حصص مارکیٹ میں سیاسی بے یقینی کے باعث فروخت

کاروباری حجم2.92 فیصد زائد رہا،54 کروڑ4 لاکھ حصص کے سودے ہوئے جبکہ کاروباری سرگرمیوں کا دائرہ388 کمپنیوں تک محدود رہا

کاروباری حجم2.92 فیصد زائد رہا،54 کروڑ4 لاکھ حصص کے سودے ہوئے جبکہ کاروباری سرگرمیوں کا دائرہ388 کمپنیوں تک محدود رہا۔ فوٹو: پی پی آئی/فائل

سابق صدرزرداری کے بیان کے بعد سیاسی افق پرغیریقینی صورتحال غالب ہونے اور مالی سال کے اختتام کی وجہ سے انسٹی ٹیوشنز کی پرافٹ ٹیکنگ کے باعث کراچی اسٹاک ایکس چینج میں بدھ کو بھی کاروباری صورتحال اتارچڑھاؤ کے بعد مندی کی لپیٹ میں رہی جس سے34500 پوائنٹس کی نفسیاتی حد بھی گرگئی جبکہ سرمایہ کاروں کے مزید1 ارب3 کروڑ 56 لاکھ90 ہزار 338 روپے ڈوب گئے۔

ماہرین اسٹاک کا کہنا تھا کہ ماہ صیام کے دوران حصص کی تجارتی سرگرمیاں محدود ہونے اور بیشترحصص کی قیمتیں کم ہونے کے خدشات کے پیش نظرسرمایہ کاروں نے ماہ صیام سے قبل ہی حصص کی آف لوڈنگ کو ترجیح دینا شروع کردی ہے۔


ایک موقع پر 114.81 پوائنٹس کی تیزی بھی رونما ہوئی لیکن اس کے بعد حصص کی فروخت پر دباؤ بڑھنے سے تیزی مندی میں تبدیل ہوگئی، ٹریڈنگ کے دوران غیرملکی سرمایہ کاروں، این بی ایف سیز اور انفرادی سرمایہ کاروں کی جانب سے مجموعی طور پر1 کروڑ29 لاکھ28 ہزار482 ڈالرکی سرمایہ کاری کی گئی جبکہ اس دوران مقامی کمپنیوں کی جانب سے10 لاکھ73 ہزار952 ڈالر، بینکوں ومالیاتی اداروں65 لاکھ79 ہزار559، میوچل فنڈز 2 لاکھ74 ہزار 798اور دیگر آرگنائزیشنز کی جانب سے 44 لاکھ18 ہزار 121 ڈالر کا انخلا کیا گیا۔

کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای100 انڈیکس 34.30 پوائنٹس کمی سے 34482 اورکے ایس ای30 انڈیکس 39.57 پوائنٹس گھٹ کر21582.55 ہو گیا تاہم کے ایم آئی30 انڈیکس 251.01 پوائنٹس اضافے سے 58385.45 ہوگیا، کاروباری حجم2.92 فیصد زائد رہا،54 کروڑ4 لاکھ حصص کے سودے ہوئے جبکہ کاروباری سرگرمیوں کا دائرہ388 کمپنیوں تک محدود رہا جن میں184 کے بھاؤ میں اضافہ 178 کے داموں میں کمی اور26 کی قیمتوں میں استحکام رہا۔
Load Next Story