کراچی کی صورتحال پر وزیر اعظم کا اظہار خیال
دہشت گردی کے عفریت سے جان چھڑانے کے لیے ملک کے اقتصادی مرکز اور معاشی شہ رگ کراچی میں پائیدار امن حتمی شرط ہے
قانون نافذ کرنیوالے ادارے دہشتگردوں کا مالی نیٹ ورک توڑنے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائیں اور قیام امن کے لیے بلاامتیاز کارروائی کو یقینی بنائیں۔ فوٹو : فائل
ISLAMABAD:
وزیر اعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ غربت اور دہشتگردی سے جان چھڑانی ہے تو امن کا قیام لازم ہے، کراچی میں تمام مافیاز کا جڑ سے خاتمہ کیا جائے گا ، دہشتگردوں کو مالی وسائل فراہم کرنے والے اور اس سے فائدہ حاصل کرنیوالے عناصر کا تعلق خواہ کسی بھی گروہ یا تنظیم سے ہو ان کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔
بلوچستان کے صنعتی شہر حب میں بائیکو آئل ریفائنری کی افتتاحی تقریب، اور گورنر ہاؤس میں وزیر اعلیٰ سندھ اور گورنر سے ملاقات میں ان کا انداز نظر اس خوشی سے مشروط تھا، کراچی کا امن پہلے سے زیادہ بہتر ہوا ہے جس کا مطلب یہ ہوا کہ ملک کا امن تباہ کرنے والوں کے لیے بظاہر کوئی نرم گوشہ نہیں۔ مگر قیام امن کے صبر آزما، جاں گسل اور اعصاب شکن سفر میں وفاقی و صوبائی حکومتوں سمیت سیکیورٹی حکام کو ابھی کئی سخت مراحل درپیش ہونگے۔ دہشت گردی کے عفریت سے جان چھڑانے کے لیے ملک کے اقتصادی مرکز اور معاشی شہ رگ کراچی میں پائیدار امن حتمی شرط ہے۔
کراچی میں اپنے قیام کے دوران وزیر اعظم کی مصروفیات اس بار بھی غیر معمولی تھیں، ملکی سیاسی و معاشی صورتحال سمیت کراچی میں ہنگامی اجلاس کے دوران امن و امان کا جائزہ لیا گیا، اور اقتصادی ترقی و توانائی بحران کے خاتمہ کے لیے ان کا حب میں آئل ریفائنری میں توسیع کی تقریب اور کراچی میں تاجروں سے خطاب انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔
جس میں انہیں منی پاکستان کی آتش فشاں جیسی صورتحال سے حقیقی آگاہی کے لیے صعنتکاروں اور تاجروں کی طرف سے عرضداشت اور ڈی جی رینجرز کی طرف سے منی پاکستان میں 230 ارب روپے کے بھتے پر مبنی رپورٹ کی نقول پیش کی گئیں، جن میں انکشاف کیا گیا ہے کہ مختلف سیاسی جماعتوں، تنظیموں اور مافیاز کی طرف سے ملنے والی اس رقم کو دہشتگردی کے نیٹ ورک، گینگ وار جھتوں کی پرورش اور اسلحہ کی خریداری کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ چنانچہ بادی النظر میں وزیر اعظم کا تمام مافیاز کا جڑ سے خاتمے کا عزم اسی تناظر سے منسلک ہے۔
ادھر مقامی ہوٹل میں وفاق ایوان ہائے صنعت و تجارت کی ایکسپورٹ ٹرافی ایوارڈز کی تقریب سے خطاب میں انھوں نے گورنر سندھ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کراچی میں مکھی مر جائے تو ہڑتال ہو جاتی ہے، احتجاج ہوتا ہے، کوشش کریں کہ ہڑتال نہیں ہونی چاہیے۔ وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ سانحہ صفورا کے تمام ملزموں کو پکڑا جا چکا ہے۔ ملزموں کو سالوں میں نہیں ہفتوں میں سزا ملنی چاہیے۔
مگر عدل و انصاف کے تقاضے عدالتوں کو پورے کرنے ہیں، جب چالان ہی ٹھوس شواہد اور دستاویزی ثبوتوں سے محروم ہوں تو انتہائی خطرناک دہشت گردوں کی ضمانتوں پر رہائی یا بے گناہی بھی قانون کی حکمرانی پر سوالیہ نشان لگا دیتی ہے جب کہ سماج میں بااثر شخصیات اور کرپشن دریا میں بڑے مگر مچھ آج بھی دندناتے ہوئے تیرتے رہتے ہیں، یہ درست ہے کہ دہشتگردوں کو ہر حال میں کیفرکردار تک پہنچانا ریاست و حکومت کا فرض ہے اور دہشتگردی کے خلاف آپریشن آخری دہشتگرد کے خاتمے تک جاری رہنا چاہیے، تاہم اب ضرورت ٹھوس عمل کی ہے۔
آپریشن کے باعث جرائم پیشہ عناصر کی کمر ٹوٹ چکی ہے۔ فاٹا کا دہشت گرد نیٹ ورک منتشر ہے، تاہم کراچی سے بھی دہشتگردوں کے مکمل صفایا تک آپریشن جاری رہے تو نتائج مزید بہتر برآمد ہو سکتے ہیں۔ لیکن کراچی کے عوام کو درپیش مسائل کا حل بھی تلاش کیا جائے، اور وزیر اعظم سمیت تمام سیاست دان تشبیہ و استعارے کے استعمال میں قدرے محتاط رویہ رکھیں، قومی سطح پر زبان و بیان کی فطری نفاستوں سے بے نیازی تلخی پیدا کرتی ہے جیسا کراچی اور مکھی کا ذکر ہوا۔
شہر میں بدامنی کے باوجود تہذیبی سطح کو بھی پیش نظر رکھنا ہم سب کا فرض ہے تا کہ مکھی یا مچھر جیسے الفاظ سے کسی کی دلآزاری نہ ہو۔ وزیر اعظم کی آمد کے بعد کراچی ڈیفنس میں احتجاج کے باعث طویل ترین بدترین ٹریفک جام ہوا جس میں ایمبولینس میں پھنسے 2 مریض بھی جاں بحق ہوئے، اس طرح کے احتجاج کی روایت کا خاتمہ اور ٹریفک کے نظام کو بھی رواں رکھنے کی اشد ضرورت ہے۔
اب گیند سندھ حکومت کی کورٹ میں ہے، رینجرز کی رپورٹ نے کئی ایک کو نروس کر دیا ہے، پی پی اور ایم کیو ایم خود کو زد پر محسوس کرتی ہیں، سینئر سیاسی رہنما بھتہ کی رقم کے تعین پر حیرت زدہ ہیں، رینجرز کے انکشافات پر بیوروکریٹس میں ہلچل مچی ہے، نیب نے اپنی تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا ہے، کئی سیاسی رہنما، صوبائی وزراء اور کرپٹ عناصر کے خلاف کارروائی کے لیے زمین تنگ ہوتی جا رہی ہے۔
وزیر اعظم نے کہا بلوچستان میں شرپسند عناصر کو جلد پکڑنے کا عندیہ دیا اور صوبے میں پائیدار امن قائم کرنے پر زور دیا ہے۔ ایک اطلاع کے مطابق کراچی میں ڈاکٹر عشرت العباد اور قائم علی شاہ سے ملاقات میں وزیر اعظم نے کہا کہ کراچی میں دہشتگردوں کی پشت پناہی کرنیوالے عناصر کو بھی قانون کی گرفت میں لایا جائے گا ۔ قانون نافذ کرنیوالے ادارے دہشتگردوں کا مالی نیٹ ورک توڑنے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائیں اور قیام امن کے لیے بلاامتیاز کارروائی کو یقینی بنائیں۔ گورنر سندھ کو تو واضح ہدایت ملی کہ وہ ہڑتال نہ ہونے دیں۔ اس میں کسی کی ہتک مقصود نہیں بلکہ ایک ڈوبتے ہوئے شہر اور ایک شہری تہذیب کو بچانے کا وقت ہے۔ یہ سب کراچی کے اصل مفاد میں کیا جا رہا ہے۔
وزیر اعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ غربت اور دہشتگردی سے جان چھڑانی ہے تو امن کا قیام لازم ہے، کراچی میں تمام مافیاز کا جڑ سے خاتمہ کیا جائے گا ، دہشتگردوں کو مالی وسائل فراہم کرنے والے اور اس سے فائدہ حاصل کرنیوالے عناصر کا تعلق خواہ کسی بھی گروہ یا تنظیم سے ہو ان کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔
بلوچستان کے صنعتی شہر حب میں بائیکو آئل ریفائنری کی افتتاحی تقریب، اور گورنر ہاؤس میں وزیر اعلیٰ سندھ اور گورنر سے ملاقات میں ان کا انداز نظر اس خوشی سے مشروط تھا، کراچی کا امن پہلے سے زیادہ بہتر ہوا ہے جس کا مطلب یہ ہوا کہ ملک کا امن تباہ کرنے والوں کے لیے بظاہر کوئی نرم گوشہ نہیں۔ مگر قیام امن کے صبر آزما، جاں گسل اور اعصاب شکن سفر میں وفاقی و صوبائی حکومتوں سمیت سیکیورٹی حکام کو ابھی کئی سخت مراحل درپیش ہونگے۔ دہشت گردی کے عفریت سے جان چھڑانے کے لیے ملک کے اقتصادی مرکز اور معاشی شہ رگ کراچی میں پائیدار امن حتمی شرط ہے۔
کراچی میں اپنے قیام کے دوران وزیر اعظم کی مصروفیات اس بار بھی غیر معمولی تھیں، ملکی سیاسی و معاشی صورتحال سمیت کراچی میں ہنگامی اجلاس کے دوران امن و امان کا جائزہ لیا گیا، اور اقتصادی ترقی و توانائی بحران کے خاتمہ کے لیے ان کا حب میں آئل ریفائنری میں توسیع کی تقریب اور کراچی میں تاجروں سے خطاب انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔
جس میں انہیں منی پاکستان کی آتش فشاں جیسی صورتحال سے حقیقی آگاہی کے لیے صعنتکاروں اور تاجروں کی طرف سے عرضداشت اور ڈی جی رینجرز کی طرف سے منی پاکستان میں 230 ارب روپے کے بھتے پر مبنی رپورٹ کی نقول پیش کی گئیں، جن میں انکشاف کیا گیا ہے کہ مختلف سیاسی جماعتوں، تنظیموں اور مافیاز کی طرف سے ملنے والی اس رقم کو دہشتگردی کے نیٹ ورک، گینگ وار جھتوں کی پرورش اور اسلحہ کی خریداری کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ چنانچہ بادی النظر میں وزیر اعظم کا تمام مافیاز کا جڑ سے خاتمے کا عزم اسی تناظر سے منسلک ہے۔
ادھر مقامی ہوٹل میں وفاق ایوان ہائے صنعت و تجارت کی ایکسپورٹ ٹرافی ایوارڈز کی تقریب سے خطاب میں انھوں نے گورنر سندھ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کراچی میں مکھی مر جائے تو ہڑتال ہو جاتی ہے، احتجاج ہوتا ہے، کوشش کریں کہ ہڑتال نہیں ہونی چاہیے۔ وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ سانحہ صفورا کے تمام ملزموں کو پکڑا جا چکا ہے۔ ملزموں کو سالوں میں نہیں ہفتوں میں سزا ملنی چاہیے۔
مگر عدل و انصاف کے تقاضے عدالتوں کو پورے کرنے ہیں، جب چالان ہی ٹھوس شواہد اور دستاویزی ثبوتوں سے محروم ہوں تو انتہائی خطرناک دہشت گردوں کی ضمانتوں پر رہائی یا بے گناہی بھی قانون کی حکمرانی پر سوالیہ نشان لگا دیتی ہے جب کہ سماج میں بااثر شخصیات اور کرپشن دریا میں بڑے مگر مچھ آج بھی دندناتے ہوئے تیرتے رہتے ہیں، یہ درست ہے کہ دہشتگردوں کو ہر حال میں کیفرکردار تک پہنچانا ریاست و حکومت کا فرض ہے اور دہشتگردی کے خلاف آپریشن آخری دہشتگرد کے خاتمے تک جاری رہنا چاہیے، تاہم اب ضرورت ٹھوس عمل کی ہے۔
آپریشن کے باعث جرائم پیشہ عناصر کی کمر ٹوٹ چکی ہے۔ فاٹا کا دہشت گرد نیٹ ورک منتشر ہے، تاہم کراچی سے بھی دہشتگردوں کے مکمل صفایا تک آپریشن جاری رہے تو نتائج مزید بہتر برآمد ہو سکتے ہیں۔ لیکن کراچی کے عوام کو درپیش مسائل کا حل بھی تلاش کیا جائے، اور وزیر اعظم سمیت تمام سیاست دان تشبیہ و استعارے کے استعمال میں قدرے محتاط رویہ رکھیں، قومی سطح پر زبان و بیان کی فطری نفاستوں سے بے نیازی تلخی پیدا کرتی ہے جیسا کراچی اور مکھی کا ذکر ہوا۔
شہر میں بدامنی کے باوجود تہذیبی سطح کو بھی پیش نظر رکھنا ہم سب کا فرض ہے تا کہ مکھی یا مچھر جیسے الفاظ سے کسی کی دلآزاری نہ ہو۔ وزیر اعظم کی آمد کے بعد کراچی ڈیفنس میں احتجاج کے باعث طویل ترین بدترین ٹریفک جام ہوا جس میں ایمبولینس میں پھنسے 2 مریض بھی جاں بحق ہوئے، اس طرح کے احتجاج کی روایت کا خاتمہ اور ٹریفک کے نظام کو بھی رواں رکھنے کی اشد ضرورت ہے۔
اب گیند سندھ حکومت کی کورٹ میں ہے، رینجرز کی رپورٹ نے کئی ایک کو نروس کر دیا ہے، پی پی اور ایم کیو ایم خود کو زد پر محسوس کرتی ہیں، سینئر سیاسی رہنما بھتہ کی رقم کے تعین پر حیرت زدہ ہیں، رینجرز کے انکشافات پر بیوروکریٹس میں ہلچل مچی ہے، نیب نے اپنی تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا ہے، کئی سیاسی رہنما، صوبائی وزراء اور کرپٹ عناصر کے خلاف کارروائی کے لیے زمین تنگ ہوتی جا رہی ہے۔
وزیر اعظم نے کہا بلوچستان میں شرپسند عناصر کو جلد پکڑنے کا عندیہ دیا اور صوبے میں پائیدار امن قائم کرنے پر زور دیا ہے۔ ایک اطلاع کے مطابق کراچی میں ڈاکٹر عشرت العباد اور قائم علی شاہ سے ملاقات میں وزیر اعظم نے کہا کہ کراچی میں دہشتگردوں کی پشت پناہی کرنیوالے عناصر کو بھی قانون کی گرفت میں لایا جائے گا ۔ قانون نافذ کرنیوالے ادارے دہشتگردوں کا مالی نیٹ ورک توڑنے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائیں اور قیام امن کے لیے بلاامتیاز کارروائی کو یقینی بنائیں۔ گورنر سندھ کو تو واضح ہدایت ملی کہ وہ ہڑتال نہ ہونے دیں۔ اس میں کسی کی ہتک مقصود نہیں بلکہ ایک ڈوبتے ہوئے شہر اور ایک شہری تہذیب کو بچانے کا وقت ہے۔ یہ سب کراچی کے اصل مفاد میں کیا جا رہا ہے۔