سندھ خصوصاً کراچی میں امن کا قیام اولین ترجیح ہونی چاہیے
سندھ میں قیام امن کےلیے اچھی گورننس لازمی شرط ہے اور اس کے لیے کرپشن کا خاتمہ اور امن و امان کا قیام انتہائی ضروری ہے۔
وقت کا تقاضا یہ ہے کہ فریقین اپنے اپنے آئینی دائرہ کار میں رہ کر ایک دوسرے سے تعاون کا راستہ اختیار کریں۔ فوٹو : فائل
پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری نے گزشتہ دنوں فوج کے خلاف جو بیان دیا تھا، اس سے جو تناؤ کی کیفیت پیدا ہو ئی تھی، اب پیپلزپارٹی اس صورت حال کو نارمل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
آصف زرداری نے گزشتہ روز مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو افطار پر بلایا۔ اس کا مقصد بھی موجودہ صورت حال میں دیگر سیاسی جماعتوں کی جانب سے تائید حاصل کرنا ہی تھا لیکن کئی سیاسی جماعتوں کے رہنما اس افطار ڈنر میں شریک نہیں ہوئے۔ پیپلزپارٹی کی ایک اہم اتحادی اے این پی کا وفد ضرور آیا، لیکن پارٹی کے سربراہ اسفندیار ولی افطار ڈنر میں شریک نہیں ہوئے۔
مسلم لیگ (ن) کے بارے میں کہا گیا ہے کہ اسے دعوت ہی نہیں دی گئی۔ بعض حلقے کہتے ہیں کہ مسلم لیگ (ن) نے آصف زرداری کی تقریر پر سخت ردعمل دے کر پیغام واضح کر دیا تھا کہ وہ اس معاملے میں کہاں کھڑی ہے۔ تحریک انصاف اور جماعت اسلامی اس افطار ڈنر میں شریک نہیں ہوئیں۔ مولانا فضل الرحمن افطار کے بعد آئے۔
مسلم لیگ (ق) کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین افطار ڈنر میں شریک ہوئے لیکن ان کے حوالے سے جو خبر سامنے آئی وہ یہی ہے کہ انھوں نے مشورہ دیا ہے کہ فوج کے خلاف بیان واپس لیا جائے۔ دوسری جانب پیپلزپارٹی کے رہنما اس بیان کی مختلف انداز میں تعبیر وتشریح کر رہے ہیں۔ کہیں معافی کی جھلک نظر آتی ہے تو کہیں یہ کہا جاتا ہے کہ آصف زرداری کے بیان میں ماضی کے آمروں کی بات کی گئی ہے۔ بہرحال معاملہ خواہ کچھ بھی ہو، صورت حال پیپلزپارٹی کے حق میں نہیں گئی۔
اصولی طور پر سندھ میں امن کا قیام فوج اور پیپلزپارٹی کی حکومت کی ترجیح ہونی چاہیے۔ اس حوالے سے دونوں کو ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہیے۔ سندھ میں قیام امن کے لیے اچھی گورننس لازمی شرط ہے اور اس کے لیے کرپشن کا خاتمہ اور امن و امان کا قیام انتہائی ضروری ہے۔
سندھ حکومت اور رینجرز کو ایک دوسرے سے ایسا تعاون کرنا چاہیے جس سے کراچی میں جاری آپریشن متاثر نہ ہو۔ جرائم پیشہ عناصر، بھتہ مافیا اور دہشت گردوں کی تمنا ہو گی کہ سندھ حکومت اور رینجرز میں اختلافات پیدا ہوں۔ وقت کا تقاضا یہ ہے کہ فریقین اپنے اپنے آئینی دائرہ کار میں رہ کر ایک دوسرے سے تعاون کا راستہ اختیار کریں تاکہ سندھ خصوصاً کراچی میں دائمی امن قائم ہو سکے۔
آصف زرداری نے گزشتہ روز مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو افطار پر بلایا۔ اس کا مقصد بھی موجودہ صورت حال میں دیگر سیاسی جماعتوں کی جانب سے تائید حاصل کرنا ہی تھا لیکن کئی سیاسی جماعتوں کے رہنما اس افطار ڈنر میں شریک نہیں ہوئے۔ پیپلزپارٹی کی ایک اہم اتحادی اے این پی کا وفد ضرور آیا، لیکن پارٹی کے سربراہ اسفندیار ولی افطار ڈنر میں شریک نہیں ہوئے۔
مسلم لیگ (ن) کے بارے میں کہا گیا ہے کہ اسے دعوت ہی نہیں دی گئی۔ بعض حلقے کہتے ہیں کہ مسلم لیگ (ن) نے آصف زرداری کی تقریر پر سخت ردعمل دے کر پیغام واضح کر دیا تھا کہ وہ اس معاملے میں کہاں کھڑی ہے۔ تحریک انصاف اور جماعت اسلامی اس افطار ڈنر میں شریک نہیں ہوئیں۔ مولانا فضل الرحمن افطار کے بعد آئے۔
مسلم لیگ (ق) کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین افطار ڈنر میں شریک ہوئے لیکن ان کے حوالے سے جو خبر سامنے آئی وہ یہی ہے کہ انھوں نے مشورہ دیا ہے کہ فوج کے خلاف بیان واپس لیا جائے۔ دوسری جانب پیپلزپارٹی کے رہنما اس بیان کی مختلف انداز میں تعبیر وتشریح کر رہے ہیں۔ کہیں معافی کی جھلک نظر آتی ہے تو کہیں یہ کہا جاتا ہے کہ آصف زرداری کے بیان میں ماضی کے آمروں کی بات کی گئی ہے۔ بہرحال معاملہ خواہ کچھ بھی ہو، صورت حال پیپلزپارٹی کے حق میں نہیں گئی۔
اصولی طور پر سندھ میں امن کا قیام فوج اور پیپلزپارٹی کی حکومت کی ترجیح ہونی چاہیے۔ اس حوالے سے دونوں کو ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہیے۔ سندھ میں قیام امن کے لیے اچھی گورننس لازمی شرط ہے اور اس کے لیے کرپشن کا خاتمہ اور امن و امان کا قیام انتہائی ضروری ہے۔
سندھ حکومت اور رینجرز کو ایک دوسرے سے ایسا تعاون کرنا چاہیے جس سے کراچی میں جاری آپریشن متاثر نہ ہو۔ جرائم پیشہ عناصر، بھتہ مافیا اور دہشت گردوں کی تمنا ہو گی کہ سندھ حکومت اور رینجرز میں اختلافات پیدا ہوں۔ وقت کا تقاضا یہ ہے کہ فریقین اپنے اپنے آئینی دائرہ کار میں رہ کر ایک دوسرے سے تعاون کا راستہ اختیار کریں تاکہ سندھ خصوصاً کراچی میں دائمی امن قائم ہو سکے۔