فیفا کی تشکیل نو تک آسٹریلیا کا بڈز دینے سے انکار

2023 ویمنز ورلڈ کپ کی میزبانی کا ارادہ موخر،رشوت دینے کا الزام مسترد ،پولیس نے ناکام بڈکی تحقیقات شروع کردیں

2023 ویمنز ورلڈ کپ کی میزبانی کا ارادہ موخر،رشوت دینے کا الزام مسترد ،پولیس نے ناکام بڈکی تحقیقات شروع کردیں ۔ فوٹو : فائل

KARACHI:
آسٹریلیا نے تبدیلیوں کے بغیر فیفا ایونٹس کیلیے بڈز نہ دینے کا اعلان کردیا،2023 ویمنز ورلڈ کپ کیلیے بڈ بھی ملتوی کردی گئی ہے، پولیس نے 2022 کی ناکام بڈ کی تحقیقات شروع کردیں۔

آسٹریلیا اس وقت32 ملین ڈالر اخراجات کے باوجود محض ایک ووٹ لے پایا تھا، دوسری جانب فٹبال فیڈریشن آسٹریلیا کے چیئرمین فرینک لووی نے2022 ورلڈ کپ میں رشوت دینے کے الزامات کی سختی سے تردید کردی۔ تفصیلات کے مطابق آسٹریلیا نے فیفا کی تنظیم نو تک2023 ویمنزورلڈکپ کیلیے بڈ ملتوی کردی، فٹبال کی عالمی گورننگ باڈی کوان دنوں کرپشن اسکینڈل کاسامنا ہے۔

فٹبال فیڈریشن آسٹریلیا نے ایک ماہ قبل ویمنزفٹبال ورلڈ کپ کی میزبانی کیلیے بڈ جمع کرانے کا اعلان کیا تھا، مگر کرپشن کیس میں درجن بھر سے زائد فٹبال اور میڈیا ایگزیکٹیوز کی حراست کے بعد آسٹریلوی2022 مینز ٹورنامنٹ کیلیے ناکام بڈ کی دوبارہ اسکروٹنی شروع ہوگئی ہے، ایف ایف اے نے ایک بیان میں کہاکہ موجودہ بگڑی ہوئی صورتحال میں ہم فیفا کے کسی بھی ٹورنامنٹ کیلیے بڈنگ پر غور نہیں کررہے۔


ہم نے واضح طور پر کہہ دیاکہ اہم اصلاحات کی ضرورت ہے، فیفا کے مسائل گمبھیر اور کئی دہائیوں پر الجھے ہوئے ہیں، جب تک موجودہ گورننس ماڈل کی تشکیل نو نہیں ہوتی ہمارے لیے آسٹریلیا کو ایک بڈنگ ملک کے طور پر پیش کرنا ممکن نہیں، انھوں نے مزید تفصیلات کی فراہمی سے انکار کیا۔ یاد رہے کہ آسٹریلیا نے جنوری میں ایشین کپ کا کامیابی سے انعقاد کیا لیکن اسے 2022 ورلڈ کپ کی میزبانی حاصل کرنے کیلیے صرف ایک ووٹ ملا، یہ دوڑ متنازع طور پر قطر نے جیت لی تھی۔2022 کیلیے بڈنگ پراسس ان کئی ورلڈ کپس میں شامل ہے۔

جس کی امریکی اور سوئس حکام رشوت ستانی الزامات کے تحت تحقیقات کررہے ہیں۔ نیشنل پولیس آسٹریلیا کی2022 بڈ کی تحقیقات کررہی ہے جس پر خود فیفا کی ایتھکس کمیٹی نے گذشتہ برس ایک سمری میں تنقید کی تھی ۔ مقامی وکیل نک زینوفون نے بھی آسٹریلیا کی بڈ پر پارلیمانی انکوائری پر زور دیا، صدر ایف ایف اے فرینک لووے پر بھی مقامی میڈیا کی طرف سے آسٹریلین بڈ کی وضاحت تک مستعفیٰ ہونے پر دباؤ ڈالا جارہا ہے۔

البتہ انھوں نے کہاکہ ملکی بڈ شفاف تھی،آسٹریلوی وزیر کھیل سوسان نے گذشتہ ہفتے کہا تھا کہ حکومت فٹبال کی عالمی گورننگ باڈی میں اہم اصلاحات تک مستقبل کی کسی بھی بڈ میں عوام کا پیسہ استعمال کرنے پر غور نہ کرے۔دریں اثنا فرینک لووے نے اقرارکیاکہ آسٹریلیا کو2022 ورلڈکپ کیلیے بڈنگ کی کامیابی کا یقین نہیں تھا، انھوں نے کسی بھی قسم کی رشوت دینے سے بھی انکارکیا۔

میزبانی کیلیے32 ملین ڈالر خرچ کرنے کے بعد آسٹریلیا کوصرف ایک ووٹ ملا تھا، اس کا مقابلہ امریکا، جاپان، جنوبی کوریا اور قطر سے تھا جسے متنازع طور پر ٹورنامنٹ کی میزبانی دیدی گئی تھی۔آسٹریلوی بڈ سے5 لاکھ ڈالر مبینہ طور پر سابق فیفا آفیشل جیک وارنر کے اکاؤنٹ میں منتقل ہونے پربھی لووے سے تحقیقات جاری ہیں، پولیس نے گذشتہ ہفتے کہا تھا کہ ہم اس مسئلے میں کرپشن الزامات کی تحقیقات کررہے ہیں، لووے کا کہنا ہے کہ انھوں نے حکام کو وہ تمام باتیں بتادیں جو معلوم تھیں۔
Load Next Story