سیاست دان افہام و تفہیم سے کام لیں

آصف زرداری کا بیان الٹی میٹم ضرور ہے مگر اس سے وابستہ پراسراریت اس بیان کے متن اور محرکات سے بھی زیادہ اہم ہے

مفاہمت، رواداری اور تمام اداروں کے مابین آئینی امور پر اتفاق رائے دہشت گردی کے خلاف فیصلہ کن جیت کی کلید ہے۔ فوٹو : فائل

ISLAMABAD:
پیپلز پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی نے سابق صدر و پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کی جانب سے پاک فوج سے متعلق بیان کی توثیق کردی۔ بدھ کو پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی زیرصدارت یہاں پیپلز پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں سابق صدر آصف زرداری کی جارحانہ تقریر کے بعدکی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔

سابق صدر زرداری کے تہلکہ خیز بیان کی آتش فشانی پر بلاشبہ سیاسی، سفارتی اور ا سٹیبلشمنٹ کے حلقوں کی خیال آرائی کا سلسلہ جاری ہے، دلائل و حقائق کے کئی زاویوں سے اسے جانچا اور پرکھا جا رہا ہے، اگرچہ سیاسی تاریخ کے طالب علم جانتے ہیں کہ تیسری دنیا کے کارزار سیاست میں اکثر قائدین ایکشن سے زیادہ الفاظ کی گھن گرج پر بھروسہ کرتے ہیں جب کہ ترقی یافتہ ملکوں کی لیڈرشپ کا اصولی موقف ہمیشہ یہی رہا کہ حقیقی اور محب وطن لیڈر عوام اور خود اپنی حکومت کے لیے مسائل پیدا نہیں کرتے بلکہ انھیں حل کرتے ہیں، وہ اس حقیقت کا ادراک رکھتے ہیں کہ قیادت اور حالات کی ڈائنامکس ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہوتی ہیں، چنانچہ جو صائب مشورہ پیپلز پارٹی، سندھ حکومت اور وفاق و اسٹیبلشمنٹ کو دیا جا سکتا ہے وہ عظیم تر افہام و تفہیم، معاملہ فہمی، تدبر و سنجیدہ سیاسی رویوں کے اظہار و جمہوری اسپرٹ کا ہے۔

آصف زرداری کا بیان الٹی میٹم ضرور ہے مگر اس سے وابستہ پراسراریت اس بیان کے متن اور محرکات سے بھی زیادہ اہم ہے اور وہ یہ ہے کہ انتہائی ناموافق صورتحال اور حریفانہ کشمکش اور محاذ آرائی اور میڈیا وار کے باوجود لبوں پر ہمہ وقت مسکراہٹ بکھیرتا سابق صدر اتنا ہیجان انگیز بیان دینے پر مجبور کیسے ہوا، اسی حیرتناک سوال میں ملکی سیاست کی ساری تماشا گری جھلکتی ہے، سیاست تند و تیز بیانات سے کب جدا ہوئی ہے، اور ملکی سیاست میں شعلہ نوائی کوئی انوکھی بات تو نہیں، مگر موجودہ سیاسی حقائق پیدا شدہ انتظامی سقوط کے خطرات، مالیاتی بد عنوانی، مختلف النوع اسکینڈلز، دہشت گردی اور مجرمانہ مافیاؤں کی سرکشی کے خاتمہ اور ان پر فوری قانونی گرفت کا تقاضہ کرتی ہے، سندھ حکومت خود اپنے پیدا کردہ مسائل کے گرداب سے نکلنے کی تدبیر کرے، وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ کی حکومت عوام کو ڈیلیور کرے تو ''سب چپ سب سکھ'' کا سماں بندھ جائے گا۔

کراچی کا اضطراب ایک حقیقت ہے، ایم کیو ایم کی برہمی بلا جواز نہیں، سندھ کے سارے اسٹیک ہولڈر فعال ہوں تو ایک بیان کی گرما گرمی ایک نئی صلح کی راہ بھی ہموار کر سکتی ہے، لاقانونیت نے شہر قائد کا چہرہ مسخ کر دیا ہے اس کی رونقیں سندھ انتظامیہ واپس لا سکتی ہے، اندرون سندھ امن ہو، ترقیاتی کام ہوں تو پیپلز پارٹی کی حکومت کے پیر کے نیچے سے قالین کھینچنے کا واہمہ جنم ہی کیوں لے۔ بلاشبہ ریاستوں اور حکومتوں کے امور اتفاق رائے سے انجام پاتے ہیں، دنیا کی تمام مُسلّمہ جمہوری حکومتوں کا یہی چلن ہے۔


محاذ آرائی کے دربند اور کشادہ دلی، خیر سگالی اور مسائل کے حل کے لیے اشتراک عمل پر زور دیجیئے تمام سیاسی جماعتیں سر جوڑ کے بیٹھیں کیونکہ امن و مفاہمت ناگزیر ہے۔ وزیر اعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ مسلح افواج کے افسر اور جوان آپریشن ضرب عضب اور قومی ایکشن پلان پر عملدرآمد کے لیے مؤثر کردار ادا کر رہے ہیں اور انھیں پوری قوم کی حمایت حاصل ہے، ان حالات میں فوج جیسے اہم ادارے پر تنقید نامناسب اقدام ہے۔

ادھر سیاسی رہنماؤں نے پاک فوج کے خلاف بیان پر افسوس کا اظہار کیا، وفاقی وزیر اطلاعات سینیٹر پرویز رشید نے کہا ہے کہ قومی سلامتی کے ادارے قابلِ تکریم ہیں، آصف زرداری کے بیان کے بعد وزیر اعظم کا ان سے ملاقات مؤخر کرنا ضروری تھا، امید ہے سابق صدر آصف علی زرداری دلآزاری والی اپنی باتوں کا مداوا کرینگے۔ تاہم اسی اجلاس کی کارروائی کے حوالے سے فرحت اﷲ بابر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اجلاس میں ملک کی مجموعی صورتحال پر بحث کی گئی۔

ضرب عضب کو سال مکمل ہونے اور آپریشن کی کامیابی کی طرف بڑھنے کو بھی سراہا گیا اور شہید ہونے والے افسروں اور جوانوں کو خراج تحسین پیش کیا گیا اجلاس میں کہا گیا۔ انھوں نے کہا کہ آصف زرداری کی فلاسفی مفاہمت کی تھی اور اب بھی ہے، ان کی تقریر کو بیان سے زیادہ نہ لیا جائے۔ یہی وہ نکتہ ہے جس پر سب کو زور دینا چاہیے۔ مفاہمت، رواداری اور تمام اداروں کے مابین آئینی امور پر اتفاق رائے دہشت گردی کے خلاف فیصلہ کن جیت کی کلید ہے۔

ہنری فورڈ کا مشہور قول ہے کہ ''فالٹ مت ڈھونڈو، حل تلاش کرو۔'' ارباب بست و کشاد سے امید کی جانی چاہیے کہ وہ حالات کی نزاکت کے پیش نظر دہشت گردی کی جنگ کو الگ رکھیں گے، جب کہ مجرمانہ عناصر، کرپٹ سیاست دانوں کا احتساب اور نان اسٹیٹ ایکٹرز کی ملک دشمن سرگرمیوں کا قلع قمع کریں گے۔ ایک معروف ناول کے پیش لفظ پر دمکتے یہ روشن الفاظ کتنے چشم کشا ہیں کہ ''اب سے پہلے افریقہ تاریک براعظم کہلاتا تھا، کچھ وہ تاریک تھا، اور کچھ ہم اس کے بارے میں اندھیرے میں تھے۔'' خدارا، ملکی سیاست کے اندھیروں سے نکلنے کا اس سے بہتر وقت اور کون سا ہو گا؟
Load Next Story