عوام یہ موقع ضایع نہ کریں

بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ ملک میں خصوصاً دیہی علاقوں میں اشرافیہ اب بھی بہت مضبوط ہے

zaheer_akhter_beedri@yahoo.com

ہمارے ملک میں چونکہ بنیادی تبدیلیاں یعنی انقلاب لانے والی قوتیں موجود ہیں، اس لیے اشرافیہ زندگی کے ہر شعبے میں لوٹ مار بدعنوانیوں، من مانیوں میں مصروف ہے۔ ایسے ملکوں میں مرحلہ وار تبدیلیوں کی طرف بڑھنا پڑتا ہے، ان مرحلہ وار تبدیلیوں کا ایک اہم مرحلہ بلدیاتی انتخابات ہیں۔ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں اچھے برے کسی طرح یہ انتخابات ہوچکے ہیں، چونکہ یہ دونوں صوبے ابھی تک قبائلی اور سرداری نظام میں اٹکے ہوئے ہیں۔

لہٰذا ان کی پہلی ضرورت اس نظام کے گہرے دلدل سے نکلنا ہے لیکن سندھ اور پنجاب نیم سرمایہ دارانہ نظام کے حامل ہیں اور یہ دو بڑے صوبے آبادی اور وسائل کے حوالے سے بڑے صوبے ہیں۔ ان صوبوں میں اشرافیہ کی گرفت بہت مضبوط ہے اس لیے تبدیلی کے عمل کا آغاز ان صوبوں سے ہونا چاہیے۔ ہماری کرپٹ اشرافیہ اقتدار پر اپنی گرفت مضبوط رکھنے کے لیے جو ہتھکنڈے استعمال کرتی آرہی ہے۔

ان میں سے ایک بلدیاتی نظام کی عملاً مخالفت ہے یہ کیسا تماشا کیسا تضاد ہے کہ جمہوریت کی بقا کے دعویدار اور جمہوریت کو بچانے کے لیے پارلیمنٹ میں دھرنا دینے والوں کے دور میں کبھی بلدیاتی انتخابات نہیں کرائے گئے بلکہ بلدیاتی انتخابات ہمیشہ ان فوجی ڈکٹیٹروں کے دور میں کرائے گئے جنھیں جمہوریت کے دشمن کہا جاتا ہے۔ آخری دشمن جنرل پرویز مشرف نے ملک میں جو بلدیاتی انتخابات 2002 میں کرائے تھے۔

یہ اپنی جزوی خامیوں کے باوجود اس قدر موثر اور بامعنی تھے کہ ان کی وجہ سے صوبوں کے ذریعے مالیاتی اور انتظامی اختیارات پر قبضہ جمانے والی اشرافیہ بے دست و پا ہوکر رہ گئی تھی کیونکہ اس بلدیاتی نظام نے صوبائی حکومتوں سے وہ مالی اور انتظامی اختیارات چھین لیے تھے جو اشرافیہ کی لوٹ مار اور ایم این ایز اور ایم پی ایز کو کنٹرول کرتے تھے۔

ترقیاتی فنڈز کے نام پر صوبائی حکومتیں ان منتخب نمایندوں کو کروڑوں روپے دیتی تھیں اور یہ کروڑوں روپے کے ترقیاتی فنڈز عوام کی فلاح و بہبود اور ترقی پر خرچ کرنے کے بجائے یہ منتخب نمایندے اپنی فلاح اور ترقی کے لیے استعمال کرتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ صوبائی حکومتیں ان انتخابات کو 7-8 برسوں سے التوا میں ڈالے ہوئے تھیں۔

بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ ملک میں خصوصاً دیہی علاقوں میں اشرافیہ اب بھی بہت مضبوط ہے اور اس نے 2002 کے الیکشن میں دیہی علاقوں میں اپنے ناظم لانے میں کامیابی حاصل کرلی تھی لیکن شہری علاقوں میں اسے اپنے ناظم لانے میں زیادہ کامیابی حاصل نہیں ہوئی تھی اور اچھے برے عوام کے منتخب نمایندے بڑی تعداد میں بلدیاتی انتخابات میں کامیابی حاصل کرکے صوبائی حکومتوں کے کنٹرول اور لوٹ مار سے آزاد ہوگئے تھے۔

اس کے علاوہ شہری علاقوں کے ناظمین کی بہتر کارکردگی کی وجہ سے یہ نظام نہ صرف قومی سطح پر مقبول ہو رہا تھا بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی اس کی پذیرائی کی جا رہی تھی ۔ اس نظام کی اسی مقبولیت کی وجہ اشرافیہ پریشان تھی اور حیلے بہانوں سے انتخابات کو ٹالتی آرہی تھی لیکن بڑھتے ہوئے عوامی پریشر اور عدلیہ کے دباؤ کی وجہ سے اقتدار مافیا بلدیاتی انتخابات کرانے پر مجبور ہے۔


چونکہ بلدیاتی نظام صوبوں پر قابض اشرافیہ کے لیے مالی اور انتظامی اختیارات چھین لیتا ہے اور اربوں کی کرپشن کے مواقعے اس کے ہاتھوں سے نکل جاتے ہیں۔ لہٰذا اشرافیہ کی بھرپور کوشش ہوگی کہ وہ سندھ اور پنجاب میں اپنے ٹاؤٹ نمایندوں یا امیدواروں کو زیادہ سے زیادہ منتخب کرانے کی کوشش کرے جس کے لیے اس کے پاس ریاستی طاقت بھی موجود ہے۔

سول بیوروکریسی بھی اس کے کنٹرول میں ہے ذات برادری اور دوسرے حربوں سے عوام کو تقسیم کرکے انھیں اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنے کے مواقعے بھی ہیں اور سب سے بڑی گرفت ریاستی وسائل پر اختیارات کی ہے جس کے ذریعے وہ انتہائی کوشش کرے گی کہ اپنے زیادہ سے زیادہ دلال منتخب کرائے اور وہ 2002 کے انتخابات میں ایسا کرچکی ہے۔

آج کی صورت حال میں پنجاب پر اشرافیہ کی گرفت بہت مضبوط ہے اس صوبے کی حکومت بھی میٹرو بس جیسے منصوبوں کے ذریعے عوام کے ذہنوں کو متاثر کر رہی ہے اور چین سے کیے جانے والے اقتصادی راہداری کے معاہدے نے اقتداری طاقتوں کے ہاتھوں میں یہ معاہدہ پروپیگنڈ کا ایسا ذریعہ بنادیا ہے کہ وہ اس کے ذریعے عوام کی نفسیات اور رائے دہی کے حق کو استعمال کرسکتی ہے۔

بدقسمتی سے ہمارے ملک میں سیاسی جماعتوں کی اکثریت ایسی ہے جو بلدیاتی نظام کو عوامی طاقت میں اضافے کا وسیلہ بنانے کے بجائے اپنی پارٹی کی طاقت میں اضافے کے لیے استعمال کرتی ہے ۔ یہ ایک انتہائی مایوس کن صورت حال اس لیے ہے کہ سیاسی پارٹیاں بلدیاتی نظام کو عوامی طاقت میں اضافے اور بلدیاتی وسائل کو علاقائی سطح پر ترقی کے لیے استعمال کرنے کے بجائے اپنے اثرورسوخ میں اضافے اورآمدنی کا ذریعہ بنانے کی کوششیں کریں گی۔

ہماری سیاست اور اقتدار پر اشرافیہ کی گرفت بہت مضبوط ہے وہ اس گرفت کو آنے والے دنوں میں بھی مضبوط بنانے کے لیے جمہوریت کے نام پر خاندانی حکمرانیوں کو مستحکم کر رہی ہے۔ قومی انتخابات کا نظام اس چالاکی اور عیاری کے ساتھ ترتیب دیا گیا ہے کہ ان انتخابات میں عوام حصہ لینے کا سوچ بھی نہیں سکتے۔ اس طرح 68 سالوں سے نچلی سطح سے سیاسی قیادت کو ابھارنے کا راستہ روک دیا گیا ہے۔ اور موجودہ کرپٹ اور استحصالی سسٹم کو تبدیل کرنے کے لیے نچلی سطح سے سیاسی قیادت کو ابھارنا ضروری ہے۔

سندھ اور پنجاب دو صوبے ایسے ہیں جہاں کے عوام اگر سیاسی شعور کا مظاہرہ کرتے ہوئے بلدیاتی انتخابات کی ہر سیٹ پر اپنے درمیان میں رہنے والے تعلیم یافتہ مخلص اور محب عوام امیدواروں کو کامیاب بنائیں تو بلاشبہ بنیادی تبدیلیوں کی راہ میں یہ ایک کامیاب قدم بن سکتا ہے لیکن اس کے لیے عوام کو سیاسی وڈیروں کے اثر و رسوخ سے آزاد ہونا پڑے گا ذات برادری مسلک قومیت اور زبان کے سحر سے آزاد ہونا پڑے گا اور ذاتی پسند نا پسند کو پس پشت ڈالتے ہوئے صرف اور صرف میرٹ کی بنیاد پر اپنے نمایندوں کو منتخب کرنا ہوگا چونکہ یہ کام 68 سال سے اقتدار پر قابض مافیا کے اقتدار و اختیار کے لیے ایک زبردست خطرے کی حیثیت رکھتا ہے۔

لہٰذا وہ حقیقی عوامی نمایندوں کے انتخاب کی راہ میں قدم قدم پر روڑے اٹکانے کی کوشش کرے گی۔ اگر ٹریڈ یونین طلبا تنظیموں پیشہ ورانہ تنظیموں کے عوام دوست کارکن ایک منظم اور مربوط پلان کے ذریعے بلدیاتی انتخابات میں عوام کی رہنمائی کریں اور میڈیا خصوصاً الیکٹرانک میڈیا عوام کے حقیقی نمایندوں کو آگے لانے میں موثر کردار ادا کرے تو یہ انتخابات تبدیلیوں کا آغاز بن سکتے ہیں اور اس کے ذریعے اشرافیہ کے 68 سالہ قبضے کو ختم کیا جاسکتا ہے۔
Load Next Story