جنرل راحیل شریف کا کشمیر پر دو ٹوک بیان

پاکستان اور بھارت کے کشیدہ تعلقات میں مسئلہ کشمیر کو ایک بار پھر مرکزی اہمیت حاصل ہو گئی ہے

پاک فوج دشمن کی ہر سازش کا جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہے لیکن دشمن کو شکست دینے کے لیے پوری قوم کو متحد ہونا پڑے گا۔ فوٹو فائل

BHAKKAR:
پاکستان اور بھارت کے کشیدہ تعلقات میں مسئلہ کشمیر کو ایک بار پھر مرکزی اہمیت حاصل ہو گئی ہے جب پار فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے نئی دہلی حکومت کو یاددہانی کرائی ہے کہ کشمیر پاکستان کا جزو لاینفک ہے۔

پاک فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے اس خیال کا اظہار بھارت کی طرف سے پاک چین اقتصادی راہداری (سی پی ای سی) اور گلگت بلتستان میں آیندہ کرائے جانے والے انتخابات پر اعتراض کے جواب میں کیا ہے۔ اسلام آباد کی نیشنل ڈیفنس یونی ورسٹی میں ایک دفاعی کورس کے شرکا سے گزشتہ روز خطاب کرتے ہوئے جنرل راحیل شریف نے کہا کہ کشمیر پاکستان کے نا مکمل ایجنڈے کا بنیادی حصہ ہے لہذا کشمیر کو پاکستان سے کسی صورت بھی الگ نہیں کیا جا سکتا۔

واضح رہے پاکستان اور بھارت کے درمیان جامع مذاکرات کا سلسلہ جنوری 2013 ء سے منقطع ہے جب کنٹرول لائن اور ورکنگ باونڈری پر گولہ باری کا تبادلہ ہوا۔ چیف آف آرمی اسٹاف نے مزید کہا کہ پاکستان پر پراکسی وار کا الزام قطعاً بے بنیاد ہے کیونکہ پاکستان نے کسی کے خلاف پراکسی وار لڑی ہے اور نہ کسی کو پاکستان کے خلاف پراکسی وار لڑنے دینگے۔ آرمی چیف نے کہا کہ ہم علاقے میں امن و استحکام کی خواہش رکھتے ہیں اور خطے میں امن کے لیے کشمیر کے تنازع کا اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیریوں کی خواہشات کے مطابق منصفانہ حل چاہتے ہیں تا کہ خطے میں پائیدار امن قائم ہو سکے۔ بھارت کی طرف سے پہلے پاک چین اقتصادی رہداری پر اعتراض آیا پھر گلگت بلتستان میں8 جون کو ہونے والے مجوزہ انتخابات پر بھی ادھر سے اعتراض آ گیا۔


بھارت کی خاتون وزیر خارجہ سشما سوراج کا کہنا تھا کہ آزاد کشمیر ایک متنازعہ علاقہ ہے اس لیے بھارت کو وہاں سے اقتصادی راہداری کے گزرنے پر اعتراض ہے لیکن مس سشما سوراج یہ اعتراض کرتے ہوئے یہ بات بھول گئیں کہ مقبوضہ کشمیر بھی بعینہ متنازعہ علاقہ ہے جہاں بھارت نے سڑکوں کا ایک جال بچھا رکھا ہے ۔ جنرل راحیل شریف کے بیان کے فوراً بعد سرحد پار سے بھی اس کا جواب آ گیا جب ادھر سے امور خارجہ کے ایک جونیئر وزیر ریٹائرڈ جنرل وی کے سنگھ کو جوابدہی کی ذمے داری سونپی گئی جنہوں نے دعوی کیا کہ پاکستان کا موقف غیر حقیقی ہے جس سے حقیقت حال پر کوئی فرق نہیں پڑنے والا۔

دریں اثنا پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت کی طرف سے بھارت کی خفیہ ایجنسی ''را'' کے خلاف بھی الزامات میں شدت پیدا ہو گئی ہے جس کو پاکستان میں ہونے والی دھشتگردی کی وارداتوں کا ذمے دار قرار دیا جا رہا ہے۔ پاک فوج کے سربراہ جنرل راحیل نے مزید کہا کہ مستقبل کی جنگوں کی نوعیت تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے کیونکہ ہمارے دشمن نیم روایتی تنازعات کو ہوا دینے اور ہمارے ملک کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کے لیے دہشت گردی کی حمایت کر رہے ہیں مگر مسلح افواج اس طرح کے ناپاک عزائم کو ناکام بنانے کی بھرپور صلاحیت اور عزم رکھتی ہیں۔

آرمی چیف نے کہا کہ دشمن نہ صرف تنازعات پیدا کر کے بلکہ پاکستان میں دہشتگردوں کی حمایت کر کے ہمیں آپس میں لڑانا اور ملک کو غیر مستحکم کرنا چاہتا ہے۔ یہ بات بالکل ٹھیک ہے' بلاشبہ پاک فوج دشمن کی ہر سازش کا جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہے لیکن دشمن کو شکست دینے کے لیے پوری قوم کو متحد ہونا پڑے گا۔
Load Next Story