ایف بی آرکاکرپٹ افسران کیخلاف کارروائی کرنے کافیصلہ
ڈائریکٹریٹ جنرل انٹیلی جنس کی سفارش پر کرپٹ افسران کی فہرستیں تیار کی جائینگی
ہیڈکوارٹرزکورپورٹ میں کرپٹ افسران کے ٹیکس چوروں کومدد کی فراہمی سے آگاہ کیاگیا فوٹو: فائل
فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے ماتحت ادارے ڈائریکٹریٹ جنرل انٹیلی جنس اینڈ انویسٹی گیشن ان لینڈ ریونیو نے ٹیکس چوروں کے ساتھ ساتھ محکمے میں موجود کرپٹ افسران کے خلاف انضباطی کارروائی کرنے کی سفارش کردی ہے۔
''ایکسپریس'' کو دستیاب دستاویز کے مطابق ڈائریکٹریٹ جنرل انٹیلی جنس اینڈ انویسٹی گیشن ان لینڈ ریونیو کی جانب سے ایف بی آر ہیڈکوارٹرزکو رپورٹ بھجوائی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ڈائریکٹریٹ جنرل انٹیلی جنس اینڈ انویسٹی گیشن ٹیکس چوری روکنے اور ٹیکس چوروں کا سراغ لگاکر ٹیکس واجبات کی ریکوری کے لیے بھرپور مہم جاری رکھے ہوئے ہے مگرڈائریکٹریٹ جنرل انٹیلی جنس اینڈ انویسٹی گیشن ان لینڈ ریونیو کو 2 قسم کے چیلنجز کا سامنا ہے جن میں پہلا ٹیکس دہندگان میں موجود بے ایمان عناصر ہیں جو مختلف طریقوں سے ٹیکس چوری کرتے ہیں جبکہ دوسرا بڑا چیلنج ہمارے (ایف بی آر اور اس کے ماتحت اداروں کے) اپنے کرپٹ افسران ہیں جو ان بے ایمان ٹیکس چوروں کی ٹیکس چوری میں مدد کرتے ہیں۔
یہ کرپٹ افسران ٹیکس دہندگان کو ٹیکس چھپانے اور ٹیکس چوری کے لیے غیرقانونی طور پر سہولتیں فراہم کرتے ہیں اور ٹیکس چوری کرنے میں انکی مدد کرتے ہیں، یہی نہیں بلکہ انہیں غیرقانونی ریفنڈز دلوانے میں بھی مدد کرتے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ ٹیکس چوری روکنے کے لیے ٹیکس دہندگان کے ساتھ ساتھ محکمے کے اپنے کرپٹ افسران کے خلاف بھی کارروائی کرنے کی ضرورت ہے۔ رپورٹ میں کہا گیاکہ محکمے سے کرپشن کے خاتمے کے لیے کرپٹ افسران کے خلاف کارروائی کے لیے انہوں نے کیس بھجوائے ہیں اور ایف بی آر سے کہا ہے کہ ان افسران کے خلاف کارروائی کی جائے، جب تک محکمے کے کرپٹ افسران کے خلاف کارروائی نہیں ہوگی اس وقت تک ٹیکس چوری روکنے کے لیے موثر اقدامات نہیں ہوسکیں گے۔
رپورٹ میں انکشاف کیا گیاکہ ڈائریکٹریٹ جنرل انٹیلی جنس اینڈ انویسٹی گیشن کی بہت چھوٹی ٹیم نے جان کو خطرے میں ڈال کر ٹیکس چوری میں ملوث مجرموں کا سراغ لگا کر ان کے خلاف ایف آئی آرز رجسٹرڈ کرائی ہیں۔ رپورٹ میں ڈائریکٹر جنرل انٹیلی جنس اینڈ انویسٹی گیشن ہارون ترین نے لکھا کہ انہوں نے اپنی ٹیم کو سختی سے ہدایت کی ہے کہ وہ صاف و شفاف اور منصفانہ طریقے سے بغیر کسی ذاتی عداوت ان افسران کے نام سامنے لائیں جو ان مجرموں کو بنیادی مجرمانہ امداد فراہم کررہے ہیں جس کے نتیجے میں قومی خزانے کو بھاری نقصان ہورہا ہے۔
انہوں نے رپورٹ میں سفارش کی کہ کرپٹ افسران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ مذکورہ رپورٹ کے تحت ایف بی آر نے افسران کے خلاف کارروائی شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ایف بی آر کے کرپٹ افسران کی فہرست تیار کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے، انکوائری کے تحت جو کرپٹ افسران ہوں گے انہیں اہم عہدوں پر اور ایسے عہدوں پر تعینات نہیں کیا جائے گا جہاں ٹیکس سے متعلقہ اہم معاملات ہوں گے اور جہاں پبلک ڈیلنگ ہوگی، اہل و ایماندار افسران کو اہم عہدوں پر تعینات کیا جائے گا۔
''ایکسپریس'' کو دستیاب دستاویز کے مطابق ڈائریکٹریٹ جنرل انٹیلی جنس اینڈ انویسٹی گیشن ان لینڈ ریونیو کی جانب سے ایف بی آر ہیڈکوارٹرزکو رپورٹ بھجوائی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ڈائریکٹریٹ جنرل انٹیلی جنس اینڈ انویسٹی گیشن ٹیکس چوری روکنے اور ٹیکس چوروں کا سراغ لگاکر ٹیکس واجبات کی ریکوری کے لیے بھرپور مہم جاری رکھے ہوئے ہے مگرڈائریکٹریٹ جنرل انٹیلی جنس اینڈ انویسٹی گیشن ان لینڈ ریونیو کو 2 قسم کے چیلنجز کا سامنا ہے جن میں پہلا ٹیکس دہندگان میں موجود بے ایمان عناصر ہیں جو مختلف طریقوں سے ٹیکس چوری کرتے ہیں جبکہ دوسرا بڑا چیلنج ہمارے (ایف بی آر اور اس کے ماتحت اداروں کے) اپنے کرپٹ افسران ہیں جو ان بے ایمان ٹیکس چوروں کی ٹیکس چوری میں مدد کرتے ہیں۔
یہ کرپٹ افسران ٹیکس دہندگان کو ٹیکس چھپانے اور ٹیکس چوری کے لیے غیرقانونی طور پر سہولتیں فراہم کرتے ہیں اور ٹیکس چوری کرنے میں انکی مدد کرتے ہیں، یہی نہیں بلکہ انہیں غیرقانونی ریفنڈز دلوانے میں بھی مدد کرتے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ ٹیکس چوری روکنے کے لیے ٹیکس دہندگان کے ساتھ ساتھ محکمے کے اپنے کرپٹ افسران کے خلاف بھی کارروائی کرنے کی ضرورت ہے۔ رپورٹ میں کہا گیاکہ محکمے سے کرپشن کے خاتمے کے لیے کرپٹ افسران کے خلاف کارروائی کے لیے انہوں نے کیس بھجوائے ہیں اور ایف بی آر سے کہا ہے کہ ان افسران کے خلاف کارروائی کی جائے، جب تک محکمے کے کرپٹ افسران کے خلاف کارروائی نہیں ہوگی اس وقت تک ٹیکس چوری روکنے کے لیے موثر اقدامات نہیں ہوسکیں گے۔
رپورٹ میں انکشاف کیا گیاکہ ڈائریکٹریٹ جنرل انٹیلی جنس اینڈ انویسٹی گیشن کی بہت چھوٹی ٹیم نے جان کو خطرے میں ڈال کر ٹیکس چوری میں ملوث مجرموں کا سراغ لگا کر ان کے خلاف ایف آئی آرز رجسٹرڈ کرائی ہیں۔ رپورٹ میں ڈائریکٹر جنرل انٹیلی جنس اینڈ انویسٹی گیشن ہارون ترین نے لکھا کہ انہوں نے اپنی ٹیم کو سختی سے ہدایت کی ہے کہ وہ صاف و شفاف اور منصفانہ طریقے سے بغیر کسی ذاتی عداوت ان افسران کے نام سامنے لائیں جو ان مجرموں کو بنیادی مجرمانہ امداد فراہم کررہے ہیں جس کے نتیجے میں قومی خزانے کو بھاری نقصان ہورہا ہے۔
انہوں نے رپورٹ میں سفارش کی کہ کرپٹ افسران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ مذکورہ رپورٹ کے تحت ایف بی آر نے افسران کے خلاف کارروائی شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ایف بی آر کے کرپٹ افسران کی فہرست تیار کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے، انکوائری کے تحت جو کرپٹ افسران ہوں گے انہیں اہم عہدوں پر اور ایسے عہدوں پر تعینات نہیں کیا جائے گا جہاں ٹیکس سے متعلقہ اہم معاملات ہوں گے اور جہاں پبلک ڈیلنگ ہوگی، اہل و ایماندار افسران کو اہم عہدوں پر تعینات کیا جائے گا۔