سالانہ وفاقی میزانیہ اور اس کے اہداف

نئے مالی سال کے لیے ٹیکس وصولیوں کا ہدف کا 3103.7 ارب، نان ٹیکس ریونیو کا ہدف 895 ارب مقرر کیا گیا ہے

افراطِ زر میں اضافہ نہ ہونے دیا جائے اور مہنگائی کی شرح کو کم رکھا جائے تو شاید اس بجٹ میں مقرر کردہ اہداف کو حاصل کر لیا جائے۔ فوٹو : پی آئی ڈی

وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر اسحاق ڈار نے گزشتہ روز قومی اسمبلی میں نئے مالی سال 2015-16ء کے لیے 43 کھرب 13 ارب روپے حجم کا بجٹ پیش کر دیا جو اختتام پذیر بجٹ کے مقابلے میں9 فیصد زائد ہے۔ تاہم اس میں 1625 ارب روپے کا خسارہ ظاہر کیا گیا ہے۔ سالانہ میزانیے میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن میں ساڑھے7 فیصد جب کہ میڈیکل الاؤنس میں 25 فیصد اضافہ اور گزشتہ 3 سال کا ایڈہاک ریلیف بنیادی تنخواہ میں ضم کر دیا گیا ہے۔

تعمیراتی شعبے میں ترقی کے لیے ریت، بجری، اینٹیں اور زرعی مشینری سستی کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ نئے مالی سال کے لیے ٹیکس وصولیوں کا ہدف کا 3103.7 ارب، نان ٹیکس ریونیو کا ہدف 895 ارب مقرر کیا گیا ہے۔ کم سے کم تنخواہ 12سے بڑھا کر 13 ہزار روپے کر دی گئی ہے۔ جہاں تک کم سے کم تنخواہ کا تعلق ہے تو حکومت کو اس کا اطلاق نجی شعبے پر بھی کرانا چاہیے جہاں مزدوروں کی حالت ناگفتہ بہ ہے، ان کے تو ڈیوٹی اوقات بھی بہت طویل ہوتے ہیں۔

وزیر خزانہ نے بتایا کہ تنخواہ، پنشن اور الاؤنس میں اضافے پر 46 ارب روپے کا اضافی خرچ آئے گا۔ پرائیویٹ سیکریٹریوں اور اسسٹنٹ پرائیویٹ سیکریٹریوں کی خصوصی تنخواہ میں 100 فیصد اضافہ کے بعد اسے دگنا کر دیا گیا ہے۔ ڈرائیوروں اور اردلیوں پر بھی تھوڑی نظر کرم کی گئی ہے۔ خصوصی اضافی پنشن کو بھی بڑھا کر 12 ہزار روپے ماہانہ کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

یکم جولائی سے وفاقی حکومت میں کام کرنے والے پی ایچ ڈی افسروں اور ملازمین کو 10 ہزار روپے الاؤنس دیا جائے گا۔ حکومت اگر سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں زیادہ اضافہ کرتی تو بہتر تھا۔ حکومت کو اس حوالے سے غور کرنا چاہیے۔ ساڑھے 7 فیصد اضافہ انتہائی کم ہے جب کہ مہنگائی کی شرح بہت زیادہ ہے۔ ریت، بجری اور اینٹیں سستی ہونے سے تعمیراتی شعبے میں جاری سرگرمیاں مزید تیز ہوں گی جس سے یومیہ اجرت پر کام کرنے والے مزدوروں کی مانگ میں اضافہ ہو گا۔اس کے ساتھ ساتھ سریے، رنگ وروغن بنانے والوں اور لکڑی کا کام کرنے والوں کے کاروبار میں بھی مثبت تبدیلی آئے گی۔

وفاقی بجٹ میں رائس ملز پر ٹیکس میں چھوٹ دے دی گئی ہے جس سے چاول سستے ہونے کا امکان ہے، وفاقی مالیاتی وصولیات میں صوبائی حصے کا تخمینہ 1849.4 ارب روپے ہے۔ ترقیاتی اخراجات کے لیے969 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ قدرتی گیس پر رائلٹی سے صوبوں کو ساڑھے 39 ارب روپے دیے جائیں گے۔ قرضہ جات کی واپسی کے لیے 316.373 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ وزیر خزانہ نے بتایا کہ رواں سال اقتصادی ترقی کی شرح 4.24 فیصد رہی جو گزشتہ7 سال میں سب سے زیادہ ہے جب افراط زر کی شرح11سال کی کم ترین سطح پر آ گئی ہے۔

مالی خسارے کو 5 فیصد پر محدود کر دیا، مشینری کی درآمد میں 10.3 فیصد اضافہ ہوا، شرح سود میں کمی سے سرمایہ کاری میں اضافہ ہوا اور اسٹاک ایکسچینج میں بہتری آئی۔ زرمبادلہ کے ذخائر17 ارب ڈالر تک پہنچ گئے۔ انھوں نے خوشخبری سنائی کہ 2017ء تک سسٹم میں 10 ہزار میگاواٹ بجلی شامل ہو جائے گی جس سے لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ ہو جائے گا۔ حکومت دیہی طلبا کے لیے 12 کروڑ 50 لاکھ روپے کے تعلیمی وظائف دے گی۔ 16 برس تعلیم حاصل کرنے والے بیروزگاروں کے لیے 50 ہزار طلبا کو سرکاری محکموں میں انٹرن شپ کے دوران ماہانہ 12 ہزار روپے معاوضہ دیا جائے گا۔

حکومت پچھلے مالی سال کے اہداف حاصل نہیں کر سکی، اب دیکھنا یہ ہے کہ وہ نئے میزانیے میں مقرر کردہ اہداف کو کیسے حاصل کرتی ہے۔ بجٹ میں ظاہر کیے گئے خسارے کو کیسے پورا کرتی ہے اور ترقی کے عمل کو کیسے تیز کرتی ہے تاکہ اگلے مالی سال کے بجٹ کو خسارے سے پاک کیا جا سکے۔ زرعی، صنعتی اور خدمات کے شعبوں کی ترقی کے اہداف مقرر کر دیے گئے ہیں۔ چھوٹے کسانوں کو قرضے فراہم کرنے کے لیے گارنٹی اسکیم کے تحت حکومت اسٹیٹ بینک کے ساتھ مل کر کمرشل بینکوں اور مائیکرو فنانس بینکوں کو زرعی قرضوں پر 50 فیصد نقصان کی شراکت داری کی ضمانت فراہم کرے گی۔ پانچ ایکڑ نہری اور دس ایکڑ بارانی ملکیت والے تین لاکھ کسان گھرانوں کو ایک لاکھ روپے تک کے قرضے ملیں گے۔ زرعی قرضوں میں 20 فیصد اضافہ کر دیا گیا ہے۔

ہاؤسنگ سیکٹر کی ترقی کے لیے گھروں یا عمارات کی تعمیر پر نافذ کم سے کم ٹیکس کو 30 جون 2018ء تک استثنیٰ دیا جا رہا ہے۔ زرعی شعبہ ہمیشہ نظرانداز ہوتا ہے، حالیہ بجٹ میں زرعی مشینری سستی کرنے سے زرعی شعبے کو فائدہ پہنچے گا۔ پالیسی سازوں کے پیش نظر یہ بات رہنی چاہیے کہ زرعی شعبے میں دس سے بارہ ایکڑ ملکیت رکھنے والا کسان انتہائی مشکل حالات سے دوچار ہے۔ ایک جانب زرعی مداخل مہنگے ہیں، تو دوسری جانب مارکیٹ میکنزم پر اس کا کوئی کنٹرول نہیں ہے۔ بعض اوقات تو ایسے حالات پیدا ہو جاتے ہیں کہ وہ اپنی پیداواری لاگت بھی پوری کرنے کے قابل نہیں رہتا۔ حکومت کو اپنی معاشی پالیسیوں میں چھوٹے کسان کی فلاح کے لیے اقدامات کرنے چاہئیں اور بڑے زمینداروں اور جاگیرداروں کو ٹیکس نیٹ میں لایا جانا چاہیے۔


سالانہ میزانیے میں گاڑیوں کی ٹرانسفر فیس اور ٹوکن پر ودہولڈنگ ٹیکس میں کمی کی گئی ہے۔ اس سے نئی گاڑی رجسٹر کرانے والوں کو بھی فائدہ ہو گا اور گاڑی بیچنے والوں کو بھی۔ ہوائی اور شمسی توانائی پیدا کرنے کی مشینری، آلات اور پلانٹ تیار کرنے والی صنعتوں کو انکم ٹیکس سے پانچ سال تک چھوٹ ہو گی تاہم مختلف ٹیکسوں کے ذریعے سگریٹ، موبائل فون، کھیلوں کا سامان، ٹیکسٹائل مصنوعات، مشروبات، فلیورڈ دودھ، دہی، مکھن و دیگر ڈیری مصنوعات مہنگی ہو جائیں گی۔ کھیلوں کا سامان، ٹیکسٹائل مصنوعات، گارمنٹس بھی مہنگی ہو جائیں گی۔ چھوٹے تاجروں پر بھی صفر اعشاریہ ایک فیصد ٹیکس عائد کیا گیا ہے جس کا بوجھ بھی عوام پر پڑے گا۔

موبائل فونز پر سیلز ٹیکس کی شرح دوگنی کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ البتہ موبائل فونز پر ریگولیٹری ڈیوٹی ختم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اقتصادی تجزیہ نگاروں کے مطابق موبائل فونز کی درآمد سے ریونیو حاصل کرنے کے بجائے اگر موبائل فونز کی لوکل مینوفیکچرنک کا منصوبہ بنایا جاتا تو حکومتی آمدنی میں کہیں زیادہ اضافہ ہو سکتا تھا۔ منرل واٹر پر ٹیکس 9 فیصد سے بڑھاکر12 فیصد کر دیا گیا ہے۔

نئے بجٹ میں بینکوں سے رقوم نکلوانے پر ودہولڈنگ ٹیکس کی شرح بڑھا کر 06 فیصد، ڈیویڈنڈ پر عائد ٹیکس کی شرح 10 فیصد سے بڑھا کر ساڑھے 12 فیصد، بجلی کے گھریلو صارفین کے لیے ودہولڈنگ ٹیکس کے اطلاق کے لیے مقررکردہ سالانہ بل کی حد ایک لاکھ سے کم کر کے 75 ہزار روپے کر دی گئی ہے۔ ایف بی آر سے ایس آر اوز اور رعایتیں جاری کرنے کا اختیار واپس لے لیا گیا ہے اور وفاقی حکومت کے ایسے اختیارات کو مخصوص حالات تک محدود کر دیا گیا ہے۔

781 ارب روپے کا دفاعی بجٹ اسٹرٹیجک فورسز اور سول آرمڈ فورسز سمیت تمام مسلح افواج کے لیے ہے۔ اگر بری فوج کے مجموعی دفاعی بجٹ میں حصے کا موازنہ کیا جائے تو ظاہر ہوتا ہے کہ فوج کا مجموعی قومی بجٹ (4704 ارب) میں حصہ محض 7.9 فیصد (371 ارب روپے) ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ کے باوجود درحقیقت دفاعی بجٹ میں قومی بجٹ میں اضافے کے لحاظ سے کمی ہوئی ہے۔ ادھر بھارت کا فوجی بجٹ 11.8 ارب ڈالر سے بڑھا کر 38.35 ارب ڈالر کر دیا گیا ہے۔ ڈالروں میں پاکستان کا دفاعی بجٹ صرف 3.25 ارب ہے۔ بھارتی آرمی کا بجٹ پاکستان کے مقابلے میں 6 گنا زیادہ ہے۔

آئندہ مالی سال کے سرکاری شعبہ کے ترقیاتی پروگرام (پی ایس ڈی پی) کا مجموعی حجم 15 کھرب 14 ارب روپے ہے جس میں وفاقی ترقیاتی حجم 7 کھرب روپے اور صوبائی سالانہ ترقیاتی پروگرام کا حصہ 8 کھرب 13 ارب 71 کروڑ روپے ہے جب کہ غیر ملکی امداد کا حصہ 2 کھرب 31 ارب 75 کروڑ 37 لاکھ روپے ہے۔ ایرا کے منصوبہ جات کے لیے 7 ارب روپے کا تخمینہ ہے۔

دہشت گردی کے خلاف جنگ سے متاثرہ صوبہ خیبرپختونخوا کے لیے بجٹ میں خصوصی ریلیف کا اعلان کیا گیا ہے۔ وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا کہ خیبر پختونخوا کی معیشت کو ازسرنو اپنے پیروں پر کھڑا کرنے کے لیے کے پی کے میں لگائے جانے والے تمام نئے صنعتی یونٹس کے لیے پانچ سال کی انکم ٹیکس ہالیڈے ہو گی بشرطیکہ یہ یونٹ یکم جولائی 2015ء سے 30 جون 2018ء کے درمیان لگائے جائیں۔ خیبرپختونخوا سے افغانستان کو برآمدات میں سہولیات فراہم کرنے کی خاطر پھلوں سبزیوں، ڈیری پراڈکٹس اور گوشت کی برآمدات کو یکم جولائی 2015ء سے ڈالر کے بجائے پاکستانی روپے میں کرنے کی اجازت دی جا رہی ہے۔

پاک چین اقتصادی راہداری کے لیے سرکاری شعبہ کے ترقیاتی پروگرام کے تحت 58 ارب10 کروڑ روپے کا بجٹ مختص کیا ہے جب کہ اس منصوبے کے تحفظ کے سلسلے میں تشکیل کردہ ''اسپیشل سیکیورٹی فورس'' کے لیے 3.5ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ وفاقی بجٹ میں آٹے، سوجی اور میدہ کی فروخت پر فلور ملنگ انڈسٹری کو ٹرن اوور ٹیکس کی مد میں دی گئی 80 فیصد رعایت بھی ختم کر دی گئی ہے جس پر فلور ملز ایسوسی ایشن نے خبردار کیا ہے کہ 20 کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت میں 15 روپے تک اضافہ ہو سکتا ہے جب کہ فلور ملز کے منافع کی شرح بہت کم ہے۔

حکومت نے مشکل حالات کے باوجود متوازن بجٹ پیش کرنے کی کوشش کی ہے، اب ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت منی بجٹ نہ آنے دے۔ مارکیٹ میکنزم پر کنٹرول کرنا انتہائی ضروری ہے۔

افراطِ زر میں اضافہ نہ ہونے دیا جائے اور مہنگائی کی شرح کو کم رکھا جائے تو شاید اس بجٹ میں مقرر کردہ اہداف کو حاصل کر لیا جائے لیکن یہ حقیقت بھی ہے کہ دودھ، دہی وغیرہ کی مہنگائی کا اثر براہ راست عام آدمی پر پڑے گا۔ ان ڈائریکٹ ٹیکسوں کا بوجھ بھی عام آدمی پر پڑتا ہے۔ خدشہ ہے کہ اب مہنگائی کا نیا ریلا آئے گا۔ ادھر رمضان المبارک کی آمد آمد ہے، ان ایام میں ویسے ہی مہنگائی بڑھ جاتی ہے۔ بہرحال حکومت اگر سالانہ میزانیے میں مقرر کردہ اہداف کو حاصل کرنے کے لیے نیک نیتی اور ایمانداری سے کوشش کرتی ہے تو اسے بہتر بجٹ قرار دیا جاسکتا ہے۔
Load Next Story