جی ایس پی پلس ریویومیں کامیابی ہوگیخرم دستگیر
پاکستان نے گزشتہ ڈیڑھ سال میں جی ایس پی پلس کے تمام قانونی تقاضے پورے کیے،خرم دستگیر
پاکستان نے گزشتہ ڈیڑھ سال میں جی ایس پی پلس کے تمام قانونی تقاضے پورے کیے،خرم دستگیر فوٹو: فائل
وفاقی وزیر تجارت خرم دستگیر خان نے کہا ہے کہ پاکستان نے گزشتہ ڈیڑھ سال سے جی ایس پی پلس کے تمام قانونی تقاضے کامیابی سے پورے کیے ہیں جس کے نتیجے میں جنوری 2016میں ہونے والے جی ایس پی پلس کے ریویو میں کامیابی حاصل ہو گی۔
وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے قانون اشتر اوصاف علی سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ گزشتہ14 ماہ کے اعدادوشمار کے مطابق پاکستان سے یورپی یونین کو برآمدات میں 1 ارب55کروڑکا اضافہ ہوا ہے، جی ایس پی پلس کے حصول کے بعد یورپی یونین کو برآمدات میں بہت حوصلہ افزا رجحانات سامنے آئے ہیں، پاکستان کی ویلیو ایڈڈ ٹیکسٹائل اور لیدر پروڈکٹس کی برآمد میں انتہائی مثبت اضافہ ہوا ہے۔
یاد رہے کہ معاون خصوصی کو وزیر اعظم نے جی ایس پی پلس کے لیے قائم کردہ ٹریٹی امپلیمنٹیشن سیل کا کنوینر مقرر کیا ہے جبکہ اس موقع پر وزیراعظم کے معاون خصوصی نے بتایا کہ ٹریٹی امپلیمنٹیشن سیل چاروں صوبوں، گلگت بلتستان اور آزاد جموں وکشمیر کے قانون اور انسانی حقوق کے محکموں سے انتہائی قریبی رابطے میں ہے تاکہ اقوام متحدہ کے 27کنونشن پر عملدرآمد میں تیزی سے پیشرفت کی جائے ۔
اس موقع پر وفاقی وزیر نے کہا کہ جی ایس پی پلس کی کامیابی کے بارے میں تمام ناقدین کے شکوک و شبہات دور ہو جانے چاہئیں۔ انھوں نے معاون خصوصی کو یقین دلایا کہ جی ایس پی پلس کے قانونی تقاضے پورے کرنے کے لیے وزارت تجارت ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی،آپریشن ضرب عضب اور کراچی میں آپریشن کے نتیجے میں ملک میں دہشت گردی میں نمایاں کمی ہوئی ہے، اس کے ساتھ ملک میں انسانی حقوق کی صورتحال بھی بہتر ہوئی ہے۔
قانونی ماہرین کی طرف سے وزیر تجارت اور معاون خصوصی کو بتایا گیا کہ سزائے موت پر پابندی جی ایس پی پلس کی شرط نہیںاور پاکستان نے جی ایس پی پلس کے حوالے سے ایسا کوئی معاہدہ یورپی یونین سے نہیں کیا۔
وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے قانون اشتر اوصاف علی سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ گزشتہ14 ماہ کے اعدادوشمار کے مطابق پاکستان سے یورپی یونین کو برآمدات میں 1 ارب55کروڑکا اضافہ ہوا ہے، جی ایس پی پلس کے حصول کے بعد یورپی یونین کو برآمدات میں بہت حوصلہ افزا رجحانات سامنے آئے ہیں، پاکستان کی ویلیو ایڈڈ ٹیکسٹائل اور لیدر پروڈکٹس کی برآمد میں انتہائی مثبت اضافہ ہوا ہے۔
یاد رہے کہ معاون خصوصی کو وزیر اعظم نے جی ایس پی پلس کے لیے قائم کردہ ٹریٹی امپلیمنٹیشن سیل کا کنوینر مقرر کیا ہے جبکہ اس موقع پر وزیراعظم کے معاون خصوصی نے بتایا کہ ٹریٹی امپلیمنٹیشن سیل چاروں صوبوں، گلگت بلتستان اور آزاد جموں وکشمیر کے قانون اور انسانی حقوق کے محکموں سے انتہائی قریبی رابطے میں ہے تاکہ اقوام متحدہ کے 27کنونشن پر عملدرآمد میں تیزی سے پیشرفت کی جائے ۔
اس موقع پر وفاقی وزیر نے کہا کہ جی ایس پی پلس کی کامیابی کے بارے میں تمام ناقدین کے شکوک و شبہات دور ہو جانے چاہئیں۔ انھوں نے معاون خصوصی کو یقین دلایا کہ جی ایس پی پلس کے قانونی تقاضے پورے کرنے کے لیے وزارت تجارت ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی،آپریشن ضرب عضب اور کراچی میں آپریشن کے نتیجے میں ملک میں دہشت گردی میں نمایاں کمی ہوئی ہے، اس کے ساتھ ملک میں انسانی حقوق کی صورتحال بھی بہتر ہوئی ہے۔
قانونی ماہرین کی طرف سے وزیر تجارت اور معاون خصوصی کو بتایا گیا کہ سزائے موت پر پابندی جی ایس پی پلس کی شرط نہیںاور پاکستان نے جی ایس پی پلس کے حوالے سے ایسا کوئی معاہدہ یورپی یونین سے نہیں کیا۔