ریلیف اقدامات کو یقینی بنایا جائے

قومی اسمبلی میں اپوزیشن کی تمام جماعتیں ملک بھر میں بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ پر متحد ہوگئیں

ماہرین ماحولیات کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی سے ساحلی علاقوں میں گرمی کی شدت مزید بڑھے گی، فوٹو: اے ایف پی

وزیراعظم نواز شریف نے کراچی میں گرمی کی شدت کے باعث ہلاکتوں پر اظہار افسوس کرتے ہوئے عوام کو فوری ریلیف فراہم کرنے کے لیے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی(این ڈی ایم اے) کو اقدامات اٹھانے کی ہدایت کی ہے۔ انھوں نے مرنیوالے افراد کے لواحقین سے اظہار تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ گرمی کی شدت سے متاثرہ افراد کو بہترین طبی امداد پہنچانے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔

مصیبت اور آزمائش کی اس گھڑی میں وزیراعظم کی طرف سے ہمدردی کے دو بول ہی قومی تالیف قلوب اور تسکین روح کے لیے کافی ہیں، وزیراعظم نے مزید ہدایت کی کہ بجلی کی فراہمی کی صورتحال پر وزیراعظم آفس کو مسلسل آگاہ رکھا جائے اور ساتھ ہی عوام میں موسم سے بچاؤ کے بارے میں آگہی پیدا کی جائے تاکہ انسانی جانوں کا ضیاع روکا جاسکے۔

کراچی میں گرمی اور لوڈ شیڈنگ کے باعث ہلاکتوں پر سابق صدر اور پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے وزیراعظم نواز شریف کے نام ایک خط میں ان سے اپیل کی ہے کہ وہ ذاتی دلچسپی لے کر سندھ میں لوڈ شیڈنگ کا مسئلہ حل کرائیں، اس سے بھی بڑھ کر ضرورت اس بات کی ہے کہ انسانی المیے اور المناک ہلاکتوں پر پوائنٹ اسکورنگ یا ذمے داری اور جوابدہی سے بچنے کی کوشش مناسب نہیں ہوگی، حکام وزیراعظم کی ہدایات پر عمل کریں جب کہ وزرا متضاد بیانات دینے سے ہر ممکن گریز کریں،جیسا کہ ''کے الیکٹرک'' کو ٹیک اوور کرنے یا نہ کرنے سے متعلق وفاقی وزیر پانی و بجلی خواجہ آصف اور وزیر مملکت پانی و بجلی عابد شیر علی کے بیانات میں کوئی ہم آہنگی نہیں،ایک کا کہنا ہے کہ کے الیکٹرک کو ٹیک اوور کرنے کی کوئی تجویز زیر غور نہیں جب کہ عابد شیر علی کا کہنا ہے کہ ٹیک اوور کرنا پڑا تو پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

سیاست دانوں کو اپنی نظر کی وسعت اور فکر کی وحدت پر توجہ دینی چاہیے۔ مسئلہ کی سنگینی گرمی کی شدت اور لوڈ شیڈنگ کا بد ترین تسلسل ہے ، کے الیکٹرک کے دعوے واقعی دھرے کے دھرے رہ گئے، اس کا غیراعلانیہ لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ 12 گھنٹے سے تجاوزکر گیا، حکام شاید قیامت خیز گرمی کی آمد سے لاعلم تھے جب کہ افطار ،سحر اور تراویح میں لوڈ شیڈنگ نہ کرنے کے دعوے کی کسر بھی باقی دورانیے کی ظالمانہ لوڈ شیڈنگ نے پوری کر دی۔ تاہم اس بات میں کوئی شک نہیں کہ حکومت توانائی اور بجلی کی پیداوار کے لیے تھر کول پراجیکٹ سمیت شمسی توانائی اور دیگر ذرائع سے ملکی بجلی کی ضروریات پوری کرنے کی حتی الوسعٰ کوشش کررہی ہے۔

تاہم المیہ جب جنم لے چکا ہے تو تاویلوں اور حیلے بہانوں سے ذمے داری دوسروں پر نہیں ڈالی جا سکتی، جوابدہی اور احتساب کا ایک منظم اور مستحکم نظام ہونا چاہیے تاکہ ایسے ایمرجنسی حالات اور آفات میں انسانی جانوں کے ضیاع کو روکنے میں معاشرہ اپنا فعال کردار ادا کرسکے، ہر کام حکومت پر نہ چھوڑا جائے، ایک مشکل صورتحال سے نبرد آزما ہونے کے لیے اہل وطن کو جان نثاری اور خدمت خلق کے جذبہ سے کا م لینا چاہیے تاکہ حکومتی اداروں اور فلاحی و بے لوث این جی اوز سے مل کر کر ریسکیو اقدامات سے صورتحال کو بے قابو ہونے سے بچایا جائے۔ دنیا کے جن ترقی یافتہ ممالک میں شدید گرمی میں بھی پانی اور بجلی کا نظام معطل نہیں ہوتا تو کیا وہ دیومالائی مخلوق یا ہم سے الگ کسی سیارے میں رہتے ہیں۔

قومی اسمبلی میں اپوزیشن کی تمام جماعتیں ملک بھر میں بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ پر متحد ہوگئیں، شیم شیم کے نعروں سے ایوان گونج اٹھا، اراکین سندھ اسمبلی نے مطالبہ کیا کہ کراچی میں ہلاکتوں کا مقدمہ کے الیکٹرک اور وفاقی حکومت کے خلاف درج کرایا جائے، کے الیکٹرک جاں بحق ہونے والوں کے ورثا کو معاوضہ دے،ان ہلاکتوں میں بے تحاشا اور بدترین لوڈشیڈنگ ایک اہم عنصر ہے۔


اسی طرح پانی کی قلت نے بھی ستم ڈھایا جب کہ کراچی میں جاری شدید گرمی کی لہر میں گزشتہ روز مزید200 افراد جاں بحق ہو گئے تین روز کے دوران جاں بحق ہونے والوں کی تعداد ایک ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔ این ڈی ایم نے فوج سے مدد مانگ لی، پاک فوج اور سندھ رینجرز نے14ریلیف سینٹر قائم کر دیے ہیں۔ ایکسپریس نیوز کے مطابق ایدھی اور خدمت خلق فاؤنڈیشن کے سرد خانوں سے تین تین سو سے زائد میتیں لے جائی جا چکی ہیں جب کہ کراچی کی چھ بڑی امام بارگاہوں سے نوے کے قریب لاشیں لائی گئیں۔

جناح اسپتال سے 200 لاشیں لائی گئی ہیں، سردخانوں میں لاشیں رکھوانے کے لیے سفارشیں کی جا رہی ہیں اور عزیزاقارب مارے مارے پھر رہے ہیں جب کہ گورکنوں نے معاوضہ بڑھا دیا ہے۔ پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمن نے ملک بھر میں جاری بجلی کی بندش اور غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے ساتھ وزارت پانی و بجلی کے وضاحتی بیان کو گھریلو صارفین اور صنعتوں کی بدحالی کا مذاق اڑانے کے مترادف قرار دیا ہے۔

سندھ اسمبلی کے اجلاس میں اگلے دن ارکان نے کراچی میں گرمی کے باعث ہلاکتوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہلاکتوں کا ذمے دار کے الیکٹرک اور وفاقی حکومت کو قرار دیا اور ان اداروں کے ذمے داران کے خلاف ہلاکتوں کا مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ کیا۔ سینئر وزیر خزانہ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ کے الیکٹرک کے بارے میں اب کوئی فیصلہ کرنا پڑے گا، سینئر وزیر تعلیم نثار کھوڑو نے کہا کہ کے الیکٹرک کو مجبور کیا جائے کہ وہ جاں بحق ہونے والوں کے ورثا کو معاوضہ دے۔ ن لیگ کی سورٹھ تھیبو نے کہا کہ تیمر کے جنگلات کو کاٹنے کی وجہ سے کراچی میں زیادہ گرمی پڑ رہی ہے۔

پیپلز پارٹی کے لعل چند اکرانی نے کہا کہ کراچی میں لوگ گرمی سے نہیں، لوڈشیڈنگ سے ہلاک ہوئے ہیں۔ فاتحہ خوانی کے بعد اپوزیشن لیڈر خواجہ اظہار الحسن نے نکتہ اعتراض پر کھڑے ہو کر کہا کہ غریب لوگوں کی ہلاکتوں سے حکومتیں اور ادارے بری الذمہ نہیں ہو سکتے۔ عوامی انداز نظر پیش آمدہ واقعات سے جڑا ہوا ہے، شہرقائد اور صوبہ سندھ کے اندرونی علاقوں خاص طور پر ٹھٹھہ میں 13 افراد گرمی کی شدت کی تاب نہ لاکر دم توڑ گئے۔

ادھر کراچی میں شدید گرمی کے توڑ کے لیے مصنوعی بارش کے امکانات کا جائزہ لینے کے لیے ڈائریکٹر جنرل پورٹس اینڈ شپنگ نے تمام شہری اداروں، محکمہ موسمیات سندھ کا ایک اہم اجلاس منگل کو طلب کرلیا ہے۔ اجلاس میں محکمہ موسمیات کی اندرون سندھ سے تعلق رکھنے ایک ٹیم اپنی پریزینٹیشن پیش کرے گی، ماضی یہ ٹیم تھر میں مصنوعی بارش کامیاب مظاہرہ کرچکی ہے۔

اجلاس میں کراچی میں ہوا میں نمی کا تناسب اور موسم کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے امکانات کا جائزہ لیا جائے گا کہ آیا یہ منصوبہ کامیاب ہوگا یا نہیں۔ اجلاس میں بلدیہ عظمیٰ کراچی، کراچی پورٹ ٹرسٹ اور محکمہ موسمیات کے ماہرین کے علاوہ جامعہ کراچی کے ماہرین بھی شرکت کریں گے۔ یہ تجرباتی کوشش اچھی ہے کیونکہ ہالی وڈ کے ڈائریکٹر تو ایک فلم اسٹوڈیو میں پوری فلم سمندری طوفان برپا کر کے مکمل کر لیتے ہیں، وہ شہر میں مصنوعی بارش کے منظر فلمانے کے لیے حیران کن ٹیکنالوجی استعمال کرتے ہیں۔ دنیا جب یہ دیکھتی ہے کہ ایک ایٹمی ملک کے سب سے بڑے ساحلی شہر کے لوگ گرمی اور بجلی کی کمی سے بدحال ہوکر مرتے ہیں تو کتنی تعجب ہوتی ہوگی انھیں کہ اکیسویں صدی کا منی پاکستان کس مقام پر کھڑا ہے۔

ماہرین ماحولیات کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی سے ساحلی علاقوں میں گرمی کی شدت مزید بڑھے گی، سندھ کے ساحلی علاقوں میں مون سون کی بارشیں 10 سے15 فیصد کم متوقع ہیں، بارشوں میں کمی زیریں سندھ اور ملیر کے کچھ علاقوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہوسکتی ہے، ایک رپورٹ میں قحط اور خشک سالی کے امکانات بھی ظاہر کیے گئے ہیں۔ وقت یہی ہے کہ ماحولیاتی تبدیلیوں سے آگہی میں ہمیں وقت کا ہم رفتار ہونا پڑے گا ۔
Load Next Story