غیرملکی سرمایہ کاروں نے وفاقی بجٹ پرتحفظات کا اظہارکردیا

بجٹ خسارے کا ہدف 3100 ارب کی ٹیکس وصولیوں سے مشروط ہو گا، نان فائلرز کے لیے جرمانے کم رکھے گئے،عاطف باجوہ

4.3 فیصدکا مالیاتی خسارے کا ہدف بھی مکمل طورپر3100 ارب کے ٹیکس حاصل کرنے سے مشروط ہے ۔ فوٹو: فائل

اوورسیزانویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (او آئی سی سی آئی) نے وفاقی بجٹ پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بجٹ 2015-16 میں کچھ سیکٹرز کے لیے مراعات اور اہداف رکھے گئے ہیں لیکن بجٹ میں براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری اور بڑی سرمایہ کاری کے لیے ضروری اقدامات شامل نہیں ہیں جبکہ ٹیکس کے دائرہ کار کو وسیع کرنے کے لیے بھی انتہائی محدود تجاویز شامل کی گئی ہیں۔

او آئی سی سی آئی کو اس بات کا ادراک ہے کہ حکومت سب کو خوش کرنے والا بجٹ نہیں پیش کرسکتی مگر ملک میں براہ راست بیرونی سرمایہ کاری میں حائل مسائل اور بڑی سرمایہ کاری کے لیے درکار مراعات جس میں ملک میں روزگار کے مواقع پیدا ہوں کو بھی بجٹ کی ترجیحات میں شامل ہونا چاہیے تھا۔ او آئی سی سی آئی کے صدر عاطف باجوہ نے کہاکہ گزشتہ سال کی گروتھ کو مدنظر رکھا جائے تو 5.5 فیصد کا جی ڈی پی گروتھ ٹارگٹ' مینوفیکچرنگ سیکٹر کی 6.4 فیصد، زرعی سیکٹر کی 3.9فیصد اور سروس سیکٹر کی 5.7 فیصد شرح نمو پر منحصر ہے۔

انکا کہنا تھا کہ 4.3 فیصدکا مالیاتی خسارے کا ہدف بھی مکمل طورپر3100 ارب کے ٹیکس حاصل کرنے سے مشروط ہے جو 2014-15 کے نظرثانی شدہ ہدف سے 19فیصد زائد ہے۔انہوں نے کہاکہ 5.5 فیصد کا جی ڈی پی گروتھ ہدف حاصل کرنے کے لیے ٹیکس بیس کو بڑھانے کے سنجیدہ اقدامات کرنا ہوں گے۔ انہوں نے کہاکہ گزشتہ 7 مالی سال میں اہداف حاصل نہیں کیے جا سکے لہٰذا بہتر ہوتا اگر ٹیکس محاصل بڑھانے کے لیے مجوزہ اقدامات کا تفصیلی ذکر کیا جاتا جن کے ذریعے ٹیکس ادا نہ کرنے والے یا اپنی آمدنی سے کم ٹیکس دینے والے افراد کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے گا۔


انہوں نے 700ارب روپے کے پی ایس ڈی پی پروگرام کو سراہتے ہوئے کہاکہ ملک اور معیشت کی ترقی کے لیے ضروری پروجیکٹس کی تکمیل کے لیے اس پیسے کو خرچ کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے ہاؤسنگ، زراعت، ٹرانسمیشن لائنز، کولڈ اسٹوریج اور حلال گوشت کے پروجیکٹس اور خیبر پختونخوا صوبے کو دی جانے والی مراعات کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ صوبہ خیبر پختونخوا کو دی جانے والی مراعات کا دائرہ کار پورے ملک تک وسیع کیا جانا چاہیے تھا۔

انہوں نے کارپوریٹ ٹیکس میں سال 2013 کی پالیسی کے تحت 1فیصد کمی کو سراہتے ہوئے کہا کہ 500ملین سے زائد کی آمدنی حاصل کرنے والے اداروں پر سپرٹیکس کے نفاذ سے بینکنگ سیکٹرکو 4فیصد جبکہ دوسرے اداروں کو 3فیصد اضافی ٹیکس دینا ہوگا جس سے کارپوریٹ ٹیکس میں 1 فیصد کمی کے مثبت اثرات زائل ہو گئے ہیں، یہ ٹیکس خاص طورپر اوآئی سی سی آئی کی ممبر کمپنیوں کو متاثر کرے گا۔عاطف باجوہ نے کہاکہ غیر تقسیم شدہ کیش ریزروز جو100فیصد پیڈ اپ کیپٹل سے زائد ہوں پر 10فیصد ٹیکس سے کیپٹل فارمیشن میں رکاوٹیں حائل ہوں گی اور نئے پروجیکٹس اور ریگولر سرمایہ کاری بھی متاثر ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ اس سے بینکوں کو قرضے جاری کرنے میں بھی رکاوٹ ہوگی جو اس وقت معیشت کے لیے نہایت ضروری ہے، ملکی بینکنگ سیکٹر پہلے ہی بجٹ میں اعلان کردہ ٹیکس ایڈجسٹمنٹ کی وجہ سے متاثر ہورہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ غیر دستاویزی معیشت کے حجم کو سامنے رکھتے ہوئے بجٹ میں نان فائلرز کے لیے بہت کم جرمانے سامنے لائے گئے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ او آئی سی سی آئی کی جانب سے دی گئی تجاویز کہ تمام ذرائع آمدنی رکھنے والے افراد پر یکساں ٹیکس لاگو کیا جائے اور ٹیکس اداکرنے والے افراد پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے کو بجٹ میں شامل نہیں کیا گیا ہے، حکومت کا ہدف اب بھی ودہولڈنگ ٹیکسز ہی ہیں۔ او آئی سی سی آئی نے مطالبہ کیا کہ استعداد اور احتساب کے عمل سے قانون کی پاسداری کرائی جائے۔انہوں نے کہاکہ برآمدی شعبے خصوصاً ویلیو ایڈڈ ٹیکسٹائل کے لیے مراعات خوش آئند ہیں جس سے برآمدات میں اضافہ ہوگا۔

انہوں نے ہاؤسنگ اور زراعت کے لیے مراعات کو سراہتے ہوئے کہا کہ او آئی سی سی آئی نے انکم ٹیکس آرڈیننس کے سیکشن 65کے تحت غیرملکی سرمایہ کاری میں اضافے کے لیے تجاویز دی تھیں جن کو یکسر نظر انداز کیا گیا ہے اور یہ تشویش کا باعث ہے۔عاطف باجوہ نے کہاکہ بجٹ تجاویز میں ورلڈ بینک کی جانب سے اٹھائے گئے ایزآف ڈوئنگ بزنس مسائل کے حل بھی شامل نہیں کیے گئے ہیں۔انہوں نے کہاکہ کسٹم ڈیوٹی کو 20فیصد کی سطح پر لانے سے کچھ کاروباری سیکٹرز کی لاگت میں کمی آئے گی مگر اس سے خام مال کی جگہ تیار مصنوعات کی درآمد کی بھی حوصلہ افزائی ہوگی۔ انہوں نے کہاکہ مجموعی طورپر ڈائریکٹ اور ان ڈائریکٹ ٹیکسز کے تناسب میں کوئی خاص تبدیلی نہیں لائی گئی جبکہ عام آدمی پر سے ٹیکس کے بوجھ کو کم کیا جانا ضروری تھا۔
Load Next Story