پشاور و کوئٹہ میں دہشت گردی

دہشت گردوں کی یہ وارداتیں بوکھلاہٹ پر مشتمل ہیں لیکن وہ کسی صورت قوم کا مورال کم نہیں کر سکتے

دہشت گرد اور ملک دشمن عناصر کے خلاف کارروائیوں میں پولیس اور رینجرز کو مزید چاق و چوبند اور الرٹ رہنے کی ضرورت ہے۔ فوٹو : فائل

ملک میں دہشت گردوں اور شدت پسندوں کے خلاف آپریشن ضرب عضب کامیابی سے جاری ہے لیکن پھر بھی دہشت گردوں کی جانب سے قانون نافذ کرنے والے اداروں سے جھڑپوں اور مذموم کارروائیوں کے واقعات ظہور پذیر ہو رہے ہیں۔

گزشتہ روز بھی پشاور میں پولیس کی گاڑی پر خودکش حملے اور کوئٹہ میں فائرنگ کے واقعے میں 6اہلکار شہید اور 6 زخمی ہو گئے۔ دہشت گردوں کی یہ وارداتیں بوکھلاہٹ پر مشتمل ہیں لیکن وہ کسی صورت قوم کا مورال کم نہیں کر سکتے۔ اطلاعات کے مطابق پشاور میں دہشت گردوں نے حیات آباد میں ڈپٹی کمانڈنٹ فرنٹیئر ریزرو پولیس ملک طارق کی گاڑی پر خودکش حملہ کیا جس میں 2 اہلکار شہید اور ڈپٹی کمانڈنٹ سمیت 6 افراد زخمی ہوگئے۔


پولیس کے مطابق ملک طارق صبح گھر سے دفتر جانے کے لیے نکلے تو پہلے سے تاک میں کھڑا موٹر سائیکل سوار ان کی گاڑی سے ٹکرا گیا۔ دھماکے میں 7 سے 8 کلو گرام بارودی مواد استعمال کیا گیا۔ بی بی سی کے مطابق کالعدم تحریک طالبان نے اس حملے کی ذمے داری قبول کر لی ہے۔ دوسری جانب کوئٹہ کے علاقے پشتون آباد میں پولیس کی موبائل وین پر فائرنگ سے اے ایس آئی سمیت 4 اہلکار شہید ہو گئے۔

پولیس اہلکار معمول کی گشت پر تھے جنھوں نے ایک مشکوک موٹر سائیکل کا پیچھا کیا تو موٹر سائیکل سواروں نے گاڑی پر فائرنگ کر دی جس سے 3 اہلکار موقع پر شہید ہو گئے جب کہ ایک نے اسپتال لے جاتے ہوئے دم توڑ دیا۔ واضح رہے کہ ایک ہفتے کے دوران پشتون آباد میں پولیس اہلکاروں پر یہ دوسرا حملہ ہے۔ دہشت گرد اور ملک دشمن عناصر کے خلاف کارروائیوں میں پولیس اور رینجرز کو مزید چاق و چوبند اور الرٹ رہنے کی ضرورت ہے۔
Load Next Story