پنجاب حکومت کا بھاری بھرکم بجٹ

پنجاب کے بجٹ میں تنخواہوں، پنشن میں ساڑھے سات فیصد اضافہ کیا گیا جب کہ دس نئی سروسز پر جی ایس ٹی عائد کر دیا گیا ہے

پنجاب کو ترقی یافتہ بنانے کے لیے ضروری ہے کہ بڑے شہروں کو چھوٹے قصبوں اور دیہات سے ملانے کے لیے اچھی رابطہ سڑکیں قائم کی جائیں۔ فوٹو : فائل

ISLAMABAD:
پنجاب حکومت نے آئندہ مالی سال کے لیے لگ بھگ ساڑھے چودہ کھرب روپے کا بجٹ پیش کر دیا ہے۔ پنجاب کے بجٹ میں تنخواہوں، پنشن میں ساڑھے سات فیصد اضافہ کیا گیا جب کہ دس نئی سروسز پر جی ایس ٹی عائد کر دیا گیا ہے۔

اس بجٹ کی ایک خصوصیت یہ بتائی گئی ہے کہ اسے اقتصادیات میں ڈاکٹریٹ کرنے والی خاتون نے خود تیار کیا اور خود ہی پیش کیا جو پنجاب کی پہلی خاتون وزیر خزانہ عائشہ غوث پاشا ہیں۔ بجٹ میں مجموعی وصولیوں کا تخمینہ تقریباً گیارہ سو ساٹھ ارب جب کہ اخراجات کا تخمینہ گیارہ سو چورانوے ارب اڑتیس کروڑ روپے ہے۔

ترقیاتی منصوبوں پر چار سو ارب روپے خرچ ہوں گے لیکن اس میں سوچنے کی بات یہ ہے کہ گزشتہ سال کے بجٹ میں پونے تین سو ارب روپے کا حجم اخراجات کے لیے رکھا گیا تھا مگر سارے سال میں وہ بھی خرچ نہ ہو سکے تو اب اس سے پچھتر کروڑ روپے زیادہ کیسے خرچ ہوں گے۔ صحت کے لیے بجٹ کا چودہ اشاریہ پانچ فیصد رکھا گیا ہے جو ایک سو چھیاسٹھ ارب روپے بنتے ہیں۔

بجٹ میں زراعت کے لیے انتہائی قلیل رقم یعنی صرف چالیس ارب روپے رکھے گئے ہیں جب کہ صرف لاہور شہر کے لیے مختص کی جانے والی رقم کا حجم ایک سو ارب روپے ہے اور پولیس کے لیے بھی تقریبا اس سے تھوڑی کم رقم یعنی چورانوے ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ پنجاب بنیادی طور پر زراعت کا گھر ہے۔اس حساب سے زراعت کے شعبے کے لیے کہیں زیادہ رقم مختص کی جانی چاہیے تھی۔ لاہور کے لیے ستائیس کلومیٹر طویل پاکستان کی تاریخ کا پہلا میٹرو ٹرین اورنج لائن منصوبہ بھی شروع کرنے کا اعلان کیا گیا ہے ۔

جنوبی پنجاب کی تعمیر و ترقی کے لیے تین سو تین ارب اور ملتان میٹرو بس سروس منصوبے کے لیے چھبیس ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ قائداعظم سولر پارک پر ڈیڑھ سو ارب خرچ ہوں گے۔ دیہی سڑکوں کی تعمیر کے لیے سڑسٹھ ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ اس مقصد کے لیے حکومت کو صرف اسفالٹ سے سڑکیں بنانے کے علاوہ ٹف ٹائلز کا استعمال بھی کرنا چاہیے جو قدرے کم خرچ ہو گا اور اس میں دیہی نوجوانوں کو بھی روزگار فراہم ہو سکے گا۔


رحیم یار خان میں انجینئرنگ یونیورسٹی، بہاولپور میں ویٹرنری یونیورسٹی، ملتان میں زرعی یونیورسٹی اور بہاولنگر میں میڈیکل کالج قائم ہوں گے جو کہ ان علاقوں کے لیے انتہائی مفید منصوبے ہیں۔ آئندہ مالی سال میں انفرااسٹرکچر ڈویلپمنٹ سیس کے نام سے نیا ٹیکس عائد کرنے کی تجویز دی گئی ہے جب کہ کلبوں پر عائد ایجوکیشن سیس ختم کر دیا گیا ہے۔ پنجاب میں دس نئی سروسز پر جی ایس ٹی عائد کر دیا گیا ہے جن میں پی آر سروسز، سی اے، آڈیٹرز، کارپوریٹ لاء کنسلٹنٹ وغیرہ شامل ہونگے۔

پنجاب سے لمبے ہوائی سفر پر فی ٹکٹ اڑھائی ہزار روپے، چھوٹے سفر کے لیے ڈیڑھ ہزار روپے فی ٹکٹ، اکانومی اور اکانومی پلس کلاس کے لیے پانچ ہزار روپے فی ٹکٹ کلب بزنس اور فرسٹ کلاس کے لیے فی ٹکٹ دس ہزار روپے جی ایس ٹی عائد کرنے کی تجویز ہے البتہ حج، عمرہ، ڈپلومیٹس اور اعلیٰ سرکاری حکام اس ٹیکس سے مستثنیٰ ہوں گے۔ اگر یہ ٹیکس عائد کرنا ضروری ہے تو پھر اس میں اعلیٰ سرکاری افسروں اور ڈپلومیٹ کو بھی کوئی رعایت نہیں ہونی چاہیے۔ میڈیکل الاؤنس میں اضافہ پنشنرز کو بھی ملے گا گویا ان کی دعائیں مستجاب ہوئیں۔

سرکاری ملازمتوں میں خواتین کے لیے پندرہ فیصد کوٹہ مقرر کیا گیا ہے اور ان کی عمر کی حد میں تین سال رعایت دی جائیگی۔ پنجاب میں کم از کم تنخواہ بارہ ہزار سے بڑھا کر تیرہ ہزار کرنے کا اعلان بھی کیا گیا۔

صوبے بھر کے دیہی علاقوں میں مرحلہ وار پروگرام کے تحت ڈیڑھ سو ارب روپے کی مالیت سے نئی سڑکیں تعمیر کرنے اور پرانی سڑکوں کی مرمت اور توسیع کا ایک منصوبہ بنایا ہے، حکومت نے اس کے لیے آئندہ مالی سال میں باون ارب روپے مختص کیے ہیں، حکومت چھوٹے کاشتکاروں کو سستے ٹریکٹر فراہم کرنے کے لیے پانچ ارب روپے کی سبسڈی مہیا کر رہی ہے جس سے کسانوں میں پچیس ہزار ٹریکٹر شفاف طریقے سے فراہم کیے جائیں گے۔ انھوں نے کہا کہ عوام کو صاف پانی کی فراہمی کے منصوبے کا آغاز جنوبی پنجاب کے دیہات سے جلد کیا جا رہا ہے۔

''پنجاب صاف پانی پروگرام'' کے تحت آئندہ تین سالوں کے دوران ستر ارب روپے کی خطیر رقم سے صوبے بھر کے دیہات میں چار کروڑ سے زائد افراد کو صاف اور محفوظ پانی کی سہولت فراہم کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے، حکومت پنجاب نے اس منصوبے کے لیے گیارہ ارب روپے کی رقم مختص کی ہے۔ پنجاب کے بجٹ میں جو اہداف مقرر کیے ہیں، ان پر عمل کیا جانا چاہیے۔ اس میں زراعت اور تعلیم کے لیے مزید رقم مختص کرنے کی کوئی راہ نکالی جانی چاہیے۔ پنجاب کو اس وقت سب سے زیادہ زرعی خودکفالت اور دیہی و شہری علاقوں میں سرکاری سطح پر تعلیم کی فراہمی ہے۔

اس کے علاوہ جنوبی پنجاب کے دیہات اور وسطی پنجاب کے دیہات میں رابطے سڑکوں کی تعمیر بھی ضروری ہے۔ صرف لاہور، راولپنڈی، ملتان پر توجہ دینے سے پنجاب ترقی یافتہ نہیں ہو گا۔ پنجاب کو ترقی یافتہ بنانے کے لیے ضروری ہے کہ بڑے شہروں کو چھوٹے قصبوں اور دیہات سے ملانے کے لیے اچھی رابطہ سڑکیں قائم کی جائیں۔ سرکاری اسپتالوں میں علاج و معالجہ کی اچھی سہولتیں فراہم کی جائیں اور مریضوں کو مفت ادویات فراہم کی جائیں۔
Load Next Story