سفارشی کلچر ملکی کرکٹ کا دشمن بن گیا
پرانے چہرے کب تک عہدے بدل بدل کر من مانی کرتے رہیں گے
پرانے چہرے کب تک عہدے بدل بدل کر من مانی کرتے رہیں گے ۔ فوٹو : فائل
COPENHAGEN:
پاکستان کرکٹ کی سیاست بھی شطرنج کی بازی جیسی ہے، کبھی ایک حاوی دکھائی دیتا ہے تو کبھی دوسرے کا پلڑا مضبوط ہوتادکھائی دیتا ہے، پی سی بی میں گذشتہ کچھ عرصے سے اقتدار کا کھیل عروج پر رہا، اسی وجہ سے ٹیم زوال پذیر ہوگئی، اب یہ حال ہے کہ ون ڈے رینکنگ میں ہم بنگلہ دیش کے بعد نویں نمبر پر آ چکے، کبھی کسی نے ایسا سوچا بھی نہیں ہو گا، حکمرانوں نے اپنے اقتدار کو طول دینے کے لیے کئی غلط فیصلے کیے جس کا خمیازہ ٹیم کو بھگتنا پڑا، اب بورڈ میں ایک نئی رسہ کشی کا آغاز ہو چکا دیکھتے ہیں آگے کیا ہوتا ہے۔
نجم سیٹھی کے جب آئی سی سی کا صدر بننے کے دن قریب آنے لگے تو سب سے زیادہ خوش شہریارخان ہوئے، ان کی موجودگی میں وہ کھل کر کام نہیں کر پا رہے تھے، پہلی بار پی سی بی میں اتنی مضبوط اپوزیشن سامنے آئی، جیسے (ن) لیگ کو تحریک انصاف نے ٹف ٹائم دیا ویسے چیئرمین شہریارخان کو نجم سیٹھی دے رہے تھے۔
ان کی موجودگی میں وہ خود اپنی مرضی سے فیصلے نہیں کر پائے، اسی لیے معین خان جیسی کئی تقرریاں ہوئیں جو بعد میں ملکی کرکٹ کی جگ ہنسائی کا سبب بنیں، طاقتور ایگزیکٹیو کمیٹی بورڈ میں اہم فیصلوں میں شریک ہوتی، اس کے سربراہ نجم سیٹھی گورننگ بورڈ کے بھی ممبر ہیں، مگر انھیں آئی سی سی صدارت سنبھالنے پر یہ سب کچھ چھوڑنا پڑتا، وہ پاکستان کرکٹ سے بالکل لاتعلق ہو جاتے، ابتدا میں نجم سیٹھی کو کونسل کی صدارت میں بڑی کشش نظر آئی، یار دوستوں نے انھیں سمجھایا کہ بھائی اس کا کوئی فائدہ نہیں ہے، میٹنگز کی صدارت کریں گے نہ ووٹ ہو گا، دبئی کے دفتر میں کوئی کمرہ بھی نہیں ملے گا۔
لاہور میں ہی رہنا پڑے گا، ہاں نقصان بہت ہیں، ٹی وی پروگرام پر اعتراض سامنے آئے گا، میڈیا میں بیانات نہیں دے سکیں گے، پی سی بی میں کوئی عمل و دخل نہیں رہے گا، ایک سال بعد پھر واپسی کا موقع ملے یا نہیں، اس وقت انھوں نے ان باتوں کو اہمیت نہ دی مگر پھر جب بنگلہ دیشی مصطفیٰ کمال کا حال دیکھا تو کچھ ماتھا ٹھنکا، وہ بیچارے ورلڈکپ کی تقریب میں بھی مدعو نہ تھے، ایک بیان نے پورے آئی سی سی کو ان سے ناراض کر دیا تھا، مصطفیٰ کمال چونکہ سیاستدان ہیں انھوں نے سیاسی چال چلی ویسے ہی کونسل میں ان کے کاغذی عہدے کی مدت مکمل ہونے والی تھی۔
انھوں نے بنگلہ دیش کیخلاف خراب امپائرنگ کو جواز بنا کر عہدہ چھوڑ دیا، یوں ملک میں ان کی واہ واہ ہو گئی، پاکستان میں شہریارخان نے سوچا ہوگا کہ نجم سیٹھی جب کونسل میں جائیں گے تو وہ اصل چیئرمین بنیں گے، ایسے میں سابق چیئرمین نے ترپ کا پتہ پھینکا جس نے بازی پلٹ دی۔
وہ آئی سی سی کی صدارت سے دستبردار ہوئے، اپنی قریبی شخصیت ظہیرعباس کو نامزد کرا دیا اور خود بورڈ میں رہنے کا اعلان کر دیا، یوں اب وہ انتہائی مضبوط ہو گئے ہیں، گذشتہ چند ماہ وہ پس منظر میں رہے تاکہ کوئی تنازع آئی سی سی صدارت سنبھالنے میں حائل نہ ہو جائے مگر اب کھل کر سامنے آئیں گے، میں پہلے بھی کہہ چکا کہ مجھے ایسا لگتا ہے کہ آئندہ چند ماہ میں نجم سیٹھی ایک بار پھر چیئرمین پی سی بی ہوں گے، شہریارخان اب شاید مزید زیادہ عرصے کام نہیں کرنا چاہیں۔
گذشتہ دنوں وہ کراچی آئے اورنیشنل اسٹیڈیم میں پریس کانفرنس کی، اس دوران وہ کافی بجھے بجھے دکھائی دیے، عموماً شہریارخان زیادہ غصہ نہیں کرتے مگر ایک صحافی پر خاصا ناراض بھی ہوئے، انھوں نے واضح الفاظ میں اعلان کیا کہ شکیل شیخ کی زیر سربراہی کرکٹ کمیٹی تحلیل کر کے سابق کرکٹرز پر مشتمل نئی کمیٹی بنائی جائے گی۔
مگر دیگر بورڈ آفیشلز کہتے رہے کہ ایسی کوئی بات نہیں ہے، مجھے یہ یاد دلانے کی ضرورت نہیں کہ شکیل شیخ بھی نجم سیٹھی کے انتہائی قریبی ساتھی ہیں، ان تمام معاملات سے ایسا لگتا ہے کہ اختیارات کی جنگ دوبارہ عروج پر آ چکی، بورڈ کے دونوں ''بڑوں'' میں سے کوئی ایک اب آؤٹ ہو گا، چاہے خود جائے یا جانا پڑے۔
اسی پریس کانفرنس کا جب اختتام ہوا تو شہریار خان میڈیا کے ساتھ لنچ کے لیے باہر آئے، حیران کن طور پر ان کے لیے کوئی الگ انتظام ہی نہیں تھا، ایسے میں نیشنل اسٹیڈیم کے منیجر ارشد خان نے بھی انھیں کوئی لفٹ نہ کرائی اور اپنے کمرے میں کھانا تناول کرتے رہے،اس وقت مجھے یہ خیال آیاکہ شہریارخان کی جگہ کوئی دوسرا چیئرمین ہوتا تو اس وقت اسٹاف زیرعتاب آ چکا ہوتا مگر انھوں نے کسی کو کچھ نہ کہا، اسی لیے کہتے ہیں کہ ہر پوزیشن پر اہل شخص کا تقرر کرنا چاہیے، جو لوگ چیئرمین کے پروٹوکول کو نہیں سمجھتے وہ اپنے کام سے کیا خاک انصاف کر رہے ہوں گے۔
اب بات کچھ قومی کرکٹ ٹیم کی کرلیں، آئندہ چند روز میں وہ سری لنکا روانہ ہونے والی ہے، چیف سلیکٹر ہارون رشید جب سے آئے نوجوان پلیئرز کو موقع دینے کا راگ الاپتے رہے مگر حقیقتاً ایسا نہیں ہے۔
زمبابوے سے سیریز میں چند پلیئرز کو آزمایا گیا مگر ٹور کے لیے نظر اندازکردیا گیا،36سالہ ذوالفقار بابر کی اسکواڈ میں جگہ بن گئی مگر سلیکٹرز کو کوئی باصلاحیت ینگسٹر نظر نہیں آیا، زیادہ نہیں تو 1،2پلیئرز کو ہی تجربہ دلانے کے لیے سری لنکا لے جاتے، مگر شاید41سالہ کپتان مصباح الحق کو بھی نوجوانوں پر بھروسہ نہیں ہے، ایسے ہی فیصلوں کی وجہ سے ہم اب سعید اجمل کا متبادل نہ ہونے کا رونا رو رہے ہیں۔
اچھے وقتوں میں اگر نئے پلیئرز کو ٹیم کے ساتھ رکھیں تو ضرورت پڑنے پر وہ کام آتے ہیں، مگر ہمارے ملک میں آگے کا کوئی نہیں سوچتا جو چل رہا ہے ویسے ہی چلنے دیا جاتا ہے، عجیب و غریب تاویلیں دی جاتی ہیں جیسے اے ٹیم کے لیے ایک بڑی اننگز پر شان مسعود کی قومی اسکواڈ میں واپسی ہو گئی، وجہ ان کا اعلیٰ گھرانے سے تعلق اور ارباب اختیار میں اثر ورسوخ ہے۔
فواد عالم کے والد چونکہ ایک عام شخص ہیں اس لیے ان کا بیٹا سری لنکن ٹور کی تقریباً ہر اننگز میں50 سے زیادہ رنز بنانے کے باوجود 16پلیئرز میں شمولیت کے قابل تک نہ سمجھا گیا، ماضی کی طرح اس بار بھی چیف سلیکٹر اور پھر چیئرمین بورڈ نے فوادکے ٹیلنٹ کی خوب تعریفیں کیں مگر ایسی صلاحیت کا کیا فائدہ جو آپ کو قومی ٹیم میں بھی شامل نہ کرا سکے۔ دیگر آفیشلز بھی ملکی کرکٹ کے ساتھ بالکل سنجیدہ نظر نہیں آتے، کوچ وقار یونس کی ہی مثال لے لیں، قومی ٹیم اس وقت ون ڈے رینکنگ میں نویں نمبر پر آ گئی، چیمپئنز ٹرافی میں شرکت خطرے میں ہے۔
فاسٹ بولرز بدترین ناکامیوں کا شکار ہیں، ایسے میں ہونا یہ چاہیے تھا کہ کوچ پاکستان میں ہی رہ کر مستقبل کی حکمت عملی تیار اور بولرز کی رہنمائی کرتے مگر وہ زمبایوین ٹیم کے جاتے ہی اپنے دوسرے ملک آسٹریلیا چلے گئے، اتنی غیرسنجیدگی کا مظاہرہ تو کوئی غیر ملکی کوچ بھی نہیں کرتا، وقار یونس اس بات پر خوش ہیں کہ کمزور زمبابوے کے خلاف ٹیم نے ون ڈے سیریز جیت لی مگر آگے کی کوئی پروا نہیں ہے، ہمارے بولرز کی نوآموز بیٹسمینوں نے خوب پٹائی لگائی اب سری لنکنز اپنی سرزمین پرکیا کریں گے۔
اس کا تصور کر کے ہی خوف آتا ہے، آپ جتنا بھی پڑھ لکھ لیں 16 لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ ملنا انتہائی مشکل ہے مگر وقار یونس کو ہر ماہ اتنی بھاری رقم کا ڈالرز میں چیک ملتا ہے، دیگر سہولتیں الگ ہیں،اس کے باوجود وہ قومی کرکٹ کے ساتھ کتنے سنجیدہ ہیں اس کا اندازہ بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔
وہ اپنے اہل خانہ کو پاکستان بلانے سے ڈرتے ہیں، حالانکہ ڈیو واٹمور کی بیٹی تک لاہور میں رہ کر گئی تھیں، ایک طرف ہم دنیا کو یہ کہہ رہے ہیں کہ آئیں ہمارا ملک محفوظ ہے، دوسری طرف کوچ جس کا تعلق بھی اسی ملک سے رہا وہ سیکیورٹی سے خوفزدہ ہے، اس سے ہم کیسے اپنے موقف کو درست ثابت کریں گے۔
مسلسل خراب کارکردگی کے باوجود وقار یونس اب تک قومی ٹیم کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں، بورڈ انھیں مکمل سپورٹ کرتا ہے، چیئرمین شہریارخان سے جب میں نے پوچھا کہ کوچ کیوں ہر سیریز کے بعد گھر چلے جاتے ہیں تو انھوں نے جواب دیا کہ یہ ان کے معاہدے کا حصہ ہے، آفرین ہے اس شخص پر جس نے یہ معاہدہ تیار کیا۔
چار لاکھ روپے کے نجانے کتنے بزنس کلاس کے ٹکٹ بھی اب تک وقار یونس کو دیے جا چکے ہوں گے، بورڈ میں نان پروفیشل افراد کے اعلیٰ عہدوں پر براجمان ہونے کی وجہ سے ہی ایسے مسائل ہوتے ہیں، جب کسی کو فارغ کرنا ہو تو خیال آتا ہے کہ ارے اس سے تو اتنے سال کا معاہدہ ہے نکالا تو بھاری رقم بطور زرتلافی دینا پڑے گی، ایسے معاملات کنٹریکٹ تیار کرتے وقت دیکھے جائیں تو مسائل نہ ہوں گے۔
چیف سلیکٹر ہارون رشید نے ذوالفقار بابر کی قومی ٹیم کی شمولیت پر اصرار کرتے ہوئے چیئرمین کو یہ جواز دیا تھا کہ ملک میں کوئی اچھا لیفٹ آرم اسپنر موجود نہیں ہے، ایسے میں سوچنے کی بات ہے کہ ہارون خود نیشنل اکیڈمی میں رہے، انھوں نے خود کیوں کوشش نہ کی کہ لیفٹ آرم اسپنرز تلاش کر کے انھیں گروم کیا جائے۔
محمد اکرم بھی پی سی بی کے منظور نظر آفیشل ہیں، کرکٹ فیلڈ میں ناکام رہنے والے بطور کوچ بھی فلاپ رہے تو سلیکٹر بن گئے، اب نیشنل اکیڈمی کے ہیڈ کوچ ہیں، سری لنکن ٹور پر بھی وہ ٹیم کے ساتھ چلے گئے۔
اس سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ بورڈ میں کیسے معاملات چلائے جا رہے ہیں،واپس آنے کے بعد وہ ٹی وی پر کمنٹری کرنے لگے، چیف سلیکٹر ہارون رشید نے بھی یہ فریضہ انجام دیا، یہ لوگ پیسہ کمانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے، ملکی کرکٹ کی انھیں کوئی پروا بھی نہیں ہے، اب چیئرمین نے کہا ہے کہ کوئی بورڈ آفیشل کمنٹری نہیں کرے گا۔
دیکھتے ہیں کہ اس پر کتنا عمل ہوتا ہے، ہر شعبے میں سفارشیوں کی بھرمار نے پی سی بی اور ٹیم کا بیڑا غرق کر دیا، طویل عرصے سے کرسیوں سے چمٹا ایک گروپ اتنا مضبوط ہو چکا کہ کوئی اس پر ہاتھ نہیں ڈال سکتا، یہ لوگ کبھی کوچ، منیجر تو کبھی سلیکٹر بن جاتے ہیں، انہی کی وجہ سے ہماری کرکٹ اب تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے۔
پی سی بی کے میڈیا ڈپارٹمنٹ میں بھی ان دنوں مسائل عروج پر ہیں، آغا اکبر کے چاہنے والے ان کا ٹرانسفر نہیں ہونے دے رہے اور وہ امجد بھٹی کے پیچھے لگے ہوئے ہیں، ایسے میں اچانک رضا راشد کیخلاف بھی ایک مہم شروع ہوگئی،اس کے پیچھے ان کے اپنے ہی ساتھیوں کا ہاتھ ہے، یہ سب معاملات بدنظمی کا ثبوت ہیں۔
ایک شخص جو محنت سے اپنے فرائض انجام دیتا ہے اسے بھی بدنام کیا جا رہا ہے تاکہ ترقی کا راستہ رک جائے، شہریارخان اور نجم سیٹھی کو فوری طور پر میڈیا ڈپارٹمنٹ کا مسئلہ حل کرانا ہوگا ، جو لوگ سیاست کر رہے ہیں انھیں یہاں سے ہٹانا ہی مناسب رہے گا، بصورت دیگر اس طرح کی لڑائیاں بورڈ کو بدنام کرتی رہیں گی۔
ان دنوں بورڈ زمبابوین ٹیم کے دورے کی کامیابی پر بیحد خوش ہے،ڈالرز دے کر مہمان کرکٹرز کو بلا تو لیا مگر پوری سیریز میں سیکیورٹی پر دھڑکا سا لگا رہا،قانون نافذ کرانے والے اداروں کو شاباشی دینی چاہیے جنھوں نے بہترین انتظامات سے دورے کو کامیاب بنایا،اس دوران صرف ایک ناخوشگوار واقعہ پیش آیا مگر اس نے بورڈ حکام کی نیندیں بھی اڑا دی تھیں،ماضی کے کرکٹ بورڈ چیف میں سے سوائے ذکا اشرف کے کسی نے ملک میں میچز کرانے کے لیے سنجیدہ کوشش نہیں کی۔
اس کی وجہ اپنے ہی ملک کی سیکیورٹی پر اعتماد نہ ہونا تھا، شہریارخان کو کریڈٹ جاتا ہے کہ انھوں نے پنجاب حکومت کی معاونت سے بہترین انتظامات کرائے، مگر اب لگتا ہے کہ وہ خود بھی فوری طورپر کسی دوسری ٹیم کو بلانا نہیں چاہتے، اپنی ٹیم کی آئندہ سال تک کی مصروفیات انھوں نے گنوا دیں۔
پھر سری لنکا اور بنگلہ دیش کو بلانے کا عندیہ دیا مگر فی الحال ایسا نہیں لگتا کہ آئندہ چند برس کوئی اور ٹیم پاکستان آئے، شاید خوش بورڈ کو بھی اس کا اندازہ ہے۔
اس ضمن میں آئی سی سی کو بھی کردار ادا کرنا چاہیے، گزشتہ دنوں کونسل کے چیف ایگزیکٹیو ڈیو رچرڈسن سے تفصیلی بات ہوئی تو انھوں نے بھی پاکستان میں کرکٹ کی بحالی پر خوشی کا اظہار کیا، اصل بات یہ ہے کہ وہ کھل کر تعاون بھی کریں، زمبابوے کے خلاف سیریز میں شائقین کے جوش وخروش نے دنیا کو بیحد متاثر کیا، سب جان گئے کہ ہمیں انٹرنیشنل کرکٹ کی میزبانی سے دور نہیں رکھا جا سکتا،سفر کا آغاز ہو چکا ، منزل دور ضرور ہے مگر ارادے مضبوط رہے تو جلد ہی پاکستانی میدان ماضی کی طرح دوبارہ مسلسل آباد رہا کریں گے۔
پاکستان کرکٹ کی سیاست بھی شطرنج کی بازی جیسی ہے، کبھی ایک حاوی دکھائی دیتا ہے تو کبھی دوسرے کا پلڑا مضبوط ہوتادکھائی دیتا ہے، پی سی بی میں گذشتہ کچھ عرصے سے اقتدار کا کھیل عروج پر رہا، اسی وجہ سے ٹیم زوال پذیر ہوگئی، اب یہ حال ہے کہ ون ڈے رینکنگ میں ہم بنگلہ دیش کے بعد نویں نمبر پر آ چکے، کبھی کسی نے ایسا سوچا بھی نہیں ہو گا، حکمرانوں نے اپنے اقتدار کو طول دینے کے لیے کئی غلط فیصلے کیے جس کا خمیازہ ٹیم کو بھگتنا پڑا، اب بورڈ میں ایک نئی رسہ کشی کا آغاز ہو چکا دیکھتے ہیں آگے کیا ہوتا ہے۔
نجم سیٹھی کے جب آئی سی سی کا صدر بننے کے دن قریب آنے لگے تو سب سے زیادہ خوش شہریارخان ہوئے، ان کی موجودگی میں وہ کھل کر کام نہیں کر پا رہے تھے، پہلی بار پی سی بی میں اتنی مضبوط اپوزیشن سامنے آئی، جیسے (ن) لیگ کو تحریک انصاف نے ٹف ٹائم دیا ویسے چیئرمین شہریارخان کو نجم سیٹھی دے رہے تھے۔
ان کی موجودگی میں وہ خود اپنی مرضی سے فیصلے نہیں کر پائے، اسی لیے معین خان جیسی کئی تقرریاں ہوئیں جو بعد میں ملکی کرکٹ کی جگ ہنسائی کا سبب بنیں، طاقتور ایگزیکٹیو کمیٹی بورڈ میں اہم فیصلوں میں شریک ہوتی، اس کے سربراہ نجم سیٹھی گورننگ بورڈ کے بھی ممبر ہیں، مگر انھیں آئی سی سی صدارت سنبھالنے پر یہ سب کچھ چھوڑنا پڑتا، وہ پاکستان کرکٹ سے بالکل لاتعلق ہو جاتے، ابتدا میں نجم سیٹھی کو کونسل کی صدارت میں بڑی کشش نظر آئی، یار دوستوں نے انھیں سمجھایا کہ بھائی اس کا کوئی فائدہ نہیں ہے، میٹنگز کی صدارت کریں گے نہ ووٹ ہو گا، دبئی کے دفتر میں کوئی کمرہ بھی نہیں ملے گا۔
لاہور میں ہی رہنا پڑے گا، ہاں نقصان بہت ہیں، ٹی وی پروگرام پر اعتراض سامنے آئے گا، میڈیا میں بیانات نہیں دے سکیں گے، پی سی بی میں کوئی عمل و دخل نہیں رہے گا، ایک سال بعد پھر واپسی کا موقع ملے یا نہیں، اس وقت انھوں نے ان باتوں کو اہمیت نہ دی مگر پھر جب بنگلہ دیشی مصطفیٰ کمال کا حال دیکھا تو کچھ ماتھا ٹھنکا، وہ بیچارے ورلڈکپ کی تقریب میں بھی مدعو نہ تھے، ایک بیان نے پورے آئی سی سی کو ان سے ناراض کر دیا تھا، مصطفیٰ کمال چونکہ سیاستدان ہیں انھوں نے سیاسی چال چلی ویسے ہی کونسل میں ان کے کاغذی عہدے کی مدت مکمل ہونے والی تھی۔
انھوں نے بنگلہ دیش کیخلاف خراب امپائرنگ کو جواز بنا کر عہدہ چھوڑ دیا، یوں ملک میں ان کی واہ واہ ہو گئی، پاکستان میں شہریارخان نے سوچا ہوگا کہ نجم سیٹھی جب کونسل میں جائیں گے تو وہ اصل چیئرمین بنیں گے، ایسے میں سابق چیئرمین نے ترپ کا پتہ پھینکا جس نے بازی پلٹ دی۔
وہ آئی سی سی کی صدارت سے دستبردار ہوئے، اپنی قریبی شخصیت ظہیرعباس کو نامزد کرا دیا اور خود بورڈ میں رہنے کا اعلان کر دیا، یوں اب وہ انتہائی مضبوط ہو گئے ہیں، گذشتہ چند ماہ وہ پس منظر میں رہے تاکہ کوئی تنازع آئی سی سی صدارت سنبھالنے میں حائل نہ ہو جائے مگر اب کھل کر سامنے آئیں گے، میں پہلے بھی کہہ چکا کہ مجھے ایسا لگتا ہے کہ آئندہ چند ماہ میں نجم سیٹھی ایک بار پھر چیئرمین پی سی بی ہوں گے، شہریارخان اب شاید مزید زیادہ عرصے کام نہیں کرنا چاہیں۔
گذشتہ دنوں وہ کراچی آئے اورنیشنل اسٹیڈیم میں پریس کانفرنس کی، اس دوران وہ کافی بجھے بجھے دکھائی دیے، عموماً شہریارخان زیادہ غصہ نہیں کرتے مگر ایک صحافی پر خاصا ناراض بھی ہوئے، انھوں نے واضح الفاظ میں اعلان کیا کہ شکیل شیخ کی زیر سربراہی کرکٹ کمیٹی تحلیل کر کے سابق کرکٹرز پر مشتمل نئی کمیٹی بنائی جائے گی۔
مگر دیگر بورڈ آفیشلز کہتے رہے کہ ایسی کوئی بات نہیں ہے، مجھے یہ یاد دلانے کی ضرورت نہیں کہ شکیل شیخ بھی نجم سیٹھی کے انتہائی قریبی ساتھی ہیں، ان تمام معاملات سے ایسا لگتا ہے کہ اختیارات کی جنگ دوبارہ عروج پر آ چکی، بورڈ کے دونوں ''بڑوں'' میں سے کوئی ایک اب آؤٹ ہو گا، چاہے خود جائے یا جانا پڑے۔
اسی پریس کانفرنس کا جب اختتام ہوا تو شہریار خان میڈیا کے ساتھ لنچ کے لیے باہر آئے، حیران کن طور پر ان کے لیے کوئی الگ انتظام ہی نہیں تھا، ایسے میں نیشنل اسٹیڈیم کے منیجر ارشد خان نے بھی انھیں کوئی لفٹ نہ کرائی اور اپنے کمرے میں کھانا تناول کرتے رہے،اس وقت مجھے یہ خیال آیاکہ شہریارخان کی جگہ کوئی دوسرا چیئرمین ہوتا تو اس وقت اسٹاف زیرعتاب آ چکا ہوتا مگر انھوں نے کسی کو کچھ نہ کہا، اسی لیے کہتے ہیں کہ ہر پوزیشن پر اہل شخص کا تقرر کرنا چاہیے، جو لوگ چیئرمین کے پروٹوکول کو نہیں سمجھتے وہ اپنے کام سے کیا خاک انصاف کر رہے ہوں گے۔
اب بات کچھ قومی کرکٹ ٹیم کی کرلیں، آئندہ چند روز میں وہ سری لنکا روانہ ہونے والی ہے، چیف سلیکٹر ہارون رشید جب سے آئے نوجوان پلیئرز کو موقع دینے کا راگ الاپتے رہے مگر حقیقتاً ایسا نہیں ہے۔
زمبابوے سے سیریز میں چند پلیئرز کو آزمایا گیا مگر ٹور کے لیے نظر اندازکردیا گیا،36سالہ ذوالفقار بابر کی اسکواڈ میں جگہ بن گئی مگر سلیکٹرز کو کوئی باصلاحیت ینگسٹر نظر نہیں آیا، زیادہ نہیں تو 1،2پلیئرز کو ہی تجربہ دلانے کے لیے سری لنکا لے جاتے، مگر شاید41سالہ کپتان مصباح الحق کو بھی نوجوانوں پر بھروسہ نہیں ہے، ایسے ہی فیصلوں کی وجہ سے ہم اب سعید اجمل کا متبادل نہ ہونے کا رونا رو رہے ہیں۔
اچھے وقتوں میں اگر نئے پلیئرز کو ٹیم کے ساتھ رکھیں تو ضرورت پڑنے پر وہ کام آتے ہیں، مگر ہمارے ملک میں آگے کا کوئی نہیں سوچتا جو چل رہا ہے ویسے ہی چلنے دیا جاتا ہے، عجیب و غریب تاویلیں دی جاتی ہیں جیسے اے ٹیم کے لیے ایک بڑی اننگز پر شان مسعود کی قومی اسکواڈ میں واپسی ہو گئی، وجہ ان کا اعلیٰ گھرانے سے تعلق اور ارباب اختیار میں اثر ورسوخ ہے۔
فواد عالم کے والد چونکہ ایک عام شخص ہیں اس لیے ان کا بیٹا سری لنکن ٹور کی تقریباً ہر اننگز میں50 سے زیادہ رنز بنانے کے باوجود 16پلیئرز میں شمولیت کے قابل تک نہ سمجھا گیا، ماضی کی طرح اس بار بھی چیف سلیکٹر اور پھر چیئرمین بورڈ نے فوادکے ٹیلنٹ کی خوب تعریفیں کیں مگر ایسی صلاحیت کا کیا فائدہ جو آپ کو قومی ٹیم میں بھی شامل نہ کرا سکے۔ دیگر آفیشلز بھی ملکی کرکٹ کے ساتھ بالکل سنجیدہ نظر نہیں آتے، کوچ وقار یونس کی ہی مثال لے لیں، قومی ٹیم اس وقت ون ڈے رینکنگ میں نویں نمبر پر آ گئی، چیمپئنز ٹرافی میں شرکت خطرے میں ہے۔
فاسٹ بولرز بدترین ناکامیوں کا شکار ہیں، ایسے میں ہونا یہ چاہیے تھا کہ کوچ پاکستان میں ہی رہ کر مستقبل کی حکمت عملی تیار اور بولرز کی رہنمائی کرتے مگر وہ زمبایوین ٹیم کے جاتے ہی اپنے دوسرے ملک آسٹریلیا چلے گئے، اتنی غیرسنجیدگی کا مظاہرہ تو کوئی غیر ملکی کوچ بھی نہیں کرتا، وقار یونس اس بات پر خوش ہیں کہ کمزور زمبابوے کے خلاف ٹیم نے ون ڈے سیریز جیت لی مگر آگے کی کوئی پروا نہیں ہے، ہمارے بولرز کی نوآموز بیٹسمینوں نے خوب پٹائی لگائی اب سری لنکنز اپنی سرزمین پرکیا کریں گے۔
اس کا تصور کر کے ہی خوف آتا ہے، آپ جتنا بھی پڑھ لکھ لیں 16 لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ ملنا انتہائی مشکل ہے مگر وقار یونس کو ہر ماہ اتنی بھاری رقم کا ڈالرز میں چیک ملتا ہے، دیگر سہولتیں الگ ہیں،اس کے باوجود وہ قومی کرکٹ کے ساتھ کتنے سنجیدہ ہیں اس کا اندازہ بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔
وہ اپنے اہل خانہ کو پاکستان بلانے سے ڈرتے ہیں، حالانکہ ڈیو واٹمور کی بیٹی تک لاہور میں رہ کر گئی تھیں، ایک طرف ہم دنیا کو یہ کہہ رہے ہیں کہ آئیں ہمارا ملک محفوظ ہے، دوسری طرف کوچ جس کا تعلق بھی اسی ملک سے رہا وہ سیکیورٹی سے خوفزدہ ہے، اس سے ہم کیسے اپنے موقف کو درست ثابت کریں گے۔
مسلسل خراب کارکردگی کے باوجود وقار یونس اب تک قومی ٹیم کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں، بورڈ انھیں مکمل سپورٹ کرتا ہے، چیئرمین شہریارخان سے جب میں نے پوچھا کہ کوچ کیوں ہر سیریز کے بعد گھر چلے جاتے ہیں تو انھوں نے جواب دیا کہ یہ ان کے معاہدے کا حصہ ہے، آفرین ہے اس شخص پر جس نے یہ معاہدہ تیار کیا۔
چار لاکھ روپے کے نجانے کتنے بزنس کلاس کے ٹکٹ بھی اب تک وقار یونس کو دیے جا چکے ہوں گے، بورڈ میں نان پروفیشل افراد کے اعلیٰ عہدوں پر براجمان ہونے کی وجہ سے ہی ایسے مسائل ہوتے ہیں، جب کسی کو فارغ کرنا ہو تو خیال آتا ہے کہ ارے اس سے تو اتنے سال کا معاہدہ ہے نکالا تو بھاری رقم بطور زرتلافی دینا پڑے گی، ایسے معاملات کنٹریکٹ تیار کرتے وقت دیکھے جائیں تو مسائل نہ ہوں گے۔
چیف سلیکٹر ہارون رشید نے ذوالفقار بابر کی قومی ٹیم کی شمولیت پر اصرار کرتے ہوئے چیئرمین کو یہ جواز دیا تھا کہ ملک میں کوئی اچھا لیفٹ آرم اسپنر موجود نہیں ہے، ایسے میں سوچنے کی بات ہے کہ ہارون خود نیشنل اکیڈمی میں رہے، انھوں نے خود کیوں کوشش نہ کی کہ لیفٹ آرم اسپنرز تلاش کر کے انھیں گروم کیا جائے۔
محمد اکرم بھی پی سی بی کے منظور نظر آفیشل ہیں، کرکٹ فیلڈ میں ناکام رہنے والے بطور کوچ بھی فلاپ رہے تو سلیکٹر بن گئے، اب نیشنل اکیڈمی کے ہیڈ کوچ ہیں، سری لنکن ٹور پر بھی وہ ٹیم کے ساتھ چلے گئے۔
اس سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ بورڈ میں کیسے معاملات چلائے جا رہے ہیں،واپس آنے کے بعد وہ ٹی وی پر کمنٹری کرنے لگے، چیف سلیکٹر ہارون رشید نے بھی یہ فریضہ انجام دیا، یہ لوگ پیسہ کمانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے، ملکی کرکٹ کی انھیں کوئی پروا بھی نہیں ہے، اب چیئرمین نے کہا ہے کہ کوئی بورڈ آفیشل کمنٹری نہیں کرے گا۔
دیکھتے ہیں کہ اس پر کتنا عمل ہوتا ہے، ہر شعبے میں سفارشیوں کی بھرمار نے پی سی بی اور ٹیم کا بیڑا غرق کر دیا، طویل عرصے سے کرسیوں سے چمٹا ایک گروپ اتنا مضبوط ہو چکا کہ کوئی اس پر ہاتھ نہیں ڈال سکتا، یہ لوگ کبھی کوچ، منیجر تو کبھی سلیکٹر بن جاتے ہیں، انہی کی وجہ سے ہماری کرکٹ اب تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے۔
پی سی بی کے میڈیا ڈپارٹمنٹ میں بھی ان دنوں مسائل عروج پر ہیں، آغا اکبر کے چاہنے والے ان کا ٹرانسفر نہیں ہونے دے رہے اور وہ امجد بھٹی کے پیچھے لگے ہوئے ہیں، ایسے میں اچانک رضا راشد کیخلاف بھی ایک مہم شروع ہوگئی،اس کے پیچھے ان کے اپنے ہی ساتھیوں کا ہاتھ ہے، یہ سب معاملات بدنظمی کا ثبوت ہیں۔
ایک شخص جو محنت سے اپنے فرائض انجام دیتا ہے اسے بھی بدنام کیا جا رہا ہے تاکہ ترقی کا راستہ رک جائے، شہریارخان اور نجم سیٹھی کو فوری طور پر میڈیا ڈپارٹمنٹ کا مسئلہ حل کرانا ہوگا ، جو لوگ سیاست کر رہے ہیں انھیں یہاں سے ہٹانا ہی مناسب رہے گا، بصورت دیگر اس طرح کی لڑائیاں بورڈ کو بدنام کرتی رہیں گی۔
ان دنوں بورڈ زمبابوین ٹیم کے دورے کی کامیابی پر بیحد خوش ہے،ڈالرز دے کر مہمان کرکٹرز کو بلا تو لیا مگر پوری سیریز میں سیکیورٹی پر دھڑکا سا لگا رہا،قانون نافذ کرانے والے اداروں کو شاباشی دینی چاہیے جنھوں نے بہترین انتظامات سے دورے کو کامیاب بنایا،اس دوران صرف ایک ناخوشگوار واقعہ پیش آیا مگر اس نے بورڈ حکام کی نیندیں بھی اڑا دی تھیں،ماضی کے کرکٹ بورڈ چیف میں سے سوائے ذکا اشرف کے کسی نے ملک میں میچز کرانے کے لیے سنجیدہ کوشش نہیں کی۔
اس کی وجہ اپنے ہی ملک کی سیکیورٹی پر اعتماد نہ ہونا تھا، شہریارخان کو کریڈٹ جاتا ہے کہ انھوں نے پنجاب حکومت کی معاونت سے بہترین انتظامات کرائے، مگر اب لگتا ہے کہ وہ خود بھی فوری طورپر کسی دوسری ٹیم کو بلانا نہیں چاہتے، اپنی ٹیم کی آئندہ سال تک کی مصروفیات انھوں نے گنوا دیں۔
پھر سری لنکا اور بنگلہ دیش کو بلانے کا عندیہ دیا مگر فی الحال ایسا نہیں لگتا کہ آئندہ چند برس کوئی اور ٹیم پاکستان آئے، شاید خوش بورڈ کو بھی اس کا اندازہ ہے۔
اس ضمن میں آئی سی سی کو بھی کردار ادا کرنا چاہیے، گزشتہ دنوں کونسل کے چیف ایگزیکٹیو ڈیو رچرڈسن سے تفصیلی بات ہوئی تو انھوں نے بھی پاکستان میں کرکٹ کی بحالی پر خوشی کا اظہار کیا، اصل بات یہ ہے کہ وہ کھل کر تعاون بھی کریں، زمبابوے کے خلاف سیریز میں شائقین کے جوش وخروش نے دنیا کو بیحد متاثر کیا، سب جان گئے کہ ہمیں انٹرنیشنل کرکٹ کی میزبانی سے دور نہیں رکھا جا سکتا،سفر کا آغاز ہو چکا ، منزل دور ضرور ہے مگر ارادے مضبوط رہے تو جلد ہی پاکستانی میدان ماضی کی طرح دوبارہ مسلسل آباد رہا کریں گے۔