اقتدارکے بخار نے پاکستان فٹبال کا حال خراب کردیا

اب فیفا کویہی کردار پی ایف ایف کے معاملے میں کرنا چاہیے لیکن عالمی تنظیم خود سکینڈلز کی زد میں اپنی بقاکی جنگ لڑرہی ہے

خوساختہ عہدیداروں کو کانگریس پہلے ہی برطرف کر چکی ہے، اسلام آباد اجلاس میں غیر قانونی فیصلوں کیخلاف کارروائی کی جائے گی:فوٹو : فائل

دنیا بھر میں کھیلوں کی تنظیمیں آزادانہ ماحول میں کام کرتی ہیں، پاکستان میں سیاسی مداخلت کوئی نئی بات نہیں،ادھر حکومت بدلتی ہے، ادھر سپورٹس فیڈریشنز کی باگ ڈور اپنوں کے ہاتھوں میں دینے کے لیے مہم کا آغاز ہوجاتا ہے۔

عنان اقتدار سنبھالنے والوں کو زیادہ دیر گوارا نہیں ہوتا کہ کھیلوں پر ان کی اجارہ داری نہ ہو، یہاں پر زیادہ تر فیڈریشنز ارباب اختیار کے زیر سایہ ہی بنتی اور جتنی دیر حمایت حاصل رہے چلتی ہیں، اس کے برعکس مثالیں بھی سامنے آتی ہیں لیکن ان کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے، پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کی کمان سنبھالنے کے لیے طویل رسہ کشی کی تاریخ مرتب ہوچکی، آئی اوسی کی جانب سے متوازی سیٹ اپ کو تسلیم نہ کئے جانے کی وجہ سے پاکستان کو کئی انٹرنیشنل ایونٹس میں شرکت سے محرومی کے خدشات لاحق رہے۔

آئی اور سی رکنیت معطل ہونے کی دھمکیاں بھی ملتی رہیں، بالآخر سید عارف حسن کی سربراہی میں کام کرنے والی پی او اے کو ہی بااختیار مان کر اس کے بینر تلے ٹیمیں بھجوانے کا سلسلہ شروع کیا گیا، اس تنازع کی گرد اب خاصی حد تک بیٹھ چکی ہے۔ حکومت کی تبدیلی کے بعد ایک مہم چیئرمین پی سی بی ذکاء اشرف کی رخصتی کے لیے شروع کی گئی تھی جو بالآخر کامیاب ہوگئی۔

طویل عدالتی جنگ بھی ان کا عہدہ نہ بچا سکی، میوزیکل چیئر گیم کے بعد بار بار لائے اور ہٹائے جانے والے نجم سیٹھی سربراہی تو نہ جاری رکھ سکے لیکن اب تک کسی نہ کسی طور بورڈ سے وابستگی برقرار رکھنے میں کامیاب ہیں، اقتدار کا نشہ اتنا ہے کہ انہوں نے آئی سی سی کی صدارت سے دستبردار ہونے کا فیصلہ کرلیا، اس طرح ہاکی اور دیگر کھیلوں میں بھی من پسند عہدیدار لانے اور ہٹانے کی کئی مثالیں موجود ہیں۔

قومی فٹبال بھی اب اقتدار کے بخار میں مبتلا ہوچکا، رواں سال اپریل میں ہونے والے پنجاب فٹبال ایسوسی ایشن کے انتخابات میں پی ایف ایف کے صدر سردار نوید حیدر صدر منتخب ہوئے تو حریف گروپ نے الزام عائد کیاکہ الیکشن سرے سے کروائے ہی نہیں گئے اور رسمی کارروائی بھی پوری نہ کرتے ہوئے من پسند شخص کو نواز دیا گیا،متوازی گروپ نے پنجاب میں ایک الگ باڈی قائم کرکے اس کے آئینی ہونے پر اصرار کیا، دونوں گروپوں کی جانب سے تنقیدی محاذ کھولے جانے کیساتھ صدارت کے الیکشن میں کامیابی کے لیے دعوے بھی شروع ہوئے،اس کہانی میں ایک ڈرامائی موڑ گزشتہ ہفتے آیا۔

ارشد لودھی کی سربراہی میں ایک گروپ کی پی ایف ایف کانگریس کا اجلاس بلا گیا جس میں مالی بدعنوانی، الیکشن میں دھاندلی اور فیڈریشن آئین میں جعل سازی کرنے پر فیصل صالح حیات کو معطل، سیکرٹری جنرل کرنل (ر) احمد یار لودھی کو برطرف کر دیا، کشمالہ طارق کو پی ایف ایف ویمنز کمیٹی کی چیئر پرسن، تصور عزیز کو ڈپٹی چیئرپرسن منتخب کر لیا گیا۔

پی ایف ایف کانگریس کے رکن و متوازی پنجاب فٹبال ایسوسی ایشن کے صدر رانا محمد اشرف نے کشمالہ طارق اور تصور عزیز کے ہمراہ پریس کانفرنس میں دعوٰی کیا کہ اجلاس میں 26 ارکان میں سے 18 نے شرکت کی، عبوری طور پر پی ایف ایف کے نائب صدر محمد ارشد خان لودھی کو صدر اور کرنل (ر) فراست علی شاہ کو جنرل سیکرٹری نامزد کردیا گیا ہے، انتخابات 30جون کو شانگلہ گلی کی بجائے پاکستان فٹ بال ہاؤس لاہور میں ہوں گے، انہوں نے کہا کہ فیڈریشن میں کی گئی کرپشن کا کیس ایف آئی اے کو دیا جائے گا۔


دوسری جانب فیصل صالح کی سربراہی میں قائم پی ایف ایف نے فیصلوں کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ خوساختہ عہدیداروں کو کانگریس پہلے ہی برطرف کر چکی ہے، اسلام آباد اجلاس میں غیر قانونی فیصلوں کیخلاف کارروائی کی جائے گی۔ فیصل صالح کا اصرار ہے کہ صدارت کے عہدے پر برقرار ہوں، رپورٹس بے بنیاد ہیں، بیانات جاری کرنے والوں کو فارغ کیا جا چکا، ان کی فیڈریشن میں کوئی حیثیت ہی نہیں تو فیصلے کیسے کرسکتے ہیں،انہوں نے کہا کہ مجھ کو عہدے سے ہٹانے کے لیے سرکاری اختیارات استعمال کررہی ہے لیکن اسے معلوم ہونا چاہیے کہ فیفا کے نزدیک حکومتی مداخلت قابل قبول نہیں اور ایسی صورت میں وہ پاکستان کی رکنیت معطل بھی کر سکتی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ میرے 12سالہ دور میں ملک میں فٹبال کی ترقی کے لیے بہت کام ہوا ہے، سال بھر میں 16 لیگ ہو رہی ہیں، فیفا کے 8 میں سے 4 گول پراجیکٹ مکمل ہوچکے اور 4 جلد مکمل ہونے والے ہیں جن میں آسٹروٹرف لگ رہی ہیں، اس وقت ملک بھر میں 26سو کلب اور 66 ہزار کھلاڑی رجسٹرڈ اور 8 اے لائسنس یافتہ کوچز موجود ہیں، ملک میں پہلی بار ویمنز فٹبال شروع کرنے کا اعزاز حاصل کیا، آج پاکستان میں خواتین کے 56 کلب ہیں، فیفا نے پاکستان میں جتنے بھی منصوبے شروع کیے ہیں ۔

ان تمام کی نگرانی فیفا اور ایشین فٹبال کنفیڈریشن کے اپنے لوگ خود کرتے اور مکمل کر کے پی ایف ایف کے حوالے کر دیتے ہیں، کرپشن کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، فٹبال معاملات میں حکومتی غیر معمولی دلچسپی کی وجہ یہ ہے کہ میرے دور میں پی ایف ایف ایک اہم ادارے کے طور پر ابھرا جس کو فیفا اور ایشین فٹبال کنفیڈریشن نے بھی سراہا ہے، خود سیاست دان اور حکومت پر تنقید کرتا ہوں لہٰذا بعض لوگ مجھ کو عہدے سے ہٹانے کے لیے سرگرم ہو چکے ہیں۔

سیکرٹری احمد یار لودھی کا کہنا تھا کہ اسلام آباد اجلاس کی کوئی آئینی اور قانونی حیثیت نہیں، اس میں 18نہیں صرف 7 ارکان نے شرکت تھے، فیفا سے رابطے میں ہیں ، کیونکہ پی ایف ایف نے متوازی ایسوسی ایشن بنانے کی وجہ سے ارشد لودھی اور اشرف چوہدری پر تاحیات پابندی عائد کر رکھی ہے، وہ عہدے کیسے سنبھال سکتے ہیں۔ پی ایف ایف کی پریس ریلیز میں بتایا گیا کہ انتخابات 30 جون کو فیفا، اے ایف سی اور پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کے آبزرور کی موجودگی میں شانگلہ میں ہی ہوں گے۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ پی او اے تنازع سے کوئی سبق نہیں سیکھا گیا اور ایک بار پھر غیر قانونی باڈی کی سرپرستی کی جا رہی ہے،دہشت گردی کی وجہ سے پاکستان کھیلوں کیلئے نوگو ایریا بنا رہا، اس کے باوجود فیڈریشن نے متعدد انٹرنیشنل ٹیموں کو بلا کر ملک کے امیج کو بہتر کرنے میں اپنا کردار ادا کیا۔

یاد رہے کہ فٹبال پر اختیار کی یہ لڑائی عدالتوں میں بھی شروع ہوچکی، سردار نوید حیدر کی سربراہی میں قائم پنجاب فٹبال ایسوسی ایشن کے حوالے سے لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کو فیصل صالح حق سچ کی فتح قرار دے رہے ہیں،ان کے خیال میں پنجاب سپورٹس بورڈ کو مداخلت سے روکا جانا، پی ایف ایف کی اخلاقی فتح ہے، تاہم ذرائع کے مطابق معاملات جتنے پیچیدہ ہو چکے۔

ان کا حل اتنا سادہ اور آسان نہیں رہا، آئی او سی کی مداخلت اور ٹھوس موقف سامنے آنے کے بعد ہی پی او اے کا اونٹ کسی کروٹ بیٹھا تھا،اب فیفا کو یہی کردار پی ایف ایف کے معاملے میں کرنا چاہیے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ عالمی تنظیم خود سکینڈلز کی زد میں اپنی بقا کی جنگ لڑ رہی ہے، پاکستان فٹبال کا اس دوران کیا حال ہوگا، کوئی نہیں جانتا۔
Load Next Story