کاروباری برادری نے وفاقی بجٹ کیخلاف ملک گیر ہڑتال کی دھمکی دیدی
اس ٹیکس سے ایف بی آر کوکوئی فائدہ نہیں ہوگا بلکہ تاجربرادری پر ایک تلوار لٹک جائے گی، تاجربرادری
اس ٹیکس سے ایف بی آر کوکوئی فائدہ نہیں ہوگا بلکہ تاجربرادری پر ایک تلوار لٹک جائے گی اور انہیں ٹیکس افسران کی جانب سے پریشان کیا جائے گا، تاجربرادری۔ فوٹو: فائل
ملک کی تاجروصنعتکار برادری کو وفاقی بجٹ 2015-16 کے اعلان کو2ہفتے گزرنے کے بعد بجٹ میں اٹھائے گئے اقدامات سمجھ میں آگئے ہیں اور بجٹ کی آمد پر تعریفوں کے پل باندھنے، بجٹ کو متوازن قرار دینے والی تاجر برادری اب اس بات پرمتفق ہوگئی ہے کہ اعلان کردہ وفاقی بجٹ کاروبار دشمن بجٹ ہے۔
اسلام آباد میں میں منعقد ہونے والی آل پاکستان چیمبرزآف کامرس پوسٹ بجٹ کانفرنس میں ملک بھرکے تاجروں و صنعت کاروں نے وفاقی بجٹ 2015-16 کویکسرمسترد کرتے ہوئے مطالبات جلد از جلد تسلیم نہ کرنے کی صورت میں ملک گیرسطح پراحتجاج وہڑتال کی دھمکی بھی دے دی ہے۔ کانفرنس میں تاجروصنعتکاروں نے بجٹ پر سخت تشویش کا اظہار کیا۔ تمام چیمبرزآف کامرس کے صدور نے وفاقی بجٹ کو تاجر دشمن قراردیتے ہوئے اس کے اقدامات کوتاجروں وصنعتکاروں کو ہراساں کرنے کے مترادف قراردیا۔
کانفرنس میں ایف پی سی سی آئی، کراچی، اسلام آباد، سیالکوٹ، راولپنڈی، شیخوپورہ، گوجرانوالہ، چکوال، ہری پور، چکوال ودیگر چیمبرز کے صدورو نمائندوں اور ملک بھر کی تجارتی وصنعتی انجمنوں کے سربراہان نے شرکت کی۔ کانفرنس میں مطالبات تسلیم نہ ہونے کی صورت میں باہمی اتفاق سے ملک بھر میں احتجاج اور ہڑتال کی حکمت عملی بھی مرتب کر لی گئی۔
پوسٹ بجٹ کانفرنس میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ بینکاری لین دین اور سیلزٹیکس میں رجسٹرڈ ٹیکس دہندگان پر0.6 فیصد ودہولڈنگ ٹیکس ختم کرنے، اے اوپیز کوانکم ٹیکس اور ودہولڈنگ ایجنٹس بنانے کا فیصلہ، ایس آراو608 بشمول سیکشن 214 ڈی، 177 اور227 بی کے علاوہ ٹیکس افسران کے صوابدیدی اختیارات جن کے غلط استعمال سے تاجربرادری کوخوف وہراس میں مبتلا کرنے کے امکانات ہوں کو فی الفور ختم کرنے کے مطالبات کیے گئے، کانفرنس کے شرکا نے حکومت پر واضح کیا ہے کہ وہ تمام مطالبات پر غور کرتے ہوئے انہیں جلد ازجلد حل کرے۔
تاجربرادری کے نمائندوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ ان کے مطالبات کو فوری طور پر تسلیم کرے بصورت دیگر تاجر برادری کے پاس غیرمعروف وفاقی بجٹ کے خلاف احتجاج کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں بچے گا اور تاجربرادری ملک گیر سطح کی ہڑتال کرنے پر مجبور ہوجائے گی۔ انہوں نے کہا کہ نیا بجٹ کاروباری برادری کے خلاف اقدام ہے اور اگر اس کی تصحیح نہ کی گئی تو یہ تاجروں وصنعت کاروں کی توانائی ضائع کرنے کے مترادف بجٹ ہوگا جو اپنے کاروباروپیداواری سرگرمیوں کو چھوڑ کر صرف اور صرف ٹیکس معاملات کو نمٹانے میں مصروف ہوجائیں گے۔
تاجروں نے 0.6 فیصد ودہولڈنگ ٹیکس کے نفاذ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ حکومت کو یہ ٹیکس عائد کرنے سے قبل فائلراور نان فائلر کی وضاحت کرنی چاہیے تھی کیونکہ اس ٹیکس سے ایف بی آر کوکوئی فائدہ نہیں ہوگا بلکہ تاجربرادری پر ایک تلوار لٹک جائے گی اور انہیں ٹیکس افسران کی جانب سے پریشان کیا جائے گا۔ تاجربرادری کے نمائندوں نے کہا کہ ایسے ٹیکس اقدامات سے لوگ بچنے کے لیے اپنا سرمایہ منتقل کریں گے جس سے محسوس ہوتا ہے کہ یہ اقدام ملک سے سرمائے کی منتقلی کے حوالے سے ایک سازش کے تحت اٹھایا گیا ہے۔
تاجرنمائندوں نے واضح کیا کہ تاجربرادری ٹیکسوں کی ادائیگیوں یا ٹیکس نیٹ میں توسیع کے خلاف نہیں حکومت کو ٹیکس نیٹ میں اضافے اور آمدن بڑھانے کے لیے نئے راستے کی تلاش کے سلسلے میں تاجربرادری کے رہنماؤں کے ساتھ مشاورت کرنا چاہیے اور پہلے سے ٹیکس ادا کرنے والوں پر مزید ٹیکسوں کا بوجھ ڈالنا کوئی حل نہیں ہے بلکہ حکومت کو ٹیکس نیٹ میں توسیع کے لیے مناسب اقدامات کرنے چاہئیں۔
اسلام آباد میں میں منعقد ہونے والی آل پاکستان چیمبرزآف کامرس پوسٹ بجٹ کانفرنس میں ملک بھرکے تاجروں و صنعت کاروں نے وفاقی بجٹ 2015-16 کویکسرمسترد کرتے ہوئے مطالبات جلد از جلد تسلیم نہ کرنے کی صورت میں ملک گیرسطح پراحتجاج وہڑتال کی دھمکی بھی دے دی ہے۔ کانفرنس میں تاجروصنعتکاروں نے بجٹ پر سخت تشویش کا اظہار کیا۔ تمام چیمبرزآف کامرس کے صدور نے وفاقی بجٹ کو تاجر دشمن قراردیتے ہوئے اس کے اقدامات کوتاجروں وصنعتکاروں کو ہراساں کرنے کے مترادف قراردیا۔
کانفرنس میں ایف پی سی سی آئی، کراچی، اسلام آباد، سیالکوٹ، راولپنڈی، شیخوپورہ، گوجرانوالہ، چکوال، ہری پور، چکوال ودیگر چیمبرز کے صدورو نمائندوں اور ملک بھر کی تجارتی وصنعتی انجمنوں کے سربراہان نے شرکت کی۔ کانفرنس میں مطالبات تسلیم نہ ہونے کی صورت میں باہمی اتفاق سے ملک بھر میں احتجاج اور ہڑتال کی حکمت عملی بھی مرتب کر لی گئی۔
پوسٹ بجٹ کانفرنس میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ بینکاری لین دین اور سیلزٹیکس میں رجسٹرڈ ٹیکس دہندگان پر0.6 فیصد ودہولڈنگ ٹیکس ختم کرنے، اے اوپیز کوانکم ٹیکس اور ودہولڈنگ ایجنٹس بنانے کا فیصلہ، ایس آراو608 بشمول سیکشن 214 ڈی، 177 اور227 بی کے علاوہ ٹیکس افسران کے صوابدیدی اختیارات جن کے غلط استعمال سے تاجربرادری کوخوف وہراس میں مبتلا کرنے کے امکانات ہوں کو فی الفور ختم کرنے کے مطالبات کیے گئے، کانفرنس کے شرکا نے حکومت پر واضح کیا ہے کہ وہ تمام مطالبات پر غور کرتے ہوئے انہیں جلد ازجلد حل کرے۔
تاجربرادری کے نمائندوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ ان کے مطالبات کو فوری طور پر تسلیم کرے بصورت دیگر تاجر برادری کے پاس غیرمعروف وفاقی بجٹ کے خلاف احتجاج کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں بچے گا اور تاجربرادری ملک گیر سطح کی ہڑتال کرنے پر مجبور ہوجائے گی۔ انہوں نے کہا کہ نیا بجٹ کاروباری برادری کے خلاف اقدام ہے اور اگر اس کی تصحیح نہ کی گئی تو یہ تاجروں وصنعت کاروں کی توانائی ضائع کرنے کے مترادف بجٹ ہوگا جو اپنے کاروباروپیداواری سرگرمیوں کو چھوڑ کر صرف اور صرف ٹیکس معاملات کو نمٹانے میں مصروف ہوجائیں گے۔
تاجروں نے 0.6 فیصد ودہولڈنگ ٹیکس کے نفاذ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ حکومت کو یہ ٹیکس عائد کرنے سے قبل فائلراور نان فائلر کی وضاحت کرنی چاہیے تھی کیونکہ اس ٹیکس سے ایف بی آر کوکوئی فائدہ نہیں ہوگا بلکہ تاجربرادری پر ایک تلوار لٹک جائے گی اور انہیں ٹیکس افسران کی جانب سے پریشان کیا جائے گا۔ تاجربرادری کے نمائندوں نے کہا کہ ایسے ٹیکس اقدامات سے لوگ بچنے کے لیے اپنا سرمایہ منتقل کریں گے جس سے محسوس ہوتا ہے کہ یہ اقدام ملک سے سرمائے کی منتقلی کے حوالے سے ایک سازش کے تحت اٹھایا گیا ہے۔
تاجرنمائندوں نے واضح کیا کہ تاجربرادری ٹیکسوں کی ادائیگیوں یا ٹیکس نیٹ میں توسیع کے خلاف نہیں حکومت کو ٹیکس نیٹ میں اضافے اور آمدن بڑھانے کے لیے نئے راستے کی تلاش کے سلسلے میں تاجربرادری کے رہنماؤں کے ساتھ مشاورت کرنا چاہیے اور پہلے سے ٹیکس ادا کرنے والوں پر مزید ٹیکسوں کا بوجھ ڈالنا کوئی حل نہیں ہے بلکہ حکومت کو ٹیکس نیٹ میں توسیع کے لیے مناسب اقدامات کرنے چاہئیں۔