کرہ ارض پر مخلوقات کی ناپیدی کا نیا مرحلہ

تین امریکی یونیورسٹیوں کی مشترکہ تحقیق میں یہ بات سامنےآئی ہےکہ کرہ ارض پرمخلوقات کی ناپیدی کا نیامرحلہ شروع ہوچکاہے

انسان اشرف المخلوقات ہے، اسے کائنات میں آنے والی تبدیلیوں کا کسی حد تک علم ہو گیا ہے، لہٰذا انسان کی ذمے داری ہے کہ وہ کرہ ارض پر ایسی مضر زندگی تبدیلیوں کو روکنے کی کوشش کرے، فوٹو : فائل

تین امریکی یونیورسٹیوں کی مشترکہ تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ کرہ ارض پر مخلوقات کی ناپیدی کا نیا مرحلہ شروع ہو چکا ہے اور انسان بھی اس کے متاثرین میں شامل ہو سکتا ہے۔ اسٹینفورڈ، پرنسٹن اور برکلے یونیورسٹیوں کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دنیا میں ریڑھ کی ہڈی والے جاندار تیزی سے ختم ہو رہے ہیں۔ نئی تحقیقی رپورٹ کے ایک مصنف نے بتایا کہ ہم اب وسیع پیمانے پر ناپیدی کے چھٹے مرحلے میں داخل ہو رہے ہیں۔ اس طرح کا آخری مرحلہ ساڑھے چھ کروڑ سال قبل پیش آیا تھا جس میں ڈائنوسار ختم ہو گئے تھے۔


نئی تحقیق کے سربراہ مصنف جیررڈو سیبیلوز نے کہا کہ اگر ایسا جاری رہا تو زندگی کو پھر سے بحال ہونے میں کروڑوں سال لگ جائیں گے اور نسل انسانی کے ناپید ہونے کا خطرہ بھی موجود ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ دو سو برس میں 400 سے زیادہ ریڑھ کی ہڈی والے جانداروں کی اقسام نا پید ہو چکی ہیں۔ یہ مطالعہ سائنس ایڈوانسز نامی جرنل میں شایع ہوا ہے اور انھوں نے اس کی وجوہات میں آب و ہوا کی تبدیلی، آلودگی اور جنگلات میں کمی کو شمار کیا ہے۔ فطرت کے تحفظ کی بین الاقوامی یونین ''آئی یو سی این'' کے مطابق ہر سال تقریبا 50 اقسام کے جاندار ناپید ہونے کے قریب پہنچ رہے ہیں۔ ناپید ہونے والے جانداروں میں بندر نما جانور لیمور کو سب سے زیادہ خطرہ لاحق ہے۔

انسان اشرف المخلوقات ہے، اسے کائنات میں آنے والی تبدیلیوں کا کسی حد تک علم ہو گیا ہے، لہٰذا انسان کی ذمے داری ہے کہ وہ کرہ ارض پر ایسی مضر زندگی تبدیلیوں کو روکنے کی کوشش کرے جو اس کی وجہ سے پیدا ہو رہی ہیں، مثلاً وہ جنگلات کی بے دریغ کٹائی روکے، خطرناک ہتھیاروں خصوصاً ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری بند کرے، خطرناک کیمیائی مادوں کو دریاؤں،سمندروں اور زیرزمین پانی میں شامل ہونے سے روکے، دھویں کے اخراج کو روکا جائے، خطرناک گیسوں کے فضا میں شامل کرنے کے عمل کو بند کر دیا جائے، اگر انسان ایسا کرے تو اس کرہ ارض کے ماحول کو صاف و شفاف رکھا جا سکتا ہے جس سے اس پر آباد زندگی محفوظ ہو سکتی ہے۔
Load Next Story