پی سی بی کی باگ ڈور سابق کرکٹرکو سونپی جائے عامر سہیل کا مطالبہ
پاکستان کو سعید اجمل سے محرومی کا روگ نہیں پالنا چاہیے، سابق ٹیسٹ کپتان
پاکستان کو سعید اجمل سے محرومی کا روگ نہیں پالنا چاہیے، سابق ٹیسٹ کپتان فوٹو: فائل
KAPOLEI:
عامر سہیل کا کہنا ہے آئی سی سی کی صدارت کے لیے سابق کرکٹر کو ترجیح دی جارہی ہے تو پی سی بی میں کیوں نہیں؟ ملکی کرکٹ کی باگ ڈور بھی کھیل کا تجربہ رکھنے والے ہاتھوں میں ہونی چاہیے،پاکستان کو سعید اجمل سے محرومی کا روگ نہیں پالنا چاہیے۔
برطانوی ویب سائٹ کے لیے کالم میں عامر سہیل نے ظہیر عباس کو آئی سی سی کی صدارت کے لیے نامزدگی پر مبارکباد دیتے ہوئے کہاکہ سابق کپتان اپنے وقت کے بہترین کرکٹر تھے،ان کا تجربہ کرکٹ کے کام آسکتا ہے، نجم سیٹھی نے جان لیا تھا کہ کونسل میں کوئی کردار ادا نہیں کرپائینگے، سب جانتے ہیں کہ انہوں نے انٹرنیشنل سطح پر پاکستان کرکٹ کے مفادات پر مبنی اقدامات کے حوالے سے متعدد دعوے کیے جو پورے نہیں ہوسکے۔
اس صورتحال میں ان کے لیے آسان راستہ یہی تھا کہ کسی سابق کرکٹر کو نامزد کردیتے،دلچسپ امر یہ ہے کہ وہ آئی سی سی کے لیے تو کسی نامور کھلاڑی کو موزوں خیال کرتے ہوئے خود ہی عہدے سے دستبردار ہونا مناسب خیال کرتے ہیں لیکن یہی فارمولا پاکستان کرکٹ کے لیے موزوں نہیں سمجھتے، بورڈ کی ایگزیکٹیو کمیٹی کا سربراہ نجم سیٹھی کے بجائے کسی سابق کرکٹر کے ہونے کی بات کیوں نہیں ہوتی،انھوں نے کہا کہ آئی سی سی کی صدارت پاکستان اور ظہیر عباس دونوں کے لیے اعزاز کی بات ہے لیکن دیکھنا یہ ہے کہ سابق کپتان اس کو کس حد تک کارآمد بنانے میں کامیاب ہوتے ہیں۔
پاک سری لنکا سیریز کے حوالے سے عامر سہیل نے کہا کہ کم سے کم رنز دے کر حریف کی دونوں اننگز میں 20 وکٹیں حاصل کرنے والی ٹیم کو ہی کامیابی ملے گی، ہیراتھ اپنی ہوم کنڈیشنز میں مشکل بولر ثابت ہونگے لیکن پاکستان کو بھی سعید اجمل کی کمی کو روگ نہیں بنانا چاہیے،آف اسپنر نے اب تک سری لنکا میں کتنے میچز تن تنہا جتوائے کہ کمی محسوس کریں۔
عامر سہیل کا کہنا ہے آئی سی سی کی صدارت کے لیے سابق کرکٹر کو ترجیح دی جارہی ہے تو پی سی بی میں کیوں نہیں؟ ملکی کرکٹ کی باگ ڈور بھی کھیل کا تجربہ رکھنے والے ہاتھوں میں ہونی چاہیے،پاکستان کو سعید اجمل سے محرومی کا روگ نہیں پالنا چاہیے۔
برطانوی ویب سائٹ کے لیے کالم میں عامر سہیل نے ظہیر عباس کو آئی سی سی کی صدارت کے لیے نامزدگی پر مبارکباد دیتے ہوئے کہاکہ سابق کپتان اپنے وقت کے بہترین کرکٹر تھے،ان کا تجربہ کرکٹ کے کام آسکتا ہے، نجم سیٹھی نے جان لیا تھا کہ کونسل میں کوئی کردار ادا نہیں کرپائینگے، سب جانتے ہیں کہ انہوں نے انٹرنیشنل سطح پر پاکستان کرکٹ کے مفادات پر مبنی اقدامات کے حوالے سے متعدد دعوے کیے جو پورے نہیں ہوسکے۔
اس صورتحال میں ان کے لیے آسان راستہ یہی تھا کہ کسی سابق کرکٹر کو نامزد کردیتے،دلچسپ امر یہ ہے کہ وہ آئی سی سی کے لیے تو کسی نامور کھلاڑی کو موزوں خیال کرتے ہوئے خود ہی عہدے سے دستبردار ہونا مناسب خیال کرتے ہیں لیکن یہی فارمولا پاکستان کرکٹ کے لیے موزوں نہیں سمجھتے، بورڈ کی ایگزیکٹیو کمیٹی کا سربراہ نجم سیٹھی کے بجائے کسی سابق کرکٹر کے ہونے کی بات کیوں نہیں ہوتی،انھوں نے کہا کہ آئی سی سی کی صدارت پاکستان اور ظہیر عباس دونوں کے لیے اعزاز کی بات ہے لیکن دیکھنا یہ ہے کہ سابق کپتان اس کو کس حد تک کارآمد بنانے میں کامیاب ہوتے ہیں۔
پاک سری لنکا سیریز کے حوالے سے عامر سہیل نے کہا کہ کم سے کم رنز دے کر حریف کی دونوں اننگز میں 20 وکٹیں حاصل کرنے والی ٹیم کو ہی کامیابی ملے گی، ہیراتھ اپنی ہوم کنڈیشنز میں مشکل بولر ثابت ہونگے لیکن پاکستان کو بھی سعید اجمل کی کمی کو روگ نہیں بنانا چاہیے،آف اسپنر نے اب تک سری لنکا میں کتنے میچز تن تنہا جتوائے کہ کمی محسوس کریں۔