رواں مالی سال کا اقتصادی سروے

پاکستان ایک زرعی ملک ہے لیکن ہماری پالیسی ساز زراعت اور دیہی معاشرت سے کماحقہ آگاہی نہیں رکھتے

حکومت نے مشکل حالات میں بہتری کے لیے کوششیں کی ہیں اور امید ہے کہ مالی سال 2015-16 میں جو اہداف مقرر کیے گئے ہیں وہ حاصل کر لیے جائیں گے۔ فوٹو: فائل

وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر اسحاق ڈار نے مالی سال 2014-15ء کا اقتصادی سروے جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ رواں مالی سال کے دوران مہنگائی میں کمی ہوئی تاہم زیادہ تر معاشی اہداف حاصل نہیں کیے جا سکے۔ معاشی اہداف کے حاصل نہ ہو سکنے کا اعتراف تو یقینا حوصلے کی بات ہے مگر مہنگائی کی شرح میں کمی کا دعوی بازار کی عمومی صورتحال سے مطابقت نہیں رکھتا۔

وزیر خزانہ نے بتایا کہ اسلام آباد میں دھرنوں اورملک میں آنے والے سیلاب کے باعث جی ڈی پی کی شرح نمو طے شدہ ہدف سے کم رہی۔ زراعت، صنعت اور خدمات کے شعبوں کے لیے شرح نمو کے جو اہداف مقرر کیے گئے تھے وہ بھی پورے نہ ہو سکے۔ پاکستان ایک زرعی ملک ہے لیکن ہماری پالیسی ساز زراعت اور دیہی معاشرت سے کماحقہ آگاہی نہیں رکھتے۔ انھیں یہ پتہ نہیں کہ چھوٹے کاشتکاروں کو فصل اگانے اور پھر اس کی فروخت کے لیے کن کٹھن مراحل سے نبرد آزما ہونا پڑتا ہے۔


وزیر خزانہ نے اپنی اقتصادی رپورٹ میں اعتراف کیا کہ پانچ بڑی ملکی فصلوں میں سے تین کی شرح پیداوار میں کمی واقع ہوئی البتہ لائیو اسٹاک شعبہ کی شرح نمو 4.1 فیصد رہی جو ان کے بقول گزشتہ دس سال کے دوران کی سب سے زیادہ شرح ہے۔ مینوفیکچرنگ کے شعبے کی ترقی کی شرح گزشتہ مالی سال کی نسبت کم رہی ہے البتہ انھوں نے اسمال اینڈ میڈیم مینوفیکچرنگ کے ذیلی شعبہ کی ترقی آٹھ فیصد سے زیادہ بتائی اور اس کو قابل فخر قرار دیا۔ خدمات کے شعبہ کی ترقی پانچ فیصد رہی جو مقرر کردہ ہدف کے قریب تر ہے۔

تنخواہوں میں اضافے اور آپریشن ضرب عضب کے اخراجات میں اضافہ کے باوجود خدمات کے شعبہ کی شرح نمو سب سے زیادہ 9.4 فیصد بتائی گئی جب کہ فنانس اور انشورنس کے شعبہ نے 6.2 فیصد کی شرح سے ترقی کی۔ اسی طرح ٹرانسپورٹ، اسٹوریج اور کمیونیکیشن کے شعبوں کی کارکردگی میں 4.2 فیصد کا اضافہ ہوا۔ وزیر خزانہ نے بتایا مالیاتی ترقی کے حوالے سے حکومتی محصولات میں اضافے اور جاری اخراجات پر قابو پانے سے مالیاتی خسارے کو کم کیا گیا ہے جو گزشتہ مالی سال کے دوران جی ڈی پی کے ساڑھے پانچ فیصد تھا جسے رواں مالی سال کے دوران اس پانچ فیصد سے بھی قدرے کم کر دیا گیا ہے۔

اقتصادی جائزے میں بیروزگاری اور غربت کی شرح کے ذکر سے بھی گریز کیا گیا۔ گزشتہ سال بیروزگار نوجوانوں کی تعداد چھتیس لاکھ کے لگ بھگ بتائی گئی تھی لیکن رواں سال کے اقتصادی سروے میں بے روزگاری کی شرح کا ذکر کیا ہے اور نہ ہی غربت کی شرح کو اقتصادی سروے کا حصہ بنایا گیا۔ بہر حال حکومت نے مشکل حالات میں بہتری کے لیے کوششیں کی ہیں اور امید ہے کہ مالی سال 2015-16 میں جو اہداف مقرر کیے گئے ہیں وہ حاصل کر لیے جائیں گے۔
Load Next Story