کراچی میں 230 ارب روپے کا کالا دھندا

یہ کراچی کےکل کی طرح لمحۂ موجودکابھی نوحہ ہے۔دل دہلادینےوالےاس قسم کےمعاملات ارباب اختیارکے پیشگی علم میں ضرور ہوں گے

مسائل کی سنگینی پر نظریں مرکوز کر کے سیاسی پوائنٹ اسکورنگ بند ہونی چاہیے، کراچی کو بچانا سب کی ذمے داری ہے۔ فوٹو : فائل

KUNDUZ:
ڈائریکٹر جنرل سندھ رینجرز میجر جنرل بلال اکبر نے جمعرات کو سندھ ایپکس کمیٹی کو بریفنگ میں بتایا ہے کہ کراچی میں بھتہ خوری، زمینوں پر ناجائز قبضے و تعمیرات، قربانی کی کھالوں، زکوٰۃ، فطرہ، پانی چوری، اسمگلنگ اور دیگر غیر قانونی ذرایع سے تقریبا ً230 ارب روپے سالانہ وصول کیے جاتے ہیں یہ غیر قانونی رقم مختلف سیاسی و مذہبی جماعتوں کے دھڑے، لیاری گینگ وار اور دیگر جرائم پیشہ عناصر وصول کرتے ہیں اور اس کا باقاعدہ حصہ بااثر اور اعلیٰ شخصیات تک پہنچایا جاتا ہے، یہ رقم شہر میں دہشت گردی کو فروغ دے رہی ہے۔

سندھ رینجرز کی طرف سے ان غیر معمولی اور دھماکا خیز انکشافات کو منی پاکستان میں مجرمانہ عناصر کی منظم مالی دہشتگردی کے خلاف چارج شیٹ، فرد جرم اور وائٹ پیپر قرار دیا جا سکتا ہے، سیاسی اور سیکیورٹی حلقوں کے لیے یہ حقائق چشم کشا پہلے بھی تھے مگر آج ''فرام ہارسز ماؤتھ'' ان کی سنگینی کم ہولناک نہیں۔ یہ کراچی کے کل کی طرح لمحۂ موجود کا بھی نوحہ ہے۔ دل دہلا دینے والے اس قسم کے معاملات ارباب اختیار کے پیشگی علم میں ضرور ہونگے، لیکن ہر محب وطن شہری ہوس زر کے اس خونریز کلچر کا ڈسا ہوا ہے، مگر بے بس ہے۔

وہ حالات کی سولی پر لٹکا ہوا ہے۔ تاہم اب جب کہ سالانہ 230 ارب روپے کی ناجائز کمائی کا پینڈورا بکس کھل گیا ہے اسے بند کرنے کی سازش بھی نہیں ہونی چاہیے۔ کراچی کی بدامنی اپنا ایک افسوس ناک ماضی رکھتی ہے، اس شہر میں لوٹ کھسوٹ کا بازار سیاسی صنم کدے سے وابستہ ہمہ جہت ''ان ٹچ ایبلز'' کا کیا دھرا ہے، یہ مارا ماری، مجرمانہ مافیاز کا نیٹ ورک، انھیں حاصل سیاسی حمایت اور سرپرستی کا گھناؤنا دھندا اتنی ہائی الرٹ سیکیورٹی صورتحال اور جاری آپریشن میں کس طرح ممکن ہوا ہے، ایپکس کمیٹی ایکشن لے۔


منی پاکستان کی سیاسی شناخت کی غارت گری میں جن عناصر کا ہاتھ ہے اور جن بے نام چہروں کا ذکر رینجرز کی رپورٹ میں ہے ان کا تعاقب کیے بغیر کوئی چارہ نہیں۔ اگر کرپشن کو لگام دی جاتی تو کسی میں منی پاکستان سے بے انصافی کی جرات نہ ہوتی۔ اس بد نصیب شہر کی قناعت، بندہ نوازیوں اور سیاسی رواداری و جمہوریت پرستی کے چرچے پورے ملک میں ہوتے تھے۔ پھر بتائیے کیا آسمانی بلاؤں کے طفیل کراچی میں اتنے بڑے مالی اسکینڈل اور لوٹ کھسوٹ کی گرم بازاری نازل ہوئی؟ ایپکس کمیٹی نے جس جذبہ سے اس رپورٹ کا خیر مقدم کیا ہے۔

ضرورت اسی جذبے سے اس پر عملدرآمد کی ہے، جن سیاسی جماعتوں سے وابستہ ہائی پروفائل شخصیات کے مالی مفادات کا بھانڈا پھوڑا گیا ہے وہ ایک شہر آشوب کا درجہ رکھتا ہے۔

کراچی نیم مرگ ہو چکا ہے، آپریشن جاری ہونے کے باوجود ابھی تک شہر میں لاشوں کی سیاست ختم نہیں ہوئی، جرائم کا گراف گرا ضرور ہے مگر جب اتنا بڑا کالا دھن سیاست اور سماج کی رگوں میں خون بن کر دوڑ رہا ہو، مافیاز کا نیٹ ورک ناقابل تسخیر ہونے کا تاثر دیتا ہو تو اس میں مفاہمتی جمہوریت عوام کو ریلیف دینے کے قابل کیسے ہو گی۔ بہر کیف ڈی جی رینجرز کے انکشافات سے ساری صورتحال وفاقی حکومت، سندھ انتظامیہ اور اسٹیبلشمنٹ کے سامنے آ گئی ہے، جن سماج دشمن اور جمہوریت بیزار طاقتوں نے کراچی کو سونے کی چڑیا سمجھ کر لوٹا ہے ان کا احتساب ناگزیر ہے۔ مسائل کی سنگینی پر نظریں مرکوز کر کے سیاسی پوائنٹ اسکورنگ بند ہونی چاہیے، کراچی کو بچانا سب کی ذمے داری ہے۔
Load Next Story