کے4پروجیکٹ کا سنگ بنیاد رکھ دیا گیا

وفاقی حکومت پیسےدےیانہ دےہم یہ منصوبہ مکمل کریں گے،چاہےاس منصوبے پرتخمینے سے زائد رقم بھی خرچ کیوں نہ ہو، قائم علی شاہ

وفاق نے ترقیاتی منصوبوں کیلیے رقم جاری نہ کی توسندھ کے عوام سڑکوں پر نکلنے کے لیے تیار ہیں،شرجیل میمن ۔ فوٹو : اے پی پی

وزیر اعلیٰ سندھ سیدقائم علی شاہ نے ''کے4-'' منصوبے کاسنگ بنیادرکھ دیا۔اس موقع پر انھوں نے کہاکہ وفاقی حکومت پیسے دے یانہ دے ہم یہ منصوبہ مکمل کریں گے،چاہے اس منصوبے پرتخمینے سے زائد رقم بھی خرچ کیوں نہ ہو،ماس ٹرانزٹ سمیت کراچی کے لیے اوربھی کئی بڑے منصوبوں پرعمل درآمد جلد شروع کردیاجائے گا،ہمیں وفاق سے بہت شکایات ہیں۔بدھ کووزیر اعلیٰ ہاؤس میں عظیم ترکراچی منصوبہ برائے آب رسانی ''کے4-'' کاسنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے مزیدکہاکہ ''کے4-'' ایک پرانامنصوبہ ہے۔

قائم علی شاہ کا کہنا تھا کہ ماضی میں اس پر کسی نے توجہ نہیں دی حالانکہ کراچی کے لوگ پانی کی قلت پر چلاتے رہے، وسائل کی کمی کے باوجود کراچی میں پورے ملک کے علاوہ مشرق وسطیٰ، بھارت،بنگلہ دیش، برما اور دیگر ممالک سے بڑی تعدادمیں یہاں آکر آبادہورہے ہیں،کراچی میں ایک کشش ہے،بڑھتی ہوئی آبادی کو مدنظر رکھتے ہوئے آئندہ 50سال کی منصوبہ بندی ہونی چاہیے لیکن ماضی میں کوئی منصوبہ بندی نہیں کی گئی۔ انھوں نے کہاکہ ہم نے این ایف سی ایوارڈمیں کچھ مالیاتی وسائل کے حصول میں کامیابی حاصل کی ہے لیکن سندھ کی ضرورتیں بہت زیادہ ہیں،ہمارے وزیر خزانہ سید مراد علی شاہ سندھ کے حقوق کے لیے لڑتے رہتے ہیں۔

وفاق کے بجٹ سے بہت مایوسی ہوئی، وزیر اعظم نواز شریف تعاون کرتے رہتے ہیں لیکن جہاں پیسے دینے کاتعلق ہوتاہے تو ہمیں کچھ نہیں ملتا،گزشتہ سال وفاقی پبلک سیکٹرڈیولپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) کے 525 ارب روپے میں سے ہمیں صرف22ارب ملے،آئندہ سال کیلیے700ارب روپے کے پی ایس ڈی پی میں سے سندھ کے منصوبوں کے لیے صرف6.7ارب روپے رکھے گئے ہیں اس طرح پی ایس ڈی پی بڑھنے کے باوجود سندھ کا حصہ کم ہوگیا ہے،ہم نے ''کے4-'' منصوبے کے لیے وزیر اعظم سے گزارش کی تھی اور کہا تھا کہ یہ کراچی کا اہم منصوبہ ہے۔

کراچی سب کا ہے، یہاں پورے پاکستان کے لوگ رہتے ہیں لیکن اس منصوبے کے لیے وفاقی حصے کی رقم اب تک ہمیں نہیں ملی،ہم نے ''کے4-'' منصوبے پر کام شروع کردیا ہے، اگر اس پر ساڑھے25 ارب روپے کے تخمینہ سے زائد رقم بھی خرچ ہوئی تو ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے،آصف علی زرداری کا حکم ہے کہ پانی کے منصوبوں کو ترجیع دی جائے کیونکہ پانی زندگی ہے،پلوں اور سڑکوں کے منصوبے بھی اہم ہیں لیکن زندگی نہیں ہوگی توسب بیکارہے۔اس موقع پرخطاب کرتے ہوئے وزیر اطلاعات و بلدیات شرجیل انعام میمن نے کہا کہ اگر وفاق نے گیس اور بجلی کے معاملے پر زیادتیاں بند نہ کیں اور ترقیاتی منصوبوں کے لیے رقوم جاری نہ کیں توسندھ کے عوام سڑکوں پر نکلنے کے لیے تیار ہیں۔

مفاہمت کی پالیسی کو ہماری کمزوری نہ سمجھا جائے،کراچی کو مزید پانی اوردیگر بنیادی سہولتوں کی ضرورت ہے لیکن یہ افسوس ناک بات ہے کہ وفاقی حکومت کی طرف سے کراچی سمیت پورے سندھ کواس کا جائز حصہ نہیں مل رہاہے،وفاق کی ذمے داری ہے کہ وہ سب صوبوں کوساتھ لے کر چلے لیکن ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے وفاقی حکومت کا رویہ مایوس کن ہے،یوں محسوس ہوتا ہے کہ خیبر پختونخوا،سندھ اور بلوچستان اس کی ذمے داری نہیں ہیں اور ان کے نزدیک صرف پنجاب ہی پاکستان ہے،کراچی کے گرین لائن بس منصوبے کے لیے گزشتہ سال رقم مختص کی جانی تھی لیکن ایک سال تاخیر کے بعد آئندہ بجٹ میں یہ رقم رکھی گئی ہے،سب سے بڑا ڈاکہ گیس پر ڈالا جارہا ہے اور آئین کی خلاف ورزی کی جارہی ہے۔

آئین میں درج ہے کہ جس صوبے میں گیس پیدا ہوگی، اس صوبے کو زیادہ حصہ دیا جائے گا،ایل این جی سندھ کی ضرورت نہیں ہے لیکن ہم پر ایل این جی کا بوجھ ڈالا جارہا ہے،سازش یہ کی جارہی ہے کہ صنعتیں سندھ سے کہیں اورمنتقل ہوجائیں،صنعتکاروں نے ہم سے کہاہے کہ ہم ان کے لیے آواز اٹھائیں اور ہم آواز اٹھا بھی رہے ہیں ۔


انھوں نے کہا کہ کراچی کی آبادی مسلسل بڑھ رہی ہے لیکن ماضی کی حکومتوں نے طویل المعیادمنصوبہ بندی نہیں کی، ''کے4-'' کے فیز ون کے بعد فیز ٹو اور فیز تھری کو بھی مکمل کرینگے،وفاقی حکومت کی جانب سے اس منصوبے پر فنڈز کی فراہمی میں سست روی کا مظاہرہ کیا گیا ہے،کراچی میں روزانہ 1000ملین گیلن (ایم جی ڈی) پانی کی ضرورت ہے لیکن ہم صرف550ایم جی ڈی فراہم کررہے ہیں،2سے 3روزمیں حب ڈیم سے بھی100ایم جی ڈی پانی کی فراہمی معمول کے مطابق شروع ہوجائیگی۔ تقریب سے کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ (کے ڈبلیو ایس بی) کے ایم ڈی سیدہاشم رضا زیدی اورپروجیکٹ ڈائریکٹر سلیم صدیقی نے بھی خطاب کیا۔اس موقع پر سنئیر وزیرخزانہ و توانائی سیدمراد علی شاہ، وزیر خوراک و ایکسائزاینڈ ٹیکسیشن اورجنگلات گیان چند ایسرانی،چیف سیکریٹری سندھ صدیق میمن،کمشنر کراچی شعیب احمد صدیقی، پیپلز پارٹی کے رہنما اور واٹر بورڈ کے افسران بھی موجود تھے۔

وزیراعلیٰ سندھ سیدقائم علی شاہ نے کراچی میں بس ریپڈ ٹرانسپورٹ منصوبے پرتیزی سے عملدرآمد کرنے اوراس منصوبے کے ذریعے یومیہ5لاکھ مسافروںکوسفری سہولیات کویقینی بنانے کے احکام دیے ہیں۔ انھوں نے17.8کلو میٹر طویل گرین لائن منصوبے کو 2016کے تک مکمل کرنے کی ہدایت بھی دی جس کے ذریعے3لاکھ مسافر سفر کرسکیں گے،اس منصوبے کی پی سی ون کے تخمینے16085ملین روپے کی منظوری(ECNEC)دے چکی ہے۔وزیراعلیٰ سندھ نے محکمہ ٹرانسپورٹ کو بھی 26کلومیٹر طویل یلولائن منصوبے جس کے ذریعے ایک لاکھ50ہزار مسافر سفر کر سکیں گے پر بھی رواں سال کام کا آغاز کرنے کی ہدایت دی ہے۔

سرکاری و نجی شراکتداری کے تحت یے منصوبہ2017کے اختتام تک مکمل کیا جائے گا،حکومت سندھ کے مالی تعاون کے ذریعے 4.7 کلو میٹر اورنج لائیں منصوبہ جس کے تحت50ہزار مسافر سفر کر سکیں گے،پربھی جلد سے جلد کام شروع کرکے 2016کے آخر تک اس کو مکمل کرنے کی ہدایت دی ہے جس کیلیے2.36 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ وزیراعلیٰ سندھ نے یہ احکام بی آر ٹی منصوبوں پر عملدرآمد سے متعلق وزیراعلیٰ ہاؤس میں ایک اجلاس کی صدارت کے دوران دیے۔اجلاس میں صوبائی وزیرٹرانسپورٹ ممتازجکھرانی، وزیراعلیٰ سندھ کے معاون خصوصی عمر رحمن ملک، وزیراعلیٰ سندھ کے پرنسپل سیکریٹری علم الدین بلو،سیکریٹری ٹرانسپورٹ طحہ فاروقی، سی ای او گریں لائن پروجیکٹ صالح فاروقی اوردیگر افسران نے شرکت کی۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے کہاکہ کراچی ملک کا سب سے بڑا اور اہم شہرہے جوکہ تجارتی اور اقتصادی سرگرمیوں کا مرکز ہے اور شہر میں عام لوگوں اورمحنت کشوں کومؤثرسفری سہولیات فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔کراچی کے شہریوں کوبہتریں سفری سہولتیں دینے اور تجارتی سرگرمیوں کے فروغ کیلیے حکومت سندھ نے شہر میں بس ریپڈ ٹرانسپورٹ سسٹم(بی آر ٹی ایس)شروع کرنے کا فیصلہ کیاہے تاکہ یے مقاصد حاصل کیے جاسکیں۔انھوں نے کہا کہ گریں لائن، یلو لائن اور اورنج لائیں سروس اہم ہے اوران منصوبوں پر عملدرآمد آخری مراحل میں ہے،ان منصوبوں کے ذریعے عملدرآمد اور لوگوں کوسہولتیں فراہم کرنا اشد ضروری ہیں۔سی ای او گریں لائن منصوبہ صالح فاروقی نے بریفنگ میں بتایا کہ اس منصوبے پر عملدرآمد کیلیے بورڈ آف ڈائریکٹرز پرمشتمل علیحدہ کمپنی تشکیل دی گئی ہے۔

جس میں چیف سیکریٹری سندھ اورسیکریٹری ٹرانسپورٹ بھی شامل ہیں،شیڈول کے مطابق جولائی 2015 میں اظہار دلچسپی ٹینڈر جاری کیے جائیں گے،منصوبے کا ٹھیکہ ستمبر2015میں دیا جائے گا اور منصوبہ ستمبر2016میں مکمل ہوگا،منصوبے کی مجموعی لاگت 16 ارب روپے میں سے وفاقی حکومت نے 2.96 ارب روپے جاری کیے ہیں،گریں لائن منصوبے پر21اسٹیشن ہونگی اورہر اسٹیشن پر لفٹ اور اسکیلٹرس کی سہولیات میسر ہونگی،گریں لائن کاروٹ سرجانی ٹاؤن سے گرومندرتک ہوگا۔ وزیراعلیٰ سندھ کے معاون خصوصی عمررحمن ملک نے یلو لائن سے متعلق بریفنگ میں بتایا منصوبے میں4کمپنیوں نے دلچسپی کا اظہار کیا جن میں سے ایک کامیاب ہوئی اور اب منصوبہ کنٹریکٹ دینے کیلیے تیارہے۔

منصوبے کی مجموعی لاگت 13.5ارب روپے ہے، 15 فیصد سندھ حکومت دیگی جبکہ 16فیصد چین کی بینکوں کے ذریعے قرضہ حاصل کیا جائیگا۔انھوں نے بتایا کہ 26کلومیٹر طویل منصوبے میں 24 اسٹیشن ہوں گے اور یومیہ ایک لاکھ 50ہزارمسافر سفر کرسکیں گے، دسمبر2015میں منصوبے کا فنانشل کلوزہوگا اور منصوبہ 2017 میں مکمل ہوگا۔ وزیراعلیٰ سندھ نے ہدایت کی کہ یلو لائن منصوبہ پر پی پی سرمائے کاری موڈکے تحت ہی عملدرآمد کیا جائے۔

وزیراعلیٰ سندھ نے اجلاس میں پیش کی گئی تجاویز کو مدنظر رکھتے ہوئے بی آر ٹی منصوبے کیلیے کمانڈاینڈ کنٹرول مرکز قائم کرنیکی ہدایت دی تا کہ لوگوں کو بہتریں مفت سروس فراہم کی جائے۔دریں اثنا سندھ کی7صنعتی تنظیموں کے وفدنے وزیراعلیٰ ہاؤس میں وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ سے ملاقات کی اور وفاقی حکومت کے گیس کی لوڈشیڈنگ کے فیصلے پر احتجاج کیا،وفدنے کہاکہ سندھ ملک کی گیس کی مجموعی پیداوار کا 73فیصدپیداکرتاہے اسلیے یہ اس کاآئینی حق ہے کہ اس کی ضروریات کو اولیت دی جائے۔ وزیراعلیٰ نے وفاقی حکومت کی جانب سے سندھ کے صنعتی علاقوں میں گیس کی لوڈشیڈنگ کے فیصلے پرشدیدتحفظات کااظہارکرتے ہوئے وفاقی سیکریٹری پٹرولیم اورایم ڈی سوئی سدرن سے رابطہ کرکے انھیں کہاکہ وہ سندھ میں گیس کی لوڈشیڈنگ کے شیڈول پرعمل نہ کریں۔
Load Next Story