مفاہمت کی اصولی سیاست
گزشتہ سال کے دھرنوں میں بھی ہٹ دھرمی چلتی رہی اور دھرنے والے پارلیمنٹ تک پہنچ گئے تھے
لاہور:
پاکستان اور چین اقتصادی راہداری کے سلسلے میں منعقدہ اجلاس میں پارلیمانی جماعتوں کے اجلاس میں طویل عرصے بعد قوم کو ایک اچھی خبر ملی کہ اقتصادی راہداری پر باہمی اختلافات ختم کر کے تمام سیاسی جماعتوں نے مکمل اتفاق کا مظاہرہ کرتے ہوئے حکومت پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ ایک اہم قومی مسئلے پر تمام سیاسی جماعتوں کا اتفاق نہایت خوش آیند ہے اور یہ قومی مفاہمت ملک و قوم کی اہم ضرورت تھی۔ پاکستانی سیاسی جماعتوں کے مختلف سیاسی مفادات اور نظریات ہیں اور ان میں اصولی سیاست کی کمی ہے۔ یہ جماعتیں اپنے سیاسی مفاد کے لیے ابن الوقت فیصلے اور باہمی اتحاد قائم کرتی ہیں اور مطلب نکل جانے پر انھیں توڑ دیتی ہیں اور ان کے نزدیک صرف انفرادی مفاد پیش نظر ہوتا ہے اور اجتماعی مفاد ان کی ترجیح نہیں ہوتی۔
سیاسی جماعتوں کے درمیان مفاہمت ہمیشہ عارضی رہی ہے کسی خاص مقصد کے لیے سیاسی اتحاد قائم اور ختم کیے جاتے ہیں اور بعض جماعتیں مقصد حاصل ہونے سے پہلے بھی اپنے اتحاد سے باہر آ جاتی ہیں۔ سیاسی جماعتوں میں مفاہمت اور اتحاد کبھی مستقل نہیں رہے اور ہمیشہ عارضی ثابت ہوئے۔ یہ اتحاد سیاسی جماعتوں کے نزدیک تو اصولی قرار پاتے ہیں مگر قوم بھی دیکھ رہی ہے کہ سیاسی جماعتیں اپنے مفاد کے لیے کس طرح پینترے بدلتی ہیں اور قوم اور اپنے کارکنوں کو بے وقوف تصورکر کے وہی فیصلے کرتی ہیں جن میں ان کا مفاد ہوتا ہے۔
کہتے ہیں کہ سیاست میں کوئی چیز حرف آخر نہیں ہوتی نہ ضد کہیں چلتی ہے۔ ضدی سیاستدانوں کو کبھی کامیابی نہیں ملتی اور انھیں لچک کا مظاہرہ کرنا پڑتا ہے اور جن سیاستدانوں نے ایسا نہیں کیا انھیں ہمیشہ منہ کی کھانا پڑی۔ سیاست میں ہٹ دھرمی کا مظاہرہ عمران خان کے ساتھ علامہ طاہر القادری بھی کر چکے ہیں۔ علامہ طاہر القادری نے ڈھائی سال قبل سخت سردیوں میں اسلام آباد میں جو دھرنا دیا تھا اس سے جان چھڑانا خود ان کی ضرورت بنا ہوا تھا کیونکہ ان کا کوئی مطالبہ مدت پوری کر کے جانے والی حکومت پورا نہیں کر سکتی تھی۔ علامہ قادری کے کارکن سردی سے پریشان اور بیمار ہو رہے تھے اور آخر پی پی حکومت نے ایک بے اختیار سرکاری وفد بھیج کر علامہ کی دھرنے سے جان چھڑائی تھی۔
گزشتہ سال کے دھرنوں میں بھی ہٹ دھرمی چلتی رہی اور دھرنے والے پارلیمنٹ تک پہنچ گئے تھے۔ دونوں قائدین نے متحد ہوکر بھی بڑے بڑے دعوے کیے مگر حکومت کا کچھ نہ بگاڑ سکے اور ناکام واپس آ گئے۔
دھرنا سیاست کا آغاز جماعت اسلامی کے قاضی حسین احمد نے کیا تھا جس کو عمران اور علامہ نے عروج پر پہنچایا۔ دونوں نے اپنے کارکنوں کو سخت امتحان میں ڈالا مگر کامیابی نہ ملی۔ ہر احتجاجی تحریک یا سیاسی احتجاج کا انجام مذاکرات ہوتے ہیں جو کبھی کامیاب اور کبھی ناکام رہتے ہیں اور مسئلے کا حل باہمی بات چیت سے ہی نکلتا ہے مگر دھرنا سیاست مذاکرات کے خلاف تھی اور یہ ایسے بے مقصد دھرنے تھے جو کئی ماہ جاری رہ کر بھی ناکام ثابت ہوئے اور بغیر مذاکرات انجام کو پہنچے۔ جنرل پرویز مشرف دور میں نواز شریف اور بے نظیر بھٹو کے درمیان لندن میں میثاق جمہوریت طے پایا تھا جس میں میاں نواز شریف نے کوشش کی تھی کہ متفقہ فیصلہ ہو جائیکہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) آیندہ ایم کیو ایم سے کوئی تعلق نہ رکھیں مگر محترمہ بے نظیر بھٹو نے نواز شریف کے اس فیصلے کی تائید نہیں کی کیونکہ محترمہ میں لچک تھی اور وہ مفاہمت کی بھی حامی تھیں اور جانتی تھیں کہ سندھ میں امن برقرار رکھنے کے لیے متحدہ کی حمایت کے بغیر نہیں رہا جا سکتا۔
محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد آصف علی زرداری نے اپنے بقول مفاہمت کی سیاست کو فروغ دیا جس کا کوئی اصول نہیں تھا اور مل جل کر اقتدار برقرار رکھنا تھا۔ پہلے آصف علی زرداری نے نواز شریف سے اتحاد کیا اور تحریری معاہدے کے باوجود معزول جج بحال نہیں کیے جس پر (ن) لیگ حکومت سے الگ ہو گئی تو زرداری نے دیگر چھوٹی جماعتوں کو ساتھ ملا لیا۔ نواز شریف نے اس وقت اپنے اصولی موقف کا اظہارکیا تھا جس سے صدر زرداری متفق نہیں تھے کیونکہ صدر زرداری کا موقف کسی بھی صورت معزول ججز کو بحال کرنا نہیں تھا بلکہ اپنا اقتدار برقرار رکھنا اور مدت پوری کرنا تھا۔ جس میں صدر زرداری کامیاب رہے مگر اس کے لیے انھیں اس قاف لیگ کی حمایت حاصل کرنا پڑی جسے انھوں نے خود قاتل لیگ قرار دیا تھا۔
میاں نواز شریف وزیر اعظم بننے سے پہلے جنرل پرویز کے حامیوں اور ساتھیوں سے سخت ناراض تھے اور متحدہ بھی (ق) لیگ کی طرح جنرل پرویز مشرف کی اہم اتحادی تھی اسی لیے میاں صاحب میثاق جمہوریت کے تحت متحدہ کو تنہا کرنا چاہتے تھے مگر بعد میں وہ بھی اپنے اصولی موقف کو برقرار نہ رکھ سکے۔ شہباز شریف کی حکومت کو (ق) لیگ کے لوٹوں کے ذریعے پی پی کو جدا کر کے برقرار رکھا گیا تو صدر زرداری نے بھی نواز لیگ کی کمی متحدہ اور (ق) لیگ کو حکومت میں شامل کر کے پوری کر لی تھی اور انھیں معزول ججوں کو بھی بحال کرنا پڑا تھا۔
وزیر اعظم نواز شریف کے ساتھ آج بھی جنرل پرویز مشرف کے متعدد اہم ساتھی موجود ہیں اور متحدہ کے لیے بھی اب ان کا پہلے جیسا سخت موقف نہیں رہا جو ان کی لچک کا ثبوت ہے۔ متحدہ ملک کی واحد پارٹی ہے جو میاں نواز شریف، بے نظیر بھٹو، جنرل پرویز مشرف اور آصف زرداری کی حکومتوں میں شامل رہی اور متحدہ نے جنرل پرویز مشرف کا ساتھ آخر تک نبھایا مگر متحدہ زرداری کی صدارت میں اپنے اصول تبدیل کرتی رہی۔ متحدہ حکومت میں رہ کر اپوزیشن بھی بنتی رہی اور سندھ حکومت سے ناراض ہو کر استعفیٰ اور پھر راضی ہو کر حکومت میں آتی جاتی رہی۔
جے یو آئی اور جماعت اسلامی مجلس عمل میں سرحد حکومت میں اکٹھے تھے اور دونوں نے مل کر اپنے پانچ سال پورے کیے پھر جماعت اسلامی نے الگ ہو کر الیکشن لڑا مگر جے یو آئی سے اچھا رزلٹ نہ لے سکی اور جے یو آئی پی پی دور میں حکومت میں وفاقی سطح پر شامل تھی اور وہ آج بھی (ن) لیگ کی حکومت میں شامل ہے۔ مولانا فضل الرحمن کے اپنے اقتداری اصول ہیں اور وہ ہمیشہ لچک دکھاتے ہیں اور کامیاب ہیں۔ جماعت اسلامی کے پی کے میں تحریک انصاف کی حکومتی حلیف ہے مگر تنہا الیکشن لڑتی ہے اور ہارتی ہے اور کراچی میں این اے 246 میں اپنی حلیف پی ٹی آئی سے مل کر الیکشن نہیں لڑتی مگر کے پی کے میں اپنی نشست بچانے کے لیے پی ٹی آئی سے مل کر اپنی نشست بچا لیتی ہے۔
جماعت اسلامی نے کے پی کے میں تنہا بلدیاتی الیکشن لڑا جب کہ اے این پی، پیپلز پارٹی اور جے یو آئی نے اتحاد کر کے انتخاب لڑا مگر پی ٹی آئی اقتدار میں ہو کر اکثریت لے گئی اور یہ کامیابی خود اس کے گلے پڑ گئی جس پر اس کی حلیف جماعت اسلامی اور دیگر بدترین دھاندلی کے الزامات لگا رہے ہیں۔
پاکستان اور چین اقتصادی راہداری کے سلسلے میں منعقدہ اجلاس میں پارلیمانی جماعتوں کے اجلاس میں طویل عرصے بعد قوم کو ایک اچھی خبر ملی کہ اقتصادی راہداری پر باہمی اختلافات ختم کر کے تمام سیاسی جماعتوں نے مکمل اتفاق کا مظاہرہ کرتے ہوئے حکومت پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ ایک اہم قومی مسئلے پر تمام سیاسی جماعتوں کا اتفاق نہایت خوش آیند ہے اور یہ قومی مفاہمت ملک و قوم کی اہم ضرورت تھی۔ پاکستانی سیاسی جماعتوں کے مختلف سیاسی مفادات اور نظریات ہیں اور ان میں اصولی سیاست کی کمی ہے۔ یہ جماعتیں اپنے سیاسی مفاد کے لیے ابن الوقت فیصلے اور باہمی اتحاد قائم کرتی ہیں اور مطلب نکل جانے پر انھیں توڑ دیتی ہیں اور ان کے نزدیک صرف انفرادی مفاد پیش نظر ہوتا ہے اور اجتماعی مفاد ان کی ترجیح نہیں ہوتی۔
سیاسی جماعتوں کے درمیان مفاہمت ہمیشہ عارضی رہی ہے کسی خاص مقصد کے لیے سیاسی اتحاد قائم اور ختم کیے جاتے ہیں اور بعض جماعتیں مقصد حاصل ہونے سے پہلے بھی اپنے اتحاد سے باہر آ جاتی ہیں۔ سیاسی جماعتوں میں مفاہمت اور اتحاد کبھی مستقل نہیں رہے اور ہمیشہ عارضی ثابت ہوئے۔ یہ اتحاد سیاسی جماعتوں کے نزدیک تو اصولی قرار پاتے ہیں مگر قوم بھی دیکھ رہی ہے کہ سیاسی جماعتیں اپنے مفاد کے لیے کس طرح پینترے بدلتی ہیں اور قوم اور اپنے کارکنوں کو بے وقوف تصورکر کے وہی فیصلے کرتی ہیں جن میں ان کا مفاد ہوتا ہے۔
کہتے ہیں کہ سیاست میں کوئی چیز حرف آخر نہیں ہوتی نہ ضد کہیں چلتی ہے۔ ضدی سیاستدانوں کو کبھی کامیابی نہیں ملتی اور انھیں لچک کا مظاہرہ کرنا پڑتا ہے اور جن سیاستدانوں نے ایسا نہیں کیا انھیں ہمیشہ منہ کی کھانا پڑی۔ سیاست میں ہٹ دھرمی کا مظاہرہ عمران خان کے ساتھ علامہ طاہر القادری بھی کر چکے ہیں۔ علامہ طاہر القادری نے ڈھائی سال قبل سخت سردیوں میں اسلام آباد میں جو دھرنا دیا تھا اس سے جان چھڑانا خود ان کی ضرورت بنا ہوا تھا کیونکہ ان کا کوئی مطالبہ مدت پوری کر کے جانے والی حکومت پورا نہیں کر سکتی تھی۔ علامہ قادری کے کارکن سردی سے پریشان اور بیمار ہو رہے تھے اور آخر پی پی حکومت نے ایک بے اختیار سرکاری وفد بھیج کر علامہ کی دھرنے سے جان چھڑائی تھی۔
گزشتہ سال کے دھرنوں میں بھی ہٹ دھرمی چلتی رہی اور دھرنے والے پارلیمنٹ تک پہنچ گئے تھے۔ دونوں قائدین نے متحد ہوکر بھی بڑے بڑے دعوے کیے مگر حکومت کا کچھ نہ بگاڑ سکے اور ناکام واپس آ گئے۔
دھرنا سیاست کا آغاز جماعت اسلامی کے قاضی حسین احمد نے کیا تھا جس کو عمران اور علامہ نے عروج پر پہنچایا۔ دونوں نے اپنے کارکنوں کو سخت امتحان میں ڈالا مگر کامیابی نہ ملی۔ ہر احتجاجی تحریک یا سیاسی احتجاج کا انجام مذاکرات ہوتے ہیں جو کبھی کامیاب اور کبھی ناکام رہتے ہیں اور مسئلے کا حل باہمی بات چیت سے ہی نکلتا ہے مگر دھرنا سیاست مذاکرات کے خلاف تھی اور یہ ایسے بے مقصد دھرنے تھے جو کئی ماہ جاری رہ کر بھی ناکام ثابت ہوئے اور بغیر مذاکرات انجام کو پہنچے۔ جنرل پرویز مشرف دور میں نواز شریف اور بے نظیر بھٹو کے درمیان لندن میں میثاق جمہوریت طے پایا تھا جس میں میاں نواز شریف نے کوشش کی تھی کہ متفقہ فیصلہ ہو جائیکہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) آیندہ ایم کیو ایم سے کوئی تعلق نہ رکھیں مگر محترمہ بے نظیر بھٹو نے نواز شریف کے اس فیصلے کی تائید نہیں کی کیونکہ محترمہ میں لچک تھی اور وہ مفاہمت کی بھی حامی تھیں اور جانتی تھیں کہ سندھ میں امن برقرار رکھنے کے لیے متحدہ کی حمایت کے بغیر نہیں رہا جا سکتا۔
محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد آصف علی زرداری نے اپنے بقول مفاہمت کی سیاست کو فروغ دیا جس کا کوئی اصول نہیں تھا اور مل جل کر اقتدار برقرار رکھنا تھا۔ پہلے آصف علی زرداری نے نواز شریف سے اتحاد کیا اور تحریری معاہدے کے باوجود معزول جج بحال نہیں کیے جس پر (ن) لیگ حکومت سے الگ ہو گئی تو زرداری نے دیگر چھوٹی جماعتوں کو ساتھ ملا لیا۔ نواز شریف نے اس وقت اپنے اصولی موقف کا اظہارکیا تھا جس سے صدر زرداری متفق نہیں تھے کیونکہ صدر زرداری کا موقف کسی بھی صورت معزول ججز کو بحال کرنا نہیں تھا بلکہ اپنا اقتدار برقرار رکھنا اور مدت پوری کرنا تھا۔ جس میں صدر زرداری کامیاب رہے مگر اس کے لیے انھیں اس قاف لیگ کی حمایت حاصل کرنا پڑی جسے انھوں نے خود قاتل لیگ قرار دیا تھا۔
میاں نواز شریف وزیر اعظم بننے سے پہلے جنرل پرویز کے حامیوں اور ساتھیوں سے سخت ناراض تھے اور متحدہ بھی (ق) لیگ کی طرح جنرل پرویز مشرف کی اہم اتحادی تھی اسی لیے میاں صاحب میثاق جمہوریت کے تحت متحدہ کو تنہا کرنا چاہتے تھے مگر بعد میں وہ بھی اپنے اصولی موقف کو برقرار نہ رکھ سکے۔ شہباز شریف کی حکومت کو (ق) لیگ کے لوٹوں کے ذریعے پی پی کو جدا کر کے برقرار رکھا گیا تو صدر زرداری نے بھی نواز لیگ کی کمی متحدہ اور (ق) لیگ کو حکومت میں شامل کر کے پوری کر لی تھی اور انھیں معزول ججوں کو بھی بحال کرنا پڑا تھا۔
وزیر اعظم نواز شریف کے ساتھ آج بھی جنرل پرویز مشرف کے متعدد اہم ساتھی موجود ہیں اور متحدہ کے لیے بھی اب ان کا پہلے جیسا سخت موقف نہیں رہا جو ان کی لچک کا ثبوت ہے۔ متحدہ ملک کی واحد پارٹی ہے جو میاں نواز شریف، بے نظیر بھٹو، جنرل پرویز مشرف اور آصف زرداری کی حکومتوں میں شامل رہی اور متحدہ نے جنرل پرویز مشرف کا ساتھ آخر تک نبھایا مگر متحدہ زرداری کی صدارت میں اپنے اصول تبدیل کرتی رہی۔ متحدہ حکومت میں رہ کر اپوزیشن بھی بنتی رہی اور سندھ حکومت سے ناراض ہو کر استعفیٰ اور پھر راضی ہو کر حکومت میں آتی جاتی رہی۔
جے یو آئی اور جماعت اسلامی مجلس عمل میں سرحد حکومت میں اکٹھے تھے اور دونوں نے مل کر اپنے پانچ سال پورے کیے پھر جماعت اسلامی نے الگ ہو کر الیکشن لڑا مگر جے یو آئی سے اچھا رزلٹ نہ لے سکی اور جے یو آئی پی پی دور میں حکومت میں وفاقی سطح پر شامل تھی اور وہ آج بھی (ن) لیگ کی حکومت میں شامل ہے۔ مولانا فضل الرحمن کے اپنے اقتداری اصول ہیں اور وہ ہمیشہ لچک دکھاتے ہیں اور کامیاب ہیں۔ جماعت اسلامی کے پی کے میں تحریک انصاف کی حکومتی حلیف ہے مگر تنہا الیکشن لڑتی ہے اور ہارتی ہے اور کراچی میں این اے 246 میں اپنی حلیف پی ٹی آئی سے مل کر الیکشن نہیں لڑتی مگر کے پی کے میں اپنی نشست بچانے کے لیے پی ٹی آئی سے مل کر اپنی نشست بچا لیتی ہے۔
جماعت اسلامی نے کے پی کے میں تنہا بلدیاتی الیکشن لڑا جب کہ اے این پی، پیپلز پارٹی اور جے یو آئی نے اتحاد کر کے انتخاب لڑا مگر پی ٹی آئی اقتدار میں ہو کر اکثریت لے گئی اور یہ کامیابی خود اس کے گلے پڑ گئی جس پر اس کی حلیف جماعت اسلامی اور دیگر بدترین دھاندلی کے الزامات لگا رہے ہیں۔