گال ٹیسٹ میں ٹاپ آرڈرز کی ناکامی نوجوانوں کا ذمہ دارانہ کھیل
ریویو کے استعمال میں ناتجربہ کاری، فیلڈنگ مسائل پر قابو نہ پایا جا سکا
وہاب ریاض وکٹ سے محروم رہے، اوپنر یاسر شاہ کی گیند پر ایل بی ڈبلیو تھے لیکن پاکستان نے ریویو لینا ہی ضروری نہیں سمجھا:فوٹو : فائل
FAISALABAD:
ٹیسٹ کرکٹ کو کھلاڑیوں کی صلاحیتوں کا اصل امتحان قرار دیا جاتا ہے، طویل فارمیٹ میں کرکٹرز کو تکنیک اور ٹمپرامنٹ دونوں آزمائشوں میں سرخرو ہونے کا چیلنج درپیش ہوتا ہے۔
ایک سیشن میں غفلت کا مظاہرہ، گزشتہ کئی سیشنز کی محنت کو اکارت کرسکتاہے، چند کمزور لمحے کئی روز کی برتری کو شکست میں بدل سکتے ہیں۔ پاکستان ٹیم نے سری لنکا کے لیے رخت سفر باندھا تو کسی کو غیر معمولی کارکردگی کی امید نہیں تھی، ماضی میں بڑے ناموں پر مشتمل کئی ٹیمیں بھی آئی لینڈز میں ناکامی کے صدمات جھیل کر وطن واپس آتی رہی ہیں۔
سخت حبس زدہ موسم میں ایک طرف تو بولرز خاص طور پر پیسرز کو کریمپس پڑنے کے خدشات ہوتے ہیں، دوسری جانب میزبانوں کا سپین جال مشکل کنڈیشنز میں بیٹسمینوں کا جینا محال کر دیتا ہے، اس بار سری لنکا کو جے وردنے سمیت چند اہم کھلاڑیوں کی خدمات حاصل نہیں تھیں تو پاکستان کی بولنگ پاور بھی سعید اجمل کے بغیر خاصی کمزور نظر آرہی تھی، اسی گرین کیپس کی 10سال بعد پہلی سیریز فتح کے لیے بھی شائقین زیادہ پرجوش نہیں تھے۔
دستیاب وسائل کو بہترین انداز میں استعمال کرنے کا عزم لیے دونوں ٹیموں نے میدان میں اترنے کی تیاریاں مکمل کیں تو توقعات کے عین مطابق بارش نے استقبال کیا، پہلے روز تو ٹاس کروانا بھی غیر ضروری سمجھا گیا، دوسرے روز کھیل تاخیر سے شروع ہونے کے بعد پاکستان نے گیلی پچ کے خوف کا شکار ہوکر سری لنکا کو پہلے بیٹنگ کی دعوت دے دی، فیصلہ غلط نہیں تھا کیونکہ بولرز خاص طور پر سلو وکٹ پر وہاب ریاض نے کئی مواقع پیدا کیے، 2 ڈراپ کیچز اور رن آئوٹ کا ایک موقع ضائع ہونے کی وجہ سے پہلے روز پاکستان کی مہم انتہائی کمزور رہی اور 64 اوورز کے کھیل میں صرف 3 وکٹیں ہی ہاتھ آسکیں۔
میچ کے تیسرے اور عملی طور پر دوسرے روز آئی لینڈرز بیٹنگ میں کارکردگی کا تسلسل برقرار نہ رکھ پائے، صرف ففٹی بنانے والے سنگاکارا نے کوشل سلوا کا ساتھ دیتے ہوئے ٹیم کو مستحکم پوزیشن پر پہنچایا تھا لیکن بعدازاں اوپنر کا کوئی زیادہ دیر تک ساتھ نہ دے سکا، اینجیلو میتھیوز، دنیش چندیمل، ویتھانگے، بہتر آغاز کو بڑی اننگز میں بدلنے میں ناکام رہے، پاکستانی بولرز نے توقعات سے بہتر کارکردگی دکھاتے ہوئے سری لنکا کو 300 تک محدود رکھا، وہاب ریاض اپنی پیس اور بائونس وجہ سے متاثر کن رہے۔
انہوں نے سنگاکارا کو شارٹ گیندوں پر خاصا پریشان کیا، پھر سلپ میں یونس خان کی معاونت سے تجربہ کار بیٹسمین کا شکار کرنے میں کامیاب ہوئے، جنید خان نے بھی چند اچھے سپیل کیے لیکن بدقسمتی سے وکٹ نہ حاصل کرپائے، ان کی محرومی میں فیلڈرز کی ناقص کارکردگی کا بھی کردار تھا، ذوالفقار بابر کی آرم بال میزبان بیٹسمینوں کو ہوم گرائونڈز پر نڈھال کیا، بہتر فیلڈنگ کا ساتھ ہوتا تو وہ بھی مزید کامیاب بولر ثابت ہوسکتے تھے، یاسر شاہ کی لیگ سپن بھی حیران کن رہی لیکن ان کو حسب سابق 2 وکٹیں اننگز کے آخر میں ہی حاصل ہوئیں، محمد حفیظ نے بھی ایک آل رائونڈر کے طور پر پانچویں بولر کی کمی پوری کرنے کی کوشش کی۔
امید کی جارہی تھی کہ پاکستانی بیٹنگ ایک بہتر آغاز کے ساتھ بھر پور جواب دیتے ہوئے سری لنکا پر دبائو بڑھانے میں کامیاب ہوں گے لیکن ٹاپ آرڈر کی ناکامی کے سبب تشویش کے بادل گہرے ہوگئے۔ محمدحفیظ، احمد شہزاد اور اظہر علی ڈبل فیگر میں داخل نہ ہو سکے، 35رنز پر 3 اہم مہرے کھسک جانے کے بعد یونس خان اور مصباح الحق تھوڑی دیر تک اننگز کو سنبھالا دینے میں کامیاب ہوئے تاہم دونوں ٹیم کی سنچری مکمل کیے بغیر ہی چلتے بنے۔
اس تباہ کاری کے بعد اسد شفیق اور سرفراز کے نوجوان کندھوں پر بھاری ذمہ داری آن پڑی تھی، دونوں نے میزبان بولرز اور کنڈیشنز کا دبائو برداشت کرتے ہوئے پاکستان کو مشکل صورتحال سے نکالا، خوشی کی بات یہ ہے کہ ٹاپ آرڈر کے برعکس ٹیل انڈرز نے ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسد شفیق کا بھر پور ساتھ دیا اور مہمان ٹیم سب ندازے غلط ثابت کرتے ہوئے پہلی اننگز میں 117 رنز کی برتری پانے میں کامیاب ہوگئی، میچ کو دلچسپ بنانے کے لیے دوسری اننگز میں سری لنکا کی وکٹیں جلد حاصل کرنا ضروری تھا لیکن ریویو کے استعمال سے میزبان ٹیم فائدہ اور پاکستان نقصان اٹھاتا رہا، پہلے ہی اوور میں کوشل سلوا کو کیچ آئوٹ دیا جاچکا تھا لیکن تھرڈ امپائر نے نائٹ قراردیا۔
وہاب ریاض وکٹ سے محروم رہے، اوپنر یاسر شاہ کی گیند پر ایل بی ڈبلیو تھے لیکن پاکستان نے ریویو لینا ہی ضروری نہیں سمجھا، بالآخر وہاب ریاض نے انہیں اظہر علی کا کیچ بنوایا، پیسر نے سنگاکارا کو بھی شکار کرلیا تھا لیکن اظہر علی گیند پر قابو نہ پاسکے، محمد حفیظ کی گیند پر کرونارتنے کو ایل بی ڈبلیو دلوانے کے لیے تھرڈ امپائر سے رجوع کرنے کا بھی کوئی فائدہ نہ ہوا،گرچہ یاسر شاہ نے سنگاکارا کا شکار کرکے پاکستان کو ایک بڑی کامیابی دلائی ہے۔
تاہم دونوں اننگز میں فیلڈنگ اور ریویوز لینے میں روایتی ناتجربہ کاری نے میزبان ٹیم کو سنبھلنے کے مواقع فراہم کیے ہیں،آج میچ کا آخری روز ہونے کی وجہ سے سری لنکا کے لیے اتنا وقت باقی نہیں بچا کہ وہ پاکستان کو ایک معقول ہدف دے کر آئوٹ کرنے کا خواب بھی دیکھ سکے، اس صورتحال سے پاکستانی بولرز خوب لطف اندوز ہوں گے کیونکہ آئی لینڈر کو کم سے کم سکور پر آئوٹ کرنے کی صورت میں میچ کسی حد تک دلچسپ ضرور بنایا جا سکتا ہے، بارش نے مداخلت نہ کی تو بیٹ اور بال کی یہ جنگ شائقین کی توجہ کا مرکز ہوگی۔
ایک غور طلب بات ہے کہ ہر سیریز سے قبل قومی کرکٹرز کی ٹریننگ کے دوران سب سے زیادہ توجہ فیلڈنگ پر دی جاتی ہے، تربیتی کیمپ میں بڑی بھاگ دوڑ بھی نظر آتی ہے، میچ شروع ہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ ابھی تک وہیں پر ہیں جہاں سے سفر شروع کیا تھا، گیندیں ہاتھوں سے پھسلتی ہیں، رن آئوٹ کے مواقع ضائع ہوتے ہیں، کیچ پر کیچ ڈراپ ہوتے،شائقین پریشان، مبصرین حیران ہوتے ہیں،کھلاڑیوں کی فٹنس اور غیر پیشہ ورانہ سوچ کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔
اگلی سیریز شروع ہوتی ہے،ایک بار پھر وہی کہانی دہرائی جاتی ہے اور آئندہ بہتری لانے کے دعوے کئے جاتے ہیں لیکن حالات میں بہتری نہیں آتی،یہ سلسلہ ایک دو نہیں کئی برس سے اسی طرح چل رہا ہے،ملکی ہوں یا غیر ملکی تمام کوچز دیرینہ بیماریوں پر قابو پانے میں کامیاب نہیں ہوسکے، ڈومیسٹک کرکٹ میں ہی فیلڈنگ اور فٹنس کلچر نہ ہونے کی وجہ سے کھلاڑیوں کے لیے انٹرنیشنل تقاضوں سے ہم آہنگ ہونا مشکل ہوجاتا ہے، زیادہ سے زیادہ پلیئرز کو غیر ملکی ٹورز پر بھیج کر یا کائونٹیز میں شرکت کے مواقع فراہم کرکے ہی اچھے فیلڈرز کی کھیپ تیار کی جاسکتی ہے۔
دوسری جانب پاکستان کرکٹ پر ایک اور افتاد گرنے کا سامان پیدا ہوگیا ہے، ٹیسٹ کے بعد گرین شرٹس کو سری لنکا کے خلاف ون ڈے سیریز کھیلنا ہے لیکن اس سے قبل ہی بری خبریں آنا شروع ہوگئی ہیں۔ بھارت پر تاریخ ساز فتح نے بنگلادیش کو دہری خوشیوں سے معمور کردیا مگر پاکستان ٹیم کو سخت تشویش کا شکار ہونا پڑا، چیمپئنز ٹرافی میں اس کی شرکت کا سفر مشکل ہوتا جارہا ہے، قوانین کے مطابق رواں برس 30 ستمبر تک آئی سی سی رینکنگ کی ابتدائی 8 ٹیمیں 2017ء میں شیڈول چیمپئنز ٹرافی میںشرکت کا حق حاصل کریں گی۔
بھارت کے خلاف اہم جیت سے قبل بنگال ٹائیگر اور ویسٹ انڈیز کے یکساں 88 پوائنٹس تھے مگر اب بنگلادیش نے 91 پوائنٹس کے ساتھ ساتویں نمبر پر قدم جمالئے ہیں، فاتح ٹیم کو بھارت سے مزید دو اور پھر چوتھی رینک ٹیم جنوبی افریقہ کے خلاف 3 ون ڈے کھیلنے ہیں۔ ان میں مزید ایک فتح اسے چیمپئنز ٹرافی میں جگہ دلانے کے لیے کافی ہوگی، ویسٹ انڈیز کا آئندہ چند ماہ تک کوئی میچ نہ ہونے کی وجہ سے دیگر ٹیموں کی کارکردگی پر انحصار کرنا ہوگا۔
پاکستان کو آئندہ ماہ سری لنکا سے 5 ون ڈے میچز کھیلنے ہیں، اس کے بعد ہی تینوں ٹیموں کی قسمت کا حتمی فیصلہ ہوگا۔ 87 پوائنٹ کے ساتھ نویں پوزیشن کی حامل گرین شرٹس کی ون ڈے کرکٹ میں حالیہ کارکردگی خاصی غیر معیاری ہے۔ اس کو بنگلادیش جیسی ٹیم نے بھی تنیوں میچز میں ہرا کر کلین سویپ کیا تھا، ہوم سیریز میں کمزور ترین حریف زمبابوے کو مات دی مگر ہر میچ میں مہمان بیٹسمینوں نے جارحانہ بیٹنگ کرتے ہوئے رنز کے ڈھیر لگائے،ناقص فیلڈنگ کی بیماری الگ ہے جس میں حبس زدہ موسم اضافہ کردیتا ہے، اس صورتحال میں غیر معمولی کارکردگی ہی گرین شرٹس کو فتح دلاسکتی ہے،بنگلہ دیش کی مہم جوئی کامیاب رہی تو پاکستان کا راستہ مزید دشوار ہوتا جائے گا۔
ٹیسٹ کرکٹ کو کھلاڑیوں کی صلاحیتوں کا اصل امتحان قرار دیا جاتا ہے، طویل فارمیٹ میں کرکٹرز کو تکنیک اور ٹمپرامنٹ دونوں آزمائشوں میں سرخرو ہونے کا چیلنج درپیش ہوتا ہے۔
ایک سیشن میں غفلت کا مظاہرہ، گزشتہ کئی سیشنز کی محنت کو اکارت کرسکتاہے، چند کمزور لمحے کئی روز کی برتری کو شکست میں بدل سکتے ہیں۔ پاکستان ٹیم نے سری لنکا کے لیے رخت سفر باندھا تو کسی کو غیر معمولی کارکردگی کی امید نہیں تھی، ماضی میں بڑے ناموں پر مشتمل کئی ٹیمیں بھی آئی لینڈز میں ناکامی کے صدمات جھیل کر وطن واپس آتی رہی ہیں۔
سخت حبس زدہ موسم میں ایک طرف تو بولرز خاص طور پر پیسرز کو کریمپس پڑنے کے خدشات ہوتے ہیں، دوسری جانب میزبانوں کا سپین جال مشکل کنڈیشنز میں بیٹسمینوں کا جینا محال کر دیتا ہے، اس بار سری لنکا کو جے وردنے سمیت چند اہم کھلاڑیوں کی خدمات حاصل نہیں تھیں تو پاکستان کی بولنگ پاور بھی سعید اجمل کے بغیر خاصی کمزور نظر آرہی تھی، اسی گرین کیپس کی 10سال بعد پہلی سیریز فتح کے لیے بھی شائقین زیادہ پرجوش نہیں تھے۔
دستیاب وسائل کو بہترین انداز میں استعمال کرنے کا عزم لیے دونوں ٹیموں نے میدان میں اترنے کی تیاریاں مکمل کیں تو توقعات کے عین مطابق بارش نے استقبال کیا، پہلے روز تو ٹاس کروانا بھی غیر ضروری سمجھا گیا، دوسرے روز کھیل تاخیر سے شروع ہونے کے بعد پاکستان نے گیلی پچ کے خوف کا شکار ہوکر سری لنکا کو پہلے بیٹنگ کی دعوت دے دی، فیصلہ غلط نہیں تھا کیونکہ بولرز خاص طور پر سلو وکٹ پر وہاب ریاض نے کئی مواقع پیدا کیے، 2 ڈراپ کیچز اور رن آئوٹ کا ایک موقع ضائع ہونے کی وجہ سے پہلے روز پاکستان کی مہم انتہائی کمزور رہی اور 64 اوورز کے کھیل میں صرف 3 وکٹیں ہی ہاتھ آسکیں۔
میچ کے تیسرے اور عملی طور پر دوسرے روز آئی لینڈرز بیٹنگ میں کارکردگی کا تسلسل برقرار نہ رکھ پائے، صرف ففٹی بنانے والے سنگاکارا نے کوشل سلوا کا ساتھ دیتے ہوئے ٹیم کو مستحکم پوزیشن پر پہنچایا تھا لیکن بعدازاں اوپنر کا کوئی زیادہ دیر تک ساتھ نہ دے سکا، اینجیلو میتھیوز، دنیش چندیمل، ویتھانگے، بہتر آغاز کو بڑی اننگز میں بدلنے میں ناکام رہے، پاکستانی بولرز نے توقعات سے بہتر کارکردگی دکھاتے ہوئے سری لنکا کو 300 تک محدود رکھا، وہاب ریاض اپنی پیس اور بائونس وجہ سے متاثر کن رہے۔
انہوں نے سنگاکارا کو شارٹ گیندوں پر خاصا پریشان کیا، پھر سلپ میں یونس خان کی معاونت سے تجربہ کار بیٹسمین کا شکار کرنے میں کامیاب ہوئے، جنید خان نے بھی چند اچھے سپیل کیے لیکن بدقسمتی سے وکٹ نہ حاصل کرپائے، ان کی محرومی میں فیلڈرز کی ناقص کارکردگی کا بھی کردار تھا، ذوالفقار بابر کی آرم بال میزبان بیٹسمینوں کو ہوم گرائونڈز پر نڈھال کیا، بہتر فیلڈنگ کا ساتھ ہوتا تو وہ بھی مزید کامیاب بولر ثابت ہوسکتے تھے، یاسر شاہ کی لیگ سپن بھی حیران کن رہی لیکن ان کو حسب سابق 2 وکٹیں اننگز کے آخر میں ہی حاصل ہوئیں، محمد حفیظ نے بھی ایک آل رائونڈر کے طور پر پانچویں بولر کی کمی پوری کرنے کی کوشش کی۔
امید کی جارہی تھی کہ پاکستانی بیٹنگ ایک بہتر آغاز کے ساتھ بھر پور جواب دیتے ہوئے سری لنکا پر دبائو بڑھانے میں کامیاب ہوں گے لیکن ٹاپ آرڈر کی ناکامی کے سبب تشویش کے بادل گہرے ہوگئے۔ محمدحفیظ، احمد شہزاد اور اظہر علی ڈبل فیگر میں داخل نہ ہو سکے، 35رنز پر 3 اہم مہرے کھسک جانے کے بعد یونس خان اور مصباح الحق تھوڑی دیر تک اننگز کو سنبھالا دینے میں کامیاب ہوئے تاہم دونوں ٹیم کی سنچری مکمل کیے بغیر ہی چلتے بنے۔
اس تباہ کاری کے بعد اسد شفیق اور سرفراز کے نوجوان کندھوں پر بھاری ذمہ داری آن پڑی تھی، دونوں نے میزبان بولرز اور کنڈیشنز کا دبائو برداشت کرتے ہوئے پاکستان کو مشکل صورتحال سے نکالا، خوشی کی بات یہ ہے کہ ٹاپ آرڈر کے برعکس ٹیل انڈرز نے ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسد شفیق کا بھر پور ساتھ دیا اور مہمان ٹیم سب ندازے غلط ثابت کرتے ہوئے پہلی اننگز میں 117 رنز کی برتری پانے میں کامیاب ہوگئی، میچ کو دلچسپ بنانے کے لیے دوسری اننگز میں سری لنکا کی وکٹیں جلد حاصل کرنا ضروری تھا لیکن ریویو کے استعمال سے میزبان ٹیم فائدہ اور پاکستان نقصان اٹھاتا رہا، پہلے ہی اوور میں کوشل سلوا کو کیچ آئوٹ دیا جاچکا تھا لیکن تھرڈ امپائر نے نائٹ قراردیا۔
وہاب ریاض وکٹ سے محروم رہے، اوپنر یاسر شاہ کی گیند پر ایل بی ڈبلیو تھے لیکن پاکستان نے ریویو لینا ہی ضروری نہیں سمجھا، بالآخر وہاب ریاض نے انہیں اظہر علی کا کیچ بنوایا، پیسر نے سنگاکارا کو بھی شکار کرلیا تھا لیکن اظہر علی گیند پر قابو نہ پاسکے، محمد حفیظ کی گیند پر کرونارتنے کو ایل بی ڈبلیو دلوانے کے لیے تھرڈ امپائر سے رجوع کرنے کا بھی کوئی فائدہ نہ ہوا،گرچہ یاسر شاہ نے سنگاکارا کا شکار کرکے پاکستان کو ایک بڑی کامیابی دلائی ہے۔
تاہم دونوں اننگز میں فیلڈنگ اور ریویوز لینے میں روایتی ناتجربہ کاری نے میزبان ٹیم کو سنبھلنے کے مواقع فراہم کیے ہیں،آج میچ کا آخری روز ہونے کی وجہ سے سری لنکا کے لیے اتنا وقت باقی نہیں بچا کہ وہ پاکستان کو ایک معقول ہدف دے کر آئوٹ کرنے کا خواب بھی دیکھ سکے، اس صورتحال سے پاکستانی بولرز خوب لطف اندوز ہوں گے کیونکہ آئی لینڈر کو کم سے کم سکور پر آئوٹ کرنے کی صورت میں میچ کسی حد تک دلچسپ ضرور بنایا جا سکتا ہے، بارش نے مداخلت نہ کی تو بیٹ اور بال کی یہ جنگ شائقین کی توجہ کا مرکز ہوگی۔
ایک غور طلب بات ہے کہ ہر سیریز سے قبل قومی کرکٹرز کی ٹریننگ کے دوران سب سے زیادہ توجہ فیلڈنگ پر دی جاتی ہے، تربیتی کیمپ میں بڑی بھاگ دوڑ بھی نظر آتی ہے، میچ شروع ہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ ابھی تک وہیں پر ہیں جہاں سے سفر شروع کیا تھا، گیندیں ہاتھوں سے پھسلتی ہیں، رن آئوٹ کے مواقع ضائع ہوتے ہیں، کیچ پر کیچ ڈراپ ہوتے،شائقین پریشان، مبصرین حیران ہوتے ہیں،کھلاڑیوں کی فٹنس اور غیر پیشہ ورانہ سوچ کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔
اگلی سیریز شروع ہوتی ہے،ایک بار پھر وہی کہانی دہرائی جاتی ہے اور آئندہ بہتری لانے کے دعوے کئے جاتے ہیں لیکن حالات میں بہتری نہیں آتی،یہ سلسلہ ایک دو نہیں کئی برس سے اسی طرح چل رہا ہے،ملکی ہوں یا غیر ملکی تمام کوچز دیرینہ بیماریوں پر قابو پانے میں کامیاب نہیں ہوسکے، ڈومیسٹک کرکٹ میں ہی فیلڈنگ اور فٹنس کلچر نہ ہونے کی وجہ سے کھلاڑیوں کے لیے انٹرنیشنل تقاضوں سے ہم آہنگ ہونا مشکل ہوجاتا ہے، زیادہ سے زیادہ پلیئرز کو غیر ملکی ٹورز پر بھیج کر یا کائونٹیز میں شرکت کے مواقع فراہم کرکے ہی اچھے فیلڈرز کی کھیپ تیار کی جاسکتی ہے۔
دوسری جانب پاکستان کرکٹ پر ایک اور افتاد گرنے کا سامان پیدا ہوگیا ہے، ٹیسٹ کے بعد گرین شرٹس کو سری لنکا کے خلاف ون ڈے سیریز کھیلنا ہے لیکن اس سے قبل ہی بری خبریں آنا شروع ہوگئی ہیں۔ بھارت پر تاریخ ساز فتح نے بنگلادیش کو دہری خوشیوں سے معمور کردیا مگر پاکستان ٹیم کو سخت تشویش کا شکار ہونا پڑا، چیمپئنز ٹرافی میں اس کی شرکت کا سفر مشکل ہوتا جارہا ہے، قوانین کے مطابق رواں برس 30 ستمبر تک آئی سی سی رینکنگ کی ابتدائی 8 ٹیمیں 2017ء میں شیڈول چیمپئنز ٹرافی میںشرکت کا حق حاصل کریں گی۔
بھارت کے خلاف اہم جیت سے قبل بنگال ٹائیگر اور ویسٹ انڈیز کے یکساں 88 پوائنٹس تھے مگر اب بنگلادیش نے 91 پوائنٹس کے ساتھ ساتویں نمبر پر قدم جمالئے ہیں، فاتح ٹیم کو بھارت سے مزید دو اور پھر چوتھی رینک ٹیم جنوبی افریقہ کے خلاف 3 ون ڈے کھیلنے ہیں۔ ان میں مزید ایک فتح اسے چیمپئنز ٹرافی میں جگہ دلانے کے لیے کافی ہوگی، ویسٹ انڈیز کا آئندہ چند ماہ تک کوئی میچ نہ ہونے کی وجہ سے دیگر ٹیموں کی کارکردگی پر انحصار کرنا ہوگا۔
پاکستان کو آئندہ ماہ سری لنکا سے 5 ون ڈے میچز کھیلنے ہیں، اس کے بعد ہی تینوں ٹیموں کی قسمت کا حتمی فیصلہ ہوگا۔ 87 پوائنٹ کے ساتھ نویں پوزیشن کی حامل گرین شرٹس کی ون ڈے کرکٹ میں حالیہ کارکردگی خاصی غیر معیاری ہے۔ اس کو بنگلادیش جیسی ٹیم نے بھی تنیوں میچز میں ہرا کر کلین سویپ کیا تھا، ہوم سیریز میں کمزور ترین حریف زمبابوے کو مات دی مگر ہر میچ میں مہمان بیٹسمینوں نے جارحانہ بیٹنگ کرتے ہوئے رنز کے ڈھیر لگائے،ناقص فیلڈنگ کی بیماری الگ ہے جس میں حبس زدہ موسم اضافہ کردیتا ہے، اس صورتحال میں غیر معمولی کارکردگی ہی گرین شرٹس کو فتح دلاسکتی ہے،بنگلہ دیش کی مہم جوئی کامیاب رہی تو پاکستان کا راستہ مزید دشوار ہوتا جائے گا۔