خیبرپختونخوا کا بجٹ
آیندہ مالی سال 2015-16 کے لیے خیبرپختونخوا کا 487 ارب 88 کروڑ 40 لاکھ روپے کا متوازن بجٹ پیش کردیاگیا
ریٹائرڈ ملازمین کے بھی ماہانہ میڈیکل الاؤنس میں 25 فیصد اضافہ کیاجائے گا۔ فوٹو: فائل
ISLAMABAD:
آیندہ مالی سال 2015-16 کے لیے خیبرپختونخوا کا 487 ارب 88 کروڑ 40 لاکھ روپے کا متوازن بجٹ پیش کردیاگیا ہے جس میں 174 ارب 88 کروڑ روپے ترقیاتی کاموں جب کہ 298 ارب روپے اخراجات جاریہ کے لیے مختص کیے گئے ہیں ۔
جن میں اضلاع کو 42 ارب 2کروڑ روپے فراہم کیے جائیں گے جب کہ غیر ملکی وسائل سے صوبے کو 32 ارب 88 کروڑ روپے ملنے کی توقع ہے، بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا تاہم موجودہ ٹیکسوں کی شرح میں ردوبدل کیا گیا ہے۔ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اورر یٹائرڈ ملازمین کی پنشن میں 10 فیصد اضافہ کرنے کے علاوہ ان کے 2011-12 کے ایڈہاک ریلیف الاؤنسز کوبنیادی تنخواہوں میں ضم ، تمام سرکاری سول ملازمین کے ماہانہ میڈیکل الاؤنس میں25 فیصد اضافہ اور سائنس اینڈ ٹیکنالوجی الاؤنس اور پی ایچ ڈی الاؤنس کو بالترتیب 7500 اور2250 سے بڑھا کر دس ہزار روپے ماہانہ کیاجائے گا.
گریڈ ایک سے 5 تک کے ملازمین کے لیے دو بنیادی پے اسکیل اپ گریڈیشن جب کہ اسکیل6 سے 15 تک کے ملازمین کے لیے ایک پے اسکیل کی اپ گریڈیشن ،گریڈ 16کے تمام صوبائی ملازمین کو گریڈ 17 میں نیشنل اپ گریڈیشن کی بنیاد پر واقع ہونے والی تنخواہ کے اضافے کے برابر خصوصی معاوضاتی الاؤنس کا اجراء بھی کیا جارہاہے۔
ریٹائرڈ ملازمین کے بھی ماہانہ میڈیکل الاؤنس میں 25 فیصد اضافہ کیاجائے گا جب کہ فیملی پینشنرز کے انتقال کی صورت میں پنشنر کی طلاق یافتہ یا بیوہ بیٹی کو تاحیات یا دوبارہ شادی تک خاندان کو پنشن کی ادائیگی کی اجازت دی جارہی ہے ، زمینداروں کو گندم کی اگلی فصل کے لیے گندم کا اعلیٰ کوالٹی کا بیج حکومت مفت فراہم کرے گی جب کہ وہ گندم کی پیداوار کا 5 فیصد حکومت کو فراہم کریں گے۔ پرائمری ،مڈل ،ہائی اور ہائیر سیکنڈری اسکولوں کے سربراہوں کے چارج الاؤنس کا بڑھا کر 250 ،350 ،600 اور750 کیاجارہاہے۔
صوبائی حکومت بے روزگار نوجوانوں ،چھوٹے تاجروں ،گھریلو ہنر مند خواتین اور معذور ہنرمند افراد کو 50 ہزار سے دو لاکھ روے تک بلاسود قرضوں کی فراہمی کرے گی جب کہ ''یوتھ چیلنج فنڈ اسکیم''کے ذریعے تیکنیکی مہارت رکھنے والے نوجوانوں کو درمیانے درجے کے کاروبار کے لیے 20 لاکھ تک قرضوں کی فراہمی ،اسلامک مائیکرو فنانس اسکیم جو کسی کمرشل بینک کے تحت شروع کی جائے گی کے ذریعے 10 لاکھ روپے تک کے بلاسود قرضوں کی فراہمی ، انصاف بلاسود زرعی قرضہ اسکیم کے تحت غریب زمینداروں کو زراعت کے شعبہ کے فروغ کے لیے10 لاکھ روپے تک قرضوں کی فراہمی بھی کی جائے گی۔
پنجاب' سندھ کے بعد خیبرپختونخوا تیسرا صوبہ ہے جس نے اپنا سالانہ میزانیہ پیش کر دیا ہے۔ خیبرپختونخوا نے اپنے محدود وسائل کے باوجود متوازن بجٹ پیش کرنے کی کوشش کی۔ سرکاری ملازموں کی تنخواہوں میں اضافے کے حوالے سے خیبرپختونخوا میں بھی سندھ کی روایت پر عمل کیا ہے۔ یہاں بھی سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں دس فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔
یوں یہ دونوں صوبے اس معاملے میں پنجاب سے بازی لے گئے ہیں۔ پنجاب چونکہ سب سے بڑا صوبہ ہے اور اس کے وسائل بھی زیادہ ہیں'اس لیے اس کے بجٹ کا حجم خاصا بھاری ہے تاہم خیبرپختونخوا کی حکومت نے بھی اپنے وسائل میں رہتے ہوئے کئی اچھے اہداف مقرر کیے ہیں۔ آیندہ مالی سال کے دوران تعلیم کے شعبے کے لیے 97ارب 94 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔
صحت کے لیے 29ارب 95کروڑ روپے رکھے گئے ہیں۔اگر حکومت یہ پیسہ اگلے مالی سال میں خرچ کرنے میں کامیاب ہوتی ہے اور شفافیت کا معیار بلند رہتا ہے تو خیبرپختونخوا میں اسکولوں 'کالجوں اور یونیورسٹیوں کا معیار خاصا بہتر ہو جائے گا جس سے شرح تعلیم پر بھی اچھا اثر پڑے گا۔ صحت کے شعبے میں پوری رقم خرچ ہو جائے تو اس سے اسپتالوں اور ڈسپنسریوں کی حالت خاصی بہتر ہو جائے گی۔ خیبرپختونخوا میں پولیس کے لیے 32ارب 74 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں۔ خیبرپختونخوا کو جس قسم کی صورت حال کا سامنا ہے 'اس میں یہ رقم بھی کم ہے۔
خیبرپختونخوا کے وسائل محدود ہیں۔ اس معاملے میں وفاق کو صوبائی حکومت کی مدد کرنی چاہیے اور امن و امان کے حوالے سے صوبے کو خصوصی گرانٹ دی جانی چاہیے تاکہ وہ صوبے میں پولیس کی نفری کو بڑھا سکے 'ان کی تنخواہیں بہتر کر سکے اور پولیس کے لیے جدید ترین اسلحہ خرید سکے۔اس کے ساتھ ساتھ خیبرپختونخوا کے سیٹلڈ ایریاز کے تحفظ کے لیے قبائلی علاقوں سے ملنے والی سرحدوں کی زیادہ سے زیادہ نگرانی ممکن ہو سکے۔ خیبرپختونخوا میں زراعت کے لیے 3 ارب 51 کروڑ روپے جب کہ ماحولیات جنگلات کے لیے 83ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ خیبرپختونخوا میں زراعت کو ترقی دینے کے لیے صوبائی حکومت نے اچھی حکمت عملی اپنائی ہے۔
جنگلات کا تحفظ بھی انتہائی ضروری ہے۔ خیبرپختونخوا اگر زراعت میں خود کفیل ہو جاتا ہے تو اس سے اس صوبے میں مزید خوشحالی آئے گی۔جنگلات جتنے زیادہ ہوں گے اس سے ماحولیات بہتر ہوگی۔بہر حال ضرورت اس امر کی ہے کہ بجٹ میں کیے گئے اہداف پر نیک نیتی سے عمل کیا جائے اور شفافیت کا معیار بلند رکھا جائے۔
آیندہ مالی سال 2015-16 کے لیے خیبرپختونخوا کا 487 ارب 88 کروڑ 40 لاکھ روپے کا متوازن بجٹ پیش کردیاگیا ہے جس میں 174 ارب 88 کروڑ روپے ترقیاتی کاموں جب کہ 298 ارب روپے اخراجات جاریہ کے لیے مختص کیے گئے ہیں ۔
جن میں اضلاع کو 42 ارب 2کروڑ روپے فراہم کیے جائیں گے جب کہ غیر ملکی وسائل سے صوبے کو 32 ارب 88 کروڑ روپے ملنے کی توقع ہے، بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا تاہم موجودہ ٹیکسوں کی شرح میں ردوبدل کیا گیا ہے۔ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اورر یٹائرڈ ملازمین کی پنشن میں 10 فیصد اضافہ کرنے کے علاوہ ان کے 2011-12 کے ایڈہاک ریلیف الاؤنسز کوبنیادی تنخواہوں میں ضم ، تمام سرکاری سول ملازمین کے ماہانہ میڈیکل الاؤنس میں25 فیصد اضافہ اور سائنس اینڈ ٹیکنالوجی الاؤنس اور پی ایچ ڈی الاؤنس کو بالترتیب 7500 اور2250 سے بڑھا کر دس ہزار روپے ماہانہ کیاجائے گا.
گریڈ ایک سے 5 تک کے ملازمین کے لیے دو بنیادی پے اسکیل اپ گریڈیشن جب کہ اسکیل6 سے 15 تک کے ملازمین کے لیے ایک پے اسکیل کی اپ گریڈیشن ،گریڈ 16کے تمام صوبائی ملازمین کو گریڈ 17 میں نیشنل اپ گریڈیشن کی بنیاد پر واقع ہونے والی تنخواہ کے اضافے کے برابر خصوصی معاوضاتی الاؤنس کا اجراء بھی کیا جارہاہے۔
ریٹائرڈ ملازمین کے بھی ماہانہ میڈیکل الاؤنس میں 25 فیصد اضافہ کیاجائے گا جب کہ فیملی پینشنرز کے انتقال کی صورت میں پنشنر کی طلاق یافتہ یا بیوہ بیٹی کو تاحیات یا دوبارہ شادی تک خاندان کو پنشن کی ادائیگی کی اجازت دی جارہی ہے ، زمینداروں کو گندم کی اگلی فصل کے لیے گندم کا اعلیٰ کوالٹی کا بیج حکومت مفت فراہم کرے گی جب کہ وہ گندم کی پیداوار کا 5 فیصد حکومت کو فراہم کریں گے۔ پرائمری ،مڈل ،ہائی اور ہائیر سیکنڈری اسکولوں کے سربراہوں کے چارج الاؤنس کا بڑھا کر 250 ،350 ،600 اور750 کیاجارہاہے۔
صوبائی حکومت بے روزگار نوجوانوں ،چھوٹے تاجروں ،گھریلو ہنر مند خواتین اور معذور ہنرمند افراد کو 50 ہزار سے دو لاکھ روے تک بلاسود قرضوں کی فراہمی کرے گی جب کہ ''یوتھ چیلنج فنڈ اسکیم''کے ذریعے تیکنیکی مہارت رکھنے والے نوجوانوں کو درمیانے درجے کے کاروبار کے لیے 20 لاکھ تک قرضوں کی فراہمی ،اسلامک مائیکرو فنانس اسکیم جو کسی کمرشل بینک کے تحت شروع کی جائے گی کے ذریعے 10 لاکھ روپے تک کے بلاسود قرضوں کی فراہمی ، انصاف بلاسود زرعی قرضہ اسکیم کے تحت غریب زمینداروں کو زراعت کے شعبہ کے فروغ کے لیے10 لاکھ روپے تک قرضوں کی فراہمی بھی کی جائے گی۔
پنجاب' سندھ کے بعد خیبرپختونخوا تیسرا صوبہ ہے جس نے اپنا سالانہ میزانیہ پیش کر دیا ہے۔ خیبرپختونخوا نے اپنے محدود وسائل کے باوجود متوازن بجٹ پیش کرنے کی کوشش کی۔ سرکاری ملازموں کی تنخواہوں میں اضافے کے حوالے سے خیبرپختونخوا میں بھی سندھ کی روایت پر عمل کیا ہے۔ یہاں بھی سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں دس فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔
یوں یہ دونوں صوبے اس معاملے میں پنجاب سے بازی لے گئے ہیں۔ پنجاب چونکہ سب سے بڑا صوبہ ہے اور اس کے وسائل بھی زیادہ ہیں'اس لیے اس کے بجٹ کا حجم خاصا بھاری ہے تاہم خیبرپختونخوا کی حکومت نے بھی اپنے وسائل میں رہتے ہوئے کئی اچھے اہداف مقرر کیے ہیں۔ آیندہ مالی سال کے دوران تعلیم کے شعبے کے لیے 97ارب 94 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔
صحت کے لیے 29ارب 95کروڑ روپے رکھے گئے ہیں۔اگر حکومت یہ پیسہ اگلے مالی سال میں خرچ کرنے میں کامیاب ہوتی ہے اور شفافیت کا معیار بلند رہتا ہے تو خیبرپختونخوا میں اسکولوں 'کالجوں اور یونیورسٹیوں کا معیار خاصا بہتر ہو جائے گا جس سے شرح تعلیم پر بھی اچھا اثر پڑے گا۔ صحت کے شعبے میں پوری رقم خرچ ہو جائے تو اس سے اسپتالوں اور ڈسپنسریوں کی حالت خاصی بہتر ہو جائے گی۔ خیبرپختونخوا میں پولیس کے لیے 32ارب 74 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں۔ خیبرپختونخوا کو جس قسم کی صورت حال کا سامنا ہے 'اس میں یہ رقم بھی کم ہے۔
خیبرپختونخوا کے وسائل محدود ہیں۔ اس معاملے میں وفاق کو صوبائی حکومت کی مدد کرنی چاہیے اور امن و امان کے حوالے سے صوبے کو خصوصی گرانٹ دی جانی چاہیے تاکہ وہ صوبے میں پولیس کی نفری کو بڑھا سکے 'ان کی تنخواہیں بہتر کر سکے اور پولیس کے لیے جدید ترین اسلحہ خرید سکے۔اس کے ساتھ ساتھ خیبرپختونخوا کے سیٹلڈ ایریاز کے تحفظ کے لیے قبائلی علاقوں سے ملنے والی سرحدوں کی زیادہ سے زیادہ نگرانی ممکن ہو سکے۔ خیبرپختونخوا میں زراعت کے لیے 3 ارب 51 کروڑ روپے جب کہ ماحولیات جنگلات کے لیے 83ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ خیبرپختونخوا میں زراعت کو ترقی دینے کے لیے صوبائی حکومت نے اچھی حکمت عملی اپنائی ہے۔
جنگلات کا تحفظ بھی انتہائی ضروری ہے۔ خیبرپختونخوا اگر زراعت میں خود کفیل ہو جاتا ہے تو اس سے اس صوبے میں مزید خوشحالی آئے گی۔جنگلات جتنے زیادہ ہوں گے اس سے ماحولیات بہتر ہوگی۔بہر حال ضرورت اس امر کی ہے کہ بجٹ میں کیے گئے اہداف پر نیک نیتی سے عمل کیا جائے اور شفافیت کا معیار بلند رکھا جائے۔