قومی اتحاد ہی روشن پاکستان کا ضامن ہے
ملک میں جب بھی مارشل لاء لگا اور جمہوریت ڈی ریل ہوئی اس کے ذمے دار بھی سیاستدان اور جمہوری قوتیں ہی ہیں۔
فوج کی جانب سے شروع کیے گئے آپریشن ضرب عضب اور دہشت گردوں کے خلاف منظم کارروائیوں کے بعد ملک میں امن و امان کی صورت حال میں بہتری آئی ہے، فوٹو : پی ایم آفس
وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے جمعرات کو کنونشن سینٹر اسلام آباد میں 45 ارب روپے کی لاگت سے بننے والے راولپنڈی اسلام آباد میٹرو بس منصوبے کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان نے ہمیشہ جمہوری دور میں ہی ترقی کی ہے لہٰذا تمام اداروں کو جمہوریت کا احترام کرنا چاہیے۔
جمہوری دور میں ملک ایٹمی قوت بنا، موٹر ویز بنیں اور اب راولپنڈی اسلام آباد کے شہریوں کے لیے جدید سفری سہولیات کا میٹرو بس منصوبہ دیا گیا، عنقریب لاہور سے کراچی تک اور ہزارہ موٹر وے جلد مکمل ہو جائے گی، ملتان کے بعد کراچی میں بھی میٹرو بس سروس شروع کرنیوالے ہیں، پاک چین اقتصادی راہداری کا آغاز کردیا ہے جو ترجیحی بنیادوں پر مکمل ہوگا، آیندہ تین سال میں بجلی کی قلت کو ختم کر دیا جائے گا، منصوبہ دیکھنے والے حیران نہ ہوں یہ بدلتا پاکستان ہے۔
وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کا یہ کہنا بالکل صائب ہے کہ اگر آئین کی حکمرانی رہے گی تو اس ملک کا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا مگر سوال یہ ہے کہ آئین کی حکمرانی کا نفاذ کون کرے گا۔ اس کی سب سے زیادہ ذمے داری خود حکومت ہی پر عائد ہوتی ہے۔
اگر حکمران خود آئین اور قانون کی پابندی کریں تو ملک میں تمام ادارے بھی اس کی پابندی کرتے ہیں' ملک میں جب بھی مارشل لاء لگا اور جمہوریت ڈی ریل ہوئی اس کے ذمے دار بھی سیاستدان اور جمہوری قوتیں ہی ہیں۔ سیاستدان جمہوریت کا نام لے کر اقتدار میں آتے رہے اور خود ہی جمہوری اصولوں کی خلاف ورزی کرتے رہے جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ملک میں جمہوریت پنپ نہ سکی اور وقفے وقفے سے مارشل لاء کی زنجیروں میں جکڑی جاتی رہی۔ اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ جن ممالک میں جمہوریت ایک تسلسل کے ساتھ چلتی رہی وہاں نہ صرف جمہوری روایات مستحکم ہوئیں بلکہ وہ ترقی کی دوڑ میں بھی تیزی سے آگے نکل رہے ہیں۔
جس کی ایک مثال ہمسایہ ملک بھارت کی ہے جہاں انتخابات کے موقع پر الیکشن کمیشن سب سے زیادہ مضبوط اور طاقتور ادارہ گردانا جاتا ہے' انتخابات بائیو میٹرک سسٹم کے تحت ہوتے اور سیاستدان دھاندلی کا شور مچانے یا احتجاجی تحریک شروع کرنے کی دھمکی دینے کے بجائے انتخابی نتائج کو بخوشی تسلیم کر لیتے ' ہارنے والے سیاستدان جیتنے والوں کے گلے میں پھولوں کے ہار ڈالتے اور جمہوریت کے استحکام کے لیے اپنا مثبت کردار ادا کرتے ہیں۔ ہمارے ہاں جمہوری روایات ابھی تک مضبوط نہیں ہو سکی' نہ الیکشن کمیشن مضبوط ہو سکا اور نہ ایسے انتظامات کیے جا سکے کہ انتخابی نتائج کو شفاف قرار دیا جا سکے۔ حالیہ دنوں میں خیبرپختونخوا میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات میں دھاندلی اور بدانتظامی کے الزامات سے الیکشن کمیشن اور صوبائی حکومت کی کارکردگی سوالیہ نشان بن گئی۔
اگر حکمران حقیقی معنوں میں یہ چاہتے ہیں کہ ملک میں جمہوری تسلسل چلتا رہے اور مارشل لاء کی نوبت نہ آئے تو انھیں آئین اور قانون کی پاسداری کے ساتھ ساتھ انتخابی عمل کو شفاف بنانے کے لیے الیکشن کمیشن کو بااختیار اور بائیو میٹرک سسٹم کا نظام رائج کرنا ہو گا تاکہ کوئی بھی سیاسی گروہ دھاندلی کا شور مچا کر انتخابی نتائج کو سبوتاژ کرنے کی مذمومانہ کوشش نہ کرے۔ اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ موجودہ حکومت ملک کی ترقی کے لیے بڑے بڑے منصوبے تشکیل دے رہی ہے لاہور کے بعد اب راولپنڈی اسلام آباد میں بھی میٹرو بس منصوبے کا آغاز عوام کے لیے جدید سفری سہولتوں کا پیغام لے کر آیا ہے۔
وزیراعظم کا یہ کہنا بجا ہے کہ رکاوٹوں کے باوجود قلیل مدت میں یہ منصوبہ پایہ تکمیل تک پہنچایا ورنہ روایت رہی ہے کہ ایسے منصوبے بیس بیس سال سے زائد عرصے تک مکمل نہیں ہوتے' انھوں نے اعلان کیا کہ ملتان کے بعد کراچی میں بھی میٹرو بس سروس شروع کرنے والے ہیں اور آیندہ تین سال میں بجلی کی قلت کو ختم کر دیا جائے گا ۔ اگر حکومت واقعی آیندہ تین سال میں بجلی کی قلت پر قابو پا لیتی ہے تو واقعی یہ ایک بدلتا ہوا اور روشن پاکستان ہو گا۔ علاوہ ازیں پاک فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے جمعرات کو صدر مملکت کے پارلیمنٹ سے خطاب کے بعد اسپیکر سردار ایاز صادق کی طرف سے مہمانوں کے لیے دی جانے والی ریفرش منٹ کے دوران غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں آنے والے دنوں میں حالات مزید بہتری کی طرف جائیں گے اور امن و امان کی صورت حال میں بھی بہتری آئے گی' بھارت کے دھمکی آمیز رویے سے گھبرانے کی ضرورت نہیں ہم کسی بھی جارحیت سے نمٹنا جانتے ہیں۔
فوج کی جانب سے شروع کیے گئے آپریشن ضرب عضب اور دہشت گردوں کے خلاف منظم کارروائیوں کے بعد ملک میں امن و امان کی صورت حال میں بہتری آئی ہے اور جس جذبے اور عزم سے فوج دہشت گردوں کے خلاف مصروف عمل ہے اس سے یہ امید واثق ہے کہ آنے والے دنوں میں مزید بہتری آئے گی اور وطن عزیز دہشت گردوں سے پاک ہو جائے گا۔ وقت کا تقاضا ہے کہ تمام ملک کی تمام اکائیاں اور ادارے مل کر آگے بڑھیں کیونکہ باہمی تعاون اور اتحاد ہی خوشحال اور روشن پاکستان کی ضمانت ہے۔
جمہوری دور میں ملک ایٹمی قوت بنا، موٹر ویز بنیں اور اب راولپنڈی اسلام آباد کے شہریوں کے لیے جدید سفری سہولیات کا میٹرو بس منصوبہ دیا گیا، عنقریب لاہور سے کراچی تک اور ہزارہ موٹر وے جلد مکمل ہو جائے گی، ملتان کے بعد کراچی میں بھی میٹرو بس سروس شروع کرنیوالے ہیں، پاک چین اقتصادی راہداری کا آغاز کردیا ہے جو ترجیحی بنیادوں پر مکمل ہوگا، آیندہ تین سال میں بجلی کی قلت کو ختم کر دیا جائے گا، منصوبہ دیکھنے والے حیران نہ ہوں یہ بدلتا پاکستان ہے۔
وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کا یہ کہنا بالکل صائب ہے کہ اگر آئین کی حکمرانی رہے گی تو اس ملک کا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا مگر سوال یہ ہے کہ آئین کی حکمرانی کا نفاذ کون کرے گا۔ اس کی سب سے زیادہ ذمے داری خود حکومت ہی پر عائد ہوتی ہے۔
اگر حکمران خود آئین اور قانون کی پابندی کریں تو ملک میں تمام ادارے بھی اس کی پابندی کرتے ہیں' ملک میں جب بھی مارشل لاء لگا اور جمہوریت ڈی ریل ہوئی اس کے ذمے دار بھی سیاستدان اور جمہوری قوتیں ہی ہیں۔ سیاستدان جمہوریت کا نام لے کر اقتدار میں آتے رہے اور خود ہی جمہوری اصولوں کی خلاف ورزی کرتے رہے جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ملک میں جمہوریت پنپ نہ سکی اور وقفے وقفے سے مارشل لاء کی زنجیروں میں جکڑی جاتی رہی۔ اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ جن ممالک میں جمہوریت ایک تسلسل کے ساتھ چلتی رہی وہاں نہ صرف جمہوری روایات مستحکم ہوئیں بلکہ وہ ترقی کی دوڑ میں بھی تیزی سے آگے نکل رہے ہیں۔
جس کی ایک مثال ہمسایہ ملک بھارت کی ہے جہاں انتخابات کے موقع پر الیکشن کمیشن سب سے زیادہ مضبوط اور طاقتور ادارہ گردانا جاتا ہے' انتخابات بائیو میٹرک سسٹم کے تحت ہوتے اور سیاستدان دھاندلی کا شور مچانے یا احتجاجی تحریک شروع کرنے کی دھمکی دینے کے بجائے انتخابی نتائج کو بخوشی تسلیم کر لیتے ' ہارنے والے سیاستدان جیتنے والوں کے گلے میں پھولوں کے ہار ڈالتے اور جمہوریت کے استحکام کے لیے اپنا مثبت کردار ادا کرتے ہیں۔ ہمارے ہاں جمہوری روایات ابھی تک مضبوط نہیں ہو سکی' نہ الیکشن کمیشن مضبوط ہو سکا اور نہ ایسے انتظامات کیے جا سکے کہ انتخابی نتائج کو شفاف قرار دیا جا سکے۔ حالیہ دنوں میں خیبرپختونخوا میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات میں دھاندلی اور بدانتظامی کے الزامات سے الیکشن کمیشن اور صوبائی حکومت کی کارکردگی سوالیہ نشان بن گئی۔
اگر حکمران حقیقی معنوں میں یہ چاہتے ہیں کہ ملک میں جمہوری تسلسل چلتا رہے اور مارشل لاء کی نوبت نہ آئے تو انھیں آئین اور قانون کی پاسداری کے ساتھ ساتھ انتخابی عمل کو شفاف بنانے کے لیے الیکشن کمیشن کو بااختیار اور بائیو میٹرک سسٹم کا نظام رائج کرنا ہو گا تاکہ کوئی بھی سیاسی گروہ دھاندلی کا شور مچا کر انتخابی نتائج کو سبوتاژ کرنے کی مذمومانہ کوشش نہ کرے۔ اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ موجودہ حکومت ملک کی ترقی کے لیے بڑے بڑے منصوبے تشکیل دے رہی ہے لاہور کے بعد اب راولپنڈی اسلام آباد میں بھی میٹرو بس منصوبے کا آغاز عوام کے لیے جدید سفری سہولتوں کا پیغام لے کر آیا ہے۔
وزیراعظم کا یہ کہنا بجا ہے کہ رکاوٹوں کے باوجود قلیل مدت میں یہ منصوبہ پایہ تکمیل تک پہنچایا ورنہ روایت رہی ہے کہ ایسے منصوبے بیس بیس سال سے زائد عرصے تک مکمل نہیں ہوتے' انھوں نے اعلان کیا کہ ملتان کے بعد کراچی میں بھی میٹرو بس سروس شروع کرنے والے ہیں اور آیندہ تین سال میں بجلی کی قلت کو ختم کر دیا جائے گا ۔ اگر حکومت واقعی آیندہ تین سال میں بجلی کی قلت پر قابو پا لیتی ہے تو واقعی یہ ایک بدلتا ہوا اور روشن پاکستان ہو گا۔ علاوہ ازیں پاک فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے جمعرات کو صدر مملکت کے پارلیمنٹ سے خطاب کے بعد اسپیکر سردار ایاز صادق کی طرف سے مہمانوں کے لیے دی جانے والی ریفرش منٹ کے دوران غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں آنے والے دنوں میں حالات مزید بہتری کی طرف جائیں گے اور امن و امان کی صورت حال میں بھی بہتری آئے گی' بھارت کے دھمکی آمیز رویے سے گھبرانے کی ضرورت نہیں ہم کسی بھی جارحیت سے نمٹنا جانتے ہیں۔
فوج کی جانب سے شروع کیے گئے آپریشن ضرب عضب اور دہشت گردوں کے خلاف منظم کارروائیوں کے بعد ملک میں امن و امان کی صورت حال میں بہتری آئی ہے اور جس جذبے اور عزم سے فوج دہشت گردوں کے خلاف مصروف عمل ہے اس سے یہ امید واثق ہے کہ آنے والے دنوں میں مزید بہتری آئے گی اور وطن عزیز دہشت گردوں سے پاک ہو جائے گا۔ وقت کا تقاضا ہے کہ تمام ملک کی تمام اکائیاں اور ادارے مل کر آگے بڑھیں کیونکہ باہمی تعاون اور اتحاد ہی خوشحال اور روشن پاکستان کی ضمانت ہے۔