سپریم کورٹ نے مخدوم شہاب موسیٰ گیلانی کی ضمانتوں کی توثیق کردی
رشیدجمعہ ایماندار تھاتومستعفی کیوں نہیں ہوا؟ملزم وعدہ معاف گواہ بن جائے تواس کے بیان پر اعتراض ہوتا ہے،جسٹس ناصرالملک
انصاف کی امیدپوری ہوئی،موسیٰ،دشمن بھی کرپشن کاالزام نہیںلگاسکتے،وقت آنے پر بتائوںگاسازش کے پیچھے کون ہے،مخدوم شہاب۔ فوٹو: فائل
سپریم کورٹ نے ایفی ڈرین کیس میں وفاقی وزیر مخدوم شہاب الدین اورسابق وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی کے بیٹے علی موسیٰ گیلانی کی ضمانت منظوکر لی ہے۔
قبل ازیں لاہورہائیکورٹ نے دونوںکی جانب سے ضمانت کی درخواستیں مستردکر دی تھیں جس کے بعد سپریم کورٹ میں ضمانت کی درخواستیں دائرکی گئیں ۔مخدوم شہاب الدین کے وکیل سردار اسحاق نے گزشتہ روز دلائل مکمل کر لیے تھے۔جمعہ کو علی موسیٰ گیلانی کے وکیل ڈاکٹر خالد رانجھا اور اے این ایف کے پراسیکیوٹر راجہ شاہدعباسی نے دلائل دیے۔
جسٹس ناصر الملک کی سربراہی میں جسٹس طارق پرویز اور جسٹس امیرہانی مسلم پر مشتمل تین رکنی بینچ نے ضمانت کی درخواستوںکی سماعت کی، وکیل سرکارعدالت کو مطمئن کرنے میں ناکام رہے ۔عدالت نے اپنے مختصر فیصلے میں ایفی ڈرین کیس میں دونوں ملزمان کی ضمانتیں منظورکر لیں ۔علی موسیٰ گیلانی کے وکیل نے موقف اختیارکیا کہ میرے موکل پرکوٹاحاصل کرنے کا نہیںکوٹے کی الاٹمنٹ میں معاونت کا الزام ہے،گرفتاری کے بغیربھی تحقیقات ہوسکتی ہے لہٰذاعدالت ضمانت کی درخواست منظور کرے ۔
اے این ایف کے پراسیکیوٹر نے کہاکہ ایفی ڈرین سے ہیروئن بھی بنتی ہے،ملزمان کوگرفتارکرکے ایفی ڈرین سے جومنشیات بنائی گئی اس کو تحویل میں لیناچاہتے ہیں جوکوٹادلایا گیا اسے افغانستان میںکس کواسمگل کیاگیا اس کا سراغ لگانا چاہتے ہیں ۔جسٹس طارق پرویز نے کہا کہ اس بات پر پہلے بھی بیانات ریکارڈکیے گئے ہیں ۔ پراسیکیوٹر نے کہا کہ ملزمان کی ضمانت کے دوران تفیتش نہیں ہوسکتی۔ عدالت نے اے این ایف کے پراسیکیوٹرکے دلائل سے اتفاق نہ کرتے ہوئے اپنے مختصر آرڈرمیں مخدوم شہاب الدین اورعلی موسیٰ گیلانی کی ضمانت کی درخواستیں منظورکر لیں۔
آئی این پی کے مطابق جسٹس ناصر الملک نے کہا کہ ڈی جی صحت رشید جمعہ اگر ایماندار تھا تومستعفی کیوں نہیں ہوا،وعدہ معاف گواہ کیوں بنا، ایسا شخص جوخود ملزم ہو،وعدہ معاف گواہ بن جائے تواس کے بیان پر اعتراض ہوتاہے۔عدالت نے دلائل مکمل ہونے پر علی موسیٰ گیلانی اورمخدوم شہاب الدین کی ضمانت کی توثیق کر دی۔ نمائندے کے مطابق مخدوم شہاب نے ضمانت منظورہونے کے بعد میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ وقت آنے پر بتائوںگا کہ ان کے خلاف ہونے والی سازش کے پیچھے کون تھا، وزارت عظمیٰ کے کاغذات نامزدگی جمع کراتے ہوئے میرے وارنٹ گرفتاری جاری کیے گئے اس کے پیچھے ایک سازش تھی وقت آنے پر سب کچھ بتا دوںگا۔
انھوں نے کہا کہ میرے خلاف ایک جھوٹا کیس بنایاگیا میرے بدترین دشمن بھی مجھ پر مالی بد عنوانی کا الزام نہیں لگاسکتے، ایفی ڈرین کیس جھوٹا کیس ہے،ٹرائل کورٹ سے بھی بری ہوںگا۔علی موسیٰ گیلانی نے کہاکہ وہ پہلے دن سے کہتے ہیںکہ ملک کی اعلیٰ ترین عدالت سپریم کورٹ سے انصاف کی امیدہے اوروہ امید پوری ہوئی ہے ۔ سپریم کورٹ سے انصاف ملا ہے جھوٹے کیس میں ٹرائل کورٹ سے بھی بری ہوںگے ۔
قبل ازیں لاہورہائیکورٹ نے دونوںکی جانب سے ضمانت کی درخواستیں مستردکر دی تھیں جس کے بعد سپریم کورٹ میں ضمانت کی درخواستیں دائرکی گئیں ۔مخدوم شہاب الدین کے وکیل سردار اسحاق نے گزشتہ روز دلائل مکمل کر لیے تھے۔جمعہ کو علی موسیٰ گیلانی کے وکیل ڈاکٹر خالد رانجھا اور اے این ایف کے پراسیکیوٹر راجہ شاہدعباسی نے دلائل دیے۔
جسٹس ناصر الملک کی سربراہی میں جسٹس طارق پرویز اور جسٹس امیرہانی مسلم پر مشتمل تین رکنی بینچ نے ضمانت کی درخواستوںکی سماعت کی، وکیل سرکارعدالت کو مطمئن کرنے میں ناکام رہے ۔عدالت نے اپنے مختصر فیصلے میں ایفی ڈرین کیس میں دونوں ملزمان کی ضمانتیں منظورکر لیں ۔علی موسیٰ گیلانی کے وکیل نے موقف اختیارکیا کہ میرے موکل پرکوٹاحاصل کرنے کا نہیںکوٹے کی الاٹمنٹ میں معاونت کا الزام ہے،گرفتاری کے بغیربھی تحقیقات ہوسکتی ہے لہٰذاعدالت ضمانت کی درخواست منظور کرے ۔
اے این ایف کے پراسیکیوٹر نے کہاکہ ایفی ڈرین سے ہیروئن بھی بنتی ہے،ملزمان کوگرفتارکرکے ایفی ڈرین سے جومنشیات بنائی گئی اس کو تحویل میں لیناچاہتے ہیں جوکوٹادلایا گیا اسے افغانستان میںکس کواسمگل کیاگیا اس کا سراغ لگانا چاہتے ہیں ۔جسٹس طارق پرویز نے کہا کہ اس بات پر پہلے بھی بیانات ریکارڈکیے گئے ہیں ۔ پراسیکیوٹر نے کہا کہ ملزمان کی ضمانت کے دوران تفیتش نہیں ہوسکتی۔ عدالت نے اے این ایف کے پراسیکیوٹرکے دلائل سے اتفاق نہ کرتے ہوئے اپنے مختصر آرڈرمیں مخدوم شہاب الدین اورعلی موسیٰ گیلانی کی ضمانت کی درخواستیں منظورکر لیں۔
آئی این پی کے مطابق جسٹس ناصر الملک نے کہا کہ ڈی جی صحت رشید جمعہ اگر ایماندار تھا تومستعفی کیوں نہیں ہوا،وعدہ معاف گواہ کیوں بنا، ایسا شخص جوخود ملزم ہو،وعدہ معاف گواہ بن جائے تواس کے بیان پر اعتراض ہوتاہے۔عدالت نے دلائل مکمل ہونے پر علی موسیٰ گیلانی اورمخدوم شہاب الدین کی ضمانت کی توثیق کر دی۔ نمائندے کے مطابق مخدوم شہاب نے ضمانت منظورہونے کے بعد میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ وقت آنے پر بتائوںگا کہ ان کے خلاف ہونے والی سازش کے پیچھے کون تھا، وزارت عظمیٰ کے کاغذات نامزدگی جمع کراتے ہوئے میرے وارنٹ گرفتاری جاری کیے گئے اس کے پیچھے ایک سازش تھی وقت آنے پر سب کچھ بتا دوںگا۔
انھوں نے کہا کہ میرے خلاف ایک جھوٹا کیس بنایاگیا میرے بدترین دشمن بھی مجھ پر مالی بد عنوانی کا الزام نہیں لگاسکتے، ایفی ڈرین کیس جھوٹا کیس ہے،ٹرائل کورٹ سے بھی بری ہوںگا۔علی موسیٰ گیلانی نے کہاکہ وہ پہلے دن سے کہتے ہیںکہ ملک کی اعلیٰ ترین عدالت سپریم کورٹ سے انصاف کی امیدہے اوروہ امید پوری ہوئی ہے ۔ سپریم کورٹ سے انصاف ملا ہے جھوٹے کیس میں ٹرائل کورٹ سے بھی بری ہوںگے ۔