مقبولیت میں کلام کے بہترانتخاب کا بھی بڑاعمل دخل ہےمنی بیگم
مردغزل گائیکوں نے تواپنی پرفارمنس کے دوران ہارمونیم بھی بجایا لیکن خواتیں غزل گائیکاؤں نے اس حوالے سے کبھی کوشش نہ کی
غزل میں پاکستان کی بادشاہت قائم رکھنے کے لیے تربیت کا اہتمام کرنا ہوگا، منفرد غزل گائیکہ منی بیگم سے مکالمہ ۔ فوٹو : طارق حسن
FAISALABAD:
موسیقی کے میدان میں پاکستان کی سرزمین نے ہمیشہ ہی اپنا لوہا منوایا ہے۔ خاص طورپرغزل کے شعبے میں توان گنت نام ایسے ہیں جنہیں پاکستان ہی نہیں بلکہ ہمارے پڑوسی ملک بھارت سمیت دنیا بھرمیں بہت سراہا گیا ہے۔ اس کی بڑی وجہ ہمارے غزل گائیکوں کا انداز اورکلام کا انتخاب ہے۔
شہنشاہ غزل مہدی حسن، اقبال بانو، فریدہ خانم اورغلاعلی سمیت دیگرغزل گائیکوں نے جس طرح سے اس شعبے کو دنیا بھرمیں انمول بنایا ہے، اس کی کوئی دوسری مثال نہیں ملتی۔ ان عظیم غزل گائیکوں کا کام توسب کے سامنے ہے لیکن ان کے علاوہ غزل گائیکی میں ایک نام منی بیگم کابھی ہے جنہوں نے اپنے منفردانداز غزل سے اپنا الگ مقام بنایا۔ وہ پاکستان کی واحدغزل گائیکہ ہیں جوگانے کے ساتھ خود ہارمونیم بجاتی ہیں۔
انہوں نے اپنے طویل فنی اننگز میں بہت سی ایسی غزلیں گائی ہیں جو اِن کے فن کے باعث امر ہوگئیں۔ ویسے تومنی بیگم گزشتہ کئی برسوں سے امریکا میں اپنی فیملی کے ہمراہ مقیم ہیں لیکن جب بھی انہیں پاکستان میں آنے کی دعوت ملتی ہے تووہ اپنی تمام ترمصروفیات ترک کرکے وطن لوٹ آتی ہیں۔
گزشتہ دنوں لاہورآرٹس کونسل کے زیراہتمام الحمراء ہال نمبر دو میں ' اک بارمسکرادو ' کے عنوان سے شام غزل کا انعقاد کیا گیا ہے۔ اس موقع پرمختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کی کثیر تعداد موجود تھی۔
امریکہ میں مقیم منی بیگم 15 برس کے بعد لاہور میں پرفارم کرنے کیلئے پہنچیں توان کا ہال میں پرتپاک استقبال کیا گیا۔ غزل گائیکہ نے دوگھنٹے کی عمدہ پرفارمنس کے دوران اپنی مقبول غزلیں سنائیں، جن میں '' آوارگی، اک بارمسکرادو، جھوم برابرجھوم، مریض محبت، کب میرا نشیمن '' سمیت دیگرشامل تھیں جبکہ پروگرام میں شائقین کی بڑی تعداد نے فرمائش کرتے ہوئے بھی منی بیگم سے اپنی پسند کی غزلیں سنیں اوران کی شاندار پرفارمنس پردل کھول کرداد بھی دی۔
اس موقع پرمنی بیگم نے اپنے مصروف ترین شیڈول کے باوجود ''ایکسپریس'' کوخصوصی انٹرویو دیا جوقارئین کی نذر ہے۔
منی بیگم نے کہا کہ ایک فنکارکے لئے یہ سب سے خوشگوار لمحات ہوتے ہیں کہ جب وہ کسی بھی پروگرام میں پرفارم کرنے کیلئے جائے تووہاں پراس کا کھڑے ہوکراستقبال کیا جائے۔ میرے نزدیک تواس سے بڑا کوئی دوسرا ایوارڈ نہیں ہوسکتا۔
پھرلاہوریوں جیسا زندہ دل توکوئی دوسرا نہیں۔ یہاں کے باسی ادب اورفن کے خوب قدردان ہیں۔ اس کی بہترین مثال الحمراء میں ہونے والے پروگرام کے ذریعے سب کے سامنے ہے۔ جس طرح سے دوگھنٹے کے دوران میری حوصلہ افزائی کی گئی اور فرمائش کرتے ہوئے غزلیں سنی گئیں، ایسا بہت کم ہوتا ہے۔ میں سمجھتی ہوں کہ اگروقت کی کمی کا سامنا نہ ہوتا توشاید یہ محفل تمام رات جاری رہتی۔ کیونکہ میرے چاہنے والے اورمیری گائی غزلیں سننے والوں کی بڑی تعداد ہال میں موجود تھی۔ کوئی بیس برس پرانی غزل کی فرمائش کررہا تھا تو کوئی اس سے بھی زیادہ پرانی غزل سننا چاہتا تھا۔
اس دوران میں نے کوشش کی کہ زیادہ سے زیادہ لوگوںکی فرمائش پوری کرسکوں ۔ جہاں تک بات وقت کی ہے تو دوگھنٹے کا دورانیہ کب شروع ہوکرختم ہوا پتہ ہی نہیں چلا۔ مگرلاہورسے ایک بارپھرپرفارمنس کے دوران مجھے ایسے یادگارلمحات سمیٹنے کا موقع ملا ہے کہ جس کولفظوں میں بیاں نہیں کرسکتی۔
صرف اتنا ہی کہہ سکتی ہوں کہ ایک فنکار کے فن کوسمجھنے والے جب تک نہیں ہوتے ، تب تک اس کواپنی ریاضت کا انعام نہیں ملتا۔ لاہور آرٹس کونسل کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کیپٹن ریٹائرڈ عطاء محمد خان اوراسٹنٹ ڈائریکٹرپروگرامزذوالفقارزولفی کا شکریہ اداکرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر لاہور آرٹس کونسل کی جانب سے مجھے اس پروگرام کی دعوت نہ ملتی تومیں اپنے چاہنے والوں کی اتنی بڑی تعداد سے نہ مل پاتی۔ سات سمندرپارسے اپنے وطن میں واپس آکراوراپنے چاہنے والوں کے سامنے پرفارم کرکے بہت خوشی ملی۔ انہوں نے بتایاکہ امریکہ میں اپنی فیملی کے ساتھ رہتی ہوں اوروہاں ہونے والی محفل غزل میں اکثرپرفارم کرتی ہوں۔ لوگ آج بھی میری گائی مقبول غزل سنتے ہیں اوریہ سلسلہ رات گئے تک جاری رہتا ہے۔
اس دوران صرف پاکستانی کمیونٹی ہی نہیں بلکہ ہندوستانی اوردیگرممالک کے لوگ بھی موجود ہوتے ہیں اورجب ان کے سامنے میرے نام کے ساتھ پاکستان کا تعارف ہوتا ہے توسرفخر سے بلند ہوجاتا ہے۔
ایک سوال کے جواب میں منی بیگم نے کہا کہ میرا غزل گائیکی میں اپنا ہی منفرد انداز ہے۔ مردغزل گائیکوں نے تواپنی پرفارمنس کے دوران ہارمونیم بھی بجایا لیکن خواتیں غزل گائیکاؤں نے اس حوالے سے کبھی کوشش نہ کی تھی۔ میں نے اپنی منفرد پہچان بنانے کیلئے ہارمونیم بجایا اورمیرے اس انداز کولوگوںنے بہت سراہا۔ مگراس کے ساتھ ساتھ یہ بھی کہنا چاہتی ہوں کہ میری وجہ شہرت میں جہاں میرے انداز گائیکی کا اہم کردار رہا ہے ۔
وہیں غزل کیلئے کلام کے انتخاب نے بھی میری کامیابی میں اہم کردار ادا کیا۔ اگرمیں فضول شاعری کا انتخاب کرکے شہرت اورکامیابی حاصل کرنا چاہتی تووہ ناممکن تھا۔ کیونکہ غزل کومیوزک کے شعبے میں ایک خاص مقام حاصل ہے اوریہ مقام صرف اورصرف معروف شعراء کے کلام کی بدولت ہی غزل کو مل پایا ہے۔ مرزا غالب، اقبال، فیض، احمد فراز سمیت دیگرشعراء کے کلام میں لوگوں کیلئے بہت سے پیغامات چھپے تھے جس کوغزل کے ذریعے جب ان تک پہنچایا گیا تو غزل کوایک اپنی پہچان ملی اورپھر اس کے سننے والوں کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ دورمیں غزل گائیکی کا شعبہ بحران کی جانب جاتا دکھائی دے رہا ہے۔
اس کی بڑی وجہ نوجوان نسل کا غزل سے دورہوجانا ہے۔ اگرآج بھی پاکستان میں فنون لطیفہ کے فروغ کیلئے بنائے گئے ادارے غزل گائیکی کے فروغ کیلئے خصوصی پروگرام ترتیب دیں تواس اہم شعبے میں پاکستان کی بادشاہت قائم رہ سکتی ہے۔ ہمارے پڑوسی ملک بھارت میں غزل کی اہمیت کوسمجھتے ہوئے پرائیویٹ چینلز خصوصی پروگراموں کا انعقاد کرکے ٹیلنٹ کوتلاش کررہے ہیں۔ اس لئے ضروری ہے کہ پاکستان میں بھی اگرنوجوانوںکواپنے فن کوپروموٹ کرنے کے بہترین مواقع ملیں گے تووہ آنے والے چند برسوں میں پاکستان کا نام پوری دنیا میں روشن کرسکیں گے۔
دوسری جانب لاہورآرٹس کونسل کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر عطاء محمد خان کا کہنا تھا کہ لاہورآرٹس کونسل نے ہمیشہ ہی کوشش کی ہے کہ ایسے پروگراموں کا انعقاد کیاجائے جس سے جہاں فن وثقافت کو فروغ ملے تووہیں شائقین بھی اپنے پسندیدہ فنکاروںکی پرفارمنس سے محظوظ ہوسکیں۔ اسی لئے منی بیگم کوخاص طورپر لاہور مدعو کیا گیا تھا۔ انہوں نے اپنی عمدہ پرفارمنس سے سماں باندہ دیا ۔ ہم کوشش کرینگے کہ آئندہ بھی ایسے ہی یادگارپروگراموں کے انعقاد کا سلسلہ جاری رکھیں اوران عظیم فنکاروں کوٹریبیوٹ پیش کرتے رہیں۔
موسیقی کے میدان میں پاکستان کی سرزمین نے ہمیشہ ہی اپنا لوہا منوایا ہے۔ خاص طورپرغزل کے شعبے میں توان گنت نام ایسے ہیں جنہیں پاکستان ہی نہیں بلکہ ہمارے پڑوسی ملک بھارت سمیت دنیا بھرمیں بہت سراہا گیا ہے۔ اس کی بڑی وجہ ہمارے غزل گائیکوں کا انداز اورکلام کا انتخاب ہے۔
شہنشاہ غزل مہدی حسن، اقبال بانو، فریدہ خانم اورغلاعلی سمیت دیگرغزل گائیکوں نے جس طرح سے اس شعبے کو دنیا بھرمیں انمول بنایا ہے، اس کی کوئی دوسری مثال نہیں ملتی۔ ان عظیم غزل گائیکوں کا کام توسب کے سامنے ہے لیکن ان کے علاوہ غزل گائیکی میں ایک نام منی بیگم کابھی ہے جنہوں نے اپنے منفردانداز غزل سے اپنا الگ مقام بنایا۔ وہ پاکستان کی واحدغزل گائیکہ ہیں جوگانے کے ساتھ خود ہارمونیم بجاتی ہیں۔
انہوں نے اپنے طویل فنی اننگز میں بہت سی ایسی غزلیں گائی ہیں جو اِن کے فن کے باعث امر ہوگئیں۔ ویسے تومنی بیگم گزشتہ کئی برسوں سے امریکا میں اپنی فیملی کے ہمراہ مقیم ہیں لیکن جب بھی انہیں پاکستان میں آنے کی دعوت ملتی ہے تووہ اپنی تمام ترمصروفیات ترک کرکے وطن لوٹ آتی ہیں۔
گزشتہ دنوں لاہورآرٹس کونسل کے زیراہتمام الحمراء ہال نمبر دو میں ' اک بارمسکرادو ' کے عنوان سے شام غزل کا انعقاد کیا گیا ہے۔ اس موقع پرمختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کی کثیر تعداد موجود تھی۔
امریکہ میں مقیم منی بیگم 15 برس کے بعد لاہور میں پرفارم کرنے کیلئے پہنچیں توان کا ہال میں پرتپاک استقبال کیا گیا۔ غزل گائیکہ نے دوگھنٹے کی عمدہ پرفارمنس کے دوران اپنی مقبول غزلیں سنائیں، جن میں '' آوارگی، اک بارمسکرادو، جھوم برابرجھوم، مریض محبت، کب میرا نشیمن '' سمیت دیگرشامل تھیں جبکہ پروگرام میں شائقین کی بڑی تعداد نے فرمائش کرتے ہوئے بھی منی بیگم سے اپنی پسند کی غزلیں سنیں اوران کی شاندار پرفارمنس پردل کھول کرداد بھی دی۔
اس موقع پرمنی بیگم نے اپنے مصروف ترین شیڈول کے باوجود ''ایکسپریس'' کوخصوصی انٹرویو دیا جوقارئین کی نذر ہے۔
منی بیگم نے کہا کہ ایک فنکارکے لئے یہ سب سے خوشگوار لمحات ہوتے ہیں کہ جب وہ کسی بھی پروگرام میں پرفارم کرنے کیلئے جائے تووہاں پراس کا کھڑے ہوکراستقبال کیا جائے۔ میرے نزدیک تواس سے بڑا کوئی دوسرا ایوارڈ نہیں ہوسکتا۔
پھرلاہوریوں جیسا زندہ دل توکوئی دوسرا نہیں۔ یہاں کے باسی ادب اورفن کے خوب قدردان ہیں۔ اس کی بہترین مثال الحمراء میں ہونے والے پروگرام کے ذریعے سب کے سامنے ہے۔ جس طرح سے دوگھنٹے کے دوران میری حوصلہ افزائی کی گئی اور فرمائش کرتے ہوئے غزلیں سنی گئیں، ایسا بہت کم ہوتا ہے۔ میں سمجھتی ہوں کہ اگروقت کی کمی کا سامنا نہ ہوتا توشاید یہ محفل تمام رات جاری رہتی۔ کیونکہ میرے چاہنے والے اورمیری گائی غزلیں سننے والوں کی بڑی تعداد ہال میں موجود تھی۔ کوئی بیس برس پرانی غزل کی فرمائش کررہا تھا تو کوئی اس سے بھی زیادہ پرانی غزل سننا چاہتا تھا۔
اس دوران میں نے کوشش کی کہ زیادہ سے زیادہ لوگوںکی فرمائش پوری کرسکوں ۔ جہاں تک بات وقت کی ہے تو دوگھنٹے کا دورانیہ کب شروع ہوکرختم ہوا پتہ ہی نہیں چلا۔ مگرلاہورسے ایک بارپھرپرفارمنس کے دوران مجھے ایسے یادگارلمحات سمیٹنے کا موقع ملا ہے کہ جس کولفظوں میں بیاں نہیں کرسکتی۔
صرف اتنا ہی کہہ سکتی ہوں کہ ایک فنکار کے فن کوسمجھنے والے جب تک نہیں ہوتے ، تب تک اس کواپنی ریاضت کا انعام نہیں ملتا۔ لاہور آرٹس کونسل کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کیپٹن ریٹائرڈ عطاء محمد خان اوراسٹنٹ ڈائریکٹرپروگرامزذوالفقارزولفی کا شکریہ اداکرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر لاہور آرٹس کونسل کی جانب سے مجھے اس پروگرام کی دعوت نہ ملتی تومیں اپنے چاہنے والوں کی اتنی بڑی تعداد سے نہ مل پاتی۔ سات سمندرپارسے اپنے وطن میں واپس آکراوراپنے چاہنے والوں کے سامنے پرفارم کرکے بہت خوشی ملی۔ انہوں نے بتایاکہ امریکہ میں اپنی فیملی کے ساتھ رہتی ہوں اوروہاں ہونے والی محفل غزل میں اکثرپرفارم کرتی ہوں۔ لوگ آج بھی میری گائی مقبول غزل سنتے ہیں اوریہ سلسلہ رات گئے تک جاری رہتا ہے۔
اس دوران صرف پاکستانی کمیونٹی ہی نہیں بلکہ ہندوستانی اوردیگرممالک کے لوگ بھی موجود ہوتے ہیں اورجب ان کے سامنے میرے نام کے ساتھ پاکستان کا تعارف ہوتا ہے توسرفخر سے بلند ہوجاتا ہے۔
ایک سوال کے جواب میں منی بیگم نے کہا کہ میرا غزل گائیکی میں اپنا ہی منفرد انداز ہے۔ مردغزل گائیکوں نے تواپنی پرفارمنس کے دوران ہارمونیم بھی بجایا لیکن خواتیں غزل گائیکاؤں نے اس حوالے سے کبھی کوشش نہ کی تھی۔ میں نے اپنی منفرد پہچان بنانے کیلئے ہارمونیم بجایا اورمیرے اس انداز کولوگوںنے بہت سراہا۔ مگراس کے ساتھ ساتھ یہ بھی کہنا چاہتی ہوں کہ میری وجہ شہرت میں جہاں میرے انداز گائیکی کا اہم کردار رہا ہے ۔
وہیں غزل کیلئے کلام کے انتخاب نے بھی میری کامیابی میں اہم کردار ادا کیا۔ اگرمیں فضول شاعری کا انتخاب کرکے شہرت اورکامیابی حاصل کرنا چاہتی تووہ ناممکن تھا۔ کیونکہ غزل کومیوزک کے شعبے میں ایک خاص مقام حاصل ہے اوریہ مقام صرف اورصرف معروف شعراء کے کلام کی بدولت ہی غزل کو مل پایا ہے۔ مرزا غالب، اقبال، فیض، احمد فراز سمیت دیگرشعراء کے کلام میں لوگوں کیلئے بہت سے پیغامات چھپے تھے جس کوغزل کے ذریعے جب ان تک پہنچایا گیا تو غزل کوایک اپنی پہچان ملی اورپھر اس کے سننے والوں کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ دورمیں غزل گائیکی کا شعبہ بحران کی جانب جاتا دکھائی دے رہا ہے۔
اس کی بڑی وجہ نوجوان نسل کا غزل سے دورہوجانا ہے۔ اگرآج بھی پاکستان میں فنون لطیفہ کے فروغ کیلئے بنائے گئے ادارے غزل گائیکی کے فروغ کیلئے خصوصی پروگرام ترتیب دیں تواس اہم شعبے میں پاکستان کی بادشاہت قائم رہ سکتی ہے۔ ہمارے پڑوسی ملک بھارت میں غزل کی اہمیت کوسمجھتے ہوئے پرائیویٹ چینلز خصوصی پروگراموں کا انعقاد کرکے ٹیلنٹ کوتلاش کررہے ہیں۔ اس لئے ضروری ہے کہ پاکستان میں بھی اگرنوجوانوںکواپنے فن کوپروموٹ کرنے کے بہترین مواقع ملیں گے تووہ آنے والے چند برسوں میں پاکستان کا نام پوری دنیا میں روشن کرسکیں گے۔
دوسری جانب لاہورآرٹس کونسل کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر عطاء محمد خان کا کہنا تھا کہ لاہورآرٹس کونسل نے ہمیشہ ہی کوشش کی ہے کہ ایسے پروگراموں کا انعقاد کیاجائے جس سے جہاں فن وثقافت کو فروغ ملے تووہیں شائقین بھی اپنے پسندیدہ فنکاروںکی پرفارمنس سے محظوظ ہوسکیں۔ اسی لئے منی بیگم کوخاص طورپر لاہور مدعو کیا گیا تھا۔ انہوں نے اپنی عمدہ پرفارمنس سے سماں باندہ دیا ۔ ہم کوشش کرینگے کہ آئندہ بھی ایسے ہی یادگارپروگراموں کے انعقاد کا سلسلہ جاری رکھیں اوران عظیم فنکاروں کوٹریبیوٹ پیش کرتے رہیں۔