وزیر اعظم کا سفیروں کی کانفرنس سے خطاب
بھارتی سیاسی قیادت کےحالیہ غیرذمےدارانہ اورغیردانشمندانہ بیانات کی پوری قوم نے مذمت کی جس سے پر امن فضا کو نقصان پہنچا
بہتر ہے بھارتی حکومت جارحانہ رویہ اپنانے کے بجائے خطے کے مسائل باہمی مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کو ترجیح دے، یہی بہترین راستہ ہے۔ فوٹو : پی آئی ڈی
WASHINGTON:
وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے جمعرات کو اسلام آباد میں سفیروں کی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملکی مفادات کا ہر قیمت پر تحفظ کیا جائے گا، پاکستان ہمسایہ ممالک سے پر امن تعلقات چاہتا ہے تاہم امن کی خواہش یک طرفہ نہیں ہو سکتی' بھارتی قیادت کے بیانات سے مفاہمت کی فضا خراب ہوئی ہے، غیرملکی اسپانسرڈ دہشتگردی اور پرتشدد انتہا پسندی پاکستان کی سلامتی اور خوشحالی کے لیے سنگین خطرہ ہے۔
بھارتی سیاسی قیادت کے حالیہ غیر ذمے دارانہ اور غیر دانشمندانہ بیانات کی پوری قوم نے مذمت کی جس سے پر امن فضا کو نقصان پہنچا اور وہ علاقائی امن و استحکام کے مقاصد سے مزید دور ہو گئے، وہ ہر قیمت پر اپنے اہم مفادات کا تحفظ کریں گے اور دنیا کو واضح پیغام جانا چاہیے' اشتعال انگیزیوں کے باعث اپنی اعلیٰ اخلاقی بنیاد اور پر امن ہمسائیگی کے لیے اپنی کوششیں ختم نہیں کریں گے۔
تاہم ان کوششوں کا باہمی جذبے سے اظہار ہونا چاہیے' مسئلہ کشمیر کو فراموش نہیں کیا جا سکتا، سفارتکاری اہداف کے حصول کا بہترین ذریعہ ہے اور پاکستان سفارتکاری سے ہی ہمسایہ ممالک سے پر امن تعلقات چاہتا ہے' پاکستان چاہتا ہے کہ مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل ہو۔ وزیر اعظم نے کہا کہ پاک افغان سرحد پر امن دونوں ملکوں کی ذمے داری ہے۔ پاکستان تحمل کے ساتھ چیلنجوں کا سامنا کرتے ہوئے آگے بڑھ رہا ہے، چین پاکستان اقتصادی کوریڈور بڑا منصوبہ ہے جو پاکستان اور خطے کی تقدیر سنوارے گا، کوریڈور پاکستان کو بین العلاقائی صنعت و تجارت کا مرکز بنائے گا۔
گزشتہ دنوں بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے ڈھاکا یونیورسٹی میں سقوط ڈھاکا کے بارے میں بیان سے پاکستان اور بھارت کے درمیان پر امن اور دوستانہ تعلقات قائم کرنے کی خواہش کو شدید دھچکا پہنچا۔ بھارتی سیاسی قیادت کے غیرذمے دارانہ بیان کی نہ صرف حکومتی سطح پر شدید مذمت کی جا رہی ہے بلکہ پوری قوم نے اس کو ناپسند کیا اور بھارت کے خلاف قومی سطح پر جذباتی ماحول پیدا ہو گیا ہے۔
وہ سیاسی اور مذہبی قوتیں جو پہلے ہی بھارت کے خلاف جذبات رکھتی ہیں مودی کے بیان سے ان کو مہمیز ملی ہے اور ان کے یہ جذبات احتجاجی رنگ اختیار کر گئے ہیں۔ قومی اسمبلی اور سینیٹ نے بھی نریندر مودی کے پاکستان مخالف بیان کے خلاف جمعرات کو مذمتی قراردادیں متفقہ طور پر منظور کی ہیں۔ مذمتی قرار داد وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے پیش کی جس میں کہا گیا کہ بھارتی وزیر اعظم نے اپنے دورہ بنگلہ دیش میں اعتراف کیا ہے کہ1971ء میں پاکستان کے مشرقی حصے کو الگ کرنے میں بھارت کا اہم کردار تھا' ان کا بیان پاکستان سے اظہار نفرت ہے۔
پاکستان کے خراب ہونے والے حالات میں بھی بیرونی ہاتھ ملوث ہیں' بھارتی وزیر اعظم اور سیاسی قیادت کے بیانات نے اس بیرونی ہاتھ کو واضح کر دیا ہے' پاکستان خطے کی سلامتی اور امن کے لیے مسلسل کوششیں کر رہا ہے۔ موجودہ حکومت بھارت کے بارے میں مخالفانہ جذبات کے باوجود خطے کی ترقی کے لیے اس کے ساتھ دوستانہ تعلقات قائم کرنے کی خواہش کا وقفے وقفے سے اظہار کرتی چلی آ رہی ہے۔
حکومت نے بارہا واضح کیا کہ وہ باہمی تنازعات کو سفارتی ذرایع سے حل کرنے کی خواہاں ہے تا کہ باہمی تجارتی تعلقات کو فروغ دے کر معاشی گرداب میں پھنسے ہوئے یہاں کے عوام کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا جا سکے لیکن بھارتی حکومت نے مثبت جواب دینے کے بجائے ایسے حالات پیدا کر دیے جس سے امن کی کوششوں کو شدید دھچکا لگا ہے۔ بعض سیاسی تجزیہ نگار نریندر مودی کے بیان کو خطرناک اور ناپختہ ذہن کا عکاس قرار دے رہے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ پاک چائنا راہداری منصوبہ کے بعد بھارتی حکومت بوکھلاہٹ کا شکار ہو گئی ہے اور وہ اس منصوبے کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
کیا کسی ملک کو اس امر کی اجازت دی جا سکتی ہے کہ وہ دوسرے ملک کی سلامتی اور بقاء سے کھیلتے ہوئے اس کے ٹکڑے کر دے' اقوام متحدہ کا چارٹر اور عالمی قوانین اس گھناؤنے کھیل کی اجازت نہیں دیتے لہٰذا پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرنے اور جارحیت کا ارتکاب کرنے پر پاکستان کو مودی حکومت کے خلاف اقوام متحدہ میں آواز اٹھانی چاہیے۔
بھارتی حکومت کی جانب سے پاکستان کے خلاف مسلسل دھمکی آمیز اور جارحانہ انداز اپنایا جا رہا ہے اب اس نے میانمار پر حملے کو مثال بناتے ہوئے پاکستان کو بھی دھمکیاں دینا شروع کر دی ہیں جس سے پاکستان میں بھارت کے خلاف جذبات مزید بھڑک اٹھے ہیں۔ قومی اسمبلی اور سینیٹ میں مذمتی قراردادیں پیش کرتے ہوئے ارکان نے واضح کر دیا کہ پاکستان ایٹمی طاقت ہے برما نہیں' حکومت بھارتی بیانات کا منہ توڑ جواب دے۔
سیاسی اور عسکری تجزیہ نگار بھی یہ کہہ رہے ہیں کہ بھارت کو بھی اس حقیقت کا بخوبی ادراک ہے کہ پاکستان ایٹمی طاقت کا حامل ہونے کے ساتھ ساتھ ایک بڑی عسکری قوت ہے اگر بھارت برما کی طرح کی پاکستان میں کوئی غلطی کرتا ہے تو اس کا بھرپور جواب دیا جائے گا جو بھارت کو مہنگا پڑ سکتا ہے۔ اس لیے بھارتی حکومت ایسی کوئی غلطی نہیں کرے گی وہ صرف بڑھکیں مار کر پاکستان کو دباؤ میں لانے کی کوشش کر رہی ہے مگر اس کی ایسی کوئی کوشش کامیاب نہیں ہو گی۔
بہتر ہے بھارتی حکومت جارحانہ رویہ اپنانے کے بجائے خطے کے مسائل باہمی مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کو ترجیح دے، یہی بہترین راستہ ہے۔
وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے جمعرات کو اسلام آباد میں سفیروں کی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملکی مفادات کا ہر قیمت پر تحفظ کیا جائے گا، پاکستان ہمسایہ ممالک سے پر امن تعلقات چاہتا ہے تاہم امن کی خواہش یک طرفہ نہیں ہو سکتی' بھارتی قیادت کے بیانات سے مفاہمت کی فضا خراب ہوئی ہے، غیرملکی اسپانسرڈ دہشتگردی اور پرتشدد انتہا پسندی پاکستان کی سلامتی اور خوشحالی کے لیے سنگین خطرہ ہے۔
بھارتی سیاسی قیادت کے حالیہ غیر ذمے دارانہ اور غیر دانشمندانہ بیانات کی پوری قوم نے مذمت کی جس سے پر امن فضا کو نقصان پہنچا اور وہ علاقائی امن و استحکام کے مقاصد سے مزید دور ہو گئے، وہ ہر قیمت پر اپنے اہم مفادات کا تحفظ کریں گے اور دنیا کو واضح پیغام جانا چاہیے' اشتعال انگیزیوں کے باعث اپنی اعلیٰ اخلاقی بنیاد اور پر امن ہمسائیگی کے لیے اپنی کوششیں ختم نہیں کریں گے۔
تاہم ان کوششوں کا باہمی جذبے سے اظہار ہونا چاہیے' مسئلہ کشمیر کو فراموش نہیں کیا جا سکتا، سفارتکاری اہداف کے حصول کا بہترین ذریعہ ہے اور پاکستان سفارتکاری سے ہی ہمسایہ ممالک سے پر امن تعلقات چاہتا ہے' پاکستان چاہتا ہے کہ مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل ہو۔ وزیر اعظم نے کہا کہ پاک افغان سرحد پر امن دونوں ملکوں کی ذمے داری ہے۔ پاکستان تحمل کے ساتھ چیلنجوں کا سامنا کرتے ہوئے آگے بڑھ رہا ہے، چین پاکستان اقتصادی کوریڈور بڑا منصوبہ ہے جو پاکستان اور خطے کی تقدیر سنوارے گا، کوریڈور پاکستان کو بین العلاقائی صنعت و تجارت کا مرکز بنائے گا۔
گزشتہ دنوں بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے ڈھاکا یونیورسٹی میں سقوط ڈھاکا کے بارے میں بیان سے پاکستان اور بھارت کے درمیان پر امن اور دوستانہ تعلقات قائم کرنے کی خواہش کو شدید دھچکا پہنچا۔ بھارتی سیاسی قیادت کے غیرذمے دارانہ بیان کی نہ صرف حکومتی سطح پر شدید مذمت کی جا رہی ہے بلکہ پوری قوم نے اس کو ناپسند کیا اور بھارت کے خلاف قومی سطح پر جذباتی ماحول پیدا ہو گیا ہے۔
وہ سیاسی اور مذہبی قوتیں جو پہلے ہی بھارت کے خلاف جذبات رکھتی ہیں مودی کے بیان سے ان کو مہمیز ملی ہے اور ان کے یہ جذبات احتجاجی رنگ اختیار کر گئے ہیں۔ قومی اسمبلی اور سینیٹ نے بھی نریندر مودی کے پاکستان مخالف بیان کے خلاف جمعرات کو مذمتی قراردادیں متفقہ طور پر منظور کی ہیں۔ مذمتی قرار داد وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے پیش کی جس میں کہا گیا کہ بھارتی وزیر اعظم نے اپنے دورہ بنگلہ دیش میں اعتراف کیا ہے کہ1971ء میں پاکستان کے مشرقی حصے کو الگ کرنے میں بھارت کا اہم کردار تھا' ان کا بیان پاکستان سے اظہار نفرت ہے۔
پاکستان کے خراب ہونے والے حالات میں بھی بیرونی ہاتھ ملوث ہیں' بھارتی وزیر اعظم اور سیاسی قیادت کے بیانات نے اس بیرونی ہاتھ کو واضح کر دیا ہے' پاکستان خطے کی سلامتی اور امن کے لیے مسلسل کوششیں کر رہا ہے۔ موجودہ حکومت بھارت کے بارے میں مخالفانہ جذبات کے باوجود خطے کی ترقی کے لیے اس کے ساتھ دوستانہ تعلقات قائم کرنے کی خواہش کا وقفے وقفے سے اظہار کرتی چلی آ رہی ہے۔
حکومت نے بارہا واضح کیا کہ وہ باہمی تنازعات کو سفارتی ذرایع سے حل کرنے کی خواہاں ہے تا کہ باہمی تجارتی تعلقات کو فروغ دے کر معاشی گرداب میں پھنسے ہوئے یہاں کے عوام کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا جا سکے لیکن بھارتی حکومت نے مثبت جواب دینے کے بجائے ایسے حالات پیدا کر دیے جس سے امن کی کوششوں کو شدید دھچکا لگا ہے۔ بعض سیاسی تجزیہ نگار نریندر مودی کے بیان کو خطرناک اور ناپختہ ذہن کا عکاس قرار دے رہے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ پاک چائنا راہداری منصوبہ کے بعد بھارتی حکومت بوکھلاہٹ کا شکار ہو گئی ہے اور وہ اس منصوبے کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
کیا کسی ملک کو اس امر کی اجازت دی جا سکتی ہے کہ وہ دوسرے ملک کی سلامتی اور بقاء سے کھیلتے ہوئے اس کے ٹکڑے کر دے' اقوام متحدہ کا چارٹر اور عالمی قوانین اس گھناؤنے کھیل کی اجازت نہیں دیتے لہٰذا پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرنے اور جارحیت کا ارتکاب کرنے پر پاکستان کو مودی حکومت کے خلاف اقوام متحدہ میں آواز اٹھانی چاہیے۔
بھارتی حکومت کی جانب سے پاکستان کے خلاف مسلسل دھمکی آمیز اور جارحانہ انداز اپنایا جا رہا ہے اب اس نے میانمار پر حملے کو مثال بناتے ہوئے پاکستان کو بھی دھمکیاں دینا شروع کر دی ہیں جس سے پاکستان میں بھارت کے خلاف جذبات مزید بھڑک اٹھے ہیں۔ قومی اسمبلی اور سینیٹ میں مذمتی قراردادیں پیش کرتے ہوئے ارکان نے واضح کر دیا کہ پاکستان ایٹمی طاقت ہے برما نہیں' حکومت بھارتی بیانات کا منہ توڑ جواب دے۔
سیاسی اور عسکری تجزیہ نگار بھی یہ کہہ رہے ہیں کہ بھارت کو بھی اس حقیقت کا بخوبی ادراک ہے کہ پاکستان ایٹمی طاقت کا حامل ہونے کے ساتھ ساتھ ایک بڑی عسکری قوت ہے اگر بھارت برما کی طرح کی پاکستان میں کوئی غلطی کرتا ہے تو اس کا بھرپور جواب دیا جائے گا جو بھارت کو مہنگا پڑ سکتا ہے۔ اس لیے بھارتی حکومت ایسی کوئی غلطی نہیں کرے گی وہ صرف بڑھکیں مار کر پاکستان کو دباؤ میں لانے کی کوشش کر رہی ہے مگر اس کی ایسی کوئی کوشش کامیاب نہیں ہو گی۔
بہتر ہے بھارتی حکومت جارحانہ رویہ اپنانے کے بجائے خطے کے مسائل باہمی مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کو ترجیح دے، یہی بہترین راستہ ہے۔