خیبرپختونخوا حکومت کی نا اہلی
تعلیم اور صحت جیسی بنیادی سہولتوں کی ذمے داری ضلع حکومتوں پر تھ
tauceeph@gmail.com
طالبان کے خلاف مزاحمت کی علامت میاں افتخار حسین پابند سلاسل کر دیے گئے۔ بیلٹ پیپر چرانے والے صوبائی وزیرکو باحفاظت گھر بھیج دیا گیا، قانونی بے ضابطگی ،ووٹ کے تقدس کی پامالی ،دہشت گردی کی فضا ، ہلاکتوں اور ہنگاموں میں خیبرپختون خواہ میں بلدیاتی انتخابات ہوئے۔
تحریکِ انصاف نے انتخابات میں برتری حاصل کرلی۔اے این پی نے دوسری پوزیشن حاصل کی۔ انتخابات میں الیکشن کمیشن، حکومت اور پولیس کی خامیاں ظاہر ہوگئیں۔ خواتین کو ووٹ کے حق سے پھر محروم رکھا گیا۔
خیبرپختون خواہ میں بلدیاتی نظام کا ڈھانچہ برطانیہ سے مستعار لیا گیا ہے، یوں آدھے انتخابات جماعتی اور آدھے غیرجماعتی بنیادوں پر ہوئے۔ شہر اور تحصیل کی سطح پر جماعتوں کو امیدوار نامزد کرنے کا موقع ملا۔گاؤں کی سطح پرغیر جماعتی انتخابات ہوئے۔
ایک فرد کو 6 اور جہاں اقلیتوں کی نشستیں تھیں وہاں 7 بیلٹ پیپروں کے ذریعے مختلف سطحوں پر اپنے امیدواروں کا انتخاب کرنا پڑا۔گرمی، انتظامی بدنظمی اور طویل قطار کی بناء پر ووٹنگ کی شرح متاثر ہوئی۔خیبر پختون خواہ کی حکومت امن و امان کے لیے پولیس کو بہتر انداز میں منظم نہیں کرسکی اور انتظامی افسروں نے اپنے فرائض پر خاطر خواہ توجہ نہیں دی، یوں دھاندلیوں کے الزامات بھی لگے۔کچھ سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے انتخابی نتائج کو پہلے سے تیارشدہ قرار دیا،تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان کو اگلے کئی برسوں تک کے پی کے بلدیاتی انتخابات میں دھاندلیوں کے الزامات برداشت کرنے پڑیں گے۔
یہ حقیقت ہے کہ 2008 کے انتخابات کے بعد برسرِ اقتدار آنے والی صوبائی حکومتوں اور وفاقی حکومت کو منتخب بلدیاتی اداروں سے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ اس معاملے میں پیپلز پارٹی، مسلم لیگ ن، عوامی نیشنل پارٹی، جمعیت علماء اسلام وغیرہ کی یکساں رائے تھی۔
یہ وجہ تھی کہ جنرل پرویز مشرف کے نچلی سطح کے بلدیاتی نظام کو تمام جماعتوں نے مسمار کیا۔ جنرل پرویز مشرف کے اس نظام میں پہلی دفعہ نچلی سطح تک اختیارات کے تصور کو حقیقی شکل دی گئی تھی مگر اس نظام میں صوبوں کے اختیارات کو نظرانداز کرتے ہوئے شہروں میں قائم مقامی حکومتوں کو اسلام آباد سے منسلک کردیا تھا مگر بلدیاتی ادارے پہلی دفعہ مکمل انتظامی اور مالیاتی خودمختاری کے حامل بنے۔ اس نظام پر عملدرآمد ہونے سے قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے اراکین کے کام سمٹ گئے تھے۔
تعلیم اور صحت جیسی بنیادی سہولتوں کی ذمے داری ضلع حکومتوں پر تھی۔ یوں صوبائی حکومتوں کے پاس قانون سازی کرکے جامع منصوبہ بندی کے علاوہ کوئی اور کام نہیں بچا تھا۔اس نظام میں خواتین کی ہر سطح پر نمایندگی تھی۔ اس بناء پر مذہبی جماعتوں کے لیے اس تصورکو قبول کرنا مشکل تھا، سندھ اور پنجاب میں جو قانون سازی ہوئی اس میں بلدیاتی اداروں کے اختیارات محدود کردیے گئے تھے۔
بلوچستان میں قائم ہونے والے بلدیاتی نظام میں یہی صورتحال تھی مگر تحریکِ انصاف کا معاملہ ذرا مختلف محسوس ہوتا تھا۔ مگر کے پی میں جو بلدیاتی نظام نافذ ہوا اس میں بلدیاتی اداروں کے اختیارات محدود کردیے گئے۔ ایک سیاسی مبصر نے کہا کہ پرویز خٹک وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے اپنے اختیارات کم کرنے کو تیار نہیں تھے، عمران خان کا برطانیہ کے کاؤنٹی کے طرز پر نئے نظام کے قیام کا دعویٰ اسی طرح اخبارات کی فائلوں میں کھو گیا جس طرح ان کے گزشتہ سال اسلام آباد میں دھرنے پورے ملک کو بندکرنے اور حکومت کی تبدیلی کے بارے میں دعوے اخبارات کی فائلوں میں کھوگئے تھے۔
عمران خان نے برطانیہ میں تعلیم حاصل کی۔ وہ برطانیہ میں خواتین کی ہر سطح پر نمایندگی کے تصور پر زور دیتے رہے ہیں۔ ان کے گرد جمع ہونے والی اعلیٰ تعلیم یافتہ خواتین بھی اس تصورکی تائید کرتی رہی ہیں مگر تحریکِ انصاف کے بلدیاتی انتخابات میں خواتین کو پولنگ اسٹیشنوں تک لانے اور ان کے ووٹ کے حق کے تحفظ کے لیے کچھ نہیں کیا۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ عمران خان اپنی اتحادی جماعت جماعتِ اسلامی کی طرح خواتین کے بارے میں دہرے رویے کا شکار ہیں۔
وہ شہروں میں جلسے جلوسوں میں خواتین کی شرکت کو بہتر محسوس کرتے ہیں مگر کے پی کے رجعت پسندماحول کو تبدیل کرنے اور خواتین کو ووٹ کے حق کے استعمال کے تحفظ کے لیے کچھ نہیں کرتے۔ یہی وجہ ہے کہ اس دفعہ پھر بلدیاتی انتخابات میں خواتین کے ووٹ ڈالنے کی شرح انتہائی محدود رہی۔
تحریکِ انصاف کے پالیسی ساز اداروں میں موجود دانش وروں نے اس حقیقت کو محسوس نہیں کیا کہ ایک ووٹر کا 6بیلٹ پیپر بھرنا مشکل اور سنجیدہ عمل ہے۔ اس عمل کا کوئی متبادل طریقہ کار دستیاب ہونا ضروری ہے۔
اخبارات میں شایع ہونے والی رپورٹوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ بہت سی خواتین اس سنجیدہ نظام کی بناء پر طویل قطاروں سے تنگ آ کر اپنا ووٹ کا حق استعمال نہیں کرسکیں اور رجعت پسند مردوں کو خواتین کو گھروں میں بند کرنے کے مواقعے ملے۔ وفاقی اور صوبائی حکومتیں بلدیاتی انتخابات کے حق میں نہیں ہیں ،جس کے نتیجے میں سپریم کورٹ کو مداخلت کرنی پڑی۔ سپریم کورٹ کے تین چیف جسٹس صاحبان بلدیاتی انتخابات سے متعلق مقدمات کی سماعت کرتے رہے۔ ہر دفعہ ہر حکومت نے مختلف نوعیت کے عذر پیش کیے، آخرکار موجودہ چیف جسٹس نے انتخابات کے لیے حتمی تاریخ مقررکردی۔ انتخاب کے وقت شدید گرمی کے موسم کو مدنظر نہیں رکھا گیا۔
اگر کے پی کے حکومت ازخود انتخابات کی تاریخ کو طے کر دیتی تو پھر سپریم کورٹ کو حتمی تاریخ طے نہ کرنی پڑتی۔ اسی طرح صوبائی حکومتیں مختلف نوعیت کی وجوہات بیان کرکے انتخابات ملتوی کراتی رہیں۔ اسی بناء پر سپریم کورٹ کو مئی کے مہینے میں انتخابات نہ کرانے کے مسئلے پر قائل نہ کرسکیں۔ ایک دفعہ پھر الیکشن کمیشن کی نااہلی کا سوال ابھر کر سامنے آیا۔ الیکشن کمیشن کا نیا ڈھانچہ 18ویں ترمیم میں طے ہوا۔
کمیشن مکمل طور پر خودمختار تو ہوا مگر چیف الیکشن کمشنر اورکمیشن کے اراکین کے اختیارات مساوی ہونے کی بناء پر اس کی فعالیت کا معاملہ موجود رہا۔ انتخابی عملے کی تربیت جیسے اہم معاملات پر عدم توجہ کی بناء پر انتخابی عمل متاثر ہوا۔ تحریکِ انصاف کی اتحادی جماعتِ اسلامی نے پشاور کے انتخابات کو مسترد کردیا۔
انتخابی عمل کی نگرانی کرنے والی غیر سیاسی تنظیم فافن نے اپنی ابتدائی رپورٹ میں انتخابی بدعنوانی، انتظامیہ کی جانبداری اور دیگر بہت سے واقعات اپنی رپورٹ میں شامل کیے ہیں۔ ایسا محسو س ہوتا ہے کہ تحریکِ انصاف کی حکومت شفاف انتخابات کے انعقاد میں ناکام رہی۔ اب کیا ان انتخابی دھاندلیوں اور بے ضابطگیوں کی تحقیقات کے لیے کسی جوڈیشل کمیشن کا قیام ضروری ہوگا یا عمران خان خود ہی اپنی حکومت کی نااہلی کو تسلیم کرلیں گے؟
تحریکِ انصاف نے انتخابات میں برتری حاصل کرلی۔اے این پی نے دوسری پوزیشن حاصل کی۔ انتخابات میں الیکشن کمیشن، حکومت اور پولیس کی خامیاں ظاہر ہوگئیں۔ خواتین کو ووٹ کے حق سے پھر محروم رکھا گیا۔
خیبرپختون خواہ میں بلدیاتی نظام کا ڈھانچہ برطانیہ سے مستعار لیا گیا ہے، یوں آدھے انتخابات جماعتی اور آدھے غیرجماعتی بنیادوں پر ہوئے۔ شہر اور تحصیل کی سطح پر جماعتوں کو امیدوار نامزد کرنے کا موقع ملا۔گاؤں کی سطح پرغیر جماعتی انتخابات ہوئے۔
ایک فرد کو 6 اور جہاں اقلیتوں کی نشستیں تھیں وہاں 7 بیلٹ پیپروں کے ذریعے مختلف سطحوں پر اپنے امیدواروں کا انتخاب کرنا پڑا۔گرمی، انتظامی بدنظمی اور طویل قطار کی بناء پر ووٹنگ کی شرح متاثر ہوئی۔خیبر پختون خواہ کی حکومت امن و امان کے لیے پولیس کو بہتر انداز میں منظم نہیں کرسکی اور انتظامی افسروں نے اپنے فرائض پر خاطر خواہ توجہ نہیں دی، یوں دھاندلیوں کے الزامات بھی لگے۔کچھ سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے انتخابی نتائج کو پہلے سے تیارشدہ قرار دیا،تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان کو اگلے کئی برسوں تک کے پی کے بلدیاتی انتخابات میں دھاندلیوں کے الزامات برداشت کرنے پڑیں گے۔
یہ حقیقت ہے کہ 2008 کے انتخابات کے بعد برسرِ اقتدار آنے والی صوبائی حکومتوں اور وفاقی حکومت کو منتخب بلدیاتی اداروں سے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ اس معاملے میں پیپلز پارٹی، مسلم لیگ ن، عوامی نیشنل پارٹی، جمعیت علماء اسلام وغیرہ کی یکساں رائے تھی۔
یہ وجہ تھی کہ جنرل پرویز مشرف کے نچلی سطح کے بلدیاتی نظام کو تمام جماعتوں نے مسمار کیا۔ جنرل پرویز مشرف کے اس نظام میں پہلی دفعہ نچلی سطح تک اختیارات کے تصور کو حقیقی شکل دی گئی تھی مگر اس نظام میں صوبوں کے اختیارات کو نظرانداز کرتے ہوئے شہروں میں قائم مقامی حکومتوں کو اسلام آباد سے منسلک کردیا تھا مگر بلدیاتی ادارے پہلی دفعہ مکمل انتظامی اور مالیاتی خودمختاری کے حامل بنے۔ اس نظام پر عملدرآمد ہونے سے قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے اراکین کے کام سمٹ گئے تھے۔
تعلیم اور صحت جیسی بنیادی سہولتوں کی ذمے داری ضلع حکومتوں پر تھی۔ یوں صوبائی حکومتوں کے پاس قانون سازی کرکے جامع منصوبہ بندی کے علاوہ کوئی اور کام نہیں بچا تھا۔اس نظام میں خواتین کی ہر سطح پر نمایندگی تھی۔ اس بناء پر مذہبی جماعتوں کے لیے اس تصورکو قبول کرنا مشکل تھا، سندھ اور پنجاب میں جو قانون سازی ہوئی اس میں بلدیاتی اداروں کے اختیارات محدود کردیے گئے تھے۔
بلوچستان میں قائم ہونے والے بلدیاتی نظام میں یہی صورتحال تھی مگر تحریکِ انصاف کا معاملہ ذرا مختلف محسوس ہوتا تھا۔ مگر کے پی میں جو بلدیاتی نظام نافذ ہوا اس میں بلدیاتی اداروں کے اختیارات محدود کردیے گئے۔ ایک سیاسی مبصر نے کہا کہ پرویز خٹک وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے اپنے اختیارات کم کرنے کو تیار نہیں تھے، عمران خان کا برطانیہ کے کاؤنٹی کے طرز پر نئے نظام کے قیام کا دعویٰ اسی طرح اخبارات کی فائلوں میں کھو گیا جس طرح ان کے گزشتہ سال اسلام آباد میں دھرنے پورے ملک کو بندکرنے اور حکومت کی تبدیلی کے بارے میں دعوے اخبارات کی فائلوں میں کھوگئے تھے۔
عمران خان نے برطانیہ میں تعلیم حاصل کی۔ وہ برطانیہ میں خواتین کی ہر سطح پر نمایندگی کے تصور پر زور دیتے رہے ہیں۔ ان کے گرد جمع ہونے والی اعلیٰ تعلیم یافتہ خواتین بھی اس تصورکی تائید کرتی رہی ہیں مگر تحریکِ انصاف کے بلدیاتی انتخابات میں خواتین کو پولنگ اسٹیشنوں تک لانے اور ان کے ووٹ کے حق کے تحفظ کے لیے کچھ نہیں کیا۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ عمران خان اپنی اتحادی جماعت جماعتِ اسلامی کی طرح خواتین کے بارے میں دہرے رویے کا شکار ہیں۔
وہ شہروں میں جلسے جلوسوں میں خواتین کی شرکت کو بہتر محسوس کرتے ہیں مگر کے پی کے رجعت پسندماحول کو تبدیل کرنے اور خواتین کو ووٹ کے حق کے استعمال کے تحفظ کے لیے کچھ نہیں کرتے۔ یہی وجہ ہے کہ اس دفعہ پھر بلدیاتی انتخابات میں خواتین کے ووٹ ڈالنے کی شرح انتہائی محدود رہی۔
تحریکِ انصاف کے پالیسی ساز اداروں میں موجود دانش وروں نے اس حقیقت کو محسوس نہیں کیا کہ ایک ووٹر کا 6بیلٹ پیپر بھرنا مشکل اور سنجیدہ عمل ہے۔ اس عمل کا کوئی متبادل طریقہ کار دستیاب ہونا ضروری ہے۔
اخبارات میں شایع ہونے والی رپورٹوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ بہت سی خواتین اس سنجیدہ نظام کی بناء پر طویل قطاروں سے تنگ آ کر اپنا ووٹ کا حق استعمال نہیں کرسکیں اور رجعت پسند مردوں کو خواتین کو گھروں میں بند کرنے کے مواقعے ملے۔ وفاقی اور صوبائی حکومتیں بلدیاتی انتخابات کے حق میں نہیں ہیں ،جس کے نتیجے میں سپریم کورٹ کو مداخلت کرنی پڑی۔ سپریم کورٹ کے تین چیف جسٹس صاحبان بلدیاتی انتخابات سے متعلق مقدمات کی سماعت کرتے رہے۔ ہر دفعہ ہر حکومت نے مختلف نوعیت کے عذر پیش کیے، آخرکار موجودہ چیف جسٹس نے انتخابات کے لیے حتمی تاریخ مقررکردی۔ انتخاب کے وقت شدید گرمی کے موسم کو مدنظر نہیں رکھا گیا۔
اگر کے پی کے حکومت ازخود انتخابات کی تاریخ کو طے کر دیتی تو پھر سپریم کورٹ کو حتمی تاریخ طے نہ کرنی پڑتی۔ اسی طرح صوبائی حکومتیں مختلف نوعیت کی وجوہات بیان کرکے انتخابات ملتوی کراتی رہیں۔ اسی بناء پر سپریم کورٹ کو مئی کے مہینے میں انتخابات نہ کرانے کے مسئلے پر قائل نہ کرسکیں۔ ایک دفعہ پھر الیکشن کمیشن کی نااہلی کا سوال ابھر کر سامنے آیا۔ الیکشن کمیشن کا نیا ڈھانچہ 18ویں ترمیم میں طے ہوا۔
کمیشن مکمل طور پر خودمختار تو ہوا مگر چیف الیکشن کمشنر اورکمیشن کے اراکین کے اختیارات مساوی ہونے کی بناء پر اس کی فعالیت کا معاملہ موجود رہا۔ انتخابی عملے کی تربیت جیسے اہم معاملات پر عدم توجہ کی بناء پر انتخابی عمل متاثر ہوا۔ تحریکِ انصاف کی اتحادی جماعتِ اسلامی نے پشاور کے انتخابات کو مسترد کردیا۔
انتخابی عمل کی نگرانی کرنے والی غیر سیاسی تنظیم فافن نے اپنی ابتدائی رپورٹ میں انتخابی بدعنوانی، انتظامیہ کی جانبداری اور دیگر بہت سے واقعات اپنی رپورٹ میں شامل کیے ہیں۔ ایسا محسو س ہوتا ہے کہ تحریکِ انصاف کی حکومت شفاف انتخابات کے انعقاد میں ناکام رہی۔ اب کیا ان انتخابی دھاندلیوں اور بے ضابطگیوں کی تحقیقات کے لیے کسی جوڈیشل کمیشن کا قیام ضروری ہوگا یا عمران خان خود ہی اپنی حکومت کی نااہلی کو تسلیم کرلیں گے؟