ٹنڈو جام ٹول ٹیکس کیخلاف اساتذہ و طلبہ کا مظاہرہ توڑ پھوڑ

عملہ فرار، دھرنے کے باعث میرپورخاص روڈ پر ٹریفک جام، گاڑیوں کی طویل قطاریں، شہری بھی احتجاج میں شامل ہوگئے.

رینجرز و پولیس کی بھاری نفری طلب، ایک ہی تعلقہ میں سفر کرنے پر مہنگے ترین ٹول ٹیکس ریٹس ناانصافی ہے، مظاہرین. فوٹو : فائل

زرعی یونیورسٹی ٹنڈوجام کے ملازمین، اساتذہ اور سیکڑوں طلبہ نے حیدرآباد روڈ پر


واقع ٹول گیٹ پر ٹول ٹیکس کی وصولی کیخلاف زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا اور دھرنا دیا، مشتعل طلبہ نے ٹول گیٹ پر توڑ پھوڑ کی، عملہ فرار ہوگیا۔ اطلاع ملنے پر مقامی افراد بھی بڑی تعداد میں احتجاج میں شریک ہو گئے، حکومت سندھ اور ٹول انتظامیہ کیخلاف نعرے لگائے۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ ٹول گیٹ پر ٹنڈو جام ونواح میں رہنے والوں اور یونیورسٹی ملازمین وطلبہ سے بھی ٹیکس وصول کیا جارہا ہے۔ ایک ہی ضلع و تعلقہ میں سفر کرنے پر ملک کے مہنگے ترین ٹول ٹیکس ریٹس وصول کیے جا رہے ہیں، ٹنڈوجام سے حیدرآباد تک کا فاصلہ صرف15 کلو میٹر ہے۔

جس کیلیے کار سے 40روپے اور موٹرسائیکل سے 15 روپے ٹول ٹیکس وصول کرنا ناانصافی ہے۔ احتجاج کے باعث حیدرآباد میرپورخاص روڈ پر میلوں تک گاڑیوں کی قطاریں لگ گئیں۔ بعدازاں پولیس و رینجرز کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی اور ٹول ٹیکس جنرل منیجر رفیق درانی، رینجرز کے افسران نے یونیورسٹی اساتذہ سے مذاکرات کیے، احتجاج تقریباً 4 گھنٹے جاری رہا، اس دوران ہزاروں مسافر اور کئی ایمبولینسیں ٹریفک جام میں پھنسی رہیں۔بعد ازاں ٹول انتظامیہ اور مظاہرین میں مذاکرات کے بعد احتجاج ختم کر دیا گیا۔
Load Next Story