بلوچستان کا بھاری خسارے کا بجٹ

بلوچستان کا مالی سال 2015-16ء کا 2 کھرب 43 ارب روپے سے زائد کا ٹیکس فری خسارے کا بجٹ پیش کر دیا گیا ہے

سرکاری ملازموں کی تنخواہوں کے حوالے سے بھی غور کیا جانا چاہیے۔ سندھ اور خیبرپختونخوا کی طرح اس میں بھی دس فیصد اضافہ کیا جانا چاہیے۔ فوٹو : فائل

بلوچستان کا مالی سال 2015-16ء کا 2 کھرب 43 ارب روپے سے زائد کا ٹیکس فری خسارے کا بجٹ پیش کر دیا گیا ہے جس میں26 ارب روپے کا بھاری بھر کم خسارہ ظاہر کیا گیا ہے جو مجموعی بجٹ کا 10.7 ہے۔ صوبائی سیکریٹری خزانہ مشتاق رئیسانی کے مطابق بجٹ پر زیادہ دباؤ ٹیوب ویلوں کے لیے سبسڈی دینے، سیکیورٹی فورسز کی تنخواہوں اور ہیلی کاپٹر کی خریداری کی وجہ سے پڑا ہے۔

صوبائی حکومت کو توقع ہے کہ اسے 156 ارب روپے کی رقم قابل تقسیم وفاقی ٹیکسوں سے حاصل ہو جائے گی جب کہ صوبائی ٹیکسوں سے اس میں 7.85 ارب روپے کا مزید اضافہ ہو گا۔ غیر ملکی امداد سے چلنے والے منصوبوں کے لیے 3.4 ارب روپے وصول ہونے کی توقع ہے۔ تقریبا 6 ارب روپے لوکل گورنمنٹ اور 2.6 ارب روپے بلاک ایلوکیشن کے لیے رکھے گئے ہیں جو اراکین اسمبلی کے ذریعے صرف کیے جائیں گے۔ بلوچستان میں ''صوبائی ریوینیو اتھارٹی'' کے قیام کا معاملہ بھی زیر غور ہے تا کہ سروسز (یا خدمات) پر صوبائی جی ایس ٹی بہتر انداز میں اکٹھا کیا جا سکے۔ کوئٹہ اور لسبیلہ میں خصوصی اقتصادی زون قائم کرنے کا منصوبہ بھی بنایا گیا ہے جب کہ ڈیرہ جمالی اور گوادر میں صنعتی زون قائم کیے جائیں گے۔


حکومت سرکاری شعبے میں 5 ہزار نئی اسامیاں پیدا کرنے کا ارادہ رکھتی ہے جب کہ بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں ساڑھے سات فیصد اور میڈیکل الاؤنس میں25 فیصد اضافہ کر دیا گیا ہے۔ گوادر کے علاقے کو بڑے شہر کا درجہ دے دیا گیا ہے۔ شعبہ تعلیم کے لیے 2 ارب 51 کروڑ روپے سے زائد رقم مختص کی گئی ہے۔ آیندہ مالی سال 2015-16ء میں تقریباًایک ارب اور58 کروڑ روپے کی مفت ادویات دی جائینگی۔ صوبائی حکومت آنیو الے مالی سال 2015-16ء میں دو ارب اور 40 کروڑ روپے کی لاگت سے ہیلتھ انشورنس پروگرام شروع کر رہی ہے۔

محکمہ زراعت کے لیے تقریباَ َ6 ارب 80 کروڑ اور 21 لاکھ روپے مختص کیے گئے ہیں جو پچھلے مالی سال کے مقابلے میں 7 فیصد زیادہ ہے۔ کوئلے سے بجلی کی پیداوار کے منصوبوں کے لیے بھی ڈیڑھ ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ انتہائی محدود وسائل کے باوجود بلوچستان حکومت نے بجٹ میں تعلیم کے شعبے کو خاصی اہمیت دی ہے۔

سیکیورٹی کے لیے بھی خاصی رقم مختص کی گئی ہے۔ گو بجٹ میں بھاری خسارہ ظاہر کیا گیا ہے اور اس سے حکومت کی مالی مشکلات میں اضافہ ہو گا مگر ترقیاتی کاموں کو پایہ تکمیل تک پہنچانا بھی ضروری ہے۔ بلوچستان کی حکومت اگر بجٹ میں طے کیے گئے اہداف کو حاصل کرنے کے لیے شفافیت کو یقینی بناتی ہے تو اس سے تعمیر و ترقی کی راہیں ہموار ہوں گی۔ سرکاری ملازموں کی تنخواہوں کے حوالے سے بھی غور کیا جانا چاہیے۔ سندھ اور خیبرپختونخوا کی طرح اس میں بھی دس فیصد اضافہ کیا جانا چاہیے۔
Load Next Story