گیس لوڈشیڈنگ صنعتکاروںنے قانونی کارروائی کاانتباہ دیدیا
آئندہ ہفتے تک گیس کی فراہمی بہترنہ ہوئی تو قانونی چارہ جوئی کی جائیگی، ایسوسی ایشنز
گیس کے کم دبائوکی وجہ سے کراچی کے تمام صنعتی علاقوں میں پیداواری عمل بری طرح سے متاثر ہورہاہے۔ فوٹو: فائل
شہر کے تمام صنعتی علاقوں کی ایسوسی ایشنوں کے سربراہوںنے اعلان کیاہے کہ وہ آئندہ ہفتے گیس لوڈ شیڈنگ کے احکامات پر عمل نہیں کریں گے۔
یہ فیصلہ صنعتی علاقوں کی ایسوسی ایشنز کے چیئرمینوں کے ایک مشترکہ اجلاس میں کیاگیا۔ صنعتی ایسوسی ایشنز کے چیئرمینوں کے مشترکہ اجلاس کے بعد بتایا گیاکہ شہرکے تمام صنعتی علاقوں کی نمائندہ ایسوسی ایشنز نے متفقہ طور پر یہ فیصلہ کیاکہ وہ آئندہ اتوار تل مکمل طور پر گیس کی بندش کی پیروی کریں گے اور اگراس کے بعد بھی گیس کی فراہمی میں بہتری نہ آئی تو وہ قانونی چارہ جوئی کرنے پر مجبور ہوں گے اور قانونی چارہ جوئی کیلیے اعلیٰ اختیاری کمیٹی بنائی جائیگی، گیس کے کم دبائوکی وجہ سے کراچی کے تمام صنعتی علاقوں میں پیداواری عمل بری طرح سے متاثر ہورہاہے خاص طور پر سائٹ کا صنعتی علاقہ گیس کی کم فراہمی سے بری طرح متاثر ہے۔
صرف سائٹ کا صنعتی علاقہ ملک کو ریونیوکی مدمیں 38فیصد حصہ ادا کرتا ہے جوگیس کے کم دبائو پر فراہمی کے باعث بند ہونے پر مجبور ہے جس کے باعث 5لاکھ مزدوروں کے بیروزگارہونے کا خدشہ پیداہورہا ہے اور یہ عمل امن وامان کی صورتحال کو مزید خراب کرنے کا سبب بن سکتا ہے، صنعتی پیداوار کا عمل گیس کے دبائو میں اچانک کمی آنے کے بعد رک گیا ہے، کراچی کے تمام صنعتی علاقوں میں متعدد کیپٹو پاور جنریٹنگ یونٹ بھی گیس کم فراہمی کی وجہ سے بند ہیں، گیس کی فراہمی میں اچانک کمی جہاں انسانی جانوں کیلیے خطرناک ہے وہاں اس سے مالی نقصان بھی اٹھانا پڑ رہا ہے، گیس کے کم دبائو سے صنعتیں شدید دبائو میں ہیں اور انھیں اہداف مکمل کرنے میں شدید دشواری کا سامنا ہے، صنعتیںروز بہ روز یکے بعد دیگرے بند ہو رہی ہیں جس کی ایک اہم وجہ گیس کی کم پریشر پر فراہمی ہے جوگزشتہ چند ماہ سے جاری ہے۔
یہ فیصلہ صنعتی علاقوں کی ایسوسی ایشنز کے چیئرمینوں کے ایک مشترکہ اجلاس میں کیاگیا۔ صنعتی ایسوسی ایشنز کے چیئرمینوں کے مشترکہ اجلاس کے بعد بتایا گیاکہ شہرکے تمام صنعتی علاقوں کی نمائندہ ایسوسی ایشنز نے متفقہ طور پر یہ فیصلہ کیاکہ وہ آئندہ اتوار تل مکمل طور پر گیس کی بندش کی پیروی کریں گے اور اگراس کے بعد بھی گیس کی فراہمی میں بہتری نہ آئی تو وہ قانونی چارہ جوئی کرنے پر مجبور ہوں گے اور قانونی چارہ جوئی کیلیے اعلیٰ اختیاری کمیٹی بنائی جائیگی، گیس کے کم دبائوکی وجہ سے کراچی کے تمام صنعتی علاقوں میں پیداواری عمل بری طرح سے متاثر ہورہاہے خاص طور پر سائٹ کا صنعتی علاقہ گیس کی کم فراہمی سے بری طرح متاثر ہے۔
صرف سائٹ کا صنعتی علاقہ ملک کو ریونیوکی مدمیں 38فیصد حصہ ادا کرتا ہے جوگیس کے کم دبائو پر فراہمی کے باعث بند ہونے پر مجبور ہے جس کے باعث 5لاکھ مزدوروں کے بیروزگارہونے کا خدشہ پیداہورہا ہے اور یہ عمل امن وامان کی صورتحال کو مزید خراب کرنے کا سبب بن سکتا ہے، صنعتی پیداوار کا عمل گیس کے دبائو میں اچانک کمی آنے کے بعد رک گیا ہے، کراچی کے تمام صنعتی علاقوں میں متعدد کیپٹو پاور جنریٹنگ یونٹ بھی گیس کم فراہمی کی وجہ سے بند ہیں، گیس کی فراہمی میں اچانک کمی جہاں انسانی جانوں کیلیے خطرناک ہے وہاں اس سے مالی نقصان بھی اٹھانا پڑ رہا ہے، گیس کے کم دبائو سے صنعتیں شدید دبائو میں ہیں اور انھیں اہداف مکمل کرنے میں شدید دشواری کا سامنا ہے، صنعتیںروز بہ روز یکے بعد دیگرے بند ہو رہی ہیں جس کی ایک اہم وجہ گیس کی کم پریشر پر فراہمی ہے جوگزشتہ چند ماہ سے جاری ہے۔