شخیبرپختونخوا انتخابات آئینی تقاضے مقدم رکھے جائیں
یہ بات بالکل صائب ہے کہ دوبارہ الیکشن کوئی بچوں کا کھیل نہیں
بلدیاتی انتخابات کے تناظر میں راست اقدامات کیے جائیں اور آئینی و قانونی تقاضوں کو ملحوظ خاطر رکھا جائے۔ فوٹو:فائل
خیبرپختونخوا میں ہونے والے حالیہ بلدیاتی انتخابات میں شدید بدنظمی، دھاندلی اور انتظامی امور کی ناقص حکمت عملی کا غلغلہ ابھی تھما نہیں ہے اور چہار اطراف سے دوبارہ انتخابات اور نتائج کو کالعدم قرار دینے کا شور برپا ہے لیکن ری الیکشن کی باتیں کرنے والے شاید اس بات سے بے خبر نہ ہوں کہ انتخابات کے انعقاد میں کس قدر دشواریاں حائل ہوتی ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ر) سردار رضا نے خیبرپختونخوا میں دوبارہ بلدیاتی انتخابات کرانے کے متعلق عمران خان کے بیان پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ دوبارہ انتخابات کرانا گڑیا گڈے کا کھیل نہیں، ری الیکشن کرانے والوں کا علاج کریں گے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق الیکشن کمیشن نے گزشتہ روز نوشہرہ میں بلدیاتی انتخابات کے دوران دھاندلی کی درخواست پر سماعت کی، اس دوران ڈی پی او اور ڈی سی او نوشہرہ پیش ہوئے، جسٹس (ر) سردار رضا نے ریمارکس دیے کہ خیبرپختونخوا میں بلدیاتی انتخابات کے روز پولیس، انتظامیہ کے کنٹرول میں تھی جس نے الیکشن کمیشن کا ساتھ نہیں دیا جب کہ انتظامیہ نے صوبے میں امن وامان کی صورتحال پر توجہ نہیں دی، سندھ پولیس نے این اے 246کراچی کے ضمنی الیکشن میں الیکشن کمیشن کا بھرپور ساتھ دیا لیکن خیبرپختونخوا پولیس اس میں ناکام رہی، اس کی آنکھیں بند تھیں، خیبرپختونخوا میں دوبارہ انتخابات کرانے کا فیصلہ ہمیں کرنا ہے۔
دوسری جانب تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کا موقف ہے کہ انھوں نے کبھی نہیں کہا کہ الیکشن گڈا گڈی کا کھیل ہیں۔ علاوہ ازیں تحریک انصاف سمیت 5 سیاسی جماعتوں نے خیبرپختونخوا بلدیاتی انتخابات کو دھاندلی زدہ قرار دیتے ہوئے دوبارہ پورے صوبے میں بلدیاتی انتخابات کرانے پر اتفاق کرلیا جب کہ اے پی سی کا بائیکاٹ کرنے والی سیاسی جماعتوں کو راضی کرتے ہوئے مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے 4 رکنی کمیٹی تشکیل دے دی گئی، بلدیاتی انتخابات میں دھاندلی کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن بھی تشکیل دینے پر اتفاق کیا گیا ہے۔
موجودہ تناظر میں تمام سیاسی جماعتوں کو سیاسی بصیرت کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ یہ بات بالکل صائب ہے کہ دوبارہ الیکشن کوئی بچوں کا کھیل نہیں۔ انتخابات کے دوران جو شدید انتظامی بدنظمی دیکھنے میں آئی جب کہ سیاسی جماعتوں کی جانب سے ایک دوسرے پر دھاندلی کے روایتی الزامات اور فائرنگ کے واقعات میں ہلاکتیں وقوع پذیر ہوئیں، ان میں سب کے لیے سبق پنہاں ہے، بلدیاتی انتخابات کے تناظر میں راست اقدامات کیے جائیں اور آئینی و قانونی تقاضوں کو ملحوظ خاطر رکھا جائے۔
یہی وجہ ہے کہ چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ر) سردار رضا نے خیبرپختونخوا میں دوبارہ بلدیاتی انتخابات کرانے کے متعلق عمران خان کے بیان پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ دوبارہ انتخابات کرانا گڑیا گڈے کا کھیل نہیں، ری الیکشن کرانے والوں کا علاج کریں گے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق الیکشن کمیشن نے گزشتہ روز نوشہرہ میں بلدیاتی انتخابات کے دوران دھاندلی کی درخواست پر سماعت کی، اس دوران ڈی پی او اور ڈی سی او نوشہرہ پیش ہوئے، جسٹس (ر) سردار رضا نے ریمارکس دیے کہ خیبرپختونخوا میں بلدیاتی انتخابات کے روز پولیس، انتظامیہ کے کنٹرول میں تھی جس نے الیکشن کمیشن کا ساتھ نہیں دیا جب کہ انتظامیہ نے صوبے میں امن وامان کی صورتحال پر توجہ نہیں دی، سندھ پولیس نے این اے 246کراچی کے ضمنی الیکشن میں الیکشن کمیشن کا بھرپور ساتھ دیا لیکن خیبرپختونخوا پولیس اس میں ناکام رہی، اس کی آنکھیں بند تھیں، خیبرپختونخوا میں دوبارہ انتخابات کرانے کا فیصلہ ہمیں کرنا ہے۔
دوسری جانب تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کا موقف ہے کہ انھوں نے کبھی نہیں کہا کہ الیکشن گڈا گڈی کا کھیل ہیں۔ علاوہ ازیں تحریک انصاف سمیت 5 سیاسی جماعتوں نے خیبرپختونخوا بلدیاتی انتخابات کو دھاندلی زدہ قرار دیتے ہوئے دوبارہ پورے صوبے میں بلدیاتی انتخابات کرانے پر اتفاق کرلیا جب کہ اے پی سی کا بائیکاٹ کرنے والی سیاسی جماعتوں کو راضی کرتے ہوئے مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے 4 رکنی کمیٹی تشکیل دے دی گئی، بلدیاتی انتخابات میں دھاندلی کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن بھی تشکیل دینے پر اتفاق کیا گیا ہے۔
موجودہ تناظر میں تمام سیاسی جماعتوں کو سیاسی بصیرت کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ یہ بات بالکل صائب ہے کہ دوبارہ الیکشن کوئی بچوں کا کھیل نہیں۔ انتخابات کے دوران جو شدید انتظامی بدنظمی دیکھنے میں آئی جب کہ سیاسی جماعتوں کی جانب سے ایک دوسرے پر دھاندلی کے روایتی الزامات اور فائرنگ کے واقعات میں ہلاکتیں وقوع پذیر ہوئیں، ان میں سب کے لیے سبق پنہاں ہے، بلدیاتی انتخابات کے تناظر میں راست اقدامات کیے جائیں اور آئینی و قانونی تقاضوں کو ملحوظ خاطر رکھا جائے۔