مرحلہ وار انتخابات
پیپلز پارٹی نے الیکشن کمیشن سے استدعا کی ہے کہ سندھ میں ستمبر میں متوقع بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار منعقد ہونے چاہئیں۔
tauceeph@gmail.com
لاہور:
پیپلز پارٹی نے الیکشن کمیشن سے استدعا کی ہے کہ سندھ میں ستمبر میں متوقع بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار منعقد ہونے چاہئیں۔ پیپلز پارٹی کے سربراہ بلاول بھٹو زرداری کی صدارت میں ہونے والے اجلاس میں منظور کردہ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ بلدیاتی انتخابات پورے صوبے میں ایک دن منعقد کرانے سے بہت سے مسائل پیدا ہونگے جس کے نتیجے میں شفاف انتخابات کے معاملے پر ضرب لگے گی۔
پنجاب کی حکومت نے بھی ایسی ہی درخواست کی ہے کہ پاکستان میں تو ہر انتخاب کی شفافیت پر سوالات اٹھتے ہیں مگر 2008ء کے بعد سے یہ معاملہ زیادہ شدت اختیار کر گیا ہے۔ تحریکِ انصاف نے مئی 2013ء کے انتخابات کے فوراً بعد کراچی اور لاہور میں احتجاجی مظاہرے کیے، پھر پنجاب کے چار حلقوں کو کھولنے کا مطالبہ کیا۔
پنجاب کے ان چاروں حلقوں میں دوبارہ گنتی کے مقدمات الیکشن ٹریبونل میں زیرِ سماعت تھے کہ عمران خان نے اسلام آباد پر دھاوا بولنے اور میاں نواز شریف حکومت کی برطرفی کا مطالبہ کر دیا۔ یوں وہ 4 مہینے تک کبھی پارلیمنٹ ہاؤس اور کبھی ڈی چوک پر کنٹینر پر کھڑے ہو کر کبھی سول نافرمانی، کبھی بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کو بینکوں کے بجائے ہنڈی کے ذریعے پیسے بھیجنے پر زور دیتے رہے اور کبھی حکومت کے خاتمے کے وقت کا تعین کرتے رہے۔
پھر دھرنا ختم ہوا۔ حکومت اور تحریکِ انصاف جوڈیشل کمیشن کے قیام پر متفق ہوئے۔ چیف جسٹس کی قیادت میں قائم کمیشن کو منظم دھاندلی کا پتہ چلانے کا فریضہ سونپا گیا۔ جوڈیشل کمیشن کے سامنے سیاسی جماعتوں کے وکلاء اور الیکشن کمیشن کے اراکین پیش ہوئے۔ کمیشن کی کارروائی کی جو روداد اب تک اخبارات میں شایع ہوئی ہے اس سے واضح ہوتا ہے کہ زیادہ تر معاملات انتخابی قوانین کی پابندی، ووٹنگ کے دن مختلف نوعیت کے فارموں کے متعلقہ عملے کی جانب سے اندراج اور بیلٹ پیپرز کی زائد تعداد سے متعلق ہیں۔
مختلف سیاسی جماعتوں کے وکلاء نے کمیشن کے سامنے پیش ہونے والے گواہوں سے انتخابی قوانین پر عملدرآمد کے بارے میں سوالات کیے۔ خیبرپختون خوا میں بلدیاتی انتخابات میں دھاندلی کا شور مچا۔ صوبائی حکومت نے انتخابات کو قانون کے مطابق کرانے کی ذمے داری الیکشن کمیشن پر عائد کی۔ الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ اس نے مرحلہ وار انتخابات کی تجویز پیش کی تھی مگر صوبائی حکومت اس تجویز پر عملدرآمد پر تیار نہیں ہوئی۔ عمران خان نے اب یہ انتخابات دوبارہ اور فوج کی نگرانی میں کروانے کی تجویز پیش کی ہے۔ مگر چیف الیکشن کمشنر کا کہنا ہے کہ انتخابات گڈے اور گڑیا کا کھیل نہیں ہے۔
اپوزیشن جماعتوں نے صوبائی حکومت کے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا ہے۔ اب حکومت کی حامی جماعتوں کے تعاون سے ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس میں جوڈیشل کمیشن کے قیام کی تجویز پیش کی گئی ہے۔
پرویز خٹک نے جوڈیشل کمیشن کے قیام کے لیے پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کو خط تحریر کرنے کا فیصلہ کیا ہے مگر سیاسی تناؤ کے اس ماحول میں انتخابی صورتحال کا تجزیہ کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ کے پی کے میں بلدیاتی انتخابات سیاسی اور غیر سیاسی بنیادوں پر منعقد ہوئے۔ ضلع سطح پر سیاسی بنیاد پر انتخابات منعقد ہوئے جب کہ گاؤں کی سطح پر غیر سیاسی بنیاد پر انتخابات کا فیصلہ ہوا۔
کے پی کے بلدیاتی نظام میں ایک ووٹر کو یونین ناظم سے لے کر ضلع کی سطح تک کونسلر کے انتخابات کے لیے 6 سطح پر ووٹ دینا تھا اور جہاں اقلیتی نمایندوں کا انتخاب ہونا تھا وہاں 7 سطح پر ووٹ کا حق استعمال ہونا تھا، یوں ایک ووٹر کے لیے 6 بیلٹ پیپر پر نشان لگانا بڑا مشکل کام تھا۔ ووٹرز کی طویل قطاریں لگ گئیں مگر پولنگ کا عمل سست رہا۔ الیکشن کمیشن نے زیادہ پولنگ اسٹیشن بنانے سمیت کئی اہم معاملات کو نظرانداز کیا تھا۔ ووٹرز کے گھروں کے قریب پولنگ اسٹیشن قائم کرنے کو ترجیح دی گئی تھی، اس طرح مختلف سیاسی جماعتوں کو دھاندلی کرنے کا موقع ملا۔ پولنگ کرانے والے عملے کی تربیت پر بھی توجہ نہیں دی گئی تھی۔
مختلف نوعیت کے 6 بیلٹ پیپرز کی گنتی کا کام خاصا سنجیدہ تھا۔ شدید گرمی اور بجلی کی لوڈ شیڈنگ نے بھی صورتحال کو مزید خراب کر دیا۔ یہی وجہ ہے کہ خیبرپختون خوا حکومت میں شامل تحریکِ انصاف اور جماعت اسلامی سمیت تمام جماعتیں انتخابی دھاندلیوں کا رونا رو رہی ہیں۔ ان انتخابات کے تجربہ سے پھر واضح ہوتا ہے کہ الیکشن کمیشن کی تنظیمِ نو اور انتخابی قوانین پر نظرِ ثانی کی شدید ضرورت ہے۔
الیکشن کمیشن کو سنگل کمانڈ میں ہونا چاہیے۔ چاروں صوبوں سے تعلق رکھنے والے اراکین اور چیف الیکشن کمشنر کے درمیان مشاورت ہر صورت میں ہونی چائے مگر حتمی فیصلے کا اختیار چیف الیکشن کمشنر کو ہی حاصل ہونا چاہیے تا کہ کمیشن کے ہر فیصلے کی ذمے داری وہ قبول کریں۔ انتخابی عمل میں شریک عملے کی سخت تربیت ہونی چاہیے۔ انھیں مختلف نوعیت کے فارموں کے اندراج کی اہمیت، بیلٹ پیپرز کے ریکارڈ رکھنے اور بیلٹ پیپرز کے تھیلوں کو سربہ مہر کرنے جیسے اہم فرائض کی اہمیت سے آگاہ ہونا چاہیے۔
پولیس پر ریٹرننگ افسران اور پریزائیڈنگ افسران کی حکم کی پابندی کو لازمی قرار دیا جائے۔ اسی طرح ووٹر لسٹوں کی تیاری اور پولنگ اسٹیشنوں کے قیام کے معاملات کو بھی میرٹ کے مطابق طے کرنے کے لیے اقدامات کی ضرورت ہے۔ ان اقدامات کو قانون سازی کے علاوہ آئی ٹی ٹیکنالوجی کے استعمال سے بھی منسلک ہونا چاہیے۔ انگوٹھے کے نشانات کے لیے سیاہی کے استعمال کے نتائج بہتر ثابت نہیں ہوئے اس کی کئی وجوہات ہیں۔ ان وجوہات میں سیاہی کے معیار کے علاوہ نادرا کے ڈیٹابیس میں موجود انگوٹھوں کے نشانات کا معاملہ بھی شامل ہے۔ بائیو میٹرک سسٹم کے استعمال سے جعلی ووٹنگ کے خاتمے کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔
سندھ میں حلقہ بندیوں میں بدعنوانی کا معاملہ بھی انتہائی اہم ہے۔ کہا جاتا ہے کہ پیپلز پارٹی کی حکومت متنازعہ حلقہ بندیوں کے ذریعے کراچی میں اپنا مئیر لانا چاہتی ہے۔ سندھ کے بلدیاتی نظام میں بھی ایک ووٹر کو کم از کم چھ ووٹ دینا ہوں گے یوں کراچی میں بھی کے پی کے جیسی صورتحال کا سامنا ہو سکتا ہے۔ بلدیاتی انتخابات کے طریقہ کار کا معاملہ بھی بہت اہم ہے۔
ایک ووٹر جتنے زیادہ بیلٹ پیپرز پر ووٹ دے گا انتخابی عمل اتنا زیادہ مشکل ہو گا۔ بلدیاتی نظام کا ڈھانچہ اس طرح ترتیب دیا جانا چاہیے کہ ایک ووٹر ایک یا ایک سے زائد سطح پر ووٹ دے اور تمام عہدیداروں کا انتخاب بالواسطہ طریقے پر ہو، یوں انتخابی عمل میں رکاوٹ پیدا نہیں ہو گی۔ پیپلز پارٹی کی مختلف مراحل میں انتخابات کرانے کی تجویز انتہائی اہم ہے۔ بھارت میں تمام انتخابات مختلف مراحل میں منعقد ہوتے ہیں مگر گنتی ایک ہی دن ہوتی ہے، یوں ایک ہی دن نتائج سامنے آتے ہیں۔ اسی طرح مختلف پولنگ اسٹیشنوں کے نتائج سامنے نہیں آتے، مجموعی نتیجہ سامنے آتا ہے۔
بھارت کے عوام الیکشن کمیشن پر بھرپور اعتماد کرتے ہیں، جس کی بناء پر کوئی الیکشن کمیشن کے خلاف شکایت نہیں کرتا۔ پیپلز پارٹی کی اس تجویز پر آسانی سے عمل ہو سکتا ہے کہ ہر ڈویژن میں علیحدہ دن انتخابات منعقد ہونے سے امن و امان کے مسائل پر قابو پایا جا سکتا ہے اور الیکشن کمیشن زیادہ تندہی سے فرائض انجام دے سکتا ہے۔
پھر اسی دن انتخابی نتائج بھی سامنے آ سکتے ہیں مگر مسئلہ صرف مرحلہ وار انتخابات سے حل نہیں ہو گا اور نہ ہی جوڈیشل کمیشن اس مسئلے کا حل تلاش کر سکے گا بلکہ تمام سیاسی جماعتوں کو جامع انتخابی اصلاحات پر غور کرنا چاہیے اور متفقہ اصلاحات پر اگلے انتخابات میں عملدرآمد ہونا چاہیے۔ دھرنے اور ہڑتالوں سے نہ تو پہلے شفاف انتخابات یقینی ہو سکے ہیں اور نہ ہی مستقبل میں ایسا ممکن ہو سکتا ہے۔ اب تحریکِ انصاف سمیت تمام جماعتوں کو پارلیمنٹ میں آئینی اصلاحات کے لیے توجہ دینی چاہیے۔
پیپلز پارٹی نے الیکشن کمیشن سے استدعا کی ہے کہ سندھ میں ستمبر میں متوقع بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار منعقد ہونے چاہئیں۔ پیپلز پارٹی کے سربراہ بلاول بھٹو زرداری کی صدارت میں ہونے والے اجلاس میں منظور کردہ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ بلدیاتی انتخابات پورے صوبے میں ایک دن منعقد کرانے سے بہت سے مسائل پیدا ہونگے جس کے نتیجے میں شفاف انتخابات کے معاملے پر ضرب لگے گی۔
پنجاب کی حکومت نے بھی ایسی ہی درخواست کی ہے کہ پاکستان میں تو ہر انتخاب کی شفافیت پر سوالات اٹھتے ہیں مگر 2008ء کے بعد سے یہ معاملہ زیادہ شدت اختیار کر گیا ہے۔ تحریکِ انصاف نے مئی 2013ء کے انتخابات کے فوراً بعد کراچی اور لاہور میں احتجاجی مظاہرے کیے، پھر پنجاب کے چار حلقوں کو کھولنے کا مطالبہ کیا۔
پنجاب کے ان چاروں حلقوں میں دوبارہ گنتی کے مقدمات الیکشن ٹریبونل میں زیرِ سماعت تھے کہ عمران خان نے اسلام آباد پر دھاوا بولنے اور میاں نواز شریف حکومت کی برطرفی کا مطالبہ کر دیا۔ یوں وہ 4 مہینے تک کبھی پارلیمنٹ ہاؤس اور کبھی ڈی چوک پر کنٹینر پر کھڑے ہو کر کبھی سول نافرمانی، کبھی بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کو بینکوں کے بجائے ہنڈی کے ذریعے پیسے بھیجنے پر زور دیتے رہے اور کبھی حکومت کے خاتمے کے وقت کا تعین کرتے رہے۔
پھر دھرنا ختم ہوا۔ حکومت اور تحریکِ انصاف جوڈیشل کمیشن کے قیام پر متفق ہوئے۔ چیف جسٹس کی قیادت میں قائم کمیشن کو منظم دھاندلی کا پتہ چلانے کا فریضہ سونپا گیا۔ جوڈیشل کمیشن کے سامنے سیاسی جماعتوں کے وکلاء اور الیکشن کمیشن کے اراکین پیش ہوئے۔ کمیشن کی کارروائی کی جو روداد اب تک اخبارات میں شایع ہوئی ہے اس سے واضح ہوتا ہے کہ زیادہ تر معاملات انتخابی قوانین کی پابندی، ووٹنگ کے دن مختلف نوعیت کے فارموں کے متعلقہ عملے کی جانب سے اندراج اور بیلٹ پیپرز کی زائد تعداد سے متعلق ہیں۔
مختلف سیاسی جماعتوں کے وکلاء نے کمیشن کے سامنے پیش ہونے والے گواہوں سے انتخابی قوانین پر عملدرآمد کے بارے میں سوالات کیے۔ خیبرپختون خوا میں بلدیاتی انتخابات میں دھاندلی کا شور مچا۔ صوبائی حکومت نے انتخابات کو قانون کے مطابق کرانے کی ذمے داری الیکشن کمیشن پر عائد کی۔ الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ اس نے مرحلہ وار انتخابات کی تجویز پیش کی تھی مگر صوبائی حکومت اس تجویز پر عملدرآمد پر تیار نہیں ہوئی۔ عمران خان نے اب یہ انتخابات دوبارہ اور فوج کی نگرانی میں کروانے کی تجویز پیش کی ہے۔ مگر چیف الیکشن کمشنر کا کہنا ہے کہ انتخابات گڈے اور گڑیا کا کھیل نہیں ہے۔
اپوزیشن جماعتوں نے صوبائی حکومت کے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا ہے۔ اب حکومت کی حامی جماعتوں کے تعاون سے ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس میں جوڈیشل کمیشن کے قیام کی تجویز پیش کی گئی ہے۔
پرویز خٹک نے جوڈیشل کمیشن کے قیام کے لیے پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کو خط تحریر کرنے کا فیصلہ کیا ہے مگر سیاسی تناؤ کے اس ماحول میں انتخابی صورتحال کا تجزیہ کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ کے پی کے میں بلدیاتی انتخابات سیاسی اور غیر سیاسی بنیادوں پر منعقد ہوئے۔ ضلع سطح پر سیاسی بنیاد پر انتخابات منعقد ہوئے جب کہ گاؤں کی سطح پر غیر سیاسی بنیاد پر انتخابات کا فیصلہ ہوا۔
کے پی کے بلدیاتی نظام میں ایک ووٹر کو یونین ناظم سے لے کر ضلع کی سطح تک کونسلر کے انتخابات کے لیے 6 سطح پر ووٹ دینا تھا اور جہاں اقلیتی نمایندوں کا انتخاب ہونا تھا وہاں 7 سطح پر ووٹ کا حق استعمال ہونا تھا، یوں ایک ووٹر کے لیے 6 بیلٹ پیپر پر نشان لگانا بڑا مشکل کام تھا۔ ووٹرز کی طویل قطاریں لگ گئیں مگر پولنگ کا عمل سست رہا۔ الیکشن کمیشن نے زیادہ پولنگ اسٹیشن بنانے سمیت کئی اہم معاملات کو نظرانداز کیا تھا۔ ووٹرز کے گھروں کے قریب پولنگ اسٹیشن قائم کرنے کو ترجیح دی گئی تھی، اس طرح مختلف سیاسی جماعتوں کو دھاندلی کرنے کا موقع ملا۔ پولنگ کرانے والے عملے کی تربیت پر بھی توجہ نہیں دی گئی تھی۔
مختلف نوعیت کے 6 بیلٹ پیپرز کی گنتی کا کام خاصا سنجیدہ تھا۔ شدید گرمی اور بجلی کی لوڈ شیڈنگ نے بھی صورتحال کو مزید خراب کر دیا۔ یہی وجہ ہے کہ خیبرپختون خوا حکومت میں شامل تحریکِ انصاف اور جماعت اسلامی سمیت تمام جماعتیں انتخابی دھاندلیوں کا رونا رو رہی ہیں۔ ان انتخابات کے تجربہ سے پھر واضح ہوتا ہے کہ الیکشن کمیشن کی تنظیمِ نو اور انتخابی قوانین پر نظرِ ثانی کی شدید ضرورت ہے۔
الیکشن کمیشن کو سنگل کمانڈ میں ہونا چاہیے۔ چاروں صوبوں سے تعلق رکھنے والے اراکین اور چیف الیکشن کمشنر کے درمیان مشاورت ہر صورت میں ہونی چائے مگر حتمی فیصلے کا اختیار چیف الیکشن کمشنر کو ہی حاصل ہونا چاہیے تا کہ کمیشن کے ہر فیصلے کی ذمے داری وہ قبول کریں۔ انتخابی عمل میں شریک عملے کی سخت تربیت ہونی چاہیے۔ انھیں مختلف نوعیت کے فارموں کے اندراج کی اہمیت، بیلٹ پیپرز کے ریکارڈ رکھنے اور بیلٹ پیپرز کے تھیلوں کو سربہ مہر کرنے جیسے اہم فرائض کی اہمیت سے آگاہ ہونا چاہیے۔
پولیس پر ریٹرننگ افسران اور پریزائیڈنگ افسران کی حکم کی پابندی کو لازمی قرار دیا جائے۔ اسی طرح ووٹر لسٹوں کی تیاری اور پولنگ اسٹیشنوں کے قیام کے معاملات کو بھی میرٹ کے مطابق طے کرنے کے لیے اقدامات کی ضرورت ہے۔ ان اقدامات کو قانون سازی کے علاوہ آئی ٹی ٹیکنالوجی کے استعمال سے بھی منسلک ہونا چاہیے۔ انگوٹھے کے نشانات کے لیے سیاہی کے استعمال کے نتائج بہتر ثابت نہیں ہوئے اس کی کئی وجوہات ہیں۔ ان وجوہات میں سیاہی کے معیار کے علاوہ نادرا کے ڈیٹابیس میں موجود انگوٹھوں کے نشانات کا معاملہ بھی شامل ہے۔ بائیو میٹرک سسٹم کے استعمال سے جعلی ووٹنگ کے خاتمے کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔
سندھ میں حلقہ بندیوں میں بدعنوانی کا معاملہ بھی انتہائی اہم ہے۔ کہا جاتا ہے کہ پیپلز پارٹی کی حکومت متنازعہ حلقہ بندیوں کے ذریعے کراچی میں اپنا مئیر لانا چاہتی ہے۔ سندھ کے بلدیاتی نظام میں بھی ایک ووٹر کو کم از کم چھ ووٹ دینا ہوں گے یوں کراچی میں بھی کے پی کے جیسی صورتحال کا سامنا ہو سکتا ہے۔ بلدیاتی انتخابات کے طریقہ کار کا معاملہ بھی بہت اہم ہے۔
ایک ووٹر جتنے زیادہ بیلٹ پیپرز پر ووٹ دے گا انتخابی عمل اتنا زیادہ مشکل ہو گا۔ بلدیاتی نظام کا ڈھانچہ اس طرح ترتیب دیا جانا چاہیے کہ ایک ووٹر ایک یا ایک سے زائد سطح پر ووٹ دے اور تمام عہدیداروں کا انتخاب بالواسطہ طریقے پر ہو، یوں انتخابی عمل میں رکاوٹ پیدا نہیں ہو گی۔ پیپلز پارٹی کی مختلف مراحل میں انتخابات کرانے کی تجویز انتہائی اہم ہے۔ بھارت میں تمام انتخابات مختلف مراحل میں منعقد ہوتے ہیں مگر گنتی ایک ہی دن ہوتی ہے، یوں ایک ہی دن نتائج سامنے آتے ہیں۔ اسی طرح مختلف پولنگ اسٹیشنوں کے نتائج سامنے نہیں آتے، مجموعی نتیجہ سامنے آتا ہے۔
بھارت کے عوام الیکشن کمیشن پر بھرپور اعتماد کرتے ہیں، جس کی بناء پر کوئی الیکشن کمیشن کے خلاف شکایت نہیں کرتا۔ پیپلز پارٹی کی اس تجویز پر آسانی سے عمل ہو سکتا ہے کہ ہر ڈویژن میں علیحدہ دن انتخابات منعقد ہونے سے امن و امان کے مسائل پر قابو پایا جا سکتا ہے اور الیکشن کمیشن زیادہ تندہی سے فرائض انجام دے سکتا ہے۔
پھر اسی دن انتخابی نتائج بھی سامنے آ سکتے ہیں مگر مسئلہ صرف مرحلہ وار انتخابات سے حل نہیں ہو گا اور نہ ہی جوڈیشل کمیشن اس مسئلے کا حل تلاش کر سکے گا بلکہ تمام سیاسی جماعتوں کو جامع انتخابی اصلاحات پر غور کرنا چاہیے اور متفقہ اصلاحات پر اگلے انتخابات میں عملدرآمد ہونا چاہیے۔ دھرنے اور ہڑتالوں سے نہ تو پہلے شفاف انتخابات یقینی ہو سکے ہیں اور نہ ہی مستقبل میں ایسا ممکن ہو سکتا ہے۔ اب تحریکِ انصاف سمیت تمام جماعتوں کو پارلیمنٹ میں آئینی اصلاحات کے لیے توجہ دینی چاہیے۔