آرمی چیف کا دورہ روس
روسی پارلیمنٹ کے چیئرمین نے خطے میں استحکام کے لیے دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں پاک فوج کے کردار کو سراہا
روس کے ساتھ بہتر تعلقات وقت کی ضرورت بھی ہیں اس لیے آرمی چیف کا دورہ ماسکو بہت اہمیت کا حامل ہے۔ فوٹو : فائل
ISLAMABAD:
پاک فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف ان دنوں روس کے دورے پر ہیں جہاں انھوں نے گزشتہ روز ماسکو میں روسی پارلیمنٹ (ڈوما) کے چیئرمین سے ملاقات کی۔ روسی پارلیمنٹ کے چیئرمین نے خطے میں استحکام کے لیے دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں پاک فوج کے کردار کو سراہا۔ ملاقات میں دونوں ممالک نے دفاعی تعاون بڑھانے اور ایک دوسرے کے تجربات سے مستفید ہونے کے لیے فوجی وفود کے تبادلے پر اتفاق کیا۔
ڈوما کے چیئرمین نے کہا کہ دہشت گردی اور شدت پسندی کے خلاف جنگ اور خطے میں استحکام کے لیے ہم پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں اور اس کے ساتھ آزادانہ طور پر تعلقات کو فروغ دیں گے۔ جنوبی ایشیا میں تیزی سے بدلتے ہوئے حالات، امریکی اور بعض یورپی ممالک کے بھارت کی جانب بڑھتے ہوئے جھکاؤ اور بھارت کی جانب سے جنگی جنون کو ہوا دیے جانے کے تناظر میں مبصرین آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے دورہ روس کو کافی اہمیت کی نظر سے دیکھ رہے ہیں۔
پاکستان کی یہ بھرپور کوشش ہے کہ وہ خطے میں تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ بہتر تعلقات کو فروغ دے تاکہ دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف جاری جنگ کو جلد از جلد اختتام تک پہنچا کر امن و امان قائم کیا جائے۔ پاکستان میں اقتصادی راہداری منصوبے کو کامیاب بنانے اور خطے میں معاشی و تجارتی ترقی کے لیے بھی یہ ناگزیر ہے کہ امن و امان کی صورت حال بہتر بنائی جائے۔
آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے دورے کے موقع پر روس کی جانب سے پاکستان کے ساتھ بہتر تعلقات قائم کرنے کی خواہش سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ خطے کے ممالک کے باہمی تعلقات میں بھی نمایاں تبدیلی آنے والی ہے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف نے دفاعی نمائش میں ہر قسم کے ہتھیار، جنگی جہاز اور ہیلی کاپٹر دیکھے۔ جدید ترین جنگی ہتھیار کسی بھی ملک کے دفاع میں اہم کردار ادا کرتے ہیں' روس اس وقت دفاعی ٹیکنالوجی ، خلائی سائنس' میڈیکل' انجینئرنگ' زراعت سمیت زندگی کے دیگر شعبوں میں بہت ترقی کر چکا ہے،پاکستان کو اس ترقی سے زیادہ سے زیادہ استفادہ کرنا چاہیے۔ روس کے ساتھ بہتر تعلقات وقت کی ضرورت بھی ہیں اس لیے آرمی چیف کا دورہ ماسکو بہت اہمیت کا حامل ہے اس سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو فروغ دینے میں خاطر خواہ مدد ملے گی۔
پاک فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف ان دنوں روس کے دورے پر ہیں جہاں انھوں نے گزشتہ روز ماسکو میں روسی پارلیمنٹ (ڈوما) کے چیئرمین سے ملاقات کی۔ روسی پارلیمنٹ کے چیئرمین نے خطے میں استحکام کے لیے دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں پاک فوج کے کردار کو سراہا۔ ملاقات میں دونوں ممالک نے دفاعی تعاون بڑھانے اور ایک دوسرے کے تجربات سے مستفید ہونے کے لیے فوجی وفود کے تبادلے پر اتفاق کیا۔
ڈوما کے چیئرمین نے کہا کہ دہشت گردی اور شدت پسندی کے خلاف جنگ اور خطے میں استحکام کے لیے ہم پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں اور اس کے ساتھ آزادانہ طور پر تعلقات کو فروغ دیں گے۔ جنوبی ایشیا میں تیزی سے بدلتے ہوئے حالات، امریکی اور بعض یورپی ممالک کے بھارت کی جانب بڑھتے ہوئے جھکاؤ اور بھارت کی جانب سے جنگی جنون کو ہوا دیے جانے کے تناظر میں مبصرین آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے دورہ روس کو کافی اہمیت کی نظر سے دیکھ رہے ہیں۔
پاکستان کی یہ بھرپور کوشش ہے کہ وہ خطے میں تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ بہتر تعلقات کو فروغ دے تاکہ دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف جاری جنگ کو جلد از جلد اختتام تک پہنچا کر امن و امان قائم کیا جائے۔ پاکستان میں اقتصادی راہداری منصوبے کو کامیاب بنانے اور خطے میں معاشی و تجارتی ترقی کے لیے بھی یہ ناگزیر ہے کہ امن و امان کی صورت حال بہتر بنائی جائے۔
آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے دورے کے موقع پر روس کی جانب سے پاکستان کے ساتھ بہتر تعلقات قائم کرنے کی خواہش سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ خطے کے ممالک کے باہمی تعلقات میں بھی نمایاں تبدیلی آنے والی ہے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف نے دفاعی نمائش میں ہر قسم کے ہتھیار، جنگی جہاز اور ہیلی کاپٹر دیکھے۔ جدید ترین جنگی ہتھیار کسی بھی ملک کے دفاع میں اہم کردار ادا کرتے ہیں' روس اس وقت دفاعی ٹیکنالوجی ، خلائی سائنس' میڈیکل' انجینئرنگ' زراعت سمیت زندگی کے دیگر شعبوں میں بہت ترقی کر چکا ہے،پاکستان کو اس ترقی سے زیادہ سے زیادہ استفادہ کرنا چاہیے۔ روس کے ساتھ بہتر تعلقات وقت کی ضرورت بھی ہیں اس لیے آرمی چیف کا دورہ ماسکو بہت اہمیت کا حامل ہے اس سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو فروغ دینے میں خاطر خواہ مدد ملے گی۔