لوڈشیڈنگ کا عذاب ٹل نہ سکا
کراچی میں گرمی کا 10سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا،گرمی کے ستائے شہری لوڈشیڈنگ کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے اور ہنگامے شروع کر دیے
حکومت کو بخوبی معلوم ہے کہ گرمیوں میں بجلی کی طلب میں خاطر خواہ اضافہ ہو جاتا ہے جس سے نمٹنے کے لیے لوڈشیڈنگ کا سہارا لیا جاتا ہے، فوٹو : فائل
ملک بھر میں ریکارڈ گرمی اور اس پر مستزاد بدترین لوڈشیڈنگ نے شہریوں پر قیامت ڈھا دی،گرمی کی شدت کی تاب نہ لاتے ہوئے 11افراد جان کی بازی ہار گئے، کراچی میں گرمی کا 10سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا،گرمی کے ستائے شہری لوڈشیڈنگ کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے اور ہنگامے شروع کر دیے، گرڈ اسٹیشنوں پر حملے کیے اور املاک کو نقصان پہنچاتے رہے۔ شہر قائد میںدرجہ حرارت 45 سینٹی گریڈ پر جا پہنچا، لوگ بے ہوش ہو کر گرتے رہے، شدید گرمی سے شہرکی سڑکیں ویران پڑی رہیں، ملک میں سب سے زیادہ درجہ حرارت سبی میں49 سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے سیکریٹری پانی اور بجلی کو طلب کیا اور صورتحال بہتر بنانے کی ہدایت کی۔
کچھ روز قبل حکومت نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ ملک بھر میں افطار اور سحری کے وقت لوڈشیڈنگ نہیں کی جائے گی تاکہ روزے داروں کو پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے مگر سحر و افطار میں بجلی نہ جانے کے تمام حکومتی دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے اور لوڈشیڈنگ کا جن بے قابو ہوگیا، ملک بھر میں گرمی کی شدید لہر میں بجلی کی گھنٹوں بندش سے عوام کی قوت برداشت جواب دے گئی جس کی وجہ سے بپھرے عوام سڑکوں پر نکل آئے اور واپڈا دفاتر کے گھیراؤ کیے، گرڈ اسٹیشنوں پر حملے کیے اور توڑ پھوڑ کی، کراچی میں بھی مظاہرے کیے گئے، مظاہرین نے گاڑیوں پر پتھراؤ کیا جب کہ ٹائر بھی نذر آتش کیے گئے، اندرون سندھ بھی عوام بجلی کو ترستے رہے، سکھر، ٹنڈوآدم میں احتجاج کیا گیا، حیدر آباد میں بھی عوام نے سڑکیں بلاک کردیں۔
مردان میں رات بھر مظاہرے ہوتے رہے' شہروں میں ہرگھنٹے بعد ایک گھنٹہ لوڈشیڈنگ کی جاتی رہی۔ ہفتہ کو بجلی کا شارٹ فال 6ہزار5 سو میگاواٹ سے تجاوز کرگیا ہے، شہروں میں 10 سے12 جب کہ دیہات میں 18گھنٹے تک لوڈشیڈنگ کی گئی۔ دوسری جانب ہفتے کو سندھ اسمبلی میں کراچی سمیت پورے سندھ میں لوڈشیڈنگ پر شدید احتجاج کرتے ہوئے محکمہ بجلی کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا گیا۔ ارکان اسمبلی نے کہا کہ جمعے کو یکم رمضان المبارک کے موقع پر کراچی شہر کے بہت سے علاقوں میں بجلی بند رہی جس کی وجہ سے روزہ داروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا' بعض علاقوں میں بیس گھنٹے بجلی غائب رہی' کراچی کے 70 فیصد علاقے بجلی سے محروم ہیں۔
بجلی کی کمی کا مسئلہ نیا نہیں یہ گزشتہ کئی عشروں سے چلا آ رہا ہے اور ہر حکومت اسے حل کرنے کا دعویٰ کرتی رہی مگر یہ جوں کا توں چلا آ رہا ہے بلکہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ شدید سے شدید تر ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ پیپلز پارٹی کی گزشتہ حکومت پر بجلی کا مسئلہ حل نہ کرنے کا الزام عائد کیا جاتا رہا اور اپوزیشن جماعتوں نے لوڈشیڈنگ کے مسئلے کو ایشو بنا کر اسے حکومت کے خلاف خوب خوب استعمال کیا۔
مسلم لیگ ن کی موجودہ قیادت نے مئی 2013 کی انتخابی مہم میں بارہا یہ دعوے کیے کہ وہ برسراقتدار آکر چھ ماہ سے دو سال کے اندر اندر بجلی کا مسئلہ حل کر دیں گے مگر موجودہ صورت حال ان کے ان دعوؤں کا منہ چڑا رہی ہے اور بات یہاں تک پہنچی کہ وزیر مملکت عابد شیر علی کو رمضان المبارک میں بجلی کی مسلسل فراہمی میں ناکامی پر عوام سے معافی مانگنا پڑی ہے' انھوں نے فیسکو ہیڈ کوارٹر میں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اب جامع اور موثر لوڈ مینجمنٹ شیڈول مرتب کر لیا گیا ہے' سحر اور افطار کے اوقات میں صنعتیں نہیں چلیں گی۔
دوسری جانب وفاقی وزیر بجلی خواجہ آصف نے کہا ہے کہ غیرعلانیہ لوڈشیڈنگ پر قابو پا لیا ہے' صنعتوں میں لوڈشیڈنگ کی ہے جس سے سحری کے وقت صورت حال بہتر رہی ہے۔ درحقیقت حکومت طلب کے مطابق نہ بجلی کی پیداوار میں اضافہ کر سکی ہے اور نہ ہی ٹرانسمیشن لائن سسٹم بہتر بنا سکی ہے۔ عوام کو بجلی فراہم کرنے کے لیے صنعتوں کو بند کرنا مسئلے کا حل نہیں بلکہ صنعتی پہیہ رکنے سے کاروباری سرگرمیاں ماند پڑ جائیں گی۔
تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ حکومت دو سال کے عرصے میں ٹرانسمیشن لائنوں کو ہی بہتر نہیں بنا سکی اگر بجلی کی پیداوار میں اضافہ بھی ہو جاتا ہے تو موجودہ ٹرانسمیشن لائن سسٹم اضافی لوڈ برداشت کرنے کے قابل ہی نہیں' اگر حکومت ترقیاتی منصوبوں میں بجلی کی تقسیم کار اور سپلائی کے نظام کو ہی بہتر بنانے کو اولین ترجیح دیتی تو اس سے بھی صورت حال میں کافی بہتری آ سکتی تھی مگر اس سے ہٹ کر حکومت کی توجہ دیگر ترقیاتی منصوبوں پر مرکوز رہی۔ حکومت کو بخوبی معلوم ہے کہ گرمیوں میں بجلی کی طلب میں خاطر خواہ اضافہ ہو جاتا ہے جس سے نمٹنے کے لیے لوڈشیڈنگ کا سہارا لیا جاتا ہے مگر یہ کوئی مناسب طریقہ کار نہیں۔
دوسری جانب یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ خوشحال شہریوں کی جانب سے ائرکنڈیشنرز کے بے تحاشا استعمال سے ٹرانسفارمر خراب ہونے کی شکایات بڑھ جاتی ہیں' ایسے میں شہریوں کا بھی یہ فرض ہے کہ وہ بجلی کا غیر ضروری استعمال نہ کریں تاکہ بجلی کی سپلائی کا نظام تسلسل سے جاری رہے۔ حکومت دیگر ترقیاتی منصوبوں کو موخر کر کے بجلی کی کمی کے مسئلے کو حل کرنے کو اولین ترجیح دے تاکہ اس کے مخالفین کو یہ کہنا کا موقع نہ ملے کہ لوڈشیڈنگ ختم کرنے کے دعوے دار اب جھوٹی تاویلیں دے رہے ہیں۔
کچھ روز قبل حکومت نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ ملک بھر میں افطار اور سحری کے وقت لوڈشیڈنگ نہیں کی جائے گی تاکہ روزے داروں کو پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے مگر سحر و افطار میں بجلی نہ جانے کے تمام حکومتی دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے اور لوڈشیڈنگ کا جن بے قابو ہوگیا، ملک بھر میں گرمی کی شدید لہر میں بجلی کی گھنٹوں بندش سے عوام کی قوت برداشت جواب دے گئی جس کی وجہ سے بپھرے عوام سڑکوں پر نکل آئے اور واپڈا دفاتر کے گھیراؤ کیے، گرڈ اسٹیشنوں پر حملے کیے اور توڑ پھوڑ کی، کراچی میں بھی مظاہرے کیے گئے، مظاہرین نے گاڑیوں پر پتھراؤ کیا جب کہ ٹائر بھی نذر آتش کیے گئے، اندرون سندھ بھی عوام بجلی کو ترستے رہے، سکھر، ٹنڈوآدم میں احتجاج کیا گیا، حیدر آباد میں بھی عوام نے سڑکیں بلاک کردیں۔
مردان میں رات بھر مظاہرے ہوتے رہے' شہروں میں ہرگھنٹے بعد ایک گھنٹہ لوڈشیڈنگ کی جاتی رہی۔ ہفتہ کو بجلی کا شارٹ فال 6ہزار5 سو میگاواٹ سے تجاوز کرگیا ہے، شہروں میں 10 سے12 جب کہ دیہات میں 18گھنٹے تک لوڈشیڈنگ کی گئی۔ دوسری جانب ہفتے کو سندھ اسمبلی میں کراچی سمیت پورے سندھ میں لوڈشیڈنگ پر شدید احتجاج کرتے ہوئے محکمہ بجلی کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا گیا۔ ارکان اسمبلی نے کہا کہ جمعے کو یکم رمضان المبارک کے موقع پر کراچی شہر کے بہت سے علاقوں میں بجلی بند رہی جس کی وجہ سے روزہ داروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا' بعض علاقوں میں بیس گھنٹے بجلی غائب رہی' کراچی کے 70 فیصد علاقے بجلی سے محروم ہیں۔
بجلی کی کمی کا مسئلہ نیا نہیں یہ گزشتہ کئی عشروں سے چلا آ رہا ہے اور ہر حکومت اسے حل کرنے کا دعویٰ کرتی رہی مگر یہ جوں کا توں چلا آ رہا ہے بلکہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ شدید سے شدید تر ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ پیپلز پارٹی کی گزشتہ حکومت پر بجلی کا مسئلہ حل نہ کرنے کا الزام عائد کیا جاتا رہا اور اپوزیشن جماعتوں نے لوڈشیڈنگ کے مسئلے کو ایشو بنا کر اسے حکومت کے خلاف خوب خوب استعمال کیا۔
مسلم لیگ ن کی موجودہ قیادت نے مئی 2013 کی انتخابی مہم میں بارہا یہ دعوے کیے کہ وہ برسراقتدار آکر چھ ماہ سے دو سال کے اندر اندر بجلی کا مسئلہ حل کر دیں گے مگر موجودہ صورت حال ان کے ان دعوؤں کا منہ چڑا رہی ہے اور بات یہاں تک پہنچی کہ وزیر مملکت عابد شیر علی کو رمضان المبارک میں بجلی کی مسلسل فراہمی میں ناکامی پر عوام سے معافی مانگنا پڑی ہے' انھوں نے فیسکو ہیڈ کوارٹر میں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اب جامع اور موثر لوڈ مینجمنٹ شیڈول مرتب کر لیا گیا ہے' سحر اور افطار کے اوقات میں صنعتیں نہیں چلیں گی۔
دوسری جانب وفاقی وزیر بجلی خواجہ آصف نے کہا ہے کہ غیرعلانیہ لوڈشیڈنگ پر قابو پا لیا ہے' صنعتوں میں لوڈشیڈنگ کی ہے جس سے سحری کے وقت صورت حال بہتر رہی ہے۔ درحقیقت حکومت طلب کے مطابق نہ بجلی کی پیداوار میں اضافہ کر سکی ہے اور نہ ہی ٹرانسمیشن لائن سسٹم بہتر بنا سکی ہے۔ عوام کو بجلی فراہم کرنے کے لیے صنعتوں کو بند کرنا مسئلے کا حل نہیں بلکہ صنعتی پہیہ رکنے سے کاروباری سرگرمیاں ماند پڑ جائیں گی۔
تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ حکومت دو سال کے عرصے میں ٹرانسمیشن لائنوں کو ہی بہتر نہیں بنا سکی اگر بجلی کی پیداوار میں اضافہ بھی ہو جاتا ہے تو موجودہ ٹرانسمیشن لائن سسٹم اضافی لوڈ برداشت کرنے کے قابل ہی نہیں' اگر حکومت ترقیاتی منصوبوں میں بجلی کی تقسیم کار اور سپلائی کے نظام کو ہی بہتر بنانے کو اولین ترجیح دیتی تو اس سے بھی صورت حال میں کافی بہتری آ سکتی تھی مگر اس سے ہٹ کر حکومت کی توجہ دیگر ترقیاتی منصوبوں پر مرکوز رہی۔ حکومت کو بخوبی معلوم ہے کہ گرمیوں میں بجلی کی طلب میں خاطر خواہ اضافہ ہو جاتا ہے جس سے نمٹنے کے لیے لوڈشیڈنگ کا سہارا لیا جاتا ہے مگر یہ کوئی مناسب طریقہ کار نہیں۔
دوسری جانب یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ خوشحال شہریوں کی جانب سے ائرکنڈیشنرز کے بے تحاشا استعمال سے ٹرانسفارمر خراب ہونے کی شکایات بڑھ جاتی ہیں' ایسے میں شہریوں کا بھی یہ فرض ہے کہ وہ بجلی کا غیر ضروری استعمال نہ کریں تاکہ بجلی کی سپلائی کا نظام تسلسل سے جاری رہے۔ حکومت دیگر ترقیاتی منصوبوں کو موخر کر کے بجلی کی کمی کے مسئلے کو حل کرنے کو اولین ترجیح دے تاکہ اس کے مخالفین کو یہ کہنا کا موقع نہ ملے کہ لوڈشیڈنگ ختم کرنے کے دعوے دار اب جھوٹی تاویلیں دے رہے ہیں۔