نوجوان کارکن نچلی سطح پر ذمے داریوں کے لیے تیاررہیں بلاول
پیپلز پارٹی کارکنان اور نوجوانوں کوبلدیاتی انتخابی ٹکٹ جاری کرے گی، اجلاس سے خطاب
پیپلز پارٹی کارکنان اور نوجوانوں کوبلدیاتی انتخابی ٹکٹ جاری کرے گی، اجلاس سے خطاب فوٹو : آن لائن
پی پی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہاہے کہ پیپلز پارٹی آنے والے بلدیاتی انتخابات میں سندھ اور پنجاب سے کارکنان اور نوجوانوں کوانتخابی ٹکٹ جاری کرے گی، انھوں نے پارٹی کارکنان اور نوجوانوں سے کہا کہ نچلی سطح پررہنمائی کی ذمے داری سنبھالنے کیلیے تیار رہیں۔
وہ بلاول ہاؤس میں دادو سے تعلق رکھنے والے پیپلز پارٹی کے منتخب نمائندوں اور پارٹی عہدے داروں کے اجلاس سے خطاب کررہے تھے۔اس موقع پر سابق صدر اور شریک چیئرمین آصف زرداربھی موجود تھے۔ پیپلز پارٹی کی قیادت نے کہا کہ سندھ حکومت سے کہا گیا کہ وہ آئندہ بلدیاتی الیکشن کے حوالے سے دھاندلیوں کو روکنے اور امن و امان کی صورت حال برقرار رکھنے کے لیے اقدام کرے۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ الیکشن کمیشن سے ڈویژنل سطح پر مرحلہ وار بلدیاتی انتخابات کرانے کی گزارش کی ہے۔ دریں اثنا آصف زرداری نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی جانب سے بنگلا دیش میں1971 کے واقعات پر تبصرہ جس میں ایک مرتبہ پھر پاکستان پر دہشت گردی کی پشت پناہی کا الزام لگایا ہے، پر نہایت مایوسی کا اظہار کیا ہے۔
ایک بیان میں انھوں نے کہا کہ بھارتی وزیراعظم کی جانب سے یہ غیرضروری تبصرہ پاکستان اور بھارت کے تعلقات بہتر کرنے میں معاون نہیں ہوگا جبکہ پاکستان اور بھارت کی حکومتیں اور دونوں ممالک کے ایک ارب سے زیادہ عوام امن اور اچھے تعلقات کے خواہاں ہیں۔ دہشت گردی علاقے کے عوام کی مشترکہ دشمن ہے اور اس سے لڑنے کیلیے دونوں ممالک کو ایک دوسرے کے ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر ایک ساتھ کام کرنا چاہیے، ایک دوسرے کو الزام دینے سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔
سابق صدر نے کہا کہ 1971 کے واقعات ہماری تاریخ ایک تلخ باب ہے، پرانے زخموں کو کریدنے کا کوئی مقصد نہیں۔ علاوہ ازیں آصف زرداری اوربلاول بھٹو زرداری نے کوئٹہ میں دہشت گردوں کے ہاتھوں ہزارہ برادری کے 5 افراد کے بہیمانہ قتل کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔
وہ بلاول ہاؤس میں دادو سے تعلق رکھنے والے پیپلز پارٹی کے منتخب نمائندوں اور پارٹی عہدے داروں کے اجلاس سے خطاب کررہے تھے۔اس موقع پر سابق صدر اور شریک چیئرمین آصف زرداربھی موجود تھے۔ پیپلز پارٹی کی قیادت نے کہا کہ سندھ حکومت سے کہا گیا کہ وہ آئندہ بلدیاتی الیکشن کے حوالے سے دھاندلیوں کو روکنے اور امن و امان کی صورت حال برقرار رکھنے کے لیے اقدام کرے۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ الیکشن کمیشن سے ڈویژنل سطح پر مرحلہ وار بلدیاتی انتخابات کرانے کی گزارش کی ہے۔ دریں اثنا آصف زرداری نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی جانب سے بنگلا دیش میں1971 کے واقعات پر تبصرہ جس میں ایک مرتبہ پھر پاکستان پر دہشت گردی کی پشت پناہی کا الزام لگایا ہے، پر نہایت مایوسی کا اظہار کیا ہے۔
ایک بیان میں انھوں نے کہا کہ بھارتی وزیراعظم کی جانب سے یہ غیرضروری تبصرہ پاکستان اور بھارت کے تعلقات بہتر کرنے میں معاون نہیں ہوگا جبکہ پاکستان اور بھارت کی حکومتیں اور دونوں ممالک کے ایک ارب سے زیادہ عوام امن اور اچھے تعلقات کے خواہاں ہیں۔ دہشت گردی علاقے کے عوام کی مشترکہ دشمن ہے اور اس سے لڑنے کیلیے دونوں ممالک کو ایک دوسرے کے ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر ایک ساتھ کام کرنا چاہیے، ایک دوسرے کو الزام دینے سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔
سابق صدر نے کہا کہ 1971 کے واقعات ہماری تاریخ ایک تلخ باب ہے، پرانے زخموں کو کریدنے کا کوئی مقصد نہیں۔ علاوہ ازیں آصف زرداری اوربلاول بھٹو زرداری نے کوئٹہ میں دہشت گردوں کے ہاتھوں ہزارہ برادری کے 5 افراد کے بہیمانہ قتل کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔