر بجٹ کا اعلان ہوتے ہی اضطراب اور تذبذب میں پڑے شہریوں کو پتہ چل جاتا ہے کہ وہ کس کس چیز کے خریدنے کے متحمل نہیں ہو سکتے۔
یوں بجٹ قومی معمولات کے حوالے سے ایک جمہوری حکومت کے لیے ایسی اقتصادی مشعل ہے جس کی روشنی میں حکومت اپنے مینڈیٹ کے ذریعے شہریوں کو ضروریات زندگی کی فراہمی یقینی بنا سکتی ہے اور مختلف اہم منصوبوں کی تکمیل، قومی اداروں اور ملکی سلامتی و دفاع کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر اپنی معاشی قوت اور جمہوری اقدار پر قائم رہنے کا احساس دلاسکتی ہے۔
قومی میزانئے دنیا بھر میں بنتے ہیں، پاکستان میں پہلے بجٹ سے آج تک مختلف اعداد و شمار اور منصوبوں پر مبنی کبھی سرپلس، کبھی خسارہ اور عموماً متوازن بجٹ پیش کرنے کی روایت رہی ہے اور اس پورے معاشی اور مالیاتی عمل میں پاکستان کا غریب و ستم رسیدہ آدمی اسے اپنا ہی بجٹ سمجھتا رہا جو اس کی آرزوؤں کا محور رہا ہے، تاہم بندۂ مزدور کے اوقات ابھی تک تلخ ہیں، مہنگائی، بیروزگاری اور غربت کے مسائل سے نمٹنے کے لیے معاشی عدل لازمی ہے۔ پاکستان کو اقتصادی، صنعتی اور دفاعی شعبوں سمیت تعلیم و صحت اور افرادی قوت کے بہتر استعمال کو یقینی بنانے کے لیے موثر معاشی حکمت عملی وضع کرنی چاہیے۔
وزیر اعظم نے معیشت کے اہم اشاریوں میں نمایاں بہتری پر اظہار اطمینان کیا ہے، تاہم انھوں نے کہا کہ ٹیکسوں کی بنیاد کو وسیع کرنے اور محصولات میں اضافہ کے لیے ٹیکس تجاویز تیار کرتے وقت جامع اقدامات کیے جائیں، ایک ایسا نظام وضع کیا جائے جس کے نتیجہ میں بدعنوانی میں کمی ہو اور ٹیکس دہندگان رضاکارانہ طور پر ٹیکس ادا کریں۔ یہ اہم باتیں ہیں، حکومت کو کرپشن کی روک تھام کے لیے شفافیت اور احتسابی اداروں مثلاً نیب کو مزید اختیارات اور فری ہینڈ دینا چاہیے۔ وزیر اعظم نے ہدایت کی کہ بینکاری نظام کے ذریعے ترسیلات زر کے لیے سمندر پار پاکستانیوں کی مدد کی جائے۔
وزیر اعظم نے اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ بینک کی شرح سود کا ریٹ 8 فیصد سے کم کر کے 7فیصد کرنے سے سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی ہو گی، جب کہ کابینہ نے یہ بات محسوس کی کہ جاری بڑے منصوبوں کے فوائد آیندہ پانچ سے دس سال میں حاصل ہونا شروع ہو جائیں گے۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ جب ہم نے اقتدار سنبھالا تو اس وقت ملکی معیشت بڑی کمزور تھی، افراط زر کی شرح 12 فیصد سے زائد تھی، مالیاتی خسارہ 8.8 فیصد تھا تاہم حکومت کی اقتصادی پالیسیوں کے باعث معیشت نے ترقی کرنا شروع کر دی۔ ایک اطلاع کے مطابق وفاق اور صوبوں کے درمیان اگلے مالی سال 2015-16ء کے لیے ترقیاتی بجٹ پر اتفاق نہیں ہو سکا اور رابطہ کمیٹی کا اجلاس سندھ اور خیبر پختونخوا کی جانب سے شدید تحفظات کی نذر ہو گیا تاہم یہ خوش آیند بات ہے کہ وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے بلا تاخیر ناراض صوبوں کے تحفظات دور کرنیکی یقین دہانی کروائی ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ اتفاق رائے سے روزگار مہیا کرنے والا بجٹ پیش کیا جائے۔ ملک کے ایک ممتاز ماہر اقتصادیات کا کہنا بجا ہے کہ صوبوں کو خود بھی قومی مالیاتی کمیشن کو ضلعی سطح پر فعال بنانا چاہیے تا کہ آمدنی کا حصہ متعین کرتے ہوئے تمام اضلاع بھی ترقی کر سکیں۔ بجٹ میں عوام کو ٹریکل ڈاؤن ثمرات ہر حال میں ملنے چاہئیں۔