ایں کاراز تو آئدو مرداں چین کنند

اب کے یہ جو ہمارے سامنے تاریخ میں پہلی بار بلدیاتی ’’فنٹاسی‘‘ ہوئی ہے، ہو رہی ہے

barq@email.com

QUETTA:
آپ کا کیا خیال ہے کہ ہمارا جی نہ چاہتا ہو گا کہ ہم بھی نہایت ثقہ قسم کی سنجیدہ، پیچیدہ، دانشورانہ، عالمانہ، اینکرانہ اور تجزیہ کارانہ باتیں کریں۔ فلسفہ، منطق اور علم و فضل کی چاشنی سے بھرپور اور سیاست کا تڑکا لگی ہوئی باتیں کریں اور ''داد'' وصول کریں، نہ صرف جی چاہتا ہے بلکہ کئی مرتبہ کوشش بھی کی ہے لیکن ایک دو جملے لکھنے کے بعد اچانک احساس ہوتا ہے کہ ہم کیا کہہ رہے ہیں اور ''کس کو'' کہہ رہے ہیں تو پٹڑی سے پھسل کر نہ جانے کہاں کہاں بھٹکنے لگتے ہیں حالانکہ وہ بات بھی نہیں جو مرشد نے کہی ہے کہ

جانتا ہوں ثواب طاعت و زہد
پر طبیعت ادھر نہیں آتی

اب کے یہ جو ہمارے سامنے تاریخ میں پہلی بار بلدیاتی ''فنٹاسی'' ہوئی ہے، ہو رہی ہے اور نہ جانے کب تک جاری رہے گی، ایسا لگتا ہے جیسے کئی ٹاپ کے مزاح نگاروں نے مل کر ایک بہت قہقہہ بار اور لوٹ پوٹ کرنے والی کامیڈی تیار کی ہو اور پھر بہترین اداکاروں کو لے کر ٹاپ کے ہدایت کاروں نے اسے اسٹیج کرنا شروع کیا ہو۔ دراصل ہماری موجودہ صوبائی حکومت کو پہلے ہی دن سے ''کارنامے'' کرنے کا چسکہ لگا ہوا ہے۔

سب سے پہلا کارنامہ تو اس نے بچپن بلکہ پیدا ہونے کے فوراً بعد کیا، علاقے کے مشہور و معروف بلکہ بدنام و رسوا ڈاکو، مفرور اور اشتہاری مجرم ''کرپشن'' کو ایک ''ان کاؤنٹر'' میں ایسے چھلنی کر دیا اور اس میں اتنے سوراخ ڈالے کہ بے چارا سمجھ ہی نہیں پا رہا تھا کہ ''سانس'' کہاں سے لوں اور یوں سانس لیے بغیر ہی وفات ''مسرت آیات'' ہو گیا۔

گویا نہ رہی سانس اور نہ رہی سانسری ۔۔۔۔ اس کے بعد کارناموں کا ایسا تانتا باندھا ایسا تانتا باندھا جیسے موسلادھار بارش برس رہی ہو اور لوگوں کو ایک مرتبہ پھر ریڈیو پاکستان کے مشہور و معروف نیوز ریڈر شکیل احمد کا ڈائیلاگ یاد آگیا جو وہ 1965ء کی جنگ یا جہاد میں پنج وقتہ دہراتا تھا یعنی ہر صبح فتح ہر شام فتح ۔۔۔ ہے صحت کا پیغام فتح ۔۔۔۔ وہ شکیل احمد وہ خبر نامہ اور وہ مکالمہ تو نہیں رہا لیکن صوبائی حکومت کے کارنامے عملاً ۔۔۔ ہر صبح فتح، ہر شام فتح حاصل کرتی رہی، کرپشن کے بعد اقربا پروری، جسے کرپشن کی ''ماں'' بتایا جاتا تھا ۔


اسے پکڑ کر تختہ دار پر کھنیچا گیا ٹل ڈیتھ چنانچہ پورے صوبے میں اقربا پروری اور اس کے ناہنجار بیٹے کا نام و نشان تک باقی نہیں رہا بلکہ ان کی داستان تک ہی نہیں رہی داستانوں میں، وزراء اور منتخب نمایندوں کی ایک تحقیقاتی کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ کرپشن کی تو خیر اینٹ سے اینٹ بجائی جا چکی ہے لیکن اقربا پروری کے مکمل خاتمے کا اندازہ آپ اس سے لگا سکتے ہیں کہ حکومت میں شامل کسی وزیر مشیر اور منتخب نمایندے کے گاؤں کا کوئی فرد بھی نہ اقربا رہا اور نہ پرور یا پروری، بلکہ ایسے بھی واقعات ہوئے ہیں کہ پہلے سے اگر ان کے گھر محلے یا خاندان یا برادری گاؤں کا کوئی فرد کسی پوسٹ پر تھا تو اسے بھی وہاں سے ہٹا کر وہ جگہ کسی مستحق میرٹ والے کو دے دی گئی۔

بے روزگار ہونے والے ''اقربا'' کو ان وزیروں، مشیروں، امیروں اور منتخب نمایندوں نے اپنی جیب خاص یا جیب عام سے تنخواہیں دینا شروع کر دیں اس پر پورے صوبے میں عش عش کا جو زبردست شور اٹھا اس سے میرٹ کو غش آگیا اور ابھی تک کوما میں ہے جب کہ مینڈیٹ اس کے سرہانے بیٹھا تیمار داری کر رہا ہے، اس کے بعد فتوحات میں تھانوں، پٹوار خانوں اور نہ جانے کن کن خانوں کا خانہ خراب کر دیا گیا، آخر کار نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ کرنے کو کوئی اور کارنامہ رہ ہی نہیں گیا اور بے چاری حکومت زکوٹا جن کی طرح میں ''کس کو کھاؤں'' میں کس کو کھاؤں کرنے لگی تب کسی عالی دماغ میں سب سے بڑا کارنامہ کرنے کا آئیڈیا آگیا۔

کوئی آٹھ دس پارلیمانی اسٹینڈنگ میٹنگ اور سلیپنگ کمیٹیاں سر جوڑ کر بیٹھ گئیں پھر لنگر لنگوٹ کس کر ''غور'' کے حوض میں غوطہ زن ہو گئیں اور تلاش بسیار کے بعد جو موتی نکالا اس کی آب و تاب اتنی زیادہ تھی کہ صوبے میں بجلی کی ضرورت ہی باقی نہیں رہی چنانچہ صوبے میں محکمہ بجلی کی جگہ محکمہ لوڈ شیڈنگ قائم کر دیا اور یہ موتی تھا، بلدیاتی انتخابات کا

کلکتہ کا جو ذکر کیا تو نے ہم نشین
اک تیر میرے سینے میں مارا کہ ہائے ہائے

چنانچہ اب یہ سب سے بڑی پگڑی بھی کے پی کے گورنمنٹ کے سر پر سج گئی کہ پہلی سیاسی حکومت جس نے پہلی بار بلدیاتی انتخابات کرائے اور اتنے زیادہ شفاف کہ آر پار دور پار اور کبھی آر کبھی پار ہر جگہ سے شفاف ہی شفاف دکھائی دے رہے ہیں، دراصل حکومت نے انتظام ایسا شفاف کیا تھا جس میں دھاندلی کا گدلا پن آہی نہیں سکتا تھا، ایک روز پہلے ہی انتخابی عملے کو ووٹوں کی کاپیاں دے دی گئیں تاکہ وہ آرام سے اور دیکھ بھال کر کے شفاف طریقے سے اپنے مطلوبہ مقام تک پہنچائیں ۔

گویا کوئی ایسی جگہ ہی نہیں چھوڑی گئی جہاں دھاندلی کرنے کا کوئی موقع ہو بلکہ ایک طرح سے ووٹر بھی شکر گزار ہو گئے کہ ان کو خواہ مخواہ قطاروں میں کھڑا ہونے اور اپنے انگوٹھے وغیرہ گندے کرنے کی تکلیف ہی نہیں دی گئی اور سب کچھ اگر چہ بائیو میٹرک تو نہیں ہوا لیکن بائیو ٹرک اور بائی آٹو میٹک ہو گیا اگرچہ بعض مقامات پر کاپیاں کچھ غیر مستحق لوگوں کے ہاتھ بھی لگیں اور ان مقامات پر ''انصاف'' میں کمی رہ گئی لیکن کوئی بات نہیں اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں۔
Load Next Story