سب بھکاری ہیں پر مانتے نہیں

آپ کو تو پتہ ہی ہے کہ ہم بھی اب اس مرحلے میں ہیں جہاں انسان کے سارے قویٰ مضمحل ہو جاتے ہیں

barq@email.com

ہمارے اقوال زرین بنانے اور حکایات سنانے والے بزرگوں کے پاس ایک گِھسی پٹی حکایت ہے کہ مچھر نے انسان کو کاٹا، مچھر کو چھپکلی نگل گئی، چھپکلی کو بلی نے کھا لیا، بلی کو کتے نے مار ڈالا، کتے کو ایک آدمی نے مارا اور یہ وہی آدمی تھا جسے مچھر نے کاٹا تھا، اسی برانڈ کی کچھ اور کہانیاں بھی ہیں کیونکہ بزرگ لوگ یہ جتانا چاہتے تھے کہ سب کا گزارہ ایک دوسرے پر چلتا ہے۔

آپ کو تو پتہ ہی ہے کہ ہم بھی اب اس مرحلے میں ہیں جہاں انسان کے سارے قویٰ مضمحل ہو جاتے ہیں، ساری قوت سمٹ کر زبان میں آ جاتی ہے اور وہ اقوال زرین ارشاد کرنے کا کارخانہ کھول لیتا ہے۔ سو ہم بھی اقوال زرین کی دکان کھولتے ہیں اور ہمارا پہلا قول زرین جو شاید آخری بھی ثابت ہو اگر کسی بھی بھکاری کے ہاتھ لگے تو ۔۔۔۔ اور وہ قول زرین یہ ہے کہ اس دنیا میں ایسا کوئی انسان نہیں جو بھکاری نہ ہو اور کسی کو بھیک نہ دیتا ہو، دراصل اقوال زرین کا یہ کام ہم نے بہت پہلے شروع کیا ہوا تھا چنانچہ ہمارے پرانے اقوال زرین کے مطابق ۔۔۔۔۔

ہر سڑے پاگل دے خو خکارہ نہ دے
ہر یو سڑے غل دے خو موقع غواڑی

یعنی ہر کوئی پاگل ہے لیکن کسی کو پتہ نہیں اور ہر کوئی چور ہے صرف موقع چاہیے، ایسے اور بھی بہت سارے تھے جیسے اگر آج بھی کوئی پاگل نہیں ہوتا تو وہ پاگل ہے، کدو کو سبزی اور لیڈر کو آدمی سمجھنے کی غلطی نہیں کرنی چاہیے لیکن ہم اس تلاش میں رہے کہ کوئی بے مثل و بے مثال بین الاقوامی اور تاریخی قسم کا قول زرین لانچ کیا جائے، سو آج یہ آرزو بھی پوری ہو گئی۔

سب کے سب بھکاری ہیں اور سب کے سب بھیک دیتے ہیں اور اس کے لیے ہم موجودہ بلدیاتی انتخابات کے ممنون ہیں حالانکہ انتخابات کا یہ سلسلہ بلکہ ''سلسلے'' مدتوں سے چل رہے تھے لیکن ''گیان'' کان بھنڈار ہم نے ان میں اب دیکھا ہے یعنی لال شربت کا مزہ تو اب آیا، دیکھیں نا ، درخت بھی ایک زمانے سے تھے ان کے نیچے لوگ اٹھتے بیٹھتے بھی تھے لیکن ''گیان'' کا وہ ایک لمحہ نایاب صرف شہزادہ سدھارتھ عرف گوتم بدھ کو ملنا تھا اور مل گیا، کچھ ایسا ہی ہمارے ساتھ ہوا، سیدھے راستے جا رہے تھے لیکن ''گیان'' کا وہ لمحہ مقرر تھا ایک جگہ بڑا جمگھٹا ہو رہا تھا، دیکھا تو اس گھر کا پدی سا مالک تھا اور ایک بہت ہی بلند و بالا، اجلا دھلا دھلایا شخص اسے بار بار گلے لگا رہا تھا۔

ہم پہچان گئے یہ گاؤں کا ایک بہت بڑا سر پر غرور تھا لیکن آج وہ ''استخوان'' محبت سے چور تھا، نیا نیا مال دار ہوا تھا کیونکہ اسے ایک لیڈر کی کیٹرنگ میں جگہ مل گئی جو خود بھی ''چمچ الملک'' تھا لیکن ایک اور چمچ الملک کا چمچ الحق تھا اور وہ چمچ الحق ایک اور چمچ الزمان،مطلب یہ کہ ایک پورا ''دیگیہ چمچیہ'' تھا۔ وہ ''سر پر غرور'' یوں جھکا ہوا تھا جیسے اگر اس پدی اور کسمپرسی نے قبول نہیں کیا تو دہلیز پر گر کر ماتھا اس وقت تک رگڑتا رہے گا جب تک ''سر پر غرور'' ۔۔۔ یا دہلیز میں سے کوئی گھس نہیں جاتا۔

مذکورہ سرِ پُر غرور بہت کم عرصے میں ترقی کر کے پیش سے پشم خان بنا تھا ور جب وہ اپنی عظیم الشان رہائش گاہ سے لمبی نئی اور چمک دار گاڑی میں بیٹھ کر گزرتا تھا تو لوگوں پر یوں حقارت کی نگاہ ڈالتا تھا جیسے اس کی گاڑی لوگوں پر گرد و غبار اڑا کر ڈالتی تھی اور آج وہ اس حقیر زمین پر پیدل کھڑا ایک ہندسے کے آگے کشکول لیے کھڑا تھا۔ اتنے سارے اور بڑے بڑے ''نوٹ'' ایک حقیر ووٹ کے آگے جھکے ہوئے تھے۔


سچ کہا ہے کسی نے کہ کبھی اماں کی باری اور کبھی ابا کی باری، اونٹ ایک ایسے پہاڑ کے نیچے آ گیا تھا جو پہاڑ کیا کنکر بھی نہ تھا، غالباً گدھے کو اپنی ولدیت میں شامل کرنا اسے کہتے ہیں اور گیان کے اس لمحے نے ہمیں سمجھا دیا کہ ہر کوئی ہے پر مانتا نہیں یا جانتا نہیں، زمین آسمان کی بھکاری ہے آسمان بادل کا محتاج ہے بادل سمندر کا سوالی ہے، سمندر دھوپ کے بغیر کچھ نہیں اور سورج کہکشاں کے گرد گھومتا ہے، کہکشاں کائنات کے آگے اور پھر یہ سب نہ جانے کس کے آگے سجدہ ریز ہیں پس ثابت ہوا کہ وہی ایک ہے جو محتاج نہیں باقی سب اس کے سوالی ہیں۔

نقش فریادی ہے کس کی شوخیٔ تحریر کا
کاغذی ہے پیرہن ہر پیکر تصویر کا

جب ایک راز کھلتا ہے تو پھر راز ہی راز کھلتے چلے جاتے ہیں، اچھا تو یہ طرح طرح کے کارڈ، انکم سپورٹ اسکیمیں، روزگار اسکیمیں، اصلاحی و فلاحی تماشے، ترقیاتی پنترے، صرف اسی لیے ہیں کہ ہر کوئی کسی نہ کسی طرح بھکاری بنے تا کہ کل جب یہ بھکاری کے پاس کشکول لے کر آئیں تو بھکاری را بھکاری می شناسد، ارے ہاں کہانیوں کو تو ہم بھول گئے اس موجودہ بلدیاتی بھیک میں ہمارے ایک رشتہ دار بھی کشکول گلے میں ڈال کر در در پھرنے لگا تو ہم نے اسے ناکام کوشش کرتے ہوئے روکنا چاہا کہ خدا نے اتنا کچھ دے رکھا ہے تو پھر کیوں گلی گلی ہر ایرے غیرے نتھو خیرے سے بھیک مانگنے نکل رہے ہو۔

اس نے تو آئیں بائیں شائیں یعنی عوام کی خدمت، کار ثواب اور نہ جانے کیا کیا طومار اپنے گلے میں ڈالتے ہوئے انکار کر دیا لیکن ایک اور دانا کے راز نے جب ہمارا مکالمہ سنا تو ہمیں ایک طرف لے جا کر بتایا کہ ''چھٹتی نہیں ہے منہُ سے یہ کافر لگی ہوئی'' اور پھر بیک وقت تین کہانیاں بھی سنا ڈالیں، ایک تو وہ کہ ایک بادشاہ ایک بھکارن پر عاشق ہو گیا اور اسے اپنی ملکہ بنا لیا لیکن بادشاہ کو حیرت ہوئی کہ ملکہ شاہی دستر خوان پر بیٹھ کر کھانا نہیں کھاتی بلکہ بعد میں کھانا منگوا کر اور دروازہ بند کر کے تنہائی میں کھاتی ہے۔

بادشاہ نے کسی نہ کسی طرح یہ راز معلوم کر ہی لیا ملکہ تھوڑا تھوڑا کر کے کھانا برتنوں میں ڈال دیتی اور جگہ جگہ طاقوں، الماریوں اور صندوقوں کے اوپر رکھتی ہے پھر ایک لکڑی اور کاسہ اٹھا کر ہر جگہ جاتی ہے اور خدا کے نام پر دے دو بابا کہہ کر وہ کھانا اپنے برتن میں اکھٹا کرتی ہے اور پھر کھاتی ہے۔

ایک اور بادشاہ کی بیٹی پر ایک نوجوان عاشق ہو گیا اور اپنی ماں کو بھیج کر رشتہ مانگا، بادشاہ نے کہا ایک شرط ہے یہ نوجوان ایک سال تک بھیک مانگے، تب آئے، ایک سال بعد نوجوان آیا بادشاہ نے کہا ٹھیک ہے آؤ میری بیٹی سے شادی کر کے تحت پر بیٹھ جاؤ لیکن نوجوان نے انکار کرتے ہوئے کہا کہ جو مزہ بھیک میں ہے وہ تخت میں کہاں؟ اور کشکول لے کر چلا گیا، وہ تیسری کہانی بھی سنانے والا تھا لیکن اس وقت گلی میں شور ہوا دیکھا تو ایک سابق وزیر اپنے لاؤ لشکر سمیت ایک بہت ہی حقیر فقیر آدمی کے گھر پر دستک دے رہا تھا

تھیں بنات النعش گردوں دن کو پردے میں نہاں
شب کو ان کے جی میں کیا آئی کہ عریاں ہو گئیں
Load Next Story