ٹائروں پردرآمدی ڈیوٹی میں40فیصدتک کمی کی سفارش پرتشویش
صنعت پر سنگین اثرات مرتب اور حکومت کے محاصل میں کمی ہوگی، ٹائر مینوفیکچررز
صنعت پر سنگین اثرات مرتب اور حکومت کے محاصل میں کمی ہوگی، ٹائر مینوفیکچررز۔ فوٹو: فائل
ISLAMABAD:
مقامی ٹائر مینوفیکچررز نے ان بجٹ تجاویزپر تشویش کا اظہار کیا ہے جن میں ٹائروں کی درآمد پر ڈیوٹی میں 40 فیصد تک کی مزید کمی کی سفارش کی گئی ہے۔
جنرل ٹائر اور ربڑ کمپنی کے ترجمان نے ایک بیان میں حکومت پر ایسی متوازن حکمت عملی اپنانے پر زور دیا ہے جس میں مینوفیکچرنگ کی حمایت اور اسمگلنگ پر قابو پاتے ہوئے اس صنعت کی نمو اور اس میں ملازمت کے مواقع کو فروغ دیا جا سکے جبکہ درآمد پر دی جانے والی مزید رعایت صرف مقامی صنعت پر سنگین اثرات مرتب کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ مسافر کار کے ٹائروں پر 25 فیصد ڈیوٹی کو 15فیصد اور لائٹ ٹرک ٹائر پر ڈیوٹی 20 سے 15 فیصد کرنے کے تجویز سے حکومت کے محاصل میں کمی ہو گی کیونکہ درآمدی تجارتی قیمتیں (آئی ٹی پی) پہلے ہی بہت کم سطح پر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سخت انتظامی اقدامات کے ذریعے اسمگلنگ پر قابوپانے کی ضرورت ہے کیونکہ ڈیوٹی میں کمی کا اقدام ناکامی کا شکار ہو چکا ہے۔
چین سے ٹرک و بس ریڈئیل ٹائردرآمد کرنے پر ڈیوٹی زیرو فیصد ہے جبکہ دیگر ممالک سے درآمدات پر 5 فیصد ڈیوٹی عائد ہے پھر بھی اس کیٹگری میں اسمگلنگ بلاروک ٹوک جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ اسمگلروں میں خوف کا احساس بیدار کرے اور ان کے لیے اس کام کو مشکل بنا دے جس کے لیے سٹرکوں پر ہر 100 کلو میٹر پر چیک پوسٹیں بنائی جائیں جو اسمگلنگ کرنے والے علاقوں جیسے چمن اور لنڈی کوتل سے ان مراکز کی جانب جاتی ہیں جہاں ان ٹائروں کو فروخت کیا جاتا ہے۔
اسی طرح ایف بی آر کی جانب سے اشتہارات شائع کیے جانے چاہئیں کہ اسمگل شدہ ٹائروں کی لین دین غیرقانونی ہے اور اس جرم کا ارتکاب کرنے والوں کی جائیداد، اشیا ضبط کی جا سکتی ہیں اور ممکنہ طور پر قید کی سزا بھی دی جاسکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ایسے اقدامات ان کے راستے میں رکاوٹیں پیدا کر دیں گے اور وہ اس آسانی سے ان کی فروخت نہیں کر پائیں گے جس آسانی سے وہ اب کر رہے ہیں، چنانچہ ڈیوٹی میں کمی کرنا اس مسئلے کا ہرگز حل نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ فی الوقت ایک جانب مینوفیکچرنگ شعبے کی مدد سے حکومت 2018 تک 7 فیصد جی ڈی پی کے حصول کی متمنی ہے جبکہ 2015-16 کے بجٹ میں جی ڈی پی کا ہدف 5.5 فیصد رکھا گیا ہے، دوسری جانب حکومت درآمدی ڈیوٹی میں کمی کی تجویز دیتے ہوئے مینوفیکچرنگ کے شعبے کی حوصلہ شکنی کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایسے اقدامات معاشی نمو کا ہدف حاصل کرنے میں حکومت کی مدد نہیں کر سکتے، اسی طرح مینوفیکچرنگ کے شعبے میں ملازمتیں پیدا کرنے کے حکومتی بڑے منصوبے بھی متاثر ہوں گے کیونکہ کاروبار اور سرمایہ کاری کے لیے ہموار میدان کی عدم دستیابی کی وجہ سے اس شعبے میں نہ تو مزید بیرونی سرمایہ کاری کی امید کی جاسکتی ہے اور نہ ہی کوئی نیا پلانٹ لگانے کی ہمت کر پائے گا، مزید برآں اس وقت جن چیلنجوں کا سامنا ہے ان کی وجہ سے2015-16 میں مینوفیکچرنگ کی بنیاد متاثر ہوسکتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ان چیلنجوں میں آئی ڈی پیزکی بحالی اور ریاستی اداروں کی مضبوطی، پیداوار کی بڑھتی ہوئی لاگت، معاوضوں کی بڑھتی ہوئی شرح اور برآمدات کی طلب میں کمی شامل ہیں۔
مقامی ٹائر مینوفیکچررز نے ان بجٹ تجاویزپر تشویش کا اظہار کیا ہے جن میں ٹائروں کی درآمد پر ڈیوٹی میں 40 فیصد تک کی مزید کمی کی سفارش کی گئی ہے۔
جنرل ٹائر اور ربڑ کمپنی کے ترجمان نے ایک بیان میں حکومت پر ایسی متوازن حکمت عملی اپنانے پر زور دیا ہے جس میں مینوفیکچرنگ کی حمایت اور اسمگلنگ پر قابو پاتے ہوئے اس صنعت کی نمو اور اس میں ملازمت کے مواقع کو فروغ دیا جا سکے جبکہ درآمد پر دی جانے والی مزید رعایت صرف مقامی صنعت پر سنگین اثرات مرتب کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ مسافر کار کے ٹائروں پر 25 فیصد ڈیوٹی کو 15فیصد اور لائٹ ٹرک ٹائر پر ڈیوٹی 20 سے 15 فیصد کرنے کے تجویز سے حکومت کے محاصل میں کمی ہو گی کیونکہ درآمدی تجارتی قیمتیں (آئی ٹی پی) پہلے ہی بہت کم سطح پر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سخت انتظامی اقدامات کے ذریعے اسمگلنگ پر قابوپانے کی ضرورت ہے کیونکہ ڈیوٹی میں کمی کا اقدام ناکامی کا شکار ہو چکا ہے۔
چین سے ٹرک و بس ریڈئیل ٹائردرآمد کرنے پر ڈیوٹی زیرو فیصد ہے جبکہ دیگر ممالک سے درآمدات پر 5 فیصد ڈیوٹی عائد ہے پھر بھی اس کیٹگری میں اسمگلنگ بلاروک ٹوک جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ اسمگلروں میں خوف کا احساس بیدار کرے اور ان کے لیے اس کام کو مشکل بنا دے جس کے لیے سٹرکوں پر ہر 100 کلو میٹر پر چیک پوسٹیں بنائی جائیں جو اسمگلنگ کرنے والے علاقوں جیسے چمن اور لنڈی کوتل سے ان مراکز کی جانب جاتی ہیں جہاں ان ٹائروں کو فروخت کیا جاتا ہے۔
اسی طرح ایف بی آر کی جانب سے اشتہارات شائع کیے جانے چاہئیں کہ اسمگل شدہ ٹائروں کی لین دین غیرقانونی ہے اور اس جرم کا ارتکاب کرنے والوں کی جائیداد، اشیا ضبط کی جا سکتی ہیں اور ممکنہ طور پر قید کی سزا بھی دی جاسکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ایسے اقدامات ان کے راستے میں رکاوٹیں پیدا کر دیں گے اور وہ اس آسانی سے ان کی فروخت نہیں کر پائیں گے جس آسانی سے وہ اب کر رہے ہیں، چنانچہ ڈیوٹی میں کمی کرنا اس مسئلے کا ہرگز حل نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ فی الوقت ایک جانب مینوفیکچرنگ شعبے کی مدد سے حکومت 2018 تک 7 فیصد جی ڈی پی کے حصول کی متمنی ہے جبکہ 2015-16 کے بجٹ میں جی ڈی پی کا ہدف 5.5 فیصد رکھا گیا ہے، دوسری جانب حکومت درآمدی ڈیوٹی میں کمی کی تجویز دیتے ہوئے مینوفیکچرنگ کے شعبے کی حوصلہ شکنی کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایسے اقدامات معاشی نمو کا ہدف حاصل کرنے میں حکومت کی مدد نہیں کر سکتے، اسی طرح مینوفیکچرنگ کے شعبے میں ملازمتیں پیدا کرنے کے حکومتی بڑے منصوبے بھی متاثر ہوں گے کیونکہ کاروبار اور سرمایہ کاری کے لیے ہموار میدان کی عدم دستیابی کی وجہ سے اس شعبے میں نہ تو مزید بیرونی سرمایہ کاری کی امید کی جاسکتی ہے اور نہ ہی کوئی نیا پلانٹ لگانے کی ہمت کر پائے گا، مزید برآں اس وقت جن چیلنجوں کا سامنا ہے ان کی وجہ سے2015-16 میں مینوفیکچرنگ کی بنیاد متاثر ہوسکتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ان چیلنجوں میں آئی ڈی پیزکی بحالی اور ریاستی اداروں کی مضبوطی، پیداوار کی بڑھتی ہوئی لاگت، معاوضوں کی بڑھتی ہوئی شرح اور برآمدات کی طلب میں کمی شامل ہیں۔