گلگت بلتستان اور منڈی بہاؤالدین
مسلم لیگ کے پالیسی سازوں اور پروپیگنڈہ کرنے والوں نے سیاست حاضرہ کی نفسیات کو پیش نظر رکھتے ہوئے
zaheer_akhter_beedri@yahoo.com
مسلم لیگ (ن) کو دو انتخابی میدانوں میں کامیابی حاصل ہوئی، گلگت بلتستان کی قانون ساز اسمبلی میں مسلم لیگ نے کل 24 نشستوں میں سے 14 نشستوں پر کامیابی حاصل کی۔ تحریک انصاف، مجلس وحدت المسلمین نے 2,2 نشستیں حاصل کیں، پیپلز پارٹی، اسلامی تحریک اور جے یو آئی نے 1,1 نشست لی۔ منڈی بہاؤالدین کے ضمنی الیکشن میں بھی مسلم لیگ جیت گئی، اس کے نمایندے ممتاز تارڑ نے 77884 ووٹر حاصل کیے جب کہ تحریک انصاف کے امیدوار طارق تارڑ کو 40570 ووٹ ملے۔
ہم ان دونوں انتخابات میں دو بڑی جماعتوں کی ناکامی کو قابل ذکر اس لیے نہیں سمجھتے کہ موجودہ انتخابی سیاست میں یہ جماعتیں مسلم لیگ کی رقیب نہیں تھیں، اصل مسئلہ 2013ء کے انتخابات کے بعد مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف کے درمیان مقابلے کا ہے، بڑے افسوس کا مقام ہے کہ نئے پاکستان کا علم بلند کرنے اور بڑے بڑے جلسے کرنے والی تحریک انصاف گلگت بلتستان کی کل 24 نشستوں میں سے صرف 2 نشستیں حاصل کر سکی جب کہ مسلم لیگ (ن) نے 24 نشستوں میں سے 14 نشستیں حاصل کیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مسلم لیگ ن کی اس قابل ذکر کامیابی اور تحریک انصاف کی ناکامی کی وجہ کیا ہے؟
مسلم لیگ کے پالیسی سازوں اور پروپیگنڈہ کرنے والوں نے سیاست حاضرہ کی نفسیات کو پیش نظر رکھتے ہوئے چند ایسے کام کیے جن کی عوامی افادیت رہی ہو یا نہ ہو پروپیگنڈہ افادیت قابل ذکر ہے، مثلاً میٹرو بس کے مسئلے کو لے لیجیے، اس بس سروس سے دو تین لاکھ افراد کو لاہور میں سہولتیں حاصل ہوئیں اور ان سہولتوں کے استعمال کرنے والوں کا لاہور کی مجموعی آبادی میں 10-5 فیصد سے زیادہ حصہ نہیں لیکن اس میٹرو بس کا اس قدر پروپیگنڈہ کیا گیا کہ عوام کی نفسیات پر اس کا اثر پڑنا لازمی تھا، سو اس کا فائدہ مسلم لیگ (ن) کو ہوا، پھر اس پروجیکٹ کی سیاسی افادیت کو دیکھتے ہوئے مسلم لیگ کی حکومت نے راولپنڈی اسلام آباد میٹرو بس سروس کا آغاز کر دیا، جس کا سیاسی فائدہ بھی حکومت کو ہوا۔ ان منصوبوں پر اگرچہ عوام ہی کا پیسہ خرچ ہوا لیکن اس کا کریڈٹ حکومت کو ملااور یہ منصوبے حکومت کے بڑے کارنامے بن گئے۔
مسلم لیگ (ن) کی مرکز میں حکومت سے پہلے پاکستان ریلوے کا بہت برا حال تھا، سابقہ پی پی حکومت کے دوران ریلوے کا بیڑہ غرق ہو چکا تھا لیکن وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق کی کوششوں اور کاوشوں سے ریلوے کی بحالی میں بہت مدد ملی، اگرچہ ریلوے نظام کی بہتری میں سعد رفیق کی ذاتی دلچسپی کا بڑا دخل تھا لیکن اس کا کریڈٹ بھی نواز حکومت کو ملا۔ موجودہ حکومت کو جو سب سے زیادہ فائدہ ہوا وہ چین کے ساتھ اقتصادی راہداری کے معاہدے سے ہوا۔ 46 ارب ڈالر کے اس معاہدے کی پبلسٹی بھی اس مہارت سے کی گئی کہ یہ منصوبہ اگرچہ ابھی شروع ہوا نہ اس کے ثمرات عوام تک پہنچے لیکن حکومت کی ایسی واہ واہ ہوئی کہ یہ منصوبہ بھی حکومت کا ایک تاریخی کارنامہ بن گیا۔ ظاہر ہے گلگت بلتستان ہو یا منڈی بہاؤالدین مسلم لیگ کے امیدواروں کو اس کا فائدہ ملنا منطقی تھا سو ملا۔
اس حوالے سے ایک اہم فیکٹر وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کی فعال شخصیت اور ان کا پھرتیلا پن ہے، ہماری روایتی حکمرانی کی طرح شہباز شریف منصوبے بنا کر بیورو کریسی کے حوالے نہیں کر دیتے بلکہ سر پر سوار رہ کر وقت سے پہلے منصوبوں کو مکمل کرنے کی کوشش کرتے ہیں، راولپنڈی اسلام آباد کا میٹرو بس منصوبہ ہو یا لاہور کا میٹرو بس منصوبہ، شہباز شریف ان منصوبوں سے عوام کو متاثر کرنے کا فن جانتے ہیں۔ عوام کے ساتھ لائن میں کھڑے ہو کر ٹکٹ لینا ہو یا عوام کے ساتھ میٹرو بس میں سفر کرنا، اس میں تھوڑا سا وقت تو صرف ہوتا ہے لیکن اس کی پروپیگنڈہ ویلیو بہت زیادہ ہوتی ہے جس کا بھرپور فائدہ شہباز شریف اٹھا رہے ہیں، جس کا بالواسطہ فائدہ حکومت کو گلگت بلتستان اور منڈی بہاؤ الدین میں ہوا۔
گلگت اور منڈی بہاؤ الدین پاکستان کے ہی حصے ہیں ان علاقوں میں رہنے والے عوام کے اصل مسائل بھی مہنگائی، بے روزگاری، بجلی، گیس کی لوڈشیڈنگ، کرپشن وغیرہ ہیں۔ کیا ان مسائل سے جن کا سامنا دن رات گلگت بلتستان اور منڈی بہاؤالدین کے عوام کو بھی رہتا ہے، کوئی ریلیف ملا؟ مہنگائی، بے روزگاری، گیس بجلی کی لوڈشیڈنگ سے ان علاقوں کے عوام کو نجات ملی؟ اس کا جواب نفی ہی میں ہے، لیکن پروپیگنڈہ مہم اور بعض دوسرے عوامل سے عوام متاثر ہوئے جس کا فائدہ حکومت کو ہوا۔
اب آئیے ذرا تحریک انصاف کی گلگت بلتستان اور منڈی بہاؤالدین میں ناکامیوں پر نظر ڈالتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان کے عوام ملک کی تمام سیاسی پارٹیوں سے مایوس ہیں اور ان کی نظریں ہر وقت کسی ایسے مسیحا کو تلاش کرتی رہتی ہیں جو انھیں 68 سالہ عذاب ناک مسائل سے نجات دلائے۔ 2014ء میں جب عمران خان نے نئے پاکستان اور Status Quo توڑنے کے نعروں کے ساتھ اسلام آباد میں دھرنوں کا آغاز کیا تو عوام نے ان نعروں میں کشش محسوس کی اور تمام دوسرے آزمائے ہوئے سیاستدانوں کے مقابلے میں چونکہ عمران خان کا سیاسی کیریئر بے داغ تھا، سو عوام عمران خان کی طرف دوڑ پڑے اور دھرنوں اور جلسوں میں لاکھوں کی تعداد میں شرکت کرنے لگے لیکن عمران خان کی سیاسی ناپختگی کا عالم یہ تھا کہ وہ نئے پاکستان کی حقیقت سے عوام کو آگاہ کرنے Status Quo کو توڑنے کے فوائد سے عوام کو آگاہ کرنے اور ان ایشوز کو ہی اپنی سیاست کا مرکزی موضوع بنانے کے بجائے نواز شریف کے استعفے کے بے معنی مطالبے کو اپنا واحد مطالبہ بنا لیا اور اس کے پیچھے لٹھ لے کر دوڑتے رہے۔
نواز شریف کے اتحادیوں نے جب دیکھا کہ ان کی امیدوں کا مرکز خطرے میں ہے تو انھوں نے پارلیمنٹ میں دھونی رمائی۔ نہ نواز شریف کے استعفے کا مطالبہ بامعنی تھا نہ اس کی مخالفت میں معنویت تھی، سو دونوں کے غباروں سے ہوا نکل گئی۔عمران خان نے دوسرا موضوع بھی ایسا تلاش کیا جس کا عوامی مفادات عوام کے سلگتے ہوئے مسائل سے کوئی تعلق نہ تھا۔ چار حلقے کھولو اور انتخابی دھاندلی کی باتوں سے عوام بدظن ہو گئے اور یہ محسوس کرنے لگے کہ نئے پاکستان اور ''اسٹیٹس کو'' توڑنے کی باتیں دیوانے کا خواب ہیں، اصل مسئلہ یہ ہے کہ کپتان کسی شارٹ کٹ کے ذریعے وزارت عظمیٰ تک پہنچنا چاہتا ہے، اس تاثر نے عمران خان کا نہ صرف امیج خراب کر دیا بلکہ عوام اس نئے مسیحا سے مایوس ہوتے گئے۔ عمران خان نے ڈرون حملوں کے خلاف تو تحریک چلائی لیکن مہنگائی، بے روزگاری، گیس بجلی کی لوڈشیڈنگ، دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ جیسے عوامی مسائل پر کوئی تحریک چلائی، نہ انھیں اپنی سیاست کا مرکزی موضوع بنایا۔ یہ وہ چند وجوہات ہیں جس کی وجہ سے عوام عمران سے مایوس ہوئے اور پرانی تنخواہ پر کام کرنے کی طرف راغب ہوئے جس کا مظاہرہ گلگت بلتستان اور منڈی بہاؤالدین کے نتائج ہیں۔
ہم ان دونوں انتخابات میں دو بڑی جماعتوں کی ناکامی کو قابل ذکر اس لیے نہیں سمجھتے کہ موجودہ انتخابی سیاست میں یہ جماعتیں مسلم لیگ کی رقیب نہیں تھیں، اصل مسئلہ 2013ء کے انتخابات کے بعد مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف کے درمیان مقابلے کا ہے، بڑے افسوس کا مقام ہے کہ نئے پاکستان کا علم بلند کرنے اور بڑے بڑے جلسے کرنے والی تحریک انصاف گلگت بلتستان کی کل 24 نشستوں میں سے صرف 2 نشستیں حاصل کر سکی جب کہ مسلم لیگ (ن) نے 24 نشستوں میں سے 14 نشستیں حاصل کیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مسلم لیگ ن کی اس قابل ذکر کامیابی اور تحریک انصاف کی ناکامی کی وجہ کیا ہے؟
مسلم لیگ کے پالیسی سازوں اور پروپیگنڈہ کرنے والوں نے سیاست حاضرہ کی نفسیات کو پیش نظر رکھتے ہوئے چند ایسے کام کیے جن کی عوامی افادیت رہی ہو یا نہ ہو پروپیگنڈہ افادیت قابل ذکر ہے، مثلاً میٹرو بس کے مسئلے کو لے لیجیے، اس بس سروس سے دو تین لاکھ افراد کو لاہور میں سہولتیں حاصل ہوئیں اور ان سہولتوں کے استعمال کرنے والوں کا لاہور کی مجموعی آبادی میں 10-5 فیصد سے زیادہ حصہ نہیں لیکن اس میٹرو بس کا اس قدر پروپیگنڈہ کیا گیا کہ عوام کی نفسیات پر اس کا اثر پڑنا لازمی تھا، سو اس کا فائدہ مسلم لیگ (ن) کو ہوا، پھر اس پروجیکٹ کی سیاسی افادیت کو دیکھتے ہوئے مسلم لیگ کی حکومت نے راولپنڈی اسلام آباد میٹرو بس سروس کا آغاز کر دیا، جس کا سیاسی فائدہ بھی حکومت کو ہوا۔ ان منصوبوں پر اگرچہ عوام ہی کا پیسہ خرچ ہوا لیکن اس کا کریڈٹ حکومت کو ملااور یہ منصوبے حکومت کے بڑے کارنامے بن گئے۔
مسلم لیگ (ن) کی مرکز میں حکومت سے پہلے پاکستان ریلوے کا بہت برا حال تھا، سابقہ پی پی حکومت کے دوران ریلوے کا بیڑہ غرق ہو چکا تھا لیکن وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق کی کوششوں اور کاوشوں سے ریلوے کی بحالی میں بہت مدد ملی، اگرچہ ریلوے نظام کی بہتری میں سعد رفیق کی ذاتی دلچسپی کا بڑا دخل تھا لیکن اس کا کریڈٹ بھی نواز حکومت کو ملا۔ موجودہ حکومت کو جو سب سے زیادہ فائدہ ہوا وہ چین کے ساتھ اقتصادی راہداری کے معاہدے سے ہوا۔ 46 ارب ڈالر کے اس معاہدے کی پبلسٹی بھی اس مہارت سے کی گئی کہ یہ منصوبہ اگرچہ ابھی شروع ہوا نہ اس کے ثمرات عوام تک پہنچے لیکن حکومت کی ایسی واہ واہ ہوئی کہ یہ منصوبہ بھی حکومت کا ایک تاریخی کارنامہ بن گیا۔ ظاہر ہے گلگت بلتستان ہو یا منڈی بہاؤالدین مسلم لیگ کے امیدواروں کو اس کا فائدہ ملنا منطقی تھا سو ملا۔
اس حوالے سے ایک اہم فیکٹر وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کی فعال شخصیت اور ان کا پھرتیلا پن ہے، ہماری روایتی حکمرانی کی طرح شہباز شریف منصوبے بنا کر بیورو کریسی کے حوالے نہیں کر دیتے بلکہ سر پر سوار رہ کر وقت سے پہلے منصوبوں کو مکمل کرنے کی کوشش کرتے ہیں، راولپنڈی اسلام آباد کا میٹرو بس منصوبہ ہو یا لاہور کا میٹرو بس منصوبہ، شہباز شریف ان منصوبوں سے عوام کو متاثر کرنے کا فن جانتے ہیں۔ عوام کے ساتھ لائن میں کھڑے ہو کر ٹکٹ لینا ہو یا عوام کے ساتھ میٹرو بس میں سفر کرنا، اس میں تھوڑا سا وقت تو صرف ہوتا ہے لیکن اس کی پروپیگنڈہ ویلیو بہت زیادہ ہوتی ہے جس کا بھرپور فائدہ شہباز شریف اٹھا رہے ہیں، جس کا بالواسطہ فائدہ حکومت کو گلگت بلتستان اور منڈی بہاؤ الدین میں ہوا۔
گلگت اور منڈی بہاؤ الدین پاکستان کے ہی حصے ہیں ان علاقوں میں رہنے والے عوام کے اصل مسائل بھی مہنگائی، بے روزگاری، بجلی، گیس کی لوڈشیڈنگ، کرپشن وغیرہ ہیں۔ کیا ان مسائل سے جن کا سامنا دن رات گلگت بلتستان اور منڈی بہاؤالدین کے عوام کو بھی رہتا ہے، کوئی ریلیف ملا؟ مہنگائی، بے روزگاری، گیس بجلی کی لوڈشیڈنگ سے ان علاقوں کے عوام کو نجات ملی؟ اس کا جواب نفی ہی میں ہے، لیکن پروپیگنڈہ مہم اور بعض دوسرے عوامل سے عوام متاثر ہوئے جس کا فائدہ حکومت کو ہوا۔
اب آئیے ذرا تحریک انصاف کی گلگت بلتستان اور منڈی بہاؤالدین میں ناکامیوں پر نظر ڈالتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان کے عوام ملک کی تمام سیاسی پارٹیوں سے مایوس ہیں اور ان کی نظریں ہر وقت کسی ایسے مسیحا کو تلاش کرتی رہتی ہیں جو انھیں 68 سالہ عذاب ناک مسائل سے نجات دلائے۔ 2014ء میں جب عمران خان نے نئے پاکستان اور Status Quo توڑنے کے نعروں کے ساتھ اسلام آباد میں دھرنوں کا آغاز کیا تو عوام نے ان نعروں میں کشش محسوس کی اور تمام دوسرے آزمائے ہوئے سیاستدانوں کے مقابلے میں چونکہ عمران خان کا سیاسی کیریئر بے داغ تھا، سو عوام عمران خان کی طرف دوڑ پڑے اور دھرنوں اور جلسوں میں لاکھوں کی تعداد میں شرکت کرنے لگے لیکن عمران خان کی سیاسی ناپختگی کا عالم یہ تھا کہ وہ نئے پاکستان کی حقیقت سے عوام کو آگاہ کرنے Status Quo کو توڑنے کے فوائد سے عوام کو آگاہ کرنے اور ان ایشوز کو ہی اپنی سیاست کا مرکزی موضوع بنانے کے بجائے نواز شریف کے استعفے کے بے معنی مطالبے کو اپنا واحد مطالبہ بنا لیا اور اس کے پیچھے لٹھ لے کر دوڑتے رہے۔
نواز شریف کے اتحادیوں نے جب دیکھا کہ ان کی امیدوں کا مرکز خطرے میں ہے تو انھوں نے پارلیمنٹ میں دھونی رمائی۔ نہ نواز شریف کے استعفے کا مطالبہ بامعنی تھا نہ اس کی مخالفت میں معنویت تھی، سو دونوں کے غباروں سے ہوا نکل گئی۔عمران خان نے دوسرا موضوع بھی ایسا تلاش کیا جس کا عوامی مفادات عوام کے سلگتے ہوئے مسائل سے کوئی تعلق نہ تھا۔ چار حلقے کھولو اور انتخابی دھاندلی کی باتوں سے عوام بدظن ہو گئے اور یہ محسوس کرنے لگے کہ نئے پاکستان اور ''اسٹیٹس کو'' توڑنے کی باتیں دیوانے کا خواب ہیں، اصل مسئلہ یہ ہے کہ کپتان کسی شارٹ کٹ کے ذریعے وزارت عظمیٰ تک پہنچنا چاہتا ہے، اس تاثر نے عمران خان کا نہ صرف امیج خراب کر دیا بلکہ عوام اس نئے مسیحا سے مایوس ہوتے گئے۔ عمران خان نے ڈرون حملوں کے خلاف تو تحریک چلائی لیکن مہنگائی، بے روزگاری، گیس بجلی کی لوڈشیڈنگ، دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ جیسے عوامی مسائل پر کوئی تحریک چلائی، نہ انھیں اپنی سیاست کا مرکزی موضوع بنایا۔ یہ وہ چند وجوہات ہیں جس کی وجہ سے عوام عمران سے مایوس ہوئے اور پرانی تنخواہ پر کام کرنے کی طرف راغب ہوئے جس کا مظاہرہ گلگت بلتستان اور منڈی بہاؤالدین کے نتائج ہیں۔